ایک ساتھی ڈاکٹر کی کہانی جس کی قسمت میں رلنا لکھا تھا
پی آئی اے کا جہاز 27 مارچ 1980ء کو لندن کے ہیتھرو ائر پورٹ پر شام چار بجے کے قریب اترا۔ مجھے آئرلینڈ جانا تھا۔ میں دوسرے مسافروں کے ساتھ باہر نکلا۔ ہاتھ میں بریف کیس اور پتھالوجی کی کتاب والٹر اسرائیل (Walter Israel) تھی۔ یونس شیخ نے یہ کتاب ساتھ لانے کا مشورہ دیا تھا۔ میں اس کے لئے اس سے بھی موٹی ایک اور کتاب ’علی پور کا ایلی‘ بھی لایا تھا جو میرے اٹیچی کیس میں تھی۔ اس وقت تک ممتاز مفتی سے میری کوئی شناسائی نہیں تھی، ہاں بہت بعد میں، 1993ء میں، اسلام آباد میں ان سے ملاقات ہوئی تھی۔
ہیتھرو ائر پورٹ میں اس وقت، آج کی طرح کی، سہولیات نہیں تھیں لہذا برآمدوں میں ہر موڑ پر کوئی صاحب یا خاتون راہنمائی کے لئے کھڑے تھے۔ میں نے جہاز سے نکلتے ہی سامنے کھڑی خاتون سے پوچھا کہ آئرلینڈ کا جہاز کس طرف سے ملے گا۔ گویا یہ ائر پورٹ نہیں، لاہور کا لاری اڈا، بادامی باغ، تھا جہاں ایک بس سے اتر کر دوسری بس پکڑنی تھی۔ اس نے کہا جدھر یہ سب لوگ جا رہے ہیں، تم ان کے پیچھے پیچھے چلتے جاؤ۔ میں وہاں سے چل دیا۔
پھرتے پھراتے ایک کھلی جگہ پہنچے تو سامنے بہت سے امیگریشن آفیسرز مورچے سنبھالے بیٹھے تھے۔ میں نے اس خاتون سے، جو سب کو قطاروں میں کھڑے کرتی جا رہی تھی، کہا کہ مجھے تو آئرلینڈ جانا ہے اور مجھے ٹرانزٹ ویزہ چاہیے جب کہ یہاں برطانیہ آنے والوں کی امیگریشن ہو رہی ہے۔ اس نے کہا تم لائن میں لگ جاؤ، یہاں سے گزر کر ہی تم دوسرے جہاز میں سوار ہو سکو گے۔ دراصل مجھے ڈر یہ تھا کہ میں اسلام آباد سے برطانیہ کا ویزہ لگوائے بغیر ہی، آئر لینڈ جانے کے شوق میں جہاز میں سوار ہو گیا تھا۔ اس وقت ائر پورٹ پر بھی ویزہ مل جایا کر تا تھا۔ میں جب امیگریشن افسر کا سامنے گیا تو اسے بھی میں نے یہی کہا کہ مجھے تو آئر لینڈ جانا ہے، پتہ نہیں یہ لوگ مجھے ادھر کیوں لے آئے ہیں؟
اس نے میرے ہاتھ میں پکڑی بڑی سی کتاب کی طرف دیکھا اور کہا تم آئرلینڈ جا کر کیا کرو گے؟
ایف آر سی ایس کرنے جا رہا ہوں۔
ایف آر سی ایس کیا ہوتی ہے؟
فیلو آف رائل کالج آف سرجنز۔
تو گویا تم ڈاکٹر ہو؟
ہاں میں ڈاکٹر ہوں۔ میں نے اپنا پاسپورٹ ابھی تک اسے نہیں دیا تھا۔
فار گاڈسیک، گو می یور پاسپورٹ (خدا کے لیے اپنا پاسپورٹ تو مجھے دو) ، اس نے کہا۔
میں نے پاسپورٹ اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔ اس نے ٹھک سے ویزہ لگایا اور کہا جاؤ پہلے لندن دیکھو پھر ڈبلن چلے جانا۔ میں بڑا حیران ہوا۔ میں ویسے ہی ڈرا جا رہا تھا۔ رات لندن میں گزری۔ اب مجھے چاہیے تو یہ تھا کہ میں اپنے بڑے بھائی اور دوسرے بہت سارے رشتہ داروں سے ملنے برطانیہ میں ہی رہ جاتا اور کچھ روز بعد ڈبلن روانہ ہو جاتا۔ لیکن میں صرف یونس سے کیے ہوئے وعدے کے مطابق دوسرے دن 28 مارچ 980 1 ء کو دس بجے ڈبلن ائر پورٹ جا پہنچنا۔ ائرپورٹ مجھے ویران سا لگا۔ میں امیگریشن آفیسرز کا ڈیسک تلاش کرتے کرتے بھول بھلیوں میں سے گزرتا ہوا باہر سڑک پر جا پہنچا۔ وہاں کسی سے پوچھا تو اس نے مجھے واپس ائرپورٹ کے اندر جانے کا کہا۔ واپس آیا تو کسٹمز والوں نے روک لیا کہ تم اندر واپس نہیں جا سکتے۔ میں نے کہا میری امیگریشن نہیں ہوئی، سامان مجھے ابھی ملا نہیں اور آپ مجھے واپس نہیں جانے دے رہے۔ انہوں نے کہا تم اندرونی پرواز سے لندن سے آئے ہو اس لئے اب کوئی امیگریشن نہیں ہو گی البتہ اپنا سامان اندر جا کر لے لو۔
سامان لے کر یونس کو تلاش کیا، دو مرتبہ اعلان بھی کروایا مگر یونس وہاں ہوتا تو ملتا۔ مجبوراً بس پر ڈبلن شہر کے مرکز تک آیا۔ وہاں سے دوسری بس پر بیٹھا اور یونس شیخ کے بتائے ہوئے پتے ’سنگھ سٹریٹ‘ پر جا پہنچا۔ بارش ہو رہی تھی۔ ’سنگھ سٹریٹ‘ کو بڑی سڑک عموداً دو حصوں میں تقسیم کرتی تھی۔ کونے پر چرچ تھا، اس لئے پتہ نہیں چل رہا تھا کہ ’9‘ نمبر کس طرف ہے۔ چرچ کے ساتھ ہی ایک پرائمری سکول سے چھوٹے چھوٹے بچے باہر آرہے تھے۔
میں نے ان سے پوچھا کہ نو نمبر کس طرف ہے۔ انہوں نے مجھے بڑی سڑک کے اس پار بھیج دیا۔ بہت تیر بارش ہو رہی تھی اور ساتھ مجھے اٹیچی کیس بھی گھسیٹنا پڑ رہا تھا۔ ایک جگہ میں اٹیچی کیس پر ہاتھ بدلنے کے لئے رکا تو سامنے تینتیس نمبر گھر پر ایک تختی سی لگی تھی، لکھا تھا: ’جارج برنارڈ شا‘ 1856ء میں اس گھر میں پیدا ہوا تھا۔ نام تو جانا پہچانا تھا مگر مجھے یہ یاد نہیں آ رہا تھا کہ جارج برنارڈ شا سے میرا آمنا سامنا کون سی کلاس میں ہوا تھا۔ آگے گلی ختم ہو گئی تھی۔ بچوں نے انجانے میں مجھے دوسری طرف بھیج دیا تھا۔ واپس آیا، بڑی سڑک کے دوسری جانب نو نمبر پر گھنٹی بجائی تو یونس آنکھیں ملتا ہو برآمد ہوا۔ دن کے بارہ بجا چاہتے تھے۔ میں بارش میں بری طرح بھیگ چکا تھا۔
ارے بندہ خدا! میں نے تمہیں خط لکھ کر دن اور وقت تک کی اطلاع دی تھی، میں ائر پورٹ پر تجھے ڈھونڈتا رہا۔ میں نے کہا۔
میرا خیال تھا، تم آؤ گے ہی نہیں، یونس نے کہا۔
یونس سے کالج کے اولین تین سالوں میں دور سے ہی علیک سلیک تھی۔ چوتھے سال میں قاسم ہال کے پہلو میں بیڈ منٹن کے کورٹ میں اس سے میل ملاقات بڑھی۔ یونس بیڈ منٹن اچھا کھیل لیتا تھا۔ ایک دوسرے کے کمروں میں بھی آنا جانا ہوا لیکن ہم دونوں اپنی اپنی دنیا کے باسی تھے، اجنبیت قائم رہی۔ آرمی سے مئی 1979ء میں فراغت کے بعد میں نے لاہور جنرل ہسپتال میں ملازمت کر لی۔ آرمی میں شمولیت سے قبل میں نے پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کر لیا تھا۔
اب اس ہسپتال میں ایک عجیب الخلقت سے ایم ایس تھے۔ یہ عجوبہ روزگار ہستی، میرے اس ہسپتال میں ہاؤس جاب کرنے کے بعد کی دریافت تھی۔ اگر انہیں مجاہد مرزا کے گوری کوٹ، استور، والے کمانڈنگ افسر دیکھ لیتے تو شرما کر منہ چھپاتے پھرتے۔ ان کا نام تو بر سبیل تذکرہ آ گیا ہے، ان کا پورا احوال لکھنا مقصود نہیں۔ صرف اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ جب تین دن تک میں نے، ان کے آفس میں خجل خوار ہو کے، پروفیسر اعجاز احسن سے رابطہ کیا تو کہنے لگے تمہیں کس نے اس شخص کے پاس جانے کا مشورہ دیا تھا، تم میرے پاس آؤ، میں تمہاری درخواست پر دستخط کر دوں گا۔
جب میں ان سے ملا، تو میری ساتھ جو کچھ بیتی تھی، سن کے کہنے لگے، کیا تم واقعی اس شخص کو نہیں جانتے؟ میں نے انکار میں سر ہلا دیا۔ کہنے لگے کچھ سال پہلے کی بات ہے یہ شخص میو ہسپتال میں ڈی ایم ایس تھا۔ نوجوان (ینگ ) ڈاکٹروں نے ہڑتال کر دی۔ یہ شخص اپنے آفس میں ہی بیٹھا رہا۔ کچھ ڈاکٹر آئے، اسے اس کے آفس سے زبردستی اٹھا کر لے گئے۔ اس کا منہ کالا کیا، گدھے پر بٹھا کر پوری انارکلی کا چکر لگوایا اور فوٹو بنا کر اس کے ہاتھ میں پکڑا دیے۔
کچھ ماہ بعد کی بات ہے، ایک دن اپنے آفس میں اس نے کسی جونیئر ڈاکٹر کو کوئی ہتک آمیز بات کہہ دی۔ ڈاکٹر نے کہا: سر آپ میرے ساتھ اس طرح پیش آئیں گے تو مجبوراً مجھے بھی آپ کی عزت کا پاس نہیں رہے گا۔ یہ صاحب طیش میں آ گئے۔ کہنے لگے تم میری کیا بے عزتی کر سکتے ہو اور ساتھ ہی وہ تصویر جس میں یہ گدھے پررو سیاہ بیٹھے تھے، دراز سے نکال کر میز پر رکھ دی اور کہا: کیا تم میری اس سے زیادہ بے عزتی کر سکتے ہو؟ بولو، کر سکتے ہو، ہر گز نہیں۔ وہ لڑکا تصویر دیکھ کر شرما گیا اپنا منہ لپیٹ کر وہاں سے چلا گیا۔
ہاں تو بات ہو رہی تھی یونس شیخ کی۔ جب ایم ایس نے اپنی محیرالعقول حرکات سے میرا جینا دوبھر کر دیا تو میں نے ملازمت کو خیر باد باد کہہ دیا۔ نئی ملازمت کی تلاش میں سر گنگا رام ہسپتال میں یونس شیخ سے ملاقات ہوئی۔ اس نے مشورہ دیا کہ آئرلینڈ چلے چلتے ہیں، میں نے کہا چلو۔ یوں اس طرح ہم یکے بعد دیگرے آئر لینڈ پہنچ گئے۔
اب میں یونس کے پاس پہنچ گیا تھا۔ یونس نے پوچھا، مرغ کا گوشت چلے گا؟
ارے بھئی نیکی اور پوچھ پوچھ؟
میں ابھی آیا؛ یونس یہ کہہ کر باہر گیا اور پانچ منٹ میں گوشت لے آیا۔ اس نے کھانا تیار اور ہم دونوں نے مل کر کھایا۔ کھانا کھا کر میں نے کہا، یہ بڑی اچھی بات ہے کہ یہاں نزدیک ہی حلال گوشت مل جاتا ہے۔
کون سا حلال گوشت؟ یہ تو میں کونے والی دکان ولیم بچرز ’(William Butchers) سے لایا تھا۔
ا اللہ کے بندے، مجھے بتا تو دیا ہوتا۔
سہ پہر کو یونس مجھے رائل کالج آف سرجنز میں لے گیا اور مختلف ڈیپارٹمنٹ دکھائے۔ میرے لئے دلچسپی کا باعث وہ ریڈنگ روم تھا جہاں میں نے اگلے چھ ماہ بیٹھ کر پڑھنا تھا۔ دوسرے دن میں انگلستان روانہ ہو گیا اور اپنے عزیزوں کے ساتھ تین ہفتے گزار کے اپریل کے تیسرے ہفتے واپس آیا۔ اب مجھے یونس کی معیت میں پورے دو ہفتے گزارنے کا موقع ملا۔ ویک اینڈ پر ہمارے درمیان اردو اور پنجابی کے شاعر، انور مسعود، کی مشہور پنجابی نظم ’اج کی پکائیے دس تیرا کی خیال اے‘ (تمہارا کیا خیال ہے آج کیا پکایا جائے ) والا مکالمہ ہوا۔
میں نے کہا پلاؤ پکا لیتے ہیں۔ ہم دونوں نے پلاؤ تو کیا پکایا تھا کبھی چاول بھی نہیں ابالے تھے۔ ایک بڑے سے دیگچے میں ایک پونڈ چاول ڈال کر اسے پانی سے لبالب بھرا اور چولہے پر چڑھا دیا اور خود اناٹومی پڑھنے بیٹھ گئے۔ ہم ایف آر سی ایس کے پہلے امتحان یعنی پارٹ ون (Part One) کی تیاری کر رہے تھے۔ ہم اناٹومی پڑھنے بیٹھ گئے۔ پڑھائی کے دوران جوں جوں ہمیں پلاؤ کے کیمیائی مرکبات یاد آتے گئے ہم انہیں دیگچے میں ڈالتے چلے گئے۔
مختلف اوقات میں ہم نے اس پکوان میں نمک، کالی مرچ، لونگ اور گرم مسالہ ڈالا۔ آدھے گھنٹے بعد یونس کو خیال آیا کہ پلاؤ میں گوشت یا کوئی سبزی بھی ڈالی جاتی ہے۔ گوشت تو ہمارے پاس تھا نہیں، ولیم بچر کا گوشت مجھے وارا نہیں کھاتا تھا، آلو ضرور تھے۔ آلوؤں کے ٹکڑے کاٹ کر ابلتے ہوئے چاولوں میں ڈال دیے گئے۔ کوئی گھنٹہ بھر بعد دیگچے کا ڈھکنا اٹھا یا تو سارا پانی غائب ہو چکا تھا لیکن چاول ابھی تک سفید کے سفید تھے۔
میں نے کہا پلاؤ تو بھورے رنگ کا ہوتا ہے۔ دونوں نے ذہن پر زور دے کر سوچا کہ پلاؤ میں بھورا رنگ کون سے مسالے سے پیدا ہوتا ہے۔ میں نے کہا شاید ہلدی ڈالتے ہوں گے۔ ہم نے پانی کے ایک کپ کے ساتھ ایک چمچ ہلدی ڈال دی۔ لیکن یہ کیا، چاولوں کا رنگ پیلا پیلا سا ہو گیا لیکن بھورا نہیں ہوا۔ یونس نے صلاح دی، ہو سکتا ہے ہلدی کے ساتھ سرخ مرچ بھی ڈالتے ہوں۔ ہلدی تو ڈال ہی چکے تھے دو چمچ مرچ ڈالنے میں کیا حرج تھا۔ میں نے کہا سو بسم اللہ اور دو چمچ مرچ ڈال کے دیگچے کو پھر پانی سے بھر دیا۔ ہم پھر پڑھنے بیٹھ گئے۔ چالیس منٹ بعد جب پانی سوکھا تو سب کچھ حلول ہو کر ہم جنس و ہم نوع ہو چکا تھا۔ اس میں
کچھ بھی قابل شناخت نہیں تھا حتیٰ کہ چاول بھی نہیں۔
من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی
تاکس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری
(میں تو ہو گیا اور تو میں، میں جسم بن گیا اور تو جان، اس کے بعد تو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ تم کوئی اور ہو میں کوئی اور ہوں )
پتہ نہیں یہ کیا بن گیا تھا۔ اس طرح کا بریانی نما پکوان پہلے کبھی دیکھا تھا نہ چکھا۔ کھایا تو مزیدار لگا، اس لئے کہ خود پکایا تھا۔
اب یونس کے ساتھ رہتے ہوئے اس کے بھاؤ بھید کچھ کھلنے لگے تھے۔ میں نے محسوس کیا کہ اس کے عالم بالا میں کوئی فنی خرابی ہے۔ دو دن وہ خوش مزاج یعنی فرحان و شاداں رہتا، تیسرے دن اس کی خوش مزاجی کا چراغ ٹمٹما کر بجھ سا جاتا اور اس پر ایک ہذیانی سی کیفیت طاری ہو جاتی۔ کبھی اسلام میں کیڑے نکالتا اور کبھی اپنے باپ کوبرا بھلا کہنے لگتا۔ ایک دن میں اس سے پوچھ بیٹھا کہ تمہارے باپ نے آخر تمہارے ساتھ ایسا کیا ظلم کیا ہے جوتم ہر دوسرے تیسرے دن اسے کوسنے لگتے ہو؟
اس نے دنیا کے سب سے پسماندہ ملک، پاکستان ’میں اپنا گھر کیوں بنایا؟ وہ یہاں کیوں نہیں آیا؟ یونس نے کہا۔
بھئی وہ شخص جہاں پیدا ہوا، اس نے وہیں گھر بنانا تھا، یہاں کیسے آ جاتا۔ ویسے کیا ہم پر اس پسماندہ ملک کا احسان نہیں ہے کہ ہم ڈاکٹر بن کر یہاں آ گئے ہیں؟
یونس نے اس کے جواب میں اپنے باپ کے بارے میں جو الفاظ استعمال کیے، وہ قابل تحریر نہیں۔ میں نے جزبز ہو کر کہا کہ میں چشم تصور میں دیکھتا ہوں ’ایک دہقان نما شخص، جس کے سر پر صافہ، تن پر قمیص اور تہبند ہے، اپنے کام میں مصروف ہے، شاہد ہل چلا رہا ہے۔ ایک شخص اسے آ کر بتا تا ہے کہ تمہارے گھر بیٹا پیدا ہوا ہے۔ وہ اپنا کام چھوڑ کر دوڑ کر گھر آتا ہے، اپنے بیٹے کو اٹھاتا ہے، اس کا ماتھا چومتا ہے اور نہال ہو ہو جاتا ہے۔
وہ مٹھائیاں بانٹتا ہے اور ہاتھ اٹھا اٹھا کر اپنے بیٹے کے لئے درازی عمر کی دعا کرتا ہے۔ وہ اپنی ساری امیدیں ہی اس بیٹے سے وابستہ کر بیٹھتا ہے۔ اب وہ کولہو کے بیل کی طرح اپنے کام میں ایسا جتنا ہے کہ اسے اپنی جان کی پرواہ نہیں رہتی۔ بیٹے پر وہ صدقے ہو ہو جاتا ہے۔ بیٹے کی ہلکی سی بیماری بھی اسے مارے ڈالتی ہے۔ پتہ نہیں اس کی کتنی راتیں بے خوابی میں بے آرام گزرتی ہیں۔ بیٹے کو تکلیف کم اور اسے زیادہ ہوتی ہے۔
وہ خود روکھی سوکھی کھا کر اپنے خون پسینے کی کمائی سے اپنے بیٹے کو پڑھا لکھا کر افسر بنانا چاہتا ہے۔ اور آخر وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔ یونس تمہیں پتہ ہے وہ بیٹا کون ہے؟ وہ تم ہو۔ کچھ خیال کرو! تم اس باپ کو کوستے ہو جس نے تجھے جوان کیا، تیرے ناز نخرے اٹھائے، تیری ہر قسم کی فرمائشیں پوری کیں اور تمہارے جوان ہونے کے انتظار میں خود بوڑھا ہو گیا اور سب سے بڑھ کر جس نے تمہیں اس قابل بنایا کہ تم آئر لینڈ آ کر ایف آر سی ایس کی ڈگری حاصل کر سکو۔ دیکھو یونس! باپ نے تمہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کر دیا ہے، اب اپنا راستہ خود بناؤ۔ یونس کو مجھ سے اس طرح کے بھاشن کی امید نہیں تھی۔ اس کا مزاج اور برہم ہو گیا۔
چند دن بعد یونس پھر اسی کیفیت میں چلا گیا۔ اب کی بار اس کا نشانہ دین اسلام تھا۔ وہ حضور پاک ﷺ کی شان میں ایسے گستاخانہ الفاظ بول گیا کہ میرا میٹر گھوم گیا۔ میں نے کہا دیکھو یونس! تم دین اسلام سے بر گشتہ ہو سکتے ہو، اس پر عمل سے انکار کر سکتے بلکہ اس سے مکمل لا تعلقی کا اظہار بھی کر سکتے ہو کہ یہ تمہارا حق ہے۔ میں خود بھی ولی اللہ ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا، لیکن دین اسلام یا پیغمبر آخر الزمان ﷺکی شان میں گستاخی نا قابل معافی جرم ہے۔ تم اس کا ارتکاب نہیں کر سکتے۔ میں اب کی بار کوئی ایسا قدم نہیں اٹھاؤں گا کہ کل کے اخبار میں شہ سرخی کا موجب بن جاؤں لیکن آج کے بعد یہ حرکت دوبارہ نہ کرنا ہے۔ یونس سہم گیا۔ اسے میرے اس رد عمل سے دھچکا سا لگا، بلکہ میں نے محسوس کیا کہ میں نے اسے بے حد برافروختہ کر دیا ہے۔ چناں چہ اس نے میرا نام بھی ناپسندیدہ شخصیات (Personae Non Grata) کی فہرست میں ڈال دیا۔ اب میرا یونس کے ساتھ رہنا مشکل ہو گیا۔ یونس دو دن بعد ایڈنبرا (Edinburgh) میں امتحان دینے چلا گیا۔ مجھے دس دن بعد ڈبلن سے 150 میل دور پانچ ہفتے کی ملازمت مل گئی۔
دو تین ہفتے بعد یونس ڈبلن واپس آیا تو مجھے خط لکھا کہ جب تم واپس آؤ تو اپنا ٹھکانہ کہیں اور تلاش کر لینا۔ میں ملازمت سے فارغ ہو کر جون کے تیسرے ہفتے میں ڈبلن آیا اور اپنے لئے رہائش کا علیحدہ بندو بست کر لیا۔ پانچ ہفتے کی جاب سے مجھے اتنے پیسے مل گئے تھے کہ میں دنیا کے متمول افراد یعنی بل گیٹس وغیرہ کی صف میں کھڑا ہو گیا تھا۔ وقت کا پہیہ چلتا رہا۔ یونس نے غالباً ستمبر 1980ء میں ایف آر سی ایس کا پہلا امتحان پاس کر لیا۔
میں تو فرانس، بلجیم اور ہالینڈ کی سیر کے بعد کہیں جولائی کے دوسرے ہفتے میں سنجیدگی سے پڑھنے بیٹھا۔ میرا ٹھکانہ کالج سے اڑھائی میل کے فاصلے پر تھا۔ صبح ساڑھے سات بجے میں بس پر دس پنس (دو روپے ) کی خطیر رقم خرچ کر کے کالج پہنچتا۔ ریڈنگ روم آٹھ بجے کھلتا تھا۔ شام آٹھ بجے جب ریڈنگ روم کی بتیاں بجھنا شروع ہوتیں تو میں اپنا بستہ اٹھاتا اور اڑھائی میل کا سفر پیدل طے کرتا۔ میں چلتے چلتے سورت یٰس اور سورت رحمٰن کی تلاوت کرتا جاتا۔ میں کچھ ایسا تارک الدنیا ہو گیا تھا کہ چلتے ہوئے اپنے ماحول سے بالکل بے خبر ہو جاتا اور مجھے سفر کا پتہ بھی نہ چلتا، گویا نشتر میڈیکل کالج کے قاسم ہال (ہاسٹل) کا زمانہ مجھ پر پھر سے وارد ہو گیا تھا۔
یونس کبھی کبھی کالج یا کسی دوسری جگہ نظر آ جاتا لیکن مجھ سے بات نہیں کرتا تھا۔ میں نے محسوس کیا یونس کو اب تک کہیں ملازمت مل جانی چاہیے تھی۔ اسے امتحان پاس کیے ہوئے دو ماہ ہونے والے تھے لیکن وہ ابھی تک یہیں تھا۔ وہ خستہ حال بھی لگتا تھا۔ جن جگہوں پر وہ نظر آتا، وہاں سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں تھا کہ اس کی معاشی حالت، خط غربت سے کہیں نیچے چلی گئی ہے۔ اچانک جیسے مجھ کشف سا ہوا۔ معاشی حالت تو اس کی اس وقت بھی اچھی نہیں تھی جب مئی میں ایڈنبرا جاتے ہوئے اس نے مجھ سے کچھ رقم ادھار لی تھی، اب تو چار ماہ اور گزر گئے ہیں۔
میں نے اپنے کشف کا دائرہ وسیع کیا تو عیاں ہوا کہ اس کے پاس تو ملازمت کرنے کے لئے لازمی میڈیکل انشورنس کروانے کے پیسے ہی نہیں ہیں۔ اس انشورنس کے بغیر ملازمت کی پیش کش ہو ہی نہیں سکتی اور ملازمت کی پیش کش کے بغیر میڈیکل کونسل میں رجسٹریشن نہیں ہوتی، گویا یونس آوا گون کے چکر میں پھنس گیا تھا۔ مجھے اس بات کا اعتراف ہے کہ میری پرہیز گاری اور پاک بازی کا تاثر بالکل سطحی اور جعلی ہے۔ میں اپنی شخصیت کی کمزوریوں سے خوب واقف ہوں۔ میرا تن آسائش، آرائش اور نمائش پسند اور من ستائش پسند ہے۔ سینہ فراخ نہیں اور دل میں اخلاص نہیں، نیت صاف نہیں اور باطن شفاف نہیں۔ میں اپنے ایک سینیئر ساتھی، دیدار حسین بھٹی ’جسے کالج کے زمانے سے‘ لالہ بھٹی ’کہا جاتا تھا کے کمرے میں چلا گیا۔ وہاں اپنے سب ساتھیوں کی محفل جمی تھی۔ میں نے کہا لالہ میں ایک بات کرنا چاہتا ہوں۔
کہو کیا کہتے ہو؟ لالہ نے کہا۔
میں یونس کی بات کرنا چاہتا ہوں۔ یونس مجھ سے بات نہیں کرتا۔ اس کا میڈیکل انشورنس نہیں ہے۔ انشورنس کے لئے خاصی رقم درکار ہے۔ اس کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔ ملازمت کی پیشکش کے بغیر رجسٹریشن نہیں ہو سکتی اور رجسٹریشن کے بغیر وہ ملازمت نہیں کر سکتا۔ کیوں نہ ہم سب مل کر اس کی انشورنس کروا دیں اور اپنے وہ دوست جو پہلے سے کام کر رہے ہیں ان سے کہہ کر اس کے لئے کہیں ملازمت کا بندو بست کر دیں۔ یہ لیں میری طرف سے پیسے اور باقی دوست بھی اپنا حصہ ڈالیں۔
لالہ کو ہمارے کشیدہ تعلقات کا علم تھا۔ اس کا خیال تھا کہ یونس میری پیشکش کو قبول نہیں کرے گا۔ لالہ نے پیسے مجھے واپس کرتے ہوئے کہا: تمہاری تجویز بہت اچھی ہے، ہم آج سے ہی اس پر کام شروع کر دیں گے، بس تم نے کسی سے اس کا ذکر نہیں کرنا۔ دس دن بعد یونس، ویکسفورڈ (Wexford) کے ہسپتال میں کام پر چلا گیا۔ میں نے بھی امتحان جنوری 1981ء میں پاس کر لیا اور مجھے فوراً بعد ملازمت مل گئی۔ یونس کے بارے میں اتنا ہی پتہ چلا کہ وہ آئر لینڈ میں سال بھر کام کرنے کے بعد شمالی آئرلینڈ ’جو برطانیہ کا حصہ ہے‘ چلا گیا ہے۔
ایف آر سی ایس کے دوسرے (آخری) امتحان کے لئے رائل کالج کی طرف سے مقررہ اڑھائی سال کی مخصوص شعبوں میں کام کرنے کی شرائط پوری کرنا ہوتی ہیں۔ میں نے وہ سیدھے سبھاؤ پوری کر لیں اور مجھے امتحان دینے کی اجازت مل گئی۔ یونس کے بارے میں مجھے علم نہیں کہ اسے امتحان دینے کی اجازت ملی یا نہیں، گمان یہی ہے کہ نہیں ملی تھی۔ جنوری 1985ء کی بات ہے۔ میں اس وقت ایف آر سی ایس مکمل کر چکا تھا اور ڈبلن میں تھا۔ ایک ڈاکٹر، محمد صالح، جو اندرون سندھ، غالباً نواب شاہ سے تھے، میرے پاس آئے۔
کہنے لگے، میں آپ کے پاس ایک پیغام لے کر آیا ہوں۔ اگر چہ ڈاکٹر یونس شیخ نے مجھے کہا ہے کہ یہ بات تم اپنی طرف سے کرنا لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ میں کہنے لگا ہوں یہ اسی کی طرف سے ہے۔ وہ اس وقت سخت مشکل میں ہے اور اسے آپ کی مدد درکار ہے۔ میں بڑا حیران ہوا کہ یونس تو مجھ سے سخت بیزار ہے، اسے مجھ سے کس طرح کی مدد چاہیے۔
کس قسم کی مدد؟ میں نے کہا۔
اس کی جنرل میڈیکل کونسل (برطانیہ) کی رجسٹریشن منسوخ کر دی گئی ہے۔ وہ رائل وکٹوریہ ہسپتال، بلفاسٹ میں کام کرتا تھا۔ اس نے ربڑ بلٹ (Rubber Bullets) کے ضمن میں برطانوی حکومت کے موقف کی مخالفت میں ایک بیان اخبارات میں جاری کر دیا تھا، جس سے حکومت کی سبکی ہوئی۔ بہانہ کچھ اور بنا کر اس پر کوئی الزام عاید کر کے، اس کی رجسٹریشن ختم کر دی گئی ہے۔ وہ اب یہاں آ گیا ہے۔ لیکن میڈیکل کونسل آئر لینڈ نے بھی جی ایم سی (برطانیہ) کے ایما پر اس کی رجسٹریشن میں توسیع سے انکار کر دیا ہے۔
ارے بھئی ہم یہاں پوسٹ گریجوایشن کے لئے آئے ہیں۔ ہمیں مقامی معاملات میں اپنی ٹانگ اڑانے کی کیا ضرورت ہے؟ میں اپنی انا کے گھوڑے پر سوار ہو گیا۔ میں چاہتا تھا کہ یونس خود مجھ سے آ کر بات کرے اور تفصیلاً بتائے کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے اور آگے کیا کیا جاسکتا ہے۔ میر اپنا خیال یہ تھا کہ یہ سراسر قانونی معاملہ ہے۔ یونس نے کہیں بھی میرے ساتھ کام نہیں کیا۔ میں اس کے بارے میں کسی عدالتی فورم میں کوئی رائے دینا بھی چاہوں تو میں کیا کہہ سکوں گا؟
دل میں البتہ چبھن سی تھی کہ یونس یہ کیا کر بیٹھا ہے؟ میں نے صالح کو ٹکا سا جواب دے دیا۔ اس کے بعد یونس سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ میں اب قلق محسوس کر تا ہوں کہ آخر کسی مان کے تحت ہی اس نے صالح کو میرے پاس بھیجا تھا۔ میرا خیال ہے کہ لالہ بھٹی نے اسے اس کی میڈیکل انشورنس والی بات بتا دی تھی اور اب وہ اسی امید پر مجھ سے رابطہ کر رہا تھا۔
بہت سال گزر گئے۔ شاید2001ء کی بات ہے یہاں برطانیہ میں کسی اخبار میں چھوٹی سی ایک خبر پڑھی ’ڈاکٹر یونس شیخ نے، جو جیل میں پھانسی کی کوٹھری میں ہیں، جنرل پرویز مشرف کے مارشل لاء کی حمایت کر دی۔ ڈاکٹر یونس کا خیال ہے کہ اس سے ملک ترقی اور خوش حالی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا ’مجھے ایسے لگا جیسے یہ ہمارا ساتھی یونس شیخ بول رہا ہے۔ لیکن وہ جیل میں کیا کر رہا ہے۔ میں نے بریگیڈیئر بلال جو اے ایف آئی سی، راولپنڈی، میں کارڈیئک سرجن (Cardio-thoraccic Surgeon) تھے، سے بات کی۔ بلال نے تصدیق کی کہ یہ ہمارا ہی ہم جماعت یونس شیخ ہے۔
بلال نے کچھ تفصیلات بتائیں لیکن اصل تفصیلات پروفیسر میاں عبدالرشید سے ایک دو سال بعد ملاقات پر معلوم ہوئیں۔ یونس ایف آر سی ایس نہ کر سکا تھا اور واپس اسی جگہ، چشتیاں، جسے وہ پسماندہ علاقہ خیال کرتا تھا، چلا آیا تھا۔ کچھ سال وہاں پرائیویٹ پریکٹس کی۔ وہاں اذان کے مسئلے پر مقامی علماء سے چپقلش ہوئی تو اسلام آباد چلا گیا۔ اسلام آباد میں کسی ہومیو پیتھک میڈیکل کالج میں ڈیمانسٹریٹر بنا۔ کچھ عرصہ بعد ، مبینہ طور پر، اس نے لیکچر کے دوران کوئی ایسی بات کہہ دی جس پر اس کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ بن گیا۔ عدالت سے موت کی سزا ہوئی جو ہائی کورٹ نے برقرار رکھی، البتہ سپریم کورٹ نے اسے بری کر دیا۔ جیل سے رہا ہوتے ہی سویٹزرلینڈ کی کسی این جی او نے اسے اپنے ملک میں سیاسی پناہ دلوا دی۔
بریگیڈیئر بلال، جو خود چشتیاں سے ہیں، نے بتایا ہے کہ وہ ہفتہ دس دن قبل سویٹزرلینڈ میں ہی اس جہان فانی کو داغ مفارقت دے گیا ہے۔ مجھے اپنے ایک ساتھی، جس کے ساتھ خاصا قریبی تعلق رہا، کے ہمیشہ کے لئے بچھڑ جانے پر دکھ ہے۔ اس دکھ کے اظہار کے لئے میں کیا طریقہ اختیار کروں، مجھے کچھ سمجھ نہیں آتی۔ مجھے تو یہ بھی پتہ نہیں (تمثیلاً عرض کر رہا ہوں ) کہ وہ شخص جو حج کے لئے بیت اللہ کے گرد چکر لگانے کو محض ’چکر‘ سمجھتا ہو اور صفا مروا کی سعی کو ’سعی لا حاصل‘ اس کے مرنے کے بعد میں اس کے لئے حج بدل کا اہتمام کروں تو کس برتے پر۔ اللہ تعالیٰ یقیناً غفور الرحیم ہے، اس سے کچھ بھی بعید نہیں۔ اللہ تعالی اسے جہاں رکھے، پر سکون اور پر آسائش رکھے اور اس کے لواحقین کو صبر عطا فرمائے۔
ڈاکٹر جمیل احمد میر
(21 جون 2021ء)


