EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

ریپسٹ پیدا ہوتے رہیں گے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خاکسار اکثر و بیشتر حیرانی سے سوچتا ہے کہ استاد کے منصب جلیلہ پر فائز شخص اتنی پستی میں کیونکر گر جاتا ہے کہ اسے نہ اپنی عزت اور مقام و مرتبے کا خیال آتا ہے اور نہ ہی معاشرے کا خوف رہتا ہے؟ وہ کیا لمحہ ہوتا ہے کہ جب وہ بھیڑیا بن کر اپنے سامنے موجود اپنی بیٹی یا بیٹے کی عمر کے انسان کو بھنبھوڑنے پر تل جاتا ہے؟ کیا اس وقت وہ طالبہ بے لباس ہوتی ہے؟ وہ طالب علم اپنے کن ”ابھاروں“ کی وجہ سے 70,72 سالہ بوڑھے استاد کے جذبات میں ہلچل مچا دیتا ہے؟

جناب وزیراعظم مختصر لباسی کو جنونی ہونے کی وجہ قرار دیتے ہیں لیکن جب تین چار سالہ بچیوں کا ریپ ہوتا ہے تو ان کی ”مختصر لباسی“ ہیجان کا باعث کیسے بن جاتی ہے؟ کیا ان کا یہ بیان پاکستان کے مردوں کی توہین نہیں ہے کہ انہیں اپنے اوپر قطعاً بھی کنٹرول نہ ہے؟ کیا چھت پر چڑھا کوئی پاکستانی مرد اتفاق سے ہمسائی کو برہنہ دیکھ کر جذبات سے بے قابو ہو کر اس عورت کے گھر میں کود جاتا ہے؟ کیا مختصر لباس میں کسی عورت کو دیکھ کر پاکستانی مرد اس کا ریپ کرنے پر تل جاتے ہیں؟ یاد آ رہا ہے کہ سابق آمر مشرف نے مختاراں مائی کے ریپ کے بعد غیر ملکی میڈیا سے کہا تھا کہ

”پاکستانی عورتیں دولت حاصل کرنے کی خاطر ریپ ہونے کے جھوٹے ڈرامے کرتی ہیں اور غیر ملکی شہریت کا حصول بھی ایک مقصد ہوتا ہے“

ان کے دور کے ایک ترجمان جو اتفاق سے ریاست مدینہ میں بھی وزیر ہیں نے ایسا صحافیوں بارے فرمایا ہے کہ ”صحافی غیر ملکی شہریت کے لیے بھی ایسا کرتے ہیں“

یہ مائنڈ سیٹ آکسفورڈ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی جب ابھر کر سامنے آتا ہے تو عجیب سی حیرت بھی ہوتی ہے اور دکھ بھی کہ لوگوں کو کسی بھی درجے کی تعلیم اجڈ پنے اور گنوار ازم سے روک نہ سکتی ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا برطانوی وزیراعظم ایسی ویسی ہانک کر کرسی پر برقرار رہ سکتا ہے؟

یہاں ایسے پولیس افسران ملک کے بڑے شہروں پر مسلط کیے جاتے ہیں جو کہ ریپ ہونے کے بعد متاثرہ خاتون ہی پر اس کے ریپ کی ذمے داری ڈال دیتے ہیں اور المیہ یہ ہے کہ ایسے نا اہل لوگ حکمرانوں کے پسندیدہ ترین ٹھہرتے ہیں اور وہ ڈھٹائی سے ایسوں کے لیے کلمہ خیر بلند کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں جس کی وجہ سے 22 کروڑ لوگ خود کو اور بھی غیر محفوظ سمجھنا شروع کر دیتے ہیں اور شاید ایسا سمجھنے میں وہ حق بجانب بھی ہوتے ہیں کہ جب چوٹ کھانے والوں ہی کو قصور وار کہا جائے گا تو پھر لوگ کچھ اور کیوں سوچیں گے؟

خیر بات استاد کے منصب کی استاد ہی کے ہاتھوں پامالی کے حوالے سے ہو رہی تھی اور شرمناک اور افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس پامالی میں مردوزن دونوں کا کردار خاصا بھیانک نظر آتا ہے۔

یہ 90 کی دہائی کی کہانی ہے جب لاہور کے دوپہر کو شائع ہونے والے اخبار ”روزنامہ لشکر“ ( اس کے ایڈیٹر ان دنوں ممتاز کالم نگار حسن نثار ہوا کرتے تھے ) نے پشاور کے ایک گرلز ہائر اسکینڈری اسکول کی خبر لگائی تھی کہ کیسے ایک نئی آنے والی ٹیچر نے ایک ہیڈ گرل کو مختلف اوقات میں جنسی طور پر ہراساں کرنا شروع کر دیا تھا اور جب اس ہیڈ گرل نے مزاحمت کی تو وہ نئی ٹیچر جنونی سی ہو گئی اور ایک روز کمرے میں تنہا بلا کر اس ہیڈ گرل کو بھنبھوڑ کر رکھ دیا تھا اور اس کے ہونٹ، چہرے اور سینے پر کاٹ کاٹ کر زخم ڈال دیے تھے لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ وطن عزیز میں اس جرم کی کوئی نہ پکڑ ہے اور نہ ہی سزا وغیرہ ہے۔ اس ہم جنس پرست ٹیچر کا بعد میں کہتے ہیں کہ سزا کے طور پر صرف تبادلہ ہی ہوسکا تھا اور وہ متاثرہ ہیڈ گرل بے چاری شاید آج برسوں بعد بھی کئی طرح کے نفسیاتی مسائل کا شکار ہوگی لیکن شکر ہے کہ وہ اس دور میں نہ ہوا ہے ورنہ یہ بیان لڑھکا دیا جانا تھا کہ

”اس ہیڈ گرل کو کس نے کہا تھا کہ پرکشش پیدا ہو“

اسی طرح گورنمنٹ کالج لاہور (جو ان دنوں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور ہے ) کے شعبہ سیاسیات میں اسی 90 کی دہائی میں ایم اے سال اول کی ایک طالبہ کے ساتھ پیش آنے والا المناک واقعہ بھی بہت سے ذہنوں میں ابھی بھی تازہ ہے کہ کیسے اسے اس ہی کے چند اساتذہ جن میں سے ایک کا نام ”عبدالرحمن“ بھی تھا، نے نوٹس کے بہانے روک کر ریپ کیا اور پھر ایک لان میں پھینک دیا تھا جسے ایک مالی نے بری حالت میں پڑا دیکھ کر چند لوگوں کو خبر کی تھی لیکن افسوس کہ اس معاملہ کو کالج کی عزت کا واسطہ دے کر اس وقت دبا دیا گیا تھا اور متاثرہ لڑکی کے والدین بھی اپنی عزت کی وجہ سے چپ کر کے اپنی بچی کے ساتھ ہونے والے سنگین سانحے کو بھلانے پر مجبور ہو گئے تھے اور آج وہ مجبور لڑکی بھی اس سانحے کو یاد کر کے لرز جاتی ہوگی۔

دکھ کی بات یہ ہے کہ ایسے سانحات متعدد بار نہیں بارہا ہوچکے ہیں ,ہوتے رہتے ہیں, اسی ملک میں ایک بہت بڑے سیاستدان اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے قریبی ساتھی سردار شوکت حیات کی صاحبزادی وینا حیات کے ساتھ ملک کے ایک صدر رہنے والے کے قریبی عزیز کی جانب سے ریپ کی شرمناک داستان بھی سامنے آئی تھی اور بے نظیر بھٹو جیسی قدآور خاتون بھی وینا حیات کے ساتھ کھڑی ہونے کے باوجود اسے انصاف نہ دلا سکی تھی کہ یہاں ایسا مائنڈ سیٹ شروع سے موجود ہے کہ جو اول تو عورت کے ساتھ پیش آنے والے ایسے سانحے کو ”روٹین“ کی بات سمجھتا ہے یا پھر اسے عورت ہی کی ”غلطی“ کہہ کر معاملے کی سنگینی کا رخ موڑنے کی کمینی سازش بھی رچاتا ہے اور جب تک یہ مائنڈ سیٹ موجود ہے نہ ایسے سانحات رکیں گے اور نہ ہی کسی متاثرہ فرد کو انصاف ملے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے