اپنا مفاد پہلے


ابھی تک بہت سے لوگوں کو یقین نہیں آ رہا کہ عمران خان نے جو امریکا کو اڈے نہ دینے کے حوالے سے کہا ہے وہ سچ ہے کیونکہ ماضی میں وہ جب کوئی بات کرتے تو اس سے پھر جاتے تھے جسے یو ٹرن کہا گیا۔

یہ رہا گھوڑا اور یہ گھوڑے کا میدان ’جب امریکا افغانستان سے مکمل طور سے واپس جائے گا تو سب معلوم ہو جائے گا کہ ڈرون کہاں سے اڑتے ہیں مگر مجھے عمران خان پر پورا بھروسا ہے کہ جو اس نے کہا ہے اس پر من و عن عمل درآمد ہو گا یعنی امریکا کو اڈے بھی نہیں ملیں گے اور اس کے ڈرون ملک کی فضاؤں سے بھی نہیں گزریں گے کیونکہ ہم اس کی خواہشات کو پورا کرتے کرتے بہت نقصان برداشت کرچکے کہ اب تک ہم نے جو بھی پالیسیاں امریکی ڈکٹیشن پر بنائیں اور اس کی دوستی میں جن معاملات کو دیکھا ان سے کچھ حاصل نہیں ہوا۔

معیشت سے سماجیات تک سبھی سخت متاثر ہوئے اور اس وقت بھاری قرضوں کے نیچے دب چکے ہیں سیاست ہماری بدحال ہے سیاستدان عوام کی نظروں میں غیر اہم ہو چکے ہیں اسی امریکا نے زیڈ اے بھٹو ایسے سیاسی رہنما کو ہم سے جدا کر دیا یعنی امریکا کی ناراضی مول نہ لینے کے پیش نظر ہم نے جو ترقی کرنا تھی وہ نہ کرسکے لہذا اب جب چین دنیا کی بڑی معاشی طاقت بننے جا رہا ہے اور اس کا اس خطے میں کردار اہم ہے تو ہمیں آبیل مجھے مار والی پالیسی سے اجتناب برتتے ہوئے مغرب سے تھوڑا فاضلہ رکھنا ہو گا اسی لئے وزیر اعظم نے ببانگ دہل کہہ ڈالا ایبسولوٹلی ناٹ۔

سو اس سے واضح ہو گیا کہ ہماری خارجہ پالیسی اب کسی کی مرہون نہیں رہی ہمیں صرف اور صرف اپنے مفاد کو دیکھنا ہے کسی کے فائدے بارے نہیں سوچنا مگر حیرت ہے کہ لبرل اور ترقی پسند حلقوں کی جانب سے ابھی تک کوئی خاص پذیرائی نہیں ملی شاید انہیں عمران خان کی یو ٹرنی سیاست کی وجہ سے شک ہے مگر وہ حالات کی نزاکت سے بخوبی واقف ہوں گے کہ اب وہ سماں ہے نہ ہیں وہ فضائیں لہذا آج بھی دوسروں کے مفادات کو سامنے رکھنا ہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہماری حالت کیسے ٹھیک ہوگی کہ ملک کے اندر ایک انارکی سی پھیلی دکھائی دیتی ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس ایسا منظر ابھرا ہوا ہے جو طاقتور ہے وہ اپنی مرضی کر رہا ہے اسے کوئی روک ٹوک نہیں غربت تیزی سے بڑھ رہی ہے انسانی رویے یکسر تبدیل ہو چکے ہیں سماجی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور احترام آدمیت رہا نہیں لہذا اس صورت حال سے نمٹنا مشکل ہی نہیں ناممکن نظر آنے لگا ہے اور کیا اہل دماغ اور ذمہ داران اسے ایسے ہی چلنے دیں گے نہیں ہر گز نہیں لہذا پالیسیاں اور حکمت عملیاں بدلنے کے اشد ضرورت ہے جس کا آغاز ہو چکا ہے مگر مغرب سے مستفید ہونے والے طرح طرح کی باتیں کرنے لگے ہیں وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ ہمیں اس سے رخ نہیں پھیرنا چاہیے اس میں فائدہ نہیں ان سب سے معذرت کے ساتھ کہ اب جب چوہتر برس ہو گئے ہیں تو بھی ہمیں مغرب سے خاطر خواہ فوائد حاصل نہیں ہو سکے اور اس کو راضی رکھتے ہوئے خوشحالی کی منزل سے بہت دور ہو گئے اس کے قریب رہنے سے اور بھی دور ہوسکتے ہیں تو کیوں نہ نعرہ مستانہ بلند کر دیا جائے اور دنیا کی دو بڑی طاقتوں کی طرف بڑھا جائے جن کی تاریخ ہے کہ جو بھی ان کے ساتھ جڑا وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل ہو گیا مگر کچھ لوگ اس بات سے ناخوش نظر آتے ہیں انہیں کیوں موجودہ صورت حال کا اندازہ نہیں کہ وہ بدل رہی ہے بدل چکی ہے اور پھر انہیں کیوں یہ خیال نہیں کہ ہمارا مفاد اس خطے سے وابستگی میں ہے لہذا اب تک جو زخم ہمیں لگنے تھے لگ گئے اب مزید کی گنجائش نہیں۔

بہرحال بڑے دماغ والوں کو جو بہتر نظر آ رہا ہے وہ کرنے جا رہے ہیں ہم چھوٹے ذہن والے جو مرضی کہیں اس کا کوئی فائدہ نہیں مگر ایسا بھی لگتا ہے کہ اب انہوں نے عوام کی آواز کو سن لیا ہے لہذا امید کی جا سکتی ہے کہ آئندہ سب اچھا ہو گا مگو بعض ناقدین کو اس پر بھی اعتراض ہو گا جبکہ حقائق حقائق ہوتے ہیں ان سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔

خیر ابھی پالیسیوں حکمت عملیوں اور منصوبوں میں رد و بدل ہونا ہے لہذا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اس سے متعلق قطعی نہیں کہا جا سکتا مگر یہ کہا جا سکتا ہے کہ حکمران چاہیں تو مہنگائی اور نا انصافی کا خاتمہ ضرور کر سکتے ہیں مگر اسے ایبسولوٹلی ناٹ نہیں کہا جا رہا۔ جب ملکی مفاد میں فیصلے کے لئے اہل اختیار متحرک ہو چکے ہیں تو عوامی مفاد میں کوئی بڑا فیصلہ کیوں نہیں کیا جا رہا کہ اب کسی کے ساتھ زیادتی ہوگی نہ کوئی مافیا اشیاء خور و نوش کے دام اپنی مرضی سے بڑھا سکے گا ملاوٹ کرنے والوں کو بھی روکا جائے گا کہ جس کی وجہ سے قومی صحت روز بروز گرتی چلی جا رہی ہے جسے دوائیں چاہیں مگر وہ ملتی ہیں مہنگی اور جعلی۔

کہاں جائے اور کیا کرے کوئی۔ وزیر اعظم جب دلیرانہ فیصلے کر سکتے ہیں تو نجانے کیوں مافیاز سے مرعوب دکھائی دیتے ہیں کہ وہ گندم بھی چھپا لیتے ہیں اور چینی بھی جسے بعد ازاں مہنگے داموں فروخت کر دیتے ہیں ادھر بجلی اور گیس چور ہیں مگر ڈنڈا حرکت میں نہیں آتا میرا دوست جاوید خیالوی کہتا ہے کہ یہاں واقعتاً دودھ اور شہد کی نہریں بھی بہہ نکلیں گی تو بھی عام آدمی ان سے مستفید نہیں ہو سکے گا کہ یہ سب اشرافیہ کے لئے ہے مگر بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق اگلے دو برسوں میں عمران خان اقتدار میں آنے کے لئے روایتی سیاست کے تناظر میں کچھ عوام مفاد کے اقدامات کرنے جا رہے ہیں اسی لئے ہی حزب اختلاف جوڑ توڑ میں مصروف عمل ہو چکی ہے مگر اسے کامیابی حاصل نہیں ہوگی کیونکہ عمران خان خارجہ پالیسی کے حوالے سے ہر قدم نپا تلا اٹھا رہے ہیں لہذا سب ان کے ساتھ ہیں کچھ کہتے ہیں کہ بھٹو کے بعد یہ دوسرے سربراہ ہیں جنہوں نے عوامی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھنا چاہا ہے مگر وہ اپنے بنیادی مسائل حل نہ ہونے سے پریشان بھی ہیں اور سوچتے ہیں کہ وہ (وزیر اعظم) ابھی تک کوئی سخت فیصلہ نہیں کر سکے جس کے نتیجے میں انہیں ایک بڑا ریلیف ملتا۔

Facebook Comments HS