تربوز کا انسانی تاریخ میں استعمال اور مستقبل


آپ اس تحریر کا عنوان پڑھ کر شاید یہ سوچ رہے ہوں کہ ہم تربوز سے کسی جن کے نکلنے کی خبر بتانا چاہ رہے ہیں لیکن ایسی کوئی بات نہیں، ہم تو علم کے اس جن کا تذکرہ کر رہے ہیں کہ جو سائنسدان تربوز سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

آج کل گرمی اپنے جوبن پر ہے اور جب گرمی ہو تو آپ کو ہر طرف تربوز اور تربوز کا شربت نظر آتے ہیں۔ مگر کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ تربوز کہاں سے ہماری زندگی میں آئے؟

ہم جانتے ہیں کہ باجرہ سب سے پہلے چین میں کاشت ہوا، گندم سب سے پہلے قدیم میسوپوٹیما (عراق) میں کاشت ہونا شروع ہوئی۔ بکریاں اور بھیڑیں سب سے پہلے مشرق وسطی کے مختلف علاقوں میں انسانوں نے پالنا شروع کیں۔ آلو سب سے پہلے براعظم امریکہ کے خطے میں اگایا گیا اور وہاں سے ساری دنیا میں پھیلا، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ تربوز کہاں سے ہماری زندگی میں آیا؟

سب سے پہلے کس نے تربوز کا استعمال شروع کیا؟ یہ بات ذہن نشین رہے کہ ارضیاتی پیمانے پر ابھی ”تھوڑا ہی عرصہ“ بیتا ہے کے کہ انسان کاشت کاری اور زراعت کی جانب متوجہ ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے ایک طویل عرصے تک انسان کے آبا و اجداد شکاری رہے۔ اور ان کا شکار سے زراعت کی جانب سفر مسلسل نہیں بلکہ جھٹکے کھاتے ہوتے تھا۔ ابتدائی کاشتکاری کے ثبوت گلیلی (موجودہ اسرائیل) میں کوئی تئیس ہزار سال پہلے زمانے کے ملے ہیں لیکن باقاعدہ کاشتکاری یہی کوئی بارہ ہزار سال پہلے شروع ہوئی۔ لیکن یہ عمل اتنا رواں نہیں تھا۔ اس دور میں کاشتکار شکار بھی ساتھ ساتھ کیا کرتے تھے۔ اس ارتقائی عمل کے دوران کوئی ایسا ”یوریکا“ لمحہ نہیں آیا تھا کہ جب شکاریوں نے یک دم شکار کرنا چھوڑ کر کاشتکاری کرنا شروع کر دیا اور باقاعدہ بستیاں بسا کر ان میں رہنا شروع کر دیا ہو۔

تربوز کا پودا پھولوں کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ آج تربوز سینڑل ایشیاء کی دس اہم ترین فصلوں میں شمار ہوتے ہیں۔ موجودہ دور میں استعمال ہونے والے تربوز کا تعلق ”سٹرلس“ خاندان کی زیلی نسل ”وولگرس“ سے ہے۔ ماہرین نے یہ جاننے کے لیے کہ انسان نے کب تربوز کو اگانا شروع کیا، قدیم زمانے کی تصویروں سے مدد لینی شروع کی۔ اس بارے میں سب سے پہلا ثبوت وادیٔ نیل میں چار ہزار تین سو ساٹھ سال پہلے تعمیر کیے گئے مقبروں میں بنی تصویروں میں تربوز جیسے پھل کو کھانے والے افراد کی صورت میں ملا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت اسے کھانے کے بعد میٹھے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ تصویریں ماہرین کے لیے پہلا اشارہ تھیں جس کے بعد انہوں نے کھوج لگائی تو انہیں پورے براعظم افریقہ کے خطے میں تربوز جیسے پھل کی کاشت کے ثبوت ملے۔

لیکن آخر یہ جاننے کے لیے کہ تربوز کی شروعات کہاں، کب ہوئیں، کے لیے سائنسدانوں کو اتنا کشٹ اٹھانے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ ایک عام آدمی کے لیے تو بس یہی کافی ہے کہ ”تربوز میٹھے ہوں اور بہت سی مقدار میں ہوں“ ۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ تربوز کی پہلی کھانے کے قابل نسل کے بارے میں جان کر ماہرین اس کی کاشت کاری کے طریقے کو زیادہ بہتر بنا سکتے ہیں اور مستقبل میں موجودہ نسل کے خاتمے کی صورت میں جنگلی تربوز سے دوبارہ کھائی جانے والے تربوز کی نسل تخلیق کر سکتے ہیں۔

مثلاً کیا آپ کو معلوم ہے کہ سن انیس سو پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں اس وقت تک کیلے کی کاشت ہونے والی نسل ”گروس مائیکل“ ( the Gros Michel ) ایک پھپوندی کی بیماری جسے ”پانامہ بیماری“ کی عرفیت سے جانا جاتا ہے، کے باعث پوری دنیا میں ختم ہو گئی تھی۔ لیکن چونکہ ماہرین کو کیلے کی اصل ابتدائی نسل کے بارے میں معلومات حاصل تھیں تو انہوں نے کیلے کی ایک نئی نسل متعارف کرا دی۔ اس وقت دنیا بھر میں کاشت ہونے والے کیلے کی قسم ”کیونڈیش“ خاندان (Cavendish variety ) کی ذیلی اقسام سے تعلق رکھتی ہے۔

لیکن کیلے کی بقاء کے حوالے سے یہی غیر تنوع مسئلہ بن گیا ہے۔ موجودہ دور میں دنیا بھر میں کیلے کی فصل کو ایک نئی قسم کی پھپھوندی سے خطرہ لاحق ہے اور ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر جلد ہی اس پھپھوندی کے خلاف مزاحمت رکھنے والی کیلے کی قسم تیار نہ کی گئی تو دنیا بھر سے کیلے کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس سال ”ایکوا ڈور“ جو کہ دنیا بھر میں کیلے کا سب سے بڑا بڑا آمد کنندہ ہے اور اس کے پڑوسی ملک ”پیرو“ میں کیلے کی فصل کو اس پھپھوندی سے بہت نقصان پہنچا ہے۔

ایسے ہی خدشات کی وجہ سے یونیورسٹی آف میونخ کی پروفیسر سوزین رئینر اور ان کے ساتھیوں نے تربوز پر تحقیق شروع کی۔ ان تحقیقات سے پتا چلا کہ سوڈان میں پیدا ہونے والا جنگلی تربوز ”کورڈوفان ( Sudanese Kordofanmelon ) آج کل پیدا ہونے والے تربوز کا سب سے قریبی رشتہ دار ہے۔ اس تربوز کا گودا سفید رنگ کا ہوتا ہے۔ ایک اور خاص بات یہ ہے کہ اس نسل کے تربوز کے دیگر تربوزوں کا ذائقہ ترش ہوتا ہے مگر اس تربوز کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے تربوز کے خاندان کے جینوم پر تحقیق شروع کی۔ تو انہیں پتا چلا کہ جنگلی تربوز کی ایک ہزار سے زائد اقسام کھانے کے قابل ہیں۔

پروفیسر سوزین رئینر نے بتایا، ”ہمارے تجزیوں نے یہ ثابت کیا کہ ابتدائی دور کے کسانوں نے تربوز کی میٹھی قسم کی کاشت شروع کی“ ۔

محققین نے تربوز کی مختلف قسموں کے کھانے کے قابل ہونے کو اس کی ایک اور اہم خوبی کے طور پر بیان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسی جینیاتی تنوع رکھنے کی خوبی کی بناء پر تربوز کے پودے مختلف بیماریوں اور کیڑوں کے خلاف ماحول بدل جانے پر بھی بہتر طریقے سے اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اور وقت گزرنے کے ساتھ آہستہ آہستہ تربوز کا رنگ سفید سے پیلا اور پھر سرخ گلابی ہوتا گیا۔ آپ اگر چاہیں تو پیلے رنگ کے گودے کے حامل تربوز کھا سکتے ہیں۔ بس ان میں لائیکوپین ( lycopene ) نہیں ہوتا۔ یہی مادہ ٹماٹروں کو بھی سرخ رنگ عطا کرتا ہے البتہ ایسے تربوز میں بیٹا کروٹین عام تربوز سے زیادہ مقدار میں ہوتا ہے جو آنکھوں کے لیے بہتر ہوتا ہے۔ اور ماہرین کے مطابق ایسا تربوز تیکنیکی طور پر زیادہ میٹھا اور ذائقہ دار بھی ہوتا ہے۔

Facebook Comments HS