میں روبوٹ کیسے بنا!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچپن سے ہی مجھ میں ’میں‘ بہت تھی۔ اور اب تو بڑھاپے میں یہ حالت ہے، کہ میری میں ’میں میں‘ میں تبدیل ہو گئی ہے۔ ہر وقت میں میں کرنے کی وجہ ہے، بچپن میں ایک بکری کا پالنا۔ شیخ چلی کے لطائف اور کہانیاں کون بچہ نہیں پڑھتا اور پڑھ کر ہنستا مسکراتا نہیں ہے۔ میں چونکہ سب بچوں میں سپیشل تھا۔ اس لیے میں نے شیخ چلی کی کہانیوں کو سنجیدگی سے پڑھا۔ اور ادھر ادھر سے مانگ تانگ کر ایک خالص گلابی بکری اور مرغی مرغا خرید لایا۔ اور ننھے منے میمنوں اور انڈوں کا انتظار کرنے لگا۔

صبح صبح گلابو اور مرغا مرغی کو جیسا اپنے آپ کو کھلا چھوڑا ہوا ہے، کھلا چھوڑ دیتا تھا۔ مجھے تو خیر سنبھالنے والے بچپن سے بہت ہیں۔ لیکن اوروں کی طرح گلابو اور مرغا مرغی نے کبھی مجھے سنجیدہ نہیں لیا۔ گلابو جلد ہی کسی کی بری نظر سے گھائل ہو گئی اور اسی کو پیاری ہو گئی۔ مرغا مرغی بھی قریبی کھیت میں رانی کھیت کی وبا کے شکار ہو گئے۔ گلابو اور مرغا مرغی کی جدائی کا میرے دل و دماغ پر بہت اثر ہوا۔ گلابی رنگ اور نام تو میری سدا کی کمزوری بن گئے۔ دل تو ادھر ادھر لگاتا رہا، لیکن دماغ پر جو اثر پڑا، اس کے اثرات اس عمر میں نمایاں ہیں۔

گھر والوں نے بچپن سے سمجھا اور بتا دیا تھا، کہ کزنز کے ساتھ مل کر ہر کھیلا کرو۔ یہ نصیحت اب تک پلے سے باندھی ہوئی ہے، جب بھی کوئی ذاتی مفاد ہو، بڑے سے بڑے علامہ کو بھی کزن بنانے سے نہیں چوکتا۔ کزنز کے ساتھ مل کر پڑھائی کے ساتھ ساتھ کرکٹ اور ہر قسم کے کھیل کھیلے۔ انگریزوں نے کرکٹ ایسا کھیل ایجاد کیا ہے، کہ بدھو سے بدھو کھلاڑی کو بھی سیاست کا شوق ہو جاتا ہے۔ کرکٹ میں سیاست کی وجہ سے جلد ہی کپتان بن گیا۔ میری خوش کلامی و شیریں بیانی کی وجہ سے تمام کھلاڑی روبوٹ کی مانند میرا حکم ماننے لگے۔ حتی کہ چند ایک میرے کہنے پر چندہ، زکٰوۃ و خیرات بھی مانگ لیتے تھے۔

ویسے پتا تو مجھے شمال جنوب اور دائیں بائیں کا بھی نہیں ہوتا، کہ کون سا ملک اور کون سا بندہ کس کا پڑوسی ہے۔ لیکن مغرب میں کھل کر ہر کھیل کھیلنے کی وجہ سے مغرب کو مجھ سے زیادہ بہتر کوئی نہیں جانتا۔ مغرب کو میں اس کے باشندوں کی گلابی رنگت کی وجہ سے ایک زمانے میں بہت پسند کرتا رہا ہوں۔ لیکن جب سے مشرق کی گلابی رنگت اور گلاب دیکھے ہیں، مغرب کی کشش باقی نہیں رہی۔ ایک بات میں نے نوٹ کی، کہ صرف مغرب میں کرکٹ کھیلتے ہوئے، شائقین کرکٹ کی گلابی رنگت کی وجہ مسلز پل نہیں ہوتے۔ اس حقیقت کا ادراک پڑوسی ملک میں کرکٹ کھیلتے ہوئے ہوا، جب وہاں کے شائقین کرکٹ کی وجہ سے میرے مسلز پل ہوئے۔ کبھی دائیں پسلی پھڑکتی کبھی بائیں۔ بائیں کچھ ذرا زیادہ ہی پھڑکی۔

یہ ادراک بھی مغرب میں رہتے ہوئے اور پڑوسی دیس کے دورے کے بعد ہوا، کہ مختصر اور چست لباس بے راہ روی اور مسلز پل ہونے کی بنیادی وجہ ہیں۔ کرکٹ سے سیاست سیکھنے، اسپتال کے لیے چندہ مانگنے، مغرب کو جاننے اور شادی کے بعد یہ احساس جاگا، کہ ملکی سیاست کا جو بیڑا غرق ہوا ہوا ہے، اس میں کچھ حصہ اپنی طرف سے ڈالنا، میرا جمہوری، قانونی، آئینی اور غیر اخلاقی فرض ہے۔ سو کرکٹ کے میدان سے براہ راست سیاست کے میدان میں چھلانگ ماری۔ لیکن ملکی سیاست پر کوئی اثر ہی نہیں پڑا۔

کرکٹ مجھے صرف یونیفارم اور امپائر کی وجہ سے اچھی لگتی تھی۔ اور وہ لمحہ تو مسرت بھرا ہوتا تھا، جب امپائر میرے حق میں انگلی اٹھاتا تھا۔ اسی وجہ سے میں نے مہم چلائی، کہ امپائر دو نہیں تین ہونے چاہییں۔ کرکٹ کھیلتا تھا، تو امپائر سے امید بندھی رہتی تھی۔ لیکن سیاست میں کسی ایسے بندے سے رابطہ نہیں تھا، جو یونیفارم میں ہو یا امپائر نما ہو۔ وہ تو خدا کا کرنا ایسا ہوا، کہ ملک میں مارشل لا لگ گیا۔ ہر جگہ یونیفارم والے نظر آنے لگے، تو جان میں جان آئی۔ اب اقتدار پر جو شخص قابض تھا، میں اس کا چہیتا اور وہ میرا۔ لیکن یہ سلسلہ زیادہ نہ چلا۔ چونکہ با وردی صدر کہتا تھا، کپتان اور امپائر بھی میں ہوں اور سیاسی کھیل کا میدان بھی میرا ہے۔ جس کو چاہوں میدان میں اتاروں، جس کو چاہوں نہیں۔ زندگی میں پہلی دفعہ کوئی یونیفارم والا اتنا برا لگا۔

اب مجھے سارا سیاسی نظام ہی برا لگنے لگا۔ میڈیا کو انٹرویوز میں اور نجی محافل میں یونیفارم والوں کے لیے، جو منہ میں آتا تھا، کہتا رہتا تھا۔ این آر او سے مجھے اسی زمانے میں نفرت ہوئی، حتی کہ ’این آر او نہیں دوں گا‘ میرا تکیہ کلام بن گیا۔ حالانکہ یہ امر بھی مجھ پر واضح ہے، کہ این آر او دینا، میرے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ لیکن جہاں قوم میری اتنی باتیں سن کر برداشت کرتی اور ہنستی ہے، ایک تکیہ کلام سے کیا چڑے گی۔ عام انتخابات کے موقع پر میں نے اعلان کیا، کہ میری جماعت انتخابات میں حصہ نہیں لے گی اور جماعتیں بھی انتخابات کا بائیکاٹ کریں۔ لیکن کسی نے میری نہ سنی اور مزے سے مخلوط حکومت بھی بنا لی، جو میرے وظیفوں کی وجہ زیادہ نہ چلی۔

چونکہ میں کبھی ہار نہیں مانتا، اس لیے جد و جہد جاری رکھی۔ دوران جد و جہد ایک ایسے بندے سے دو بدو ملاقات ہوئی، جس کو میں چپراسی کا اہل بھی نہیں سمجھتا تھا، بات اس نے پتے کی کہی، کہ سیاسی روبوٹ بن جاؤ، تمام مسئلے حل ہو جائیں گے۔ سیاسی روبوٹ بننے سے ایک صوبے کا اقتدار تو ہاتھ آ گیا۔ اب کچھ قریبی لوگوں نے ذاتی معاملات میں بھی مجھے روبوٹ بنانا چاہا، جو میں ’میں میں‘ کی وجہ سے بن نہ سکا۔ عام انتخابات سر پر تھے۔ پنڈی کے علاوہ مزاروں اور درگاہوں پر ماتھا ٹیکنا میرا معمول بن گیا۔

ایک درگاہ پر نظر کرم ہوئی اور وعدے وعید کے بعد میں قائل اور راضی ہوا، کہ اب سیاسی کے ساتھ ساتھ انسانی روبوٹ بننا میرے لیے ضروری ہے۔ جب سے کامل روبوٹ بنا ہوں، میرے اوپر اب کسی چیز کا اثر نہیں ہوتا، چاہے کوئی مختصر یا چست لباس پہنے۔ اسی لیے میں نے انٹرویو میں ذاتی تجربے کی بنیاد پر مختصر اور چست لباس پر تنقید کی اور وجہ شر قرار دیا۔ میرا بس چلے تو سربراہ مملکت کے لیے بھی یونیفارم کی قانون سازی کروا لوں۔ لیکن یونیفارم والے کہتے ہیں، اس سے ہمارا حق مارا جائے گا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments