وزیراعظم، پاکستانی معاشرہ اور ریپ کلچر

مجھ کو خود اپنے آپ سے شرمندگی ہوئی
وہ اس لیے کہ تجھ پہ بھروسا بلا کا تھا

محترم وزیراعظم آپ پچھلے کچھ ماہ میں دو مرتبہ جنسی زیادتی کے بارے میں بیانات دے چکے ہیں جو ان سب لوگوں کے لیے جو اس کا شکار ہوئے اذیت کا باعث بنے اور لوگ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ آپ کس یوٹوپیا میں زندگی گزار رہے ہیں کہ آپ جنسی زیادتی جیسے اہم مسئلے کی ا، ب سے واقف نہیں اور جیسے کہ آپ نے ذکر کیا کہ جب یہ مسئلہ بڑھ جاتا ہے تو آپ اپنے قریبی مشیروں کے ساتھ مل کے اس کے اوپر غور و خوض فرماتے ہیں تو عرض ہے کہ اگر یہ وہی وزیر مشیر ہیں جو بلاول بھٹو کے بارے میں انتہائی گھٹیا زبان استعمال کرتے ہیں اور نازیبا القابات سے نوازتے ہیں تو آپ غلط لوگوں سے مشورہ کرتے ہیں اور طرح یہ کہ آپ نے ان کو کبھی روکنا گوارا نہیں کیا۔

سیاسی مخالفین کی سیاست پر حملہ ساری دنیا میں کیا جاتا ہے لیکن اس طرح کے گھٹیا الزامات اگر لگائیں جائیں تو اس مغرب میں جس کو جاننے کے دعوے آپ ہر وقت کرتے ہیں اس کی عدالت میں ان سب وزیروں کی سیاست اور جیب دونوں فارغ ہو جائے گی۔ دوسرا یہ کہ یہ مسئلہ یک دم زیادہ نہیں ہو جاتا بلکہ ہمیشہ موجود رہتا ہے صرف میڈیا کی نگاہ سے کچھ عرصے کے لیے روپوش ہو جاتا ہے اور آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل ہم سمجھتے ہیں کہ یہ مسئلہ ختم ہو گیا اس وقت بھی اگر آپ کسی پاکستانی خاتون سے جو سادہ شلوار قمیض میں ملبوس ہو پوچھیں تو وہ آپ کو بتائی گی کہ سڑک پر نکلتے ہوئے وہ کس قسم کی ہراسانی کا شکار ہوتی ہیں جس کا تعلق جنسی لذت سے نہیں بلکہ صرف ان کو نیچا دکھانا، تنگ کرنا اور یہ ثابت کرنا ہے کہ باہر نکل کر انہوں نے جرم عظیم سر زد کیا ہے اور اس بیمار ذہنیت کو آپ اس یوٹیوبر کی ویڈیو میں دیکھ سکتے ہیں جو سادہ شلوار قمیض پہنے مکمل طور پر جسم ڈھانپے خواتین کو سر پر دوپٹہ نہ لینے پر ہراساں کر رہا ہے وہ خواتین بالکل بھی چھوٹے یا تنگ لباس میں ملبوس نہیں۔

پاکستان میں سرمایہ درانہ اور جاگیردارانہ نظام دونوں اپنی بھیانک شکل میں موجود ہیں اور نہ صرف دولت بلکہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے بے شمار ذہنی اور جذباتی مسائل کو جنم دیا ہے۔ ہمارے ملک کی بیشتر آبادی خط غربت کی سطح سے نیچے رہتی ہے اور ہمارے سیاستدانوں اور طاقت ور طبقوں کا تعلق امیر طبقے سے ہے اور امیر بھی وہ جن کی امارت سوچ سے باہر ہے ایسے میں یہ امید رکھنا کہ ان کو زمینی حقائق کا اندازہ ہوگا احمقوں کی جنت میں رہنے جیسا ہے۔

کیونکہ آپ بھی سونا کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہوئے ہیں اور سونے پہ سہاگہ کئی بہنوں کے اکلوتے بھائی ہیں آپ کے نظریات ایک روایتی امیرانہ سوچ کے عکاس ہیں۔ آپ کے خیال میں عورتوں کی زندگی کا واحد مقصد مردوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا ہوتا ہے چاہے وہ کتنی پڑھی لکھی اور با اختیار کیوں نہ ہو۔ آپ کے یہ بیانات آپ کی تمام خواتین دوستوں اور سابقہ اور موجودہ بیگمات کے لیے بھی تضحیک کا پہلو رکھتے ہیں کہ آپ ان کی طرف اس سوچ کے مالک ہیں کہ ان کی زندگی کا مقصد آپ کو رجھانا تھا اگرچہ وہ سب بطور انسان آپ کو چاہتی اور قدر کرتی تھیں۔

لیکن میں آپ کی معلومات میں اضافہ کرنا چاہتے ہوئے آپ کی توجہ درمیانے اور غریب طبقے کی خواتین کی طرف دلانا چاہتی ہوں کیونکہ جب وہ باہر نکلتی ہیں تو تعلیم اور روزگار ان کا مقصد ہوتا ہے جب گھر میں کھانے کو نہ ہو یا بلوں کا انبار گھر میں ہو تو آپ سکون سے اپنی تعلیم حاصل کر کے کرئیر بنانا چاہتے ہیں یا روٹی لے کر جانا چاہتے ہیں ایک عدد مرد نہیں۔ اس کے لیے آپ کو جنسی تشدد سے تحفظ چاہیے نہ کہ آپ کو ہی کٹہرے میں کھڑا کر دیا جائے کہ اپنی پاکیزگی ثابت کرو۔

پاکستان میں ہر روز گیارہ اور پچھلے چھے سالوں میں بائیس ہزار ریپ کیس رپوٹ ہوئے جب کہ صرف 77 ملزمان کو سزا ہوئی۔ اس کے علاوہ پاکستان میں بچوں کے خلاف جنسی تشدد عام ہے ساحل جو بچوں کی حفاظت کے لیے کام کرنے والی ایک این جی او ہے اس کی رپورٹ cruel numbers کے مطابق پاکستان میں 2020 اگست تک 1479 تقریبا آٹھ بچوں کے ساتھ روزانہ زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے جس میں 785 لڑکیاں اور 704 لڑکے ہیں اس میں 822 کیسوں میں مجرم بچوں کے جان پہچان کے لوگ تھے جبکہ صرف 135 کیسوں میں مجرم اجنبی لوگ تھے۔

2020 میں کل 2860 کیس بچوں سے زیادتی کے رپورٹ ہوئے جس میں 1915 کا تعلق دیہات سے اور 1045 کا تعلق شہر سے تھا۔ ان اعداد و شمار کو بتانا کا مقصد یہ تھا کہ میں جاننا چاہتی ہوں کہ آپ کے بیان کے مطابق یہ مرد ہیں جن سے ان کی بچیوں کی عزت محفوظ نہیں اور وہ روبوٹ وہ جو نہ صرف اپنی ماں بہن بیوی کی عزت کو عزیز رکھتے ہیں بلکہ باہر بھی اپنی حدود سے واقف ہیں۔ محترم وزیراعظم آپ کی معلومات کے لیے جنہوں نے اس جرم کا ارتکاب کیا وہ درندے ہیں۔

مرد کسی جانور کا نہیں انسان کا نام ہے اور پاکستانی مردوں کی اکثریت اس چیز سے آگاہ ہے کہ وہ اور عورتیں دونوں انسان ہیں۔ آپ اور آپ کی جماعت پہلے بھی ہمیں جاہل عوام کے لقب سے نواز چکی ہے اور ایک بار پھر آپ نے اپنی مغرب زدہ سوچ کا مظاہرہ کیا آپ کے مطابق بات آپ کی نہیں بلکہ آپ کے لوگوں کی ہے جن کو عورت کے چھوٹے کپڑے دیکھ کر آگ لگ جاتی ہے اور وہ جو چیز یا انسان سامنے آتا ہے اس پر جنسی حملہ کر دیتے ہیں یہ سامراجیت سوچ ہے جس میں امیر دودھ کا دھلا ہے اور غریب ایک ناسور اور درمیانہ طبقہ ایک گائے جس سے ٹیکس چونا مقصود ہے۔

یہ جب کہا گیا صحافی کو جواب میں کہ یہ مسئلہ آپ کے بارے میں نہیں بلکہ آپ کی عوام کے بارے میں ہے تو یہ اس انگریز سامراج کا چہرہ تھا جو خود تو 1947 میں لوٹ مار کر کے چلے گئے اپنی باقیات پاکستان کے امیروں میں چھوڑ گئے اس گورا صاحب کے لیے سات خون معاف تھے لیکن بے چارے بلڈی براؤن اپنی پانچ ہزار کی تہذیب کے باوجود جاہل اور بے قصور سزا کے مستحق تھے۔ آپ کے خیال میں پاکستان کے متوسط اور غریب طبقے کا مرد عقل سے عاری مخلوق ہے لیکن ایسا نہیں ہے پاکستانی مردوں نے وقت کے ساتھ عورتوں کی تعلیم اور کام کا حق تسلیم کرنا شروع کیا ہے اور اس کی واضح مثال یونیورسٹی کالجوں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد ہے۔

خواتین پاکستان میں ہر شعبے میں کام کر رہی ہیں اور مجھے اس بات پر خوشی ہے کہ ہمارے باپ، بھائی، خاوند، بیٹوں نے اس میں ہمارا ساتھ دیا ہے۔ کیا وہ باپ جو اپنی بیٹی کو اعلی تعلیم دلواتا ہے اور اس کے لیے ٹیوشن پر لیا لیا پھرتا ہے یا وہ بھائی اور خاوند جو اپنی خواتین کے کام کرنے سے خوشی محسوس کرتے ہیں وہ سب روبوٹ ہیں اور جنسی حملے کرنے والے مرد ہیں تو یہ پاکستان کے سب مردوں کی توہین ہے جنہوں نے نہ ہی اپنے گھروں میں نہ ہی باہر کسی پر جنسی حملہ کیا۔

ان سب مرد حضرات کا کیا قصور ہے آپ کے اس بیان کے بعد ان کو کبھی مچھر کبھی مکھی کبھی بیکٹریا کبھی وائرس سے تشبیہ دی جاتی ہے اور ان کو گند کا ڈھیر قرار دیا جاتا ہے عجیب identity crisis کھڑا کر دیا ہے آپ نے اپنے چاہنے والے مرد حضرات کے لیے ان کو انسان کے خانے سے خارج کر کے۔ ریپ ایک جرم ہے جس کی کوئی justifications نہیں ہو سکتی اگر جنسی حملہ کرنے والا اپنے پہ قابو چھوٹے کپڑے یا انڈین فلمیں دیکھ کر نہیں رکھ سکتا تو اس طرح غریب بھی امیر کو دیکھ کر قابو نہیں رکھ سکتے اس لیے سارے امیروں کو چاہیے کہ وہ اپنی دولت دریا برد کریں تاکہ نہ ہوگا بانس نہ بجے گی بانسری اور آپ سب سے پہلے بنی گالہ کا تین سو کنال پر مشتمل بنگلہ بیچ کر دان کریں تاکہ کسی کو بڑے گھر کی اشتہا نہ ہو مہربانی ہو گی۔

معاشرتی نا انصافی، مردانگی کا غلط سماجی تصور، ذہنی پسماندگی، جسمانی کھیل اور ورزش کے وسائل کی عدم دستیابی، ڈرگز کا استعمال، بچپن میں پرتشدد ماحول کا سامنا اس جرم کے اسباب ہیں۔ لیکن ایسا نہیں کے اس کا تدارک ممکن نہیں ہم نے دیکھا ہے کہ وہ ممالک جہاں پر اس کو بطور جرم معاشرے نے بغیر کسی آئیں بائیں شائیں کے تسلیم کیا ہے ان معاشروں میں اس میں کمی دیکھی گئی ہے۔ اس جرم کے ساتھ وابستہ سماجی کلنک کے ٹیکے سے نپٹنا اتنا ہی اہم ہے جتنا اس کے خلاف سخت قوانین کا بنانا کیونکہ سخت سے سخت قانون کی موجودگی میں اگر حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کو سنجیدگی سے نہیں لیں گے تو اس کا شکار ہونے والے مظلوم کبھی بھی ان درندوں کے خلاف آواز بلند نہیں کریں گے کیونکہ اس کے اتنے گہرے ذہنی اور جسمانی اثرات ہوتے ہیں۔

پاکستان میں اس جرم کے خلاف قوانین موجود ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ وزیراعظم نوجوانوں میں اپنی مقبولیت کے باعث ان میں یہ شعور اجاگر کریں کہ یہ ایک جرم جس کی کوئی justification نہیں اور تمام جماعتوں کا اجلاس طلب کریں اور ایک code of conduct مرتب کریں تاکہ کوئی بھی سیاستدان دوسرے کے خلاف غلیظ الزامات لگا کر نئی نسل کو یہ پیغام نہ دے کہ اس طرح کی زبان اور جرائم جائز ہیں۔ ساتھ ہی ایسے کھیل کے مراکز قائم کرنے چاہیں جہاں نوجوان اپنی توانائیوں کا صحیح استعمال کر سکیں اور نفسیاتی صحت کو مفت قرار دیا جانا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے استفادہ کر سکیں اور اپنے اور معاشرے دونوں کے لیے مسائل کا باعث نی بنیں۔

پاکستان کی سیاست میں اور کابینہ میں وہ خواتین موجود ہیں جو امیر طبقے سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کو عام خواتین کے مسائل کا ادراک نہیں اس لیے اس مسئلے کے حل کے لیے عوام کی نمائندہ خواتین کا انتخاب کرنا چاہیے اور ان کی سربراہی وزیراعظم خود کریں جو ان کو زمینی حقائق سے آگاہ کریں اور ان کا حل پیش کریں۔ وزیراعظم عمران خان آپ کو نوجوانوں اور مقتدرہ حلقوں دونوں کی حمایت حاصل ہے اور آپ چاہیں تو آپ اس جرم کے تدارک کے لیے ایسے اقدامات کر سکتے ہیں جس سے ہم اپنی خواتین، نوجوانوں اور بچوں کو اس ناسور کا شکار ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آپ اس جرم کو بطور جرم لیں گے اور victim blaming کرنے والوں کو بھی اتنا ہی مجرم سمجھیں گے جتنا اس جرم کو ارتکاب کرنے والا۔

آپ کے خیرخواہ عوام

Comments - User is solely responsible for his/her words