لاملبوس



سحری۔

’کیا یہ بھیجے جانے کے لیے تیار ہے‘ ؟ ایک نے دوسرے سے سوال کیا۔ ’ہاں تقریبا‘ دوسرے نے لاپرواہی سے جواب دیا۔ ’غور سے دیکھ لو کچھ رہ نہ گیا ہو‘ ۔ ہم ان کو سن رہے تھے، پھر اچانک ہمارے چہرے پہ لگے دو موتی روشن ہو گئے اور اچانک ہم دیکھنا بھی شروع ہو گئے۔ یہ دیکھ اور سن رہے ہیں، کام پورا ہو چکا ہے۔ پہلے نے دوسرے کو بتایا۔ ’سمجھ رہے ہیں‘ ؟ دوسرے نے پھر سوال کیا۔ لیکن ہمیں محسوس ہوا کہ وہ کہیں اور مصروف ہے، ہم انہیں بتانا چاہتے تھے کہ ہمیں محسوس بھی ہو رہا ہے، دیکھنے، سننے اور سمجھنے کے علاوہ۔

لیکن ہم بول نہ پائے صرف خاموش سوچ اور نظر کی زبان متحرک تھی۔ پھر ہم نے دیکھا کہ وہ دونوں ہمارے دائرہ ادراک سے نکل گئے، اور ایک تیسرا انہیں کا ہم شکل نزدیک آیا، ہم اس کو گھور گھور دیکھ رہے تھے، جب اچانک اس نے ہمیں اٹھایا اور زور سے ایک گھپ اندھیرے سوراخ میں پھینک دیا۔ لیکن آخری آواز ہم سن چکے تھے، جب دوسرا تیسرے سے چیخ کر کہہ رہا تھا، ’رکو رکو، اس روح میں بڑی چپ ابھی نہیں لگی تھی‘ ۔

صبح

ہم شدید تکلیف میں ہیں، یوں لگتا ہے جیسے کسی چیز سے ٹوٹ رہے ہیں۔ ہمارے جسم کے ایک حصے میں شدید محرومی کا احساس ہے، یہ وہی مقام ہے جہاں پر سے ہم اس سے الگ ہوئے، لیکن تاریکی میں کچھ نظر نہیں آ رہا، بس دھکے اور جھٹکے پڑھ رہے ہیں، کبھی تو یہ احساس ہوتا ہے کہ ایک سخت دیوار سے ہمارا سر ٹکرا رہا ہے بار بار، اور ہم اس وقت اندھیرے میں اکیلے ہیں۔ دیوار کہ دوسری طرف کوئی شدید کشش ہے جو ہمیں اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔

کبھی ہمیں لگتا ہے کہ ہم جیسے بہت سے سر ہیں اور اس گھپ اندھیرے سے نکلنے کو وہ سب اس دیوار سے بار بار ٹکرا رہے ہیں۔ پھر اچانک راستہ بنا اور ہم نہ جانے کدھر جا گرے۔ باقی سب کدھر گئے؟ ایسے لگا کہ یاداشت پیچھے اندھیرے میں ہی رہ گئی، اور ہم اچانک شدید روشنی میں روشن ہو گئے۔ آخری منظر یہ تھا کہ ہمیں بہت سی آنکھیں دیکھ رہی تھی، اور ایک چیخ کی آواز جو ہماری اپنی تھی اور پھر شور ہی شور۔

دوپہر۔

ہم ایک دکان میں تھے ادھر بہت سے لوگ تھے۔ ان میں اور ہم میں ایک واضح فرق تھا وہ سب ملبوس تھے، اور ہم برہنہ، ہم ایک قطار میں تھے۔ باری باری ہم سے آگے جو کہ ہماری ہی طرح برہنہ تھے، سامنے کھڑے ہم سے ایک نقش کے پاس جاتے تھے، جو کچھ نہ سمجھ آ نے والی حرکتوں کے بعد اونچی آواز میں کچھ بولتا تھا۔ ہم نے غور کیا کہ وہ کیا کہتا ہے۔ ’چھوٹا سائز‘ یا وہ آواز لگاتا، ’درمیانہ سائز‘ یا پھر ’بڑا سائز‘ ۔ تھوڑی دیر بعد ہم سے ملتا جلتا نقش کمرے سے باہر خوش رنگ ملبوس پہنے آتا، اور خوشی خوشی دکان سے باہر چلا جاتا۔

آخر ہماری باری آ گئی۔ ایک نے دوسرے سے پوچھا، ’سائز‘ ؟ دوسرے نے ہمارے سر کے پیچھے کچھ ٹٹولا، کچھ نہ ملنے پر زور سے ٹٹولا۔ ہم اس کی ان حرکتوں کو غور سے دیکھ رہے تھے۔ ’کیا ہوا‘ ؟ پہلے نے دوسرے سے سوال کیا۔ ’اس میں چپ نہیں‘ ۔ دوسرے نے جواب دیا۔ ’اچھا چلو خیر سائیڈ پہ بٹھاؤ اس کو‘ ۔ ہم حیران پریشان ان کی باتیں سننے کے باوجود سمجھنے سے قاصر تھے۔ اس نے ہمیں ہاتھ سے پکڑ کر قطار سے نکالا، اور کسی اور طرف لے چلا۔

’بات سنو ملبوس نہیں ملے گا؟ رنگ برنگا، جیسے ہم سے پہلے لوگوں کو ملا؟ ہم نے اس سے پوچھا۔‘ نہیں مجھے افسوس ہے کہ تمہیں نہیں مل سکتا ’، اس نے لاپرواہی سے جواب دیا۔‘ لیکن کیوں ’؟ ہم نے پوچھا۔‘ دیکھو دکان میں صرف تین بنیادی سائز ہیں ملبوس کے، اور دو اور بھی، چھوٹے سائز سے پہلے کا، اور بڑے سائز کے بعد کا، اور جب تم لوگ آتے ہو تو اپنا سائز لکھوا کر آتے ہو، وہ ایک چھوٹی سی چپ میں لکھا ہوتا ہے، لیکن افسوس!

تم جلدی میں بھیج دیے گئے تھے، یا نجانے کس وجہ سے تمہیں وہ چپ نہ لگ سکی۔ اس لیے اب تم برہنہ ہی رہو گے۔ تم جیسے اور بھی ہیں، میں تمہیں انہیں میں لے جا رہا ہوں ’۔‘ لیکن تم مجھے ایسے ہی بنا سائز کے لباس دے دو۔ کچھ بھی بڑا، چھوٹا، درمیانہ، کچھ بھی ’۔ ہم نے اس سے کہا۔‘ دیکھو اس ملبوس پر بہت سی چیزوں کا انحصار ہے۔ باہر جاکر تم اپنے گروہ کو اسی ملبوس سے پہچانتے ہو۔ برہنہ لوگوں کا ایک الگ گروہ ہے، جو کہ ادھر باہر کی دنیا میں پاگل کے نام سے جانے جاتے ہیں، تم لوگوں کو آج تمہارے گھر بھیج دیا جائے گا، جس کو پاگل خانہ کہا جاتا ہے ’۔

‘ اچھا واقعی ’! ہم نے کچھ حیران کچھ پریشان اور کچھ دکھ اور خوشی کے ملے جلے احساس سے اس کو جواب دیا۔‘ لیکن یہ بتاؤ، ہم برہنہ پاگل، اور ملبوس سیانوں میں کیا فرق ہے ’؟ وہ بہت شفیق تھا آرام سے ہماری باتوں کا جواب دے رہا تھا اور ہمارے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ دیکھو تمہیں ان باتوں کی سمجھ نہیں آ سکتی اس لیے کیا فائدہ بتانے کا‘ ؟ ’نہیں، نہیں ہم سمجھ سکتے ہیں، ہمیں یاد ہے کہ صبح کے وقت جب ہماری تیاری ہو رہی تھی یا شاید خواری ہو رہی تھی، ہمیں تب ہی سب کچھ سمجھ آ رہا تھا‘ ۔

’ہاں‘ وہ بولا، ’اس میں کوئی شک نہیں کہ تم ایک مختلف نقش ہو، زمان و مکاں اور جنس سے آزاد، ابھی آہستہ آہستہ تمھاری یہ عارضی یاداشت اور محدود زبان بھی ختم ہو جائے گی۔ جب کسی کو بھی اس کا مکتوب ملبوس دیا جاتا ہے، تو وہ ایک مکمل طریقہ زندگی ہوتا ہے۔ اس میں زبان اور زبان کے استعمال کے اصول و ضوابط سے لے کر صحیح غلط کا معیار، اپنے گروہ کے ساتھ وابستگی کے علاوہ بہت سی اور بھی تفصیلات درج ہوتی ہیں۔ عقل، اور اس کا بلند معیار، محبت، نفرت اور باقی تمام جذبات، چتر چالاکیاں، جنگ، امن، خواہش، خوشی، دکھ اور ان جیسی بہت سی چیزیں اسی چپ میں موجود ہوتی ہیں، جو وہ سب اس دکان سے ملبوس کی شکل میں وصول کرتے ہیں، اور اس کے بعد باہر دنیا میں چلے جاتے ہیں‘ ۔

’باہر جاکر وہ کیا کرتے ہیں‘ ؟ ہم نے پوچھا۔ ’وہ باہر جا کر اپنے حصے کا شور مچاتے ہیں، پہلے سے برپا شور میں اضافہ کرتے ہیں‘ ۔ اس نے بتایا۔ ’اچھا اور بھی بتاؤ، ہمیں تو زبان نہیں ملے گی، نہ ہم شور مچا پائیں گے۔ لیکن وہ ملبوس والے لوگ اور کیا کریں گے‘ ؟ ہمیں وہ رنگ برنگے ملبوسات بہت پسند آ رہے تھے ’۔‘ وہ جا کر اپنا جوڑا ڈھونڈیں گے، محبتوں کے ڈھونگ رچائیں گے اور نفرتیں کرنا سیکھیں گے۔ گے اپنے ملبوس کے مطابق عقل کا استعمال کریں گے، گیت گائیں گے جنگ کریں گے، خود کو صحیح اور درست سمجھنے اور سمجھانے کے لیے طاقت کے پیچھے بھاگیں گے ’۔

تم میں صرف ایک بنیادی چپ ڈلی تھی۔ جس کی وجہ سے تمہیں یہ باتیں سمجھ آ رہی ہیں، لیکن ملبوس نہ ملنے کی وجہ سے تمہیں بے زبان اور برہنہ ہی رہنا ہوگا، اور ایک دن تم واپس چلے جاؤ گے‘ ۔ وہ خاموش ہو گیا۔ ہم کدھر سے آئے ہیں؟ اور کدھر واپس جائیں گے؟ لیکن وہ جواب دیے بنا ہی جا چکا تھا۔ ہمیں ہلکا سا یاد آیا ان تینوں کی باتیں، اور اس کے بعد کالی دیوار کے ساتھ سر ٹکرانا، لیکن یہ یاد سرک رہی تھی، ہم دیکھ رہے تھے کہ ادھ ہم سے بہت سے برہنہ نقش ہمارے سامنے تھے۔ ہم بھی ان کے درمیان کہیں گھل گئے۔ اور وہ ہمیں چھوڑ کر جا چکا تھا۔

سہ پہر۔

’پریتو چوری کھا‘ ، چھوٹی بچی اسے کھانا کھلاتے ہوئے بولی۔ بانس کے لمبے درختوں میں ہوا کی سر سر، پرے کالے سیاہ بادل، نہر کے گدلے پانی میں بادلوں کا عکس، تیز چلتے پانی کی جل تھل، ہلکی بوندوں کا نہر کے پانی پر ہلکے پیروں سے رقص، ’پریتو چوری کھا لے نا، تیرے کپڑے کدھر؟ بچی نے دوسرے ہاتھ سے ساتھ پڑی کٹوری میں سے دانا اٹھایا اور دور پھینک دیا۔ میدان میں کسی فصل کے بیج بونے کے لیے ہل چلا ہوا تھا، دانا پھینکنے پر پرندوں کی ڈار کے اڑنے کی خوبصورت آواز، جیسے کسی موسیقی کی گم گشتہ دھن، جسے نجانے انسانیت کب سے آ لات سے بجانے کی ناکام کوشش میں تھی۔

بارش کے ننھے قطروں کا دھمال، تیز ہوا کا سوز، ایک لمحہ کہ جس میں یہ سب ساز مل کر ایک ترنم، ایک گیت بن گئے، اور وہ بچی پریتو کے سامنے ناچتے ہوئے گانے لگی، دور آ سمان کی طرف انگلی اٹھائے،‘ اڑتی پتنگ تیرا کون سا رنگ؟ اڑتی پتنگ تیرا کون سا رنگ ’؟ اور اس گیت پر بادلوں نے، بارش کے قطروں نے، پرندوں کی ڈار نے رقص کا انداز بدلا تھا۔ پریتو کو بھی کوئی ادراک تھا، جو اس کے چوری سے بھرے منہ سے آواز نکلی،‘ غوں، غوں، غوں، غوں ’۔

‘ اوئے پاگل تو گھر سے ادھر کیسے؟ دو دیہاتی جو اس بچی اور پریتو کو گھور رہے تھے، چیخ کر بولے۔ ’کوئی شرم کوئی حیا کدھر ہے تیری ماں اسے کوئی خیال ہے تیرا تم لوگ پورے گاؤں میں گند پھیلاتے ہو‘ ۔ ایک دیہاتی گرج چمک رہا تھا، جبکہ دوسرے نے اس کے گرد کپڑا لپیٹنے کی کوشش کی۔ لیکن اتنی دیر میں پریتو آگے اور وہ پیچھے۔ دونوں دیہاتی ڈنڈے ہاتھ میں لیے اس کے پیچھے گالیاں دیتے بھاگنے لگے۔ سرگم، تال، وہ نایاب دھن، مسرت، رقص سب سہم کر سکوت میں آ گئے، اور ہر طرف شور مچ گیا۔ چھوٹی بچی نے چوری کا برتن اٹھایا اور سر جھکائے گھر کی جانب واپس ہو لی۔

رات۔

اور اسی برہنگی میں رات ہو گئی۔ ہم سونے کی تیاری میں تھے۔ جب ہمیں اپنے پاس کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔ ’کون ہو تم‘ ؟ ہم نے آنے والے سے سوال کیا۔ ’میں تمہیں لینے آیا ہوں‘ اس سائے سے نے جواب دیا۔ ’بھیجا کیوں تھا‘ ؟ ہم نے دو بدو سوال کیا۔ وہ خاموش رہا، کچھ دیر بعد بولا ’چلو تمہارا وقت پورا ہوا‘ ’ہمیں ملبوس کیوں نہ دیا؟ ہم نے روتے ہوئے اس سے پوچھا سارا دن ہم خاموش رہے اور یوں ہی برہنہ‘ ۔ ’چلو‘ وہ پھر بولا۔

’اچھا لیکن ایک بات مان لو ہماری، لے جانے سے پہلے ہمیں ایک بار زبان دے دو ملبوس لوگوں والی، یہ والی واپس لے لو چاہے، ہمیں ایک بار ایک لمحے کے لیے وہ احساس تو دو‘ ، ہم نے التجا کی۔ ’نہیں وہ نہیں مل سکتی تمہیں اور اب تو تمہاری واپسی کا وقت ہے‘ ۔ وہ بولے۔ ’رات ہوگی واپس چلو‘ ۔ اچھا ہم شاید رونے والے تھے۔ نجانے اس کو رحم آ یا، یا کیا، کہنے لگا اچھا تم جانے سے پہلے چیخ سکتے ہو، ملبوس لوگ بھی جانے سے پہلے یہی کرتے ہیں۔

اس نے ہمارے سر کے پیچھے اپنا ہاتھ رکھا، اور ہمیں ایسا لگا کہ ہم میں کچھ نیا شامل ہوا ہے۔ اب ہم خوشی خوشی چیخنے کو تیار تھے۔ بڑا زور لگا کر جو کوشش کی تو کوئی آواز نہ آئی صرف زور تھا، یاد آ یا، یہ تو وہی زور تھا جو صبح ہم دیوار سے سر ٹکراتے ہوئے لگا رہے تھے۔ چیخ سسکی بن گئی، ساری طاقت منہ سے نکلتے ہی نجانے کہاں تحلیل ہو گئی۔ ہماری چیخ کو بھی زبان نہ مل سکی، ہم بھی گھل رہے تھے اور آ خری منظر جو ساکت ہو گیا وہ یہ تھا کہ ہماری برہنہ سی چیخ ہمارے دھانے سے بنا آواز نکل گئی، اور ہم بالکل خالی کسی گھپ اندھیرے میں کھو گئے۔

Facebook Comments HS