میری جان! مسئلہ چھوٹے کپڑوں کا نہیں ہے

ارض پاک میں لیڈران کی روح اور عوام کی روح میں بنیادی فرق کشف کا ہے۔ اس کشف کا دار و مدار کبھی ایک فقیر کی نگاہ پر ہے تو کبھی دوسرے فقیر پر۔ گو کہ ان فقراء نے چولا ضرور پہن رکھا ہے مگر رنگ سبز نہیں ہے۔ خیر ہم فقیروں سے آگے بڑھتے ہوئے فرق بیان کرتے ہیں لیڈران پڑھے لکھے بلکہ انتہائی پڑھے لکھے ہوتے ہیں۔ ڈاکٹریٹ کی جو ڈگری حاصل کرنے واسطے عوام کو فرہادی تیشہ درکار ہوتا ہے لیڈران کو وہی ڈگریاں آسمانوں سے خریدے ہوئے من و سلویٰ کے ساتھ بائے ون گیٹ ون فری آفر کے تحت مل جاتی ہیں۔

لیڈران کی روح پہلے اور ساتویں آسمان پر رقصاں ہوتی ہے۔ وہ زمین پر قدم نہیں رکھتی۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ وہ زمینی حقائق سے لاعلم ہوتے ہیں کیونکہ زمین پر اترنا ان کی پاکیزہ روحوں کو کشف ذات سے محروم کر دیتا ہے۔ ان کی روح رائٹ برادران کے بنائے ہوئے قدیمی اڑن کھٹولے پر سفر کرتی ہے۔ وہ جدیدیت سے بے بہرہ پائے جاتے ہیں۔ لوکل ٹرانسپورٹ، میٹرو بس، ریل گاڑی وغیرہ میں وہ سفر نہیں کرتے۔

چند روز پہلے عوام کے ہر دلعزیز لیڈر اور ارض پاک کی تاریخ میں سب سے زیادہ چاہے جانے والے لیڈر کی جانب سے خواتین کے چھوٹے کپڑوں کے حوالے سے ایک بیان دیا گیا۔ اس بیان کے سنتے ہی ہم ان عورتوں کی تلاش میں نکل پڑے جو چھوٹے چھوٹے کپڑے زیب تن کرتی ہیں۔ شہر پنڈی و اسلام آباد کے ہر چھوٹے بڑے مالز میں ہم نے ایسی خواتین کو ڈھونڈا جو مجھے میرے روبوٹ ہونے کا احساس دلا سکیں۔ شاپنگ مالز کی ناکامی کے بعد ہم نے بنی گالا کی سڑکیں اور مارگلہ کی پہاڑیاں چھان ماری مگر بے سود۔ پھر فوراً سے ہمیں یاد آیا کہ ہم مردوں کو اپنی تسکین کے لئے چھوٹے کپڑے ضروری تو نہیں، ہماری کچھ مشرقی روایات ہیں۔ ہم تو بوری میں لپٹے ہوئے حسن کو بھی نگاہ زیرک سے پہچان لیتے ہیں۔

تو بس لیجیے پھر ہم آپ کے سامنے اپنی مشرقی روایات کے دو زمینی منظرنامے رکھتے ہیں جہاں تک ہمارے ہر دلعزیز لیڈر کی نگاہ کی رسائی ممکن نہیں۔ دونوں منظر نامے پبلک ٹرانسپورٹ کی سفری صورتحال سے ہیں۔ اول میٹرو بس سے جبکہ دوسرا سوزوکی ٹرانسپورٹ سے۔

منظرنامہ اول:

ایک روز میٹرو بس میں سوار ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ معذور افراد کی دو نشستیں جو خواتین والے حصے میں موجود ہیں وہاں پر ایک 38 یا 40 سالہ مرد سیٹ کے عین اوپر لگے ہینڈل کو پکڑے کھڑا ہے۔ دونوں نشستوں پر جوان لڑکیاں موجود ہیں۔ اس مرد کا رخ خواتین کی جانب ہے۔ ہینڈل کو اگر دیکھا جائے تو وہ اوپر سے بالکل خواتین کے پاؤں کی سیدھ میں ہے۔ وہ آدمی پوری کوشش کر کے خود کو ہینڈل کی سیدھ میں لانے کی کوشش کرتا ہے۔ لڑکی کراہت بھرے لہجے سے اس کی جانب دیکھتی ہے اور اپنے چہرے کے تاثرات کو بے سود پا کر نظریں نیچے کر لیتی ہے۔ (اس خاتون نے عبایہ پہن رکھا ہے نہ کہ چھوٹے چھوٹے کپڑے )

وہ شخص میٹرو بس میں موجود رش کو بالائے طاق رکھتے ہوئے خود کو 100 کے زاویے سے 90 کے زاویہ پر لے آتا ہے۔ بس اگلے اسٹیشن پر رکتی ہے۔ لڑکی اپنی گود میں پڑے بیگ کو جھنجوڑتی ہے تاکہ اس مرد کو جو اس کے گرد حصار بنائے کھڑا ہے پیغام دے سکے کہ وہ اٹھنا چاہتی ہے۔ سامنے کھڑا شخص یہ منظر دیکھنے کے باوجود ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ وہ لڑکی ہراسانی کی ان سلاخوں سے رہائی چاہتی ہے۔ وہ ہوس کی جیل سے نکلنے کے لئے اپنی نشست سے کھڑی ہوتی ہے اور دھیمے غصیلے لہجے میں ”سائڈ پر ہوں راستہ دیں“ کہہ کر نکل جاتی ہے۔

اس کے جانے کے بعد ایک 24 سالہ یونیورسٹی کی طالبہ اس 40 سالہ مرد کو ہٹا پا کر نشست پر بیٹھ جاتی ہے۔ وہ شخص پھر اپنی روش پر قائم رہتا ہے۔ اس کا بس نہیں چلتا کہ وہ اس لڑکی کے اوپر گر پڑے۔ پھر وہ اپنا دائیاں گھٹنا آگے کر کے لڑکی کے بائیں گھٹنے کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس حرکت پر میرا ضبط ٹوٹ جاتا ہے اور میں اس شخص کو متوجہ کر کے کہتا ہوں ”بھائی صاحب یا تو آپ ایک طرف ہو کر کھڑے ہو جائیں یا پھر اس محترمہ کے ساتھ ہی سیٹ پر بیٹھ جائیں۔ یہ سن کر وہ شخص مارے شرمندگی کے پیچھے کی طرف نکل جاتا ہے۔

منظرنامہ دوئم:

اگر تو آپ پنڈی شہر کے رہائشی ہیں یا کبھی پنڈی شہر میں وارد ہوئے ہوں تو آپ نے دلھن کی مانند سجی سجائی ہوئی سوزوکی ضرور دیکھی ہوگی۔ یہ مختلف روٹس پر چلتی ہیں۔ سب سے مشہور روٹ چکلالہ سے راجہ بازار اور راجہ بازار سے صدر بازار تک کا ہے۔

کچھ ذکر ان کی ساخت کا کیونکہ اگر ان کی یہ ساخت نہ ہوتی تو ہماری مشرقی روایات کو یوں فروغ نہ ملتا۔ سوزوکی میں آمنے سامنے دو لمبی سیٹیں رکھی ہیں۔ ایک لمبی سیٹ پر پانچ افراد بیٹھ سکتے ہیں اور اسی طرح سامنے والی سیٹ پر بھی پانچ ہی افراد۔ ایک جانب حضرات اور دوسری جانب خواتین۔

ہمارا دس برس کا سوزوکی میں سفر کرنے کا مشاہدہ اور تجربہ یہ ہے کہ سیٹ پر بیٹھے بیٹھے کچھ مردوں کی کوشش ہوتی ہے کہ پورے سفر تک اپنا گھٹنا مبارک کسی خاتون کے گھٹنے سے ٹچ کر کے رکھیں۔ ظاہر ہے دو سیٹوں کے درمیان جگہ اتنی کم ہوتی ہے کہ آپ کو سکڑ کر بیٹھنا پڑتا ہے۔ کچھ خواتین احتیاطاً پہلے سے ہی سکڑ کر بیٹھ جاتی ہیں۔ کئی بار وحشی مردوں کو تو ہم نے خواتین سے ڈانٹ کھاتے دیکھا ہے۔ پھر سوزوکی سے اترتے وقت بھی کسی نہ کسی مرد کی کوشش ہوتی ہے کہ نازک ٹانگ کو ٹچ کرتے ہوئے گزرے۔ (یہاں تو خواتین چادروں، برقعوں اور عبائیوں میں لپٹی ہوتی ہیں )

یہ تو ٹھہرا سواریوں کا معاملہ۔ اس سے بھی زیادہ دلفریب صورتحال تو ہمارے اس سوزوکی ڈرائیور اور اس کی فرنٹ سیٹ کی ہوتی ہے۔ یہ ڈرائیور لوگ فرنٹ سیٹ پر کسی مرد کو سوار نہیں ہونے دیں گے۔ ان سوزوکیوں کا یہ unwritten rule ہے کہ فرنٹ سیٹ صرف خواتین کے لئے۔ یوں تو اس میں بمشکل ایک سیٹ ہوتی ہے مگر دو خواتین بیٹھ جاتی ہیں۔ پھر ڈرائیور کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ گیئر لگاتے ہوئے اپنا ہاتھ اور گیئر خاتون کی ران کے ساتھ مس کرے۔

اب آپ سوچ رہے ہوں گے یہ منظر ہم نے کیسے دیکھا تو اس سوزوکی ڈرائیور فرنٹ سیٹ اور پچھلی نشستوں کے درمیان ایک شیشہ ہوتا ہے جس میں پچھلی نشست پر شیشے کے ساتھ بیٹھے شخص کو سب نظر آتا ہے۔ گو کہ چند ڈرائیور نے اپنی پردہ پوشی کے لئے اس شیشے پر کپڑا ڈالا ہوتا ہے۔

تو یہ رہے ہماری مشرقی روایات کے درجن بھر نمونوں میں سے صرف دو نمونے۔ باقی ہمارے بازار، ریستوران، محلے، گاؤں اور ورکنگ ویمن کے آفس کی مثالوں کا ذکر ہم کالم کی طوالت کے باعث کرنے سے قاصر ہیں۔ تو میری جان مسئلہ چھوٹے کپڑوں کا نہیں بلکہ چھوٹی نظر کا ہے جو زمینی حقائق دیکھنے سے قاصر ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words