ملکۂ ٹھمری رسولن بائی

ٹھمری کے دو انگ یا انداز مشہور ہیں، پورب انگ اور پنجاب انگ، اور اس میں سب سے زیادہ مقبولیت پورب انگ کی ٹھمری نے حاصل کی۔ بنارس گھرانے کی نمائندہ گائیکہ رسولن بائی کا تعلق اسی پورب انگ کی گائیکی سے تھا۔

ہندوستانی سنگیت کی روایت کو فنی بلندیوں تک پہچانے اور اسے مقبول عام کرنے میں بیسویں صدی کی طوائفوں کا اہم حصہ رہا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب موسیقی کے جلسوں اور محفلوں میں گوھر جان، ملکہ، جان، ہسنا، ودیا دیوی، بڑی موتی بائی وغیرہ کی گائیکی کی دھوم تھی اور سنگیت کی دنیا میں ان کی قدر کلاسیکی موسیقی کے کسی استاد سے کم نہ تھی۔ رسولن بائی کا شمار بھی ایسی ہی گائیکاؤں میں کیا جاتا ہے جو ٹھمری اور ٹپہ گانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھیں۔

رسولن بائی کا جنم پوربی اتر پردیش کے ضلع مرزا پور کے کچھوا بازار میں 1902 ء میں ہوا۔ جب وہ پانچ برس کی تھیں تو ان کی ماں عدالت بیگم نے اپنی دونوں بیٹیوں رسولن اور بتولن کو موسیقی کی تعلیم کے لیے استاد شمو خاں کے حوالے کر دیا۔ بدقسمتی سے رسولن کی چھوٹی بہن بتولن کا انتقال کم عمری ہی میں ہو گیا۔ شمو خاں کے علاوہ رسولن نے سارنگی نواز استاد عاشق اور استاد نجو خاں سے بھی کلاسیکی موسیقی کی تعلیم حاصل کی۔ رسولن بائی نے ٹپہ گائیکی کے ساتھ ساتھ پوربی انگ کی ٹھمری، دادرا، ہوری، کجری اور چہتی گانے میں خاص مہارت حاصل کی۔ تعلیم پوری کرنے کے بعد 14 سال کی عمر میں جب ان کا پہلا جلسہ دھننجے گڑھ دربار میں ہوا تو وہ پہلا ہی جلسہ اتنا کامیاب رہا کہ ان کی شہرت موسیقی کے دور دور کے حلقوں میں ہو گئی اور فوراً ہی متعدد ریاستوں سے انھیں گانے کی دعوتیں موصول ہونے لگیں۔ انھوں نے کئی جگہوں مثلاً رام پور، رتلام، دربھنگہ، ریوا، پنا، اندور وغیرہ میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ محفلوں اور جلسوں میں گانے کا یہ سلسلہ شروع ہوا تو بڑھتا ہی چلا گیا اور پھر اگلی پانچ دہائیوں، یعنی 1916 سے لے کر 1966 تک رسولن بائی ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کی ٹھمری گائیکی پر چھائی رہیں۔

رسولن بائی بھاری آواز کی مالک تھیں اور ان کے انداز میں کسی قدر مردانہ آہنگ جھلکتا تھا، اس کے باوجود ان کی آواز میں غضب کی کشش تھی۔ ٹھمری گاتے ہوئے بولوں کی ادائیگی اور راگ کی فصاحت ان کا خاص انداز تھا۔ اسی طرح تانوں اور مرکیوں کی ادائی میں بھی انھیں خاص مہارت حاصل تھی؛ کان پر ہاتھ رکھ کر تان لگانے کا ان کا مخصوص انداز انھیں دوسری گلوکاراؤں سے ممتاز کر دیتا تھا۔

بنارس کی ٹھمری کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں لکھنوی ٹھمری کی جمالیات اور فنی باریکیاں بھی شامل ہیں اور لوک سنگیت کا کھلا انداز اور الھڑ پن بھی۔ رسولن بائی نے بنارسی ٹھمری کی اسی خصوصیت کو ابھارا اور اسے اس بلندی پر پہنچایا، یہاں تک کہ وہ خود بنارسی ٹھمری کی جیتی جاگتی علامت بن گئیں۔ بھاری آواز کے باوجود وہ نہایت میٹھے سروں میں گاتی تھیں اور ان کی ٹھمریوں سے سکون بخش احساس اجاگر ہوتا تھا۔ ٹھمری اور دادرے پر مہارت حاصل کرنے سے پہلے وہ خیال گائکہ تھیں، لیکن بعض وجوہات کی بنا پر انھوں نے خیال گانا ترک کر دیا تھا اور ٹپہ گائیکی کو اختیار کیا تھا۔ اسی ٹپے کے انداز کو جب وہ اپنی ٹھمریوں میں پیش کرتیں تو سماں باندھ دیتی تھیں۔ ان کی گائی ہوئی مقبول عام چیزوں میں راگ بھیروی کی ٹھمری ’پھل گیندوا نہ مارو، لگت کریجوا میں چوٹ‘ ، دادرا ’کنکر موہے مار گئلن نا‘ ، کجری ’ناہی لاگے جیارا ہمار نئہر میں‘ ، راگ تلنگ کا ٹپہ ’مان راجی رکھنا وے‘ ، سندھی کافی ’او میاں جانے والے‘ ، اورخیال کی ٹھمری ’کون گلی گئے شیام‘ یادگار چیزیں ہیں۔

ریڈیو اور ٹیلیویژن پر بھی وہ لمبے عرصے تک گاتی رہیں۔ بنارس گھرانے کی گائیکہ سدھیشوری دیوی ان کی ہم عصر تھیں اور اکثر ان کے ساتھ ہی گائیکی کی محفلوں اور آل انڈیا ریڈیو لکھنؤ اور الہ آباد جایا کرتی تھیں۔ 1972 ء تک رسولن اور سدھیشوری دیوی نے دوردرشن پر اکٹھے اپنے پروگرام ریکارڈ کروائے۔ سدھیشور دیوی کے مطابق ”رسولن بائی بہت ہی ملنسار اور ہنس مکھ تھیں۔ چوٹی کی گائیکہ ہونے کے باوجود وہ تہذیب اور شائستگی کی جیتی جاگتی مثال تھیں۔ ہر ایک سے ’بھیا‘ یا ’بچوا‘ کہہ کر، نہایت اخلاق سے بات کرتی تھیں اور بذلہ سنجی میں بھی پیچھے نہیں رہتی تھیں۔ افسوس ہے کہ ایسی فن کارہ کی آخری زندگی نہایت دکھ اور تکلیف میں گزری۔“

آزادی ملنے کے ساتھ جب ہندوستان کی تقسیم ہوئی تو متعصب ہندو حلقوں نے نعرہ لگایا کہ بنارس کی مسلمان طوائفوں سے بنارس کے تقدس کو خطرہ لاحق ہے۔ وہ بنارس سے مسلمانوں کو نکال باہر کرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے بنارس کے مسلمان گانے بجانے والے فنکاروں کا سماجی بائیکاٹ کر دیا۔ ان کے ڈر سے موسیقی کے قدردانوں نے کوٹھوں کا رخ کرنا چھوڑ دیا۔ نتیجتاً مسلمان فنکار غربت اور تنگ دستی کا شکار ہو گئے۔ 1948 ء میں رسولن نے مجرا کرنا بند کر دیا اور اپنا کوٹھا چھوڑ کر بنارس سے باہر چلی گئیں اور بنارسی ساڑھیوں کے ایک تاجر سلیمان میاں سے شادی کرلی۔

ہندو مسلم فرقہ واریت بڑھتی چلی گئی تو ہندوستان کے دیگر شہروں کی طرح بنارس سے بھی بہت سے مسلمان پاکستان ہجرت کرنے لگے۔ رسولن بائی کے شوہر سلیمان میاں بھی پاکستان جانے کے لیے تیار ہو گئے۔ رسولن کے میاں کو نئے وطن پاکستان کی کشش اپنی جانب کھینچ رہی تھی جبکہ رسولن کا دل اپنے وطن بنارس میں اٹکا ہوا تھا۔ رسولن نے اپنے میاں کو سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ نئے ملک میں ہمارا کوئی مستقبل نہیں۔ لیکن سلیمان ترک وطن کا مصمم ارادہ کرچکے تھے لہٰذا ان پر رسولن کی باتوں کا کوئی اثر نہ ہوا۔ وہ نہ مانے۔ اور رسولن بھی نہ مانیں، انھوں نے اپنے شوہر سلیمان میاں کے ساتھ پاکستان جانے سے انکار کر دیا۔ رسولن کے اس فیصلے سے سلیمان میاں کو بڑا جھٹکا لگا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عورتیں اپنے شوہر کی حکم عدولی کا سوچ بھی نہیں سکتی تھیں۔ سلیمان میاں کی مردانہ انا کو ٹھیس لگی اور وہ رسولن کو بنارس میں چھوڑ کر پاکستان چلے گئے۔ ادھر رسولن بائی نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ ہندوستان میں رہیں گی اور اگر ہندوستان میں رہیں گی تو پھر بنارس میں ہی رہیں گی۔ لیکن یہ حقیقت نہایت تکلیف دہ ہے کہ جس شہر کی محبت میں انھوں نے اپنے شوہر تک کو چھوڑ دیا، اس شہر نے ان کی کوئی قدر نہ کی۔

مالی پریشانیوں کے سبب انھیں اپنے بچوں کو لے کر بمبئی جانا پڑا لیکن جب وہاں رہنا بھی دوبھر ہو گیا تو ان کی ایک شاگرد نے انہیں احمد آباد بلا لیا۔ وہیں 1968 میں ان پر فالج کا حملہ ہوا۔ ان کے دوستوں، شاگردوں اور دلی کی موسیقی کی ایک تنظیم ’راگ رنگ‘ کی مدد سے ان کا علاج ہوا۔ وہ صحت یاب ہو کر لوٹی ہی تھیں کہ 1967ء کے فرقہ وارانہ فسادات میں ان کا گھر جلا دیا گیا۔ بنارس کے لوگوں نے جب ان کا جینا محال کر دیا تو رسولن بائی الہ آباد چلی گئیں۔ اور پھر وہ وقت آیا کہ محمورگنج میں ریڈیو اسٹیشن وارانسی کے فٹ پاتھ پر ملکۂ ٹھمری چائے بیچنے لگی۔ ریڈیو اسٹیشن الہ آباد سے ان کی گائی ہوئی ٹھمریاں مسلسل نشر ہوا کرتیں لیکن اسی ریڈیو اسٹیشن کے باہر فٹ پاتھ پر بیٹھی بے گھر بے سہارا رسولن بائی کے حالات سے کوئی واقف نہ ہوتا۔ ریڈیو الہ آباد سے جب وہ اپنے نام کے ساتھ ”بائی“ کا لاحقہ سنتیں تو سوچتیں کہ باقی سب بائیاں تو دیویاں اور بیگم بن گئیں، ایک میں ہی بائی رہ گئی۔

اسی کسمپرسی کے عالم میں 15 دسمبر 1974 ء کو 72 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ان سے نہایت کم اہمیت کے فن کاروں کو حکومت کی جانب سے بڑے بڑے اعزازات دیے گئے لیکن رسولن بائی کو صرف سنگیت ناٹک اکادمی کی جانب سے ’ہندستانی کنٹھ سنگیت‘ نامی ایک اعزاز ملا۔ لیکن ان کا فن ان اعزازات سے کہیں بلند تھا۔ برصغیر میں ٹھمری گائیکی کا تذکرہ ان کے نام کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words