وزیر اعظم عمران خان اور سگمنڈ فرائڈ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تصور کریں کہ آپ پنجاب کے شہر صادق آباد میں کچھ دن اپنے کسی دوست کے مہمان ہوتے ہیں اور جب آپ اس کے ساتھ شہر کی سیر کو نکلتے ہیں تو آپ اپنے دوست سے پوچھتے ہیں کہ کیا اس شہر میں خواتین نہیں ہوتیں؟ آپ یہ سوال اس لئے پوچھتے ہیں کیوں آپ کو شہر میں سوائے مرد حضرات کے علاوہ بہت ہی کم خواتین بازاروں میں یا عام چلتے پھرتے دکھائی دیتیں ہیں۔ اب تصور کریں کہ آپ کا دوست آپ کے پاس کراچی میں کچھ دن آپ کا مہمان ہوتا ہے اور آپ رات کو اسے کسی سڑک کنارے موجود ریسٹورانٹ لے جاتے ہیں جہاں مرد کے ساتھ ساتھ خواتین کا بھی ہجوم ہوتا ہے اور آپ کا دوست آپ سے پوچھتا ہے کہ یہاں اتنی رات کو بھی خواتین گھر سے باہر نکلتیں ہیں؟ اور آپ کا ممکنہ جواب یہ ہوتا ہے کہ یہاں یہ ایک عام سی بات ہے۔

اتنی بڑی ابتدائی تمہید باندھنے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ ہم یہ جان سکیں کہ مرد جنسی بھیڑیے نہیں ہوتے اور یہ کہ ہر کلچر کی اپنی اپنی طرز زندگی ہوتی ہے اور جس کے مطابق انسان اپنے آپ کو ڈھال لیتا ہے۔ لیکن کلچر آپس میں اپنے طرز حیات میں چاہے کتنے ہی مختلف کیوں نہ ہو، جہاں انسان اور فطرت کا چولی دامن کا ساتھ ہے، وہاں یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ انسان کے پاس اپنی فطرت پر قابو کرنے کی صلاحیت قدرتی طور پر موجود ہے، ورنہ قرآن مجید فرقان حمید اور احدیث مبارکہ میں جگہ جگہ خواہشات اور نفس پر قابو کرنے کی براہ راست یا بالواسطہ تلقین نہ کی جاتی۔ اس بات سے تو یہ بات واضح ہو گئی کہ خواہشات پر قابو پایا جاسکتا ہے اور عمران خان کا حالیہ انٹرویو جو انھوں نے ایک غیر ملکی چینل کو دیا گیا بیان ان کی کم علمی کی علامت ہے۔

تو اب بات یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے ایچ بی او کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ دعویٰ کر ڈالا کہ گورے اپنی جنسی خواہشات کو کنٹرول کرلیتے ہیں لیکن (پاکستانی ) مرد اپنی جنسی خواہشات کو کنٹرول نہیں کر سکتے کیوں کہ ہمارے معاشرہ میں ایسی سہولت موجود نہیں جو مغربی ممالک میں موجود ہے۔ کاش کے ان کے دیرینہ سیاسی ساتھی فواد چوہدری جو پہلے و وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کا عہدہ رکھ چکے ہیں ان کو بتاتے کہ کسی بھی یونیورسل کلیم کرنے سے پہلے اگر خاطر خواہ مشاہدات اکٹھے کرلئے جائیں تو پھر کسی حد تک کوئی بات وقتی طور پر قابل قبول ہو سکتی ہے۔ شاید میری یہ خوش فہمی ہے کہ فواد چوہدری کو یہ بات پتہ ہو۔

بہرحال، بیسویں صدی میں سائیکالوجی میں تحلیل نفسی کے نظریہ کے ذریعہ تہلکہ مچا دینے والے سگمنڈ فرائڈ کی ایگو ڈیفینس میکنیزم کے نظریات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کیسے انسان اپنی خواہشات پر، خواہ وہ جنسی ہوں یا غذائی یا پھر کوئی اور، پر قابو پاتا ہے۔ انسانی شخصیت کا حصہ جسے فرائڈ اڈ کا نام دیتا ہے، کسی بے لگام گھوڑے کی طرح عمل کرتی ہے۔ اس اڈ پر قابو پانے کے لئے دو پہرے دار جسے وہ ایگو اور سپر ایگو کہتا ہے، معاشرتی اور اخلاقی اصولوں کے ذریعے اڈ کے بے لگام گھوڑے پر قابو پاتے ہیں۔

اس مفصل بیان کا مطلب یہ ہے کہ عمران خان کا یہ کہنا مرد اپنی خواہشات پر قابو کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، دراصل بالکل ایک غیر ذمہ دارانہ اور غیر عقلی بیان ہے۔ اگر بائیس کروڑ کی آبادی میں سے روزانہ ایک جنسی ہوس پرستی کا کیس منظر عام پر آتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں لیا جاسکتا اس معاشرہ میں مردانہ جنسی ہوس پرستی عروج پر ہے۔

عمران خان نے ایک ہی صفت میں محمود و ایاز لا کھڑا کیا اور پورے پاکستانی معاشرہ کو ایک ہی لکڑی سے ہانکنے کی کوئی کثر باقی نہیں چھوڑی۔ وزیر اعظم صاحب نے، اپنے آپ سمیت، اپنی کابینہ، اپوزیشن پارٹی، اپنے اتحادی، اور پوری پاکستانی عوام کو اخلاقی طور پر پست ہونے کا جو سرعام سرٹیفکٹ دیا ہے اس سے بیرونی دنیا میں پاکستانی اقدار کے بارے میں کیا پیغام گیا ہوگا یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

لہذا اگر کسی مہذب معاشرہ میں کسی بھی پاکستانی کو جنسی بھیڑیا کے لقب سے پکارا جائے تو کسی کو بھی اس بات پر برا نہیں ماننا چاہیے بلکہ بڑے فخر سے اس لقب کو تسلیم کرنا چاہیے کیوں کہ ہمارے معاشرہ میں ہم نے وہ کچھ نہیں کیا جو گورے کرتے ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments