برے کو نہ مارو بلکہ برے کی ماں کو مارو
ہمارے عظیم لیڈر فرماتے ہیں۔ اگر عورت غلط لباس پہن کر کسی مرد کی مردانگی کو چیلنج کرے گی تو مرد وہ چیلنج ضرور قبول کرے گا۔ مرد تو بے قصور ہے۔ یعنی برائی کو ختم نہ کرو بلکہ اس کی جڑ کو ختم کرو۔ عام آدمی اوہ معاف کیجیے گا روبوٹس یہ چیلنج قبول نہیں کرتے۔ وہ صحیح مرد ہی نہیں ہیں۔ انہیں اپنی مردانگی کے لیے کسی دوائی کی اشد ضرورت ہے۔ اب اگر وہ روبوٹس ہیں تو کیا لازم ہے کہ وہ معاشرے میں اصل مردوں کے خلاف باتیں کریں۔ اب اس کا علاج تو انہوں نے بتا دیا کہ عورتیں صحیح لباس پہنیں تا کہ مردوں کے جذبات مجروح نہ ہوں۔ مگر ان کے ہاتھ میں جو موبائل ہے اس میں جو مغربی خواتین مردوں کو مشتعل کر رہی ہیں ان کا علا آج بھی ہونا چاہیے۔ اگر وہ باز نہیں آتیں تو پھر مرد بے چارے کا کیا قصور۔
مگر یہاں عورتوں کے مقابلے کے لیے بچوں نے بھی قدم رکھ دیے ہیں۔ وہ بھی اصل مردوں کو چیلنج دینے لگے ہیں۔ بلکہ ان کی تعداد خواتین سے کہیں زیادہ ہے۔ خواتین تو مختصر لباس پہن کر ہی مردوں کو چیلنج کرتی ہیں مگر یہ بچے تو سارے کپڑے اتار کر نہروں میں نہاتے پائے جاتے ہیں۔ وہ کھلم کھلا مردانگی کو کھلا چیلنج دے رہے ہوتے ہیں۔ بلکہ گاؤں میں تو اکثر بچے اس حالت میں نظر آتے ہیں کہ انہوں نے مختصر سی قمیص پہنی ہوتی ہے۔
ان کی مائیں سستی کی ماری ایک چڈی دھونے سے بچنے کے لیے مردوں کو مشتعل کرتی ہیں۔ اب بے چاری ماؤں کو کیا پتہ کہ دنیا میں اصل مرد پاکستان ہی میں پائے جاتے ہیں۔ اب ہماری حکومت کو چاہیے کہ قانون بنائے کہ بچوں کو بھی پورے کپڑے پہنائے جائیں۔ مسجد میں جو بچے پڑھنے کے لیے جائیں برقعہ ان کے لباس کا لازمی جز قرار دیا جائے۔
اب جو ڈاکو ہر روز عوام کو لوٹتے ہیں تو ہماری حکومت نے انہیں اسی لیے بے لگام چھوڑا ہوا ہے کیونکہ انہیں تحریک بڑے بڑے ڈاکوؤں سے ملتی ہے۔ اس لیے جب تک بڑے ڈاکو باہر مزے سے گھوم رہے ہیں۔ تو چھوٹے ڈاکو ہیں کوئی روبوٹ تو نہیں کہ انہیں آسانی سے دولت کمانے کی خواہش نہ ہو۔ اس میں ان کا کیا قصور وہ بھی انسان ہیں ان کی بھی خواہشات ہیں کہ وہ بھی بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومیں۔ ان کو تحریک کپڑے اتار نے سے نہیں بلکہ عمدہ عمدہ کپڑے پہننے سے ملتی ہے۔ اسی لیے ہماری حکومت ان کو نہیں پکڑتی۔ اب یہ الگ بات ہے کہ بڑے ڈاکو ان سے پکڑے نہیں جاتے۔
قبضہ گروپ پر بھی اسی لیے ہاتھ نہیں ڈالا جاتا کہ ہمارے بہت سے ارباب اختیار ملکی زمین پر قبضہ کیے بیٹھے ہیں۔ تو جو کسی بیوہ یا یتیم کی زمین پر قبضہ کیے ہوئے ہے اس بے چارے کا کیا قصور۔ وہ بھی تو انسان ہے۔ اصل میں تو اسے تحریک بڑے قبضہ گروپ سے ملتی ہے۔ اس کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے نام بھی آٹھ دس پلاٹ ہوں۔ وہ بھی اونچے شملے کے ساتھ پھرے۔ اب اسے شملہ اونچا کرنے کے لیے کسی بیوہ، لاچار بوڑھے یا کسی یتیم کی زمین پر ہاتھ صاف کرنا پڑ رہا ہے تو یہ اس کی نفسیاتی مجبوری ہے جرم نہیں۔ تحریک اسے بڑے لوگ ہی دے رہے ہیں۔
ہر چوک میں بھکاریوں کا جم غفیر نظر آتا ہے۔ یہ بے چارے بھکاری بھی سوچتے ہیں کہ جب ہماری حکومت آئے روز کسی نہ کسی کے آگے کشکول لے کر کھڑی ہوتی ہے اور اسے کوئی شرم نہیں ہے تو ہم ہی کیوں شرم کریں۔ اگر کوئی خیرات نہیں دیتا جھڑک دیتا ہے تو کیا ہوا حکومت کو بھی بہت سے ممالک ذلیل کرتے ہیں ہماری حکومت کی عزت میں کون سا فرق آ جاتا ہے۔ تو ہماری کون سی عزت مجروح ہوتی ہے۔
محلے کی عورتیں جب لڑتی ہیں اور جس طرح فصیح و بلیغ گالیوں کا استعمال کرتی ہیں۔ وہ بہت بری لگتی ہیں کہ انہیں ذرا بھی تمیز نہیں۔ اب اس میں ان بےچاریوں کا کیا قصور۔ انہوں نے تو یہ سب قومی اسمبلی میں ہوتے دیکھا ہے۔ بلکہ کئی گالیاں تو انہیں یاد بھی نہیں ہوتیں اسے کے لیے انہیں دوبارہ سے اسمبلی کی کارروائی دیکھ کر اچھی اچھی گالیاں یاد کرنی پڑتی ہیں تاکہ شریکوں کی ہر چال کا جواب ان کے پاس موجود ہو۔
ہمارے یہاں کوئی درزی، ورکشاپ والا، مکینک یا بہت سے دوسرے لوگ وقت پر کام کر کے نہیں دیتے۔ کیونکہ انہیں اس کی تحریک حکومت کے کاموں سے ہی ملتی ہے۔ حکومت کا کوئی بھی کام اپنے وقت پر نہیں ہوتا بلکہ اکثر اوقات ہوتا۔ ہی نہیں۔ اب بے چارے ان لوگوں کا کیا قصور اگر وقت پر کام کر کر کے نہیں دیتے۔ کیونکہ ہمارے لیڈر نے کہا ہے کہ ہر کام کا کوئی محرک ہوتا ہے۔ اب جب تک حکومت ہر کام کے محرک کو ختم نہیں کر لیتی آپ آزادی سے ہر کام کریں۔ کیونکہ آپ کے ہر جرم کا محرک تلاش کیا جائے گا اور اس محرک کو ختم کیا جائے گا جب تک وہ محرک ختم نہیں ہو جاتا آپ آزادی سے ہر کام کریں۔


