ملالہ کا بیان ۔ ایک تنقیدی جائزہ


جب سے ملالہ یوسف زئی نے برٹش ووگ میگزین کو ایک انٹرویو دیا ہے اور اس کے انٹرویو کے کچھ حصے سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ہیں اس وقت سے ملالہ اور اس کے انٹرویو پر پاکستان اور دنیا بھر میں کسی نہ کسی انداز سے بحث مباحثہ جاری ہے۔ بلاشبہ ملالہ ایک قومی ہیرو کے طور پر جانی جاتی ہے۔ وہ پاکستان کی ان تمام بچیوں کے لیے جرات و بہادری کی علامت ہے جو اپنی زندگی میں آگے بڑھنے اور کچھ نہ کچھ کرنے کے خواب سجائے بیٹھی ہیں۔ جب 2012 میں ملالہ پر قاتلانہ حملہ ہوا اور وہ شدید زخمی ہو گئی تو پوری قوم اس کی حمایت میں ایک آہنی دیوار کی طرح کھڑی ہوگی۔ پاکستان کی یہ نوبل انعام یافتہ بیٹی دنیا بھر میں ہر سطح پر پاکستان کے لئے عزت کا باعث بنی ہے۔ بچیوں کی تعلیم اور ان کے حقوق کے حوالے سے اس کی جدوجہد روز روشن کی طرح عیاں ہے۔

اس کے انٹرویو کے حوالے سے کئی پہلوؤں پر بات ہو سکتی تھی لیکن سوشل میڈیا پر اس کے انٹرویو کا وہ حصہ وائرل ہوا جس میں اس نے شادی کے بندھن کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کیا تھا۔ سرن کیل کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں ملالہ نے کہا کہ ”اس کے لئے یہ بات ناقابل فہم ہے کہ لوگوں کے لیے شادی کرنا کیوں ضروری ہے اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی زندگی میں کوئی شامل ہو تو آپ کو شادی کے تردد کی کیا ضرورت ہے آپ شادی کے بغیر بھی اکٹھے رہ سکتے ہیں“ ۔ ملالہ کے اس بیان سے پاکستان کی اکثریت ناراض اور دل گرفتہ ہے اس لئے کہ یہ اسلام میں شادی کی اہمیت اور عفت مآب خاندانی نظام کے خلاف ہے۔

مذہبی حلقوں کی طرف سے اس بیان پر شدید تنقید جاری ہے جبکہ آزاد خیال طبقات نے اس کا دفاع کرنے کی کوشش کی ہے اور اسے اظہار رائے کی آزادی کے ساتھ منسلک کرنے کی کوشش کی ہے۔ ملالہ کے اس بیان کا دفاع کرنے والوں کا موقف ہے کہ یہ کسی شخص کی اپنی مرضی ہے کہ وہ شادی کرے یا بغیر شادی کے کسی کے ساتھ زندگی گزارے۔ لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ یہ بیان ایک ایسی لڑکی نے دیا ہے کہ جو مسلمان ہے، اس کا تعلق قدامت پسند پشتون قبیلے سے ہے اور وہ ایک پاکستانی ہے۔

اگر یہی بیان کسی ایسے شخص نے دیا ہوتا جس کا تعلق مغرب سے ہوتا اور وہ مغرب میں رہ رہا ہوتا تو اس سے پاکستانی معاشرے کو کوئی سروکار نہ ہوتا۔ لیکن پاکستانی معاشرے کے لیے ملالہ کا معاملہ کسی بھی دوسرے شخص سے مختلف ہے۔ بغیر شادی کے کسی کے ساتھ رہنا ایک طرف اسلام کی بنیادی اقدار اور عقائد کے خلاف ہے اور دوسری طرف خاندانی نظام کی نفی کرتا ہے۔ جب کہ عائلی نظام انسانی معاشرے کے قیام کا جزو لاینفک ہے۔

ملالہ کا بیان نا صرف یہ کہ اسلام میں دیے گئے شادی کے تصور کے خلاف ہے بلکہ ہماری معاشرتی روایات اور اقدار کے بھی خلاف ہے۔ مذہبی اعتبار سے یہ اس لیے ناقابل قبول ہے کہ قرآن کے مطابق شادی (نکاح) کے بغیر ایسا کوئی بھی تعلق حرام ہے۔ معاشرتی طور پر یہ اس لیے قابل گرفت ہے کہ ایک مہذب اور با حیا معاشرے کے قیام کے لیے شادی اور خاندانی نظام کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اور یہ بیان ثقافتی اعتبار سے بھی قابل رد ہے اس لئے کہ یہ شادی و بیاہ کے حوالے سے پاکستان کی تمام تہذیبی اور ثقافتی روایت سے متناقض ہے۔

جبکہ اس کے برعکس یہ مغرب کے شکستہ، تباہ حال اور زوال پذیر معاشرتی رویوں کی تائید کرتا ہے۔ OECD کے ایک جائزے کے مطابق مغرب میں بغیر شادی کے پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ مثال کے طور پر 1970 میں برطانیہ میں بغیر شادی کے پیدا ہونے والوں بچوں کی تعداد 8 فیصد تھی جبکہ 2018 میں یہ تعداد 48 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح امریکہ میں 1970 میں شادی کے بغیر پیدا ہونے والوں بچوں کی تعداد 10 فیصد تھی جبکہ 2018 میں یہ تعداد 30 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ Eurostat کے ایک جائزے کے مطابق یورپ میں شادی کا نظام دن بدن زوال پذیر ہے۔ مثال کے طور پر 1964 میں ایک 1000 افراد میں سے 8 افراد شادی کر رہے تھے جبکہ 2019 میں ایک ہزار افراد میں سے 4.3 افراد شادی کر رہے ہیں۔

اسلام میں خاندانی نظام ایک انتہائی اہم اور بنیادی اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں اس بات کی طرف اشارہ کرنا انتہائی ضروری ہے کہ خاندانی نظام نہ صرف اسلامی دنیا میں اہمیت کا حامل ہے بلکہ دیگر مذاہب، تہذیبوں اور معاشروں میں بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً افلاطون جو کہ آج بھی دنیائے فلسفہ کی ایک اہم ترین شخصیت ہے، اس نے اپنے تصور ریاست میں خاندانی نظام کے خاتمے اور ازدواج میں اشتراکیت کا نظریہ دیا۔ باوجود اس کی فلسفیانہ عظمت کے اس کا یہ نظریہ ہمیشہ تنقید کی زد میں رہا۔ حتی کہ اس کے نابغہ روزگار شاگرد ارسطو نے اپنے استاد افلاطون کے تصور ریاست کو بیان کرتے ہوئے خاندانی نظام کے ضمن میں اس کے اشتباہ کی نشاندہی کی۔

ملالہ شادی کے حوالے سے جو بھی نقطہ نظر رکھتی ہو، اسے یہ بات ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اسے قوم کی بیٹی سمجھا جاتا ہے اور اس کا ہر عمل دنیا میں پاکستان اور پاکستان کے لوگوں کا بہتر تاثر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے اس بیان کو غیر ملکی میڈیا نے پاکستان کے عوام کو تنقید کا نشانہ بنانے کے لئے استعمال کیا ہے۔ مثلاً سی این این ۔ NEWS 18 نے مندرجہ ذیل عنوان کے تحت ایک مضمون شائع کیا۔

”Why Get Married? : Malala ’s Question on Marriage Has Left Sexist Pakistanis in Agony“
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملالہ کے بیانات کس طرح پاکستان اور پاکستانی عوام کو متاثر کر سکتے ہیں۔

وہ لوگ جو ملالہ کے اس بیان کا دفاع کرتے ہیں ان کا موقف ہے کہ پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل، عورت کے حوالے سے صنفی امتیاز، اور نابالغ بچوں اور بچیوں کی شادی جیسے قبیح واقعات اور رسم و رواج کیا ملک کا تاثر خراب نہیں کر رہے؟ اگر ملالہ نے شادی کے حوالے سے یہ بیان دے دیا ہے تو اس سے ملک پر کیا اثر پڑے گا لہذا ملالہ کے اس بیان پر اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں بنتی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ واقعات پاکستان کے امیج کو داغدار کر رہے ہیں لیکن اس سے ملالہ کے بیان کا جواز تو پھر بھی نہیں بنتا۔ اس لیے کہ ایک غلط کام دوسرے غلط کام کا جواز نہیں بن سکتا۔

یہاں اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ ملالہ جیسی با اثر شخصیات ملک میں انقلابی تبدیلیاں لانے کے لئے اہم کردار ادا کر سکتی ہیں جیسا کہ بچیوں کی تعلیم اور عورتوں کو با اختیار بنانے کے حوالے سے ملالہ کی کاوشیں قابل قدر ہیں۔

آخر میں یہ بیان کرنا بھی انتہائی ضروری ہے کہ عورتوں کے سکارف اوڑھنے اور روایتی لباس پہنے کے حوالے سے ملالہ کا بیان انتہائی قابل تعریف ہے۔ ملالہ نے مغرب پر یہ واضح کیا ہے کہ حجاب اوڑھنے اور اپنے معاشرے کی روایت کے مطابق لباس پہننے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عورت دباؤ اور گھٹن کا شکار ہے بلکہ یہ ایک عورت کی اپنی ثقافت اور اقدار کے ساتھ وابستگی اور اس پر عمل پیرا ہونے کی نشانی ہے۔

Facebook Comments HS