دیہات میں ”فیوچر پلاننگ“ کا ارتقا

گاؤں والوں کی روزمرہ گفتگو کے مطابق ان کے تین آئیڈیل پیشے ہوا کرتے تھے۔ مائیں، دادی، نانیاں بچوں کو دعائیں دیتی تھیں۔ ”اللہ تینوں تھانیدار لائے“ ۔ بچوں کو پیار کرنا ہوتا تو بلائیں لیتیں ”ہائے میرا پٹواری“ اور تیسرا اہم عہدہ ان کے نزدیک ”باو“ تھا۔ باو سے ان کی مراد کیا تھی یہ تو واضح نہیں مگر اتنی سمجھ آتی تھی کہ وہ پینٹ شرٹ پہنتا ہے اور شہر میں کام کرتا ہے۔ ہم نے اپنے بچپن میں مستقبل میں عزت کمانے کے یہی تین طریقے سن رکھے تھے۔

البتہ ایک اور راستہ بھی تھا۔ گاؤں میں اکثر اپنے کندھے پر لمبا سا تھیلا لٹکائے جوگی بابا آیا کرتے تھے۔ دروازے پر دستک دی۔ میں نے دیکھا۔ واپس آ کر بتایا کہ مانگنے والا آیا ہے۔ نانی امی نے آٹا دیا اس کو اور مجھے سمجھایا کہ یہ مانگنے والا نہیں تھا جوگی تھا۔ میں چپ رہا مگر خیال آیا کہ مانگتا تو یہ بھی ہے پھر فرق کیا ہے۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ ہاتھ دیکھ کر مستقبل بتاتے ہیں اس لئے انہیں جوگی کہتے ہیں۔ میرا یہ سسپنس اس دن ختم ہوا جب محلے کے ایک گھر میں بابا جی کی پرفارمنس دیکھی۔

ایک بے روزگار نوجوان کی والدہ نے جوگی کو بلایا اور بیٹے کا ہاتھ دیکھنے کا کہا۔ ہاتھ دیکھ کر بابا جی بولے ”رزق، دولت، خوشحالی۔ تیرا صحن بھر جائے گا، تجھ سے سنبھالا نہ جائے گا“ ماں جی نے ایک ”دابڑا“ گندم لا کر جوگی کے تھیلے میں ڈال دی۔ جوگی نے ہاتھ غور سے دیکھا اور چونک گیا گویا کچھ عجیب شے دکھائی دی۔ پوچھا بابا جی کیا ہوا۔ مسکرا کر کہنے لگے لوہا نظر آیا ہے۔ مطلب جہاز۔ یعنی بیٹا باہر کے ملک جائے گا۔ اتنا سننے کی دیر تھی کہ لڑکے کی والدہ نے دو ”دابڑے“ گندم مزید بابے کے تھیلے میں ڈال دی۔ اب تھیلے میں گندم تھی اور بابا جی سے سنبھالی نہیں جا رہی تھی۔ مجھے سمجھ آ گئی کہ نارمل مانگنے والے اور جوگی میں کیا فرق ہے۔ خیر یہ تھا چوتھا آئیڈیل فیوچر پلان کہ بچہ باہر کے کسی ملک میں کمانے چلا جائے۔

تھانیدار، پٹواری کی خواہش اس لئے کی جاتی ہو گی کیونکہ گاؤں والوں کو زیادہ انہی دو سے واسطہ پڑتا تھا اور اصل میں طاقت کا حصول مقصود تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں یہ بھی یقین ہوتا تھا کہ یہ عہدے ان کی قسمت میں کہاں۔ چنانچہ یہ صرف دعاؤں کی حد تک تھے۔ بارڈر ایریا کے دیہات کے لوگ فوجی وردی سے بہت متاثر تھے اور چونکہ سپاہی بھرتی ہونا آسان بھی تھا اس لئے ہمارے دیہاتوں میں لوگوں کی اکثریت فوج میں چلی جاتی۔

اس ساری صورت حال میں مولوی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مولوی صاحب کا اس بات پر زور تھا کہ ایک حافظ قرآن سات پشتوں کی بخشش کروا سکتا تھا تو دیر کس بات کی۔ ہم مسجد جاتے تھے اور حفظ قرآن کے قائل ہو چکے تھے۔ فیصلہ کرنے میں پیچھے رہ گئے اور تقریباً سات بچے سکول چھوڑ کر قاری صاحب کے بتائے ہوئے مدرسے چلے گئے (کچھ عرصے بعد سب بھاگ آئے ) بہرحال فیوچر پلاننگ میں یہ والا آپشن بھی ہمیشہ سے زیر غور رہا کرتا تھا۔

سکول کے زمانے میں محلے کے تقریباً دس گھروں میں ہر جمعرات میں ختم شریف پڑھا کرتا تھا۔ مولوی صاحب نے بتایا تھا کہ ہر جمعرات کو روحیں اپنے اپنے گھر چکر مارتی ہیں اور جو پکا ہو چکھ کر جاتی ہیں (میں ایک گھر ختم پڑھنے گیا تو کھانا جس پر ختم پڑھنا تھا شدید گرم تھا تو آنٹی نے مجھے کہا کہ ذرا ٹھنڈا ہونے دو۔ روح دا منہ ای نہ سڑ جائے ) ۔ اگر گھر والوں نے کچھ نہ پکایا اور ختم نہ پڑھوایا ہو تو وہ لعنتیں بھیجتی واپس جاتی ہیں۔ مجھے محلے والوں نے قائل کیا کہ مولوی بن جاو اور ختم پڑھنے کو بطور کرئیر اپنا لو۔ دیکھو کتنی عزت ہے اس کام میں۔ ایک عرصے تک میں اس آفر پر غور کرتا رہا مگر سکول کی کتابوں میں دلچسپی آڑے آئی۔

سکول میں کیا پڑھنا ہے اس فیصلے کا انحصار مکمل طور پر اساتذہ کے ہاتھ میں تھا اور گھر والوں کا کردار نہ ہونے کے برابر۔ آٹھویں تک تو معاملہ سیدھا تھا مگر مشکل تب پیش آتی جب سائنس اور آرٹس میں کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوا۔ مجھے بچپن سے اخبار میں دلچسپی تھی، لکھنے کا شوق تھا اور سائنس مضامین بالکل پسند نہ تھے۔ مگر سائنس مضامین لینا دلچسپی کا نہیں عزت کا مسئلہ ہوا کرتا تھا۔ چنانچہ عزت بچائی۔

میٹرک بمشکل ہوا اور ایف ایس سی مضامین چھوڑ کر ایف اے کا انتخاب میری پہلی بغاوت تھی۔ اس بغاوت کے بعد بھرپور لعن طعن ہوئی۔ روپوچک سکول کے ایک ٹیچر نے کہا کہ دیولی کے بچے صرف میٹرک تک لائق ہوتے ہیں آگے جا کر نکمے ہو جاتے ہیں۔ ظہیر کو دیکھ لو ایف اے کر رہا ہے۔ یہ سب برداشت کیا۔ اپنی چوائس کو جسٹی فائی کرنے کے لئے مجھے گوجرانوالا بورڈ میں پوزیشن لینا پڑی۔ دو سال بعد عزت کچھ بحال ہوئی۔

میٹرک کے بعد زیادہ بچے فوج میں سپاہی بھرتی ہو جاتے کیونکہ گھر کی کفالت سے زیادہ عرصہ علیحدہ نہیں رہ سکتے تھے۔ ہر سال کلاس میں پوزیشن لینے والے اچانک سکول چھوڑ کر کسی ورکشاپ یا نائی کی دکان پر کام سیکھنے چلے جاتے۔ اکثریت فٹ بال سلائی یا گلوز کی فیکٹری میں کام کرنے لگتے۔ اب ہمارے دیہات مالی اعتبار سے بہت آگے نکل چکے ہیں۔ کچے مکان پکے ہو گئے ہیں۔ دنیا کے ہر کونے میں ملازمت و مزدوری کی غرض سے جا پہنچے، پیسہ کمایا، گھر بھیجتے ہیں۔

اب وسائل کی کمی کا مسئلہ تو نہیں رہا مگر نوجوانوں کی اکثریت پڑھائی سے اب بھی دور ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ پیسہ آنے سے پڑھائی کا مقصد ختم ہو گیا ہے۔ وہ تھانیدار اور پٹواری لگنا چاہتے ہیں یا باو بننا بھی چاہتے ہیں تو محنت سے نہیں بلکہ رشوت دے کر۔ گھر کا ایک فرد باہر کے ملک چلا جائے تو باقی اپنے ہاتھوں میں لوہا دیکھنے کے لئے اب کسی جوگی کے محتاج نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words