کیا پاکستان کو امریکہ کو Absolutely Not کہنے کی سزا دی گئی؟


25 جون 2021 کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو گرے لسٹ میں رہنے کا فیصلہ سنایا جو کہ بہت ہی حیران کن تھا پاکستان نے جون 2018 کے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے 27 نکاتی ایجنڈے میں سے 26 نقاد پر کامیابی سے مکمل عمل کیا اور پاکستان کی حکومت اور عوام پرامید تھی کہ اس فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے 5 روزہ اجلاس کے بعد پاکستان کو وائٹ لسٹ کر دیا جائے گا۔ مگر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو مزید 6 نقاط پر عمل کرنے کا کہہ کر یہ فیصلہ سنایا کہ پاکستان کو ابھی مزید گرے لسٹ میں رکھا جائے گا۔

یہ بات انتہائی حیران کن ہے کہ پاکستان نے 27 میں سے 26 ایجنڈے میں عمل کیا اور صرف ایک ایجنڈے کو بنیاد بنا کر پاکستان کو مزید 6 ایجنڈے دے کر پاکستان کو گرے لسٹ میں ہی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ کیا پاکستان کو امریکہ کو Absolutely Not کہنے کی سزا تو نہیں دی جا رہی؟ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے صدر ڈاکٹر مارکس پلیئر نے کہا ”پاکستان نے نمایاں پیشرفت کی ہے اور اس نے جون 2018 میں پہلی بار انجام دینے والے ایکشن پلان پر 27 نکاتی ایجنڈے میں سے 26 ایجنڈے کو بڑے پیمانے پر خطاب کیا ہے۔“

ایک طرف فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے صدر پاکستان کے اقدامات کو سراہا رہیے اور دوسری طرف پاکستان کو مزید گرے لسٹ میں رہنے کا بھی فیصلہ دیا جا رہا ہے۔ کیا پاکستان کا امریکہ کو ہوائی اڈے دینے کے صاف انکار کی سزا تو نہیں دی گئی؟ پاکستان کی خودمختاری کی یہ سزا ہے کہ وہ 27 میں سے 26 نقاد پر عمل کرے اور پھر بھی گرے لسٹ میں رہے؟ اگرچہ ہم مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ کئی ایسے ممالک موجود ہیں جو FATA کے 27 ایجنڈے میں سے 7 یا 8 ایجنڈوں پر بالکل عمل نہیں کرتے مگر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ان ممالک کے خلاف تو کوئی ایکشن نہیں لیتی۔

آئیں چند بکھری کڑیاں جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی کہ یہ فیصلہ کیوں پاکستان کے خلاف دیا گیا۔ 19 جون 2021 کو وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا امریکی چینل کو انٹرویو میں امریکہ کو ہوائی اڈے دینے کے صاف انکار اور 23 جون 2021 کو لاہور میں جوہر ٹاؤن میں بم دھماکہ اور اس میں غیر ملکی باشندوں کا شامل ہونے کا انکشاف ہونا اور 25 جون کو 2021 کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا پاکستان کے خلاف فیصلہ دینا کوئی اتفاق تو نہیں ہے۔

یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پاکستان کو امریکہ کو ہوائی اڈے دینے سے صاف انکار کی سزا دی گئی۔ وزیراعظم پاکستان نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کسی قسم کے دباؤ میں نہیں آئے گا اور خاص کر وہ غلطی دوبارہ نہیں کرے گا کہ جو ماضی میں ہوئی اور اس غلطی کا ازالہ 70 ہزار سے زائد پاکستانیوں نے اپنی قیمتی زندگیاں قربان کر کے ادا کیا۔ اب پاکستان مزید امریکہ یا کسی اور ملک کی جنگ میں ایک انچ بھی اس پاک سرزمین کا استعمال نہیں ہونے دے گا ہاں مگر امن اور ثالثی کے کردار کے پاکستان کے دروازے ہمیشہ کھولے ہیں۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا یہ فیصلہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ فیصلہ پاکستان کے خلاف دیا جانا ہی تھا کیوں کہ پاکستان نے اپنی پاک سرزمین دینے سے صاف انکار کیا اور پوری دنیا کو ایک واضح پیغام دیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کرتا اور نہ ہی مستقبل میں کبھی کرے گا۔ جوہر ٹاؤن بم دھماکے میں امریکی شہری کے شامل ہونے کا انکشاف ہوا اس شہری کو تفتیشی اداروں نے گرفتار کر کے مزید تفتیش کا دائرہ بڑھا دیا گیا۔

اور یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا تھا جس میں امریکی شہری نے معصوم پاکستانی شہریوں کی جان نہ لی ہو اس سے قبل ریمنڈ ڈیوس تھا جس نے پہلے بھی لاہور میں 2 معصوم شہریوں کو گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا تھا اور لمبے عرصے تک کیس چلنے کے بعد بالا آخر وہ پاکستان سے جانے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ کیا پاکستانیوں کی جان کی کوئی قیمت نہیں؟ امریکہ کی افغانستان کے خلاف جنگ میں دہشتگردوں کے ہاتھوں 70 ہزار سے زائد پاکستانیوں کی قربانی کی کوئی اہمیت نہیں؟

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس سے قبل تو پاکستان کو قرضوں میں معافی، پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے اور مزید مالی امداد کی پیشکش کی جا رہی تھی کہ بس بدلے میں پاکستان اپنے فضائی اڈے امریکہ کے حوالے کر دے مگر جیسے ہی پاکستان نے اپنی خودمختاری کو مدنظر رکھتے ہوئے بغیر کسی دباؤ میں آئیے ہوئے امریکہ کو Absolutely Not کہا۔ تو امریکہ سمیت پوری دنیا میں کہرام برپا ہو گیا۔ جب امریکی میڈیا کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑا تو اپنی شرمندگی کو چھاپنے کے لیے میڈیا بیانیہ جنگ کے ہتھیار کو استعمال کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان صاحب کے 82 منٹ کے انٹرویو لے کر اس کو توڑ موڑ کر صرف 13 سے 15 منٹ کا کر کے پیش کرنا اور اس میں وزیراعظم کے خواتین والے بیان کو متنازع بیان بنا کر ایک نیا ایشو بنا دیا گیا اور یہ سب بہت ہی سمجھداری سے کیا گیا تاکہ پاکستان کی عوام کا Absolutely Not سے دھیان ہٹا کر وزیر اعظم کے خواتین کے بارے میں متنازع بیان کو لے کر ملک میں عجیب بحث شروع کر دی گئی۔ اگر ملک و قوم کے خودمختاری پر FATA پاکستان کو گرے لسٹ میں رہنے کی سزا سناتا ہے تو قبول ہے ہمیں ایسی سزائیں مگر ہر گز قبول نہیں کسی کی غلامی اور محتاجی اور اب امریکہ سمت دیگر ممالک کو پاکستان سے بس Absolutely Not or No More ہی سنے کو ملے گا۔

یہی وہ وقت ہے جب پاکستانی عوام و پاکستانی سیاسی قیادت کو ایک پیچ پر آنا ہوگا اور امریکہ کو Absolutely Not کہنے پر اپنے وزیراعظم اور حکومت کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے اور ایک آواز میں پوری دنیا کو پیغام دینے کی اشد ضرورت ہے کہ لاکھ ہمارے آپس میں اختلافات ہے مگر جہاں بات اس پاک سرزمین کی سلامتی کی ہو وہاں ہم سب ایک ہے ایک ہی پرچم کے نیچے کھڑے ہیں۔

Facebook Comments HS

One thought on “کیا پاکستان کو امریکہ کو Absolutely Not کہنے کی سزا دی گئی؟

  • 04/07/2021 at 10:47 شام
    Permalink

    بہت ہی عمدہ تحریر ہے اور اعلیٰ تجزیہ کیا گیا۔

Comments are closed.