روبرو بہ عدالت
سن تو صحیح سے یاد نہیں لیکن فہم نے چیزوں کا ادراک ابھی نیا نیا سیکھا تھا۔ بظاہر سادہ سا دکھنے والا معاملہ بھیتر میں کتنا گمبھیر ہو سکتا ہے اور کیسے کہے گئے الفاظ ’سنے گئے الفاظ سے مختلف معانی رکھتے ہیں۔ زمانے کی نئی روش سے آشنائی ہونے جا رہی تھی کہ یہاں پیاز کی مماثلت اب کھلے عام ملے گی‘ پیاز کی طرح تہہ در تہہ باتیں ’تہہ در تہہ چہرے‘ تہہ در تہہ رویے اور حتیٰ کہ تہہ در تہہ تعلق بھی۔
غم دوراں کا ایسا ہی کوئی وقت تھا جس کی بھینٹ چڑھنا تھا۔ علی الصبح اپنے والد اور بیسیوں اندیشوں کے ساتھ رخت سفر باندھا اور وقت مقررہ پہ قاضی کے حضور پیش ہو گئے۔ جن جگہوں اور معاملات سے آشنائی نہ ہو وہاں کا کھٹکا بھی کوہ گراں ثابت ہوتا ہے۔ اپنے تئیں کوشش کی کہ ’عزت سادات‘ بچ جائے لیکن ہونی تو ہو کے رہتی ہے۔ آواز پڑی فلاں بن فلاں روبرو عدالت جناب فلاں حاضر ہو۔
فلاں کی حد تک بات رہتی تو کام چل جاتا ’اور نام کے ساتھ بن فلاں نہ پکارا جائے‘ اس کے لئے کیے گے سب جتن اور سب تدبیریں بیکار گئیں کہ پکارے جانے کا اصول ہی ایسے ہے۔ جب بزرگوں کی عزت پامال ہو گئی تو پھر اپنی شرم بھی خود ہی اتر گئی۔ بھاری قدموں کے ساتھ روبرو عدالت ہونے کے لئے چل پڑے۔ بیس قدم چلنا کبھی بھی ایسا مشکل نہیں لگا ہو گا۔ مرتا کیا نہ کرتا کہ مصداق قاضی کے سامنے سر نیہوڑے کھڑے تھے۔
قاضی کے سامنے مختصراً دورانئے کی اس عملاً روبروئی سے ایک اور جلد پیش آنے والی عدالت کی منظر کشی ہو گئی۔ کم و بیش ایسے ہی معاملات اور اس سے ملتے جلتے احوال کا سامنا وہاں بھی کرنا پڑے گا۔ یہاں تو جھوٹی سچی گواہی اور جھوٹ کے آمیزش زدہ بیانات کا سہارا مل جاتا ہے لیکن اس عدالت میں جہاں جسم کا ہر حصہ گواہی دے گا ’کسی اور گواہی کی حاجت باقی نہ رہے گی۔ جس برحق دن کا وعدہ ہے کہ کسی کے ساتھ ذرہ برابر بھی ظلم اور زیادتی نہ کی جائے گی۔
یہاں کی عدالت کے اختیار ’طاقت‘ فیصلے ’گواہیاں‘ الفاظ اور کردار سب وقتی ہیں اور ان میں کسی طرح سے نکلا بھی جا سکتا ہے لیکن اس آخری عدالت سے بچ نکلنا ممکن نہیں۔ کسی صورت پیشی سے انکار نہیں اور اپنے کیے کا پورا پورا تول بھی ہو گا ’وہاں کے اختیار‘ طاقت ’فیصلے‘ گواہیاں ’الفاظ اور کردار سب ابدی ہیں۔ وہاں کی کامیابی ہمیشہ کی کامیابی گردانی جائے گی اور وہاں کی ذلت ہمیشہ کی ذلت مقدر ٹھہرے گی۔
اس اخروی عدالت میں کامیابی اور سرخروئی کا گر دانائے راز یوں بتاتے ہیں کہ اس دنیا میں اپنا ہر عمل خود کو اس پروردگار کے روبرو سمجھتے ہوئے کرو۔ خود کو ہر لحظہ اس پروردگار کے روبرو سمجھنا اپنے آپ میں بہت افضل ہے اور امید واثق ہے کہ ایسا کرنے سے کوئی بھی ناجائز ’نا حق‘ غلط اور ظلم کی بات سرزد نہیں ہو گی۔ خود کو اگر روبرو نہ بھی گردانیں تو یہ امر بہرطور اٹل ہے کہ ہم سب اس کی نگاہ میں ہیں اور اس کے سامنے پیشی کی مدت بھی طے ہے۔


