فرید پراچہ کی ”عمر رواں“

انسان اس دنیا میں ایک مقصد دے کر بھیجا گیا تھا مگر افسوس وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس نے دنیا کی آسائشوں سے آسودگی حاصل کرنا شروع کردی اور یوں اپنے مقصد عظیم سے منہ موڑ لیا۔ یہ کہانی اس کرہ ارض پر بسنے والے اکثر لوگوں کی ہے مگر جن لوگوں نے بے آرامی کو آرام پر ترجیح دی اور سہل راستہ اختیار کرنے کی بجائے مشکل منزلوں کا انتخاب کیا تو گویا انہوں نے اپنے رب کی مان کر ابدی اور اصلی منزل پا لی۔ دراصل یہی یہ لوگ ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے ”ان کو رب نے چن لیا“ ۔

آج ایک ایسے ہی بندے کی ”عمر رواں“ پر بات ہوگی جس کا تعلق پاکستان کی ایک سنجیدہ مزاج دینی جماعت سے ہے۔ جی ہاں میں جماعت اسلامی کی بات کر رہا ہوں۔ پاکستان کے سیاسی نظام میں جماعت اسلامی ایک اندازے کے مطابق واحد جماعت ہے جہاں قیادت اور کارکنوں کی تربیت کا باقاعدہ نظام موجود ہے اور اس کے ساتھ جڑے لوگ معاشرے کے لوگوں کی بہبود کے لیے جماعت کے پلیٹ فارم کے علاوہ بھی مختلف درجوں میں رفاہی اور فلاحی کاموں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

”عمر رواں“ پاکستانی قوم کے اس غیور اور بہادر سپوت کی آپ بیتی ہے کہ جس نے اپنے وراثتی خون یعنی مولانا گلزار احمد مظاہری کی نہ صرف لاج رکھی بلکہ دوسروں کے لیے ایسی نئی منزلیں متعین کر دی کہ جن پر چل کر ہر شخص دنیا اور آخرت کی کھیتی میں اپنا حصہ بڑھا سکتا ہے۔ یہ کتاب دراصل ایک گوہر نایاب فرید پراچہ کی جہد مسلسل کی کہانی ہے۔ اس کتاب میں قاری کو زندگی گزارنے کے انداز بتلائے گئے، خوشیوں کا استقبال کرنا سکھلایا گیا، مشکلات اور ناکامیوں کو آسانیوں اور کامیابیوں میں بدلنے کے گر بتلائے گئے، عمل اور گفتار کے غازی کا نقشہ کھینچا گیا نیز آداب زندگی اور رموز زندگی کے اسباق بھی پڑ ہائے گئے ہیں۔ محترم فرید پراچہ کی جانب سے اس کتاب میں اخلاق کے اعلیٰ معیار کا اظہار کیا گیا ہے وہ کتاب کے ہر صفحہ پر اپنے حریفوں کو اپنے حلیفوں کے برابر ہی عزت دیتے نظر آتے ہیں اور مختلف واقعات کا تذکرہ کرتے وقت سیاسی مخالفین کو بھی عزت کے مقام پر رکھا۔

کسی بھی اولاد کے لیے سب سے پہلے آئیڈیل اس کے والدین ہوتے ہیں کیونکہ ماں اور باپ کے گھنے اور محفوظ سائے میں ہی بچہ بڑا ہوتا ہے۔ ابتدائی دنوں کی تربیت کے اثرات کسی بھی شخص پر مرتے دم تک مرتب رہتے ہیں۔ فرید پراچہ صاحب کی خوش نصیبی کہ ان کی تربیت ایک ایسے مرد مجاہد کے زیر سایہ ہوئی کہ جس نے دوسرے لوگوں کی طرح زندگی کے روشن خواب ضرور دیکھے مگر جونہی اسرار حیات کا نظارہ ہوا تو فیصلے تبدیل ہو گئے اور پھر دین کے کام میں ایسا دل لگایا کہ مرتے دم تک اس کائنات کے ہر ذی روح کو اللہ اور اس کے نبیﷺ کا پیغام پہنچانے کا عزم زندہ رکھا۔ آج اس بندہ حق و سچ کی سچی لگن، عزم اور محنت کا حاصل ”عمر رواں“ کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ ایک عظیم باپ کے فرزند کو ابتدائے زندگی میں ہی وہ سب کچھ سایہ پدری کی شکل میں میسر ہو گیا تھا کہ جس کے حصول کے لیے لوگوں کو کئی سال دشت اور صحرا کی سیاہی چھاننا پڑتی ہے اور پھر کہیں کامیابی ملتی ہے۔

سیاست سے دلچسپی والے حضرات کے لیے بھی یہ کتاب ایک انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے۔ فرید پراچہ صاحب نے پاکستان کی سیاسی تاریخ اور اس تاریخ کے سیاسی سرداروں اور بونے کرداروں پر بھی مفصل لکھا ہے اور یوں کئی پوشیدہ سیاسی ابواب کو بے نقاب کر دیا۔ جماعت اسلامی کے ساتھ وابستگی کی وجہ سے مصنف کی طرف سے زیادہ تر باتیں جماعت اسلامی کے اندرونی معاملات اور انتظامی امور پر کی گئیں مگر اس تصنیف میں ملکی تاریخ کے اہم سیاسی فیصلوں اور دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کی پالیسیوں سمیت مختلف اوقات میں بنائے جانے والے سیاسی اتحادوں کو بھی خوب بیان کیا ہے جس کا مطالعہ یقیناً کسی بھی سیاسی جماعت کے کارکن کی بصیرت اور ذہنی پختگی میں اضافے کا باعث بنے گا۔

مصنف محترم فرید پراچہ نے اس کتاب میں اپنے بچپن سے لے کر اب تک کے تمام واقعات کا مختصرا مگر جامع ذکر کیا ہے یہاں تک کے جیل میں بتائے گئے شب و روز اور مشقتوں کا مکمل احوال بھی لکھا گیا ہے۔ انہوں نے اپنے مختلف سفرناموں کا دلچسپ احوال بیان کر کے اس کتاب کو معلوماتی بنانے کی بھی کوشش کی ہے نیز کتاب کے آخر میں اپنے تمام قریبی رشتہ داروں کا تفصیلاً تعارف بیان کیا گیا ہے۔ مصنف نے کتاب کے آخر میں اپنی زندگی کے مختلف ادوار میں اہم مواقع کی یادگار اور نایاب تصاویر بھی شامل کی ہیں۔

فرید پراچہ کی زندگی میں مولانا مودودی کی تعلیمات کا بے پناہ اثر ملتا ہے اور ہمیں ”عمر رواں“ میں گاہے بگاہے وہ اپنے پیرو مرشد کے سکھلائے گئے اسباق کو دہراتے نظر آتے ہیں چنانچہ یوں یہ کتاب کم اور ایک تحریکی کارکن کے شب و روز کی داستان زیادہ نظر آتی ہے۔ اس مادیت پرستی کے دور میں نوجوان نسل کے لیے زندگی کی حقیقت جاننے کے لیے اس کتاب میں بہت سے ایسے واقعات بیان کیے گئے ہیں جن کی مدد سے چند روزہ مستعار حیات کا خلاصہ خوب اچھی طرح سمجھ میں آ جاتا ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words