کیا مردوں کو خود احتسابی کی ضرورت ہے؟
ڈاکٹر کامران احمد ایک ماہر نفسیات بھی ہیں اور ایک سماجی کارکن بھی۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے ساتھ کئی برس اور کئی ممالک میں کام کرنے کے بعد ریٹائرمنٹ لے لی اور کینیڈا میں سکونت پذیر ہو گئے۔ میری جب ان سے ملاقات ہوئی تو میں ان کے زندگی کے بارے میں تجربے ’مشاہدے‘ مطالعے اور تجزیے سے بہت متاثر ہوا اور ہم نے مل کر پہلے امن کے موضوع پر ایک کتاب لکھی اور پھر کینیڈا ون پر امن کی نفسیات اور روحانیات پر کئی ٹی وی کے پروگرام پیش کیے۔
اب ڈاکٹر کامران احمد نے مردوں کی نفسیات اور سماجیات کے حوالے سے ایک نئی کتاب لکھی ہے۔
BETWEEN SAINTS AND SINNERS
مرد جو پارسا بھی ہیں اور پاپی بھی
اس کتاب میں انہوں نے بہت دلیری اور بہادری سے مردوں کو خود احتسابی کی دعوت دی ہے اور ذاتی اور پیشہ ورانہ مثالوں سے ثابت کیا ہے کہ کس طرح پدر سری نظام عورتوں کے لیے ہی نہیں مردوں کے لیے بھی تکلیف دہ اور نقصان دہ ہے۔ یہ نظام مردوں کی ایسی تربیت کرتا ہے کہ مرد مردانگی کی غلط تفسیروں و تعبیروں کی زنجیروں میں جکڑے جاتے ہیں اور پھر ساری عمر اس سے چھٹکارا نہیں پا سکتے۔ ایسی قید سے مرد نہ صرف خود پریشان رہتے ہیں بلکہ اپنی زندگی میں آنے والی عورتوں کو بھی پریشان کرتے ہیں۔ ڈاکٹر کامران احمد مردوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے رویوں کا خود احتساب اور تجزیہ کریں اور اپنی شخصیت میں ایسی تبدیلیاں پیدا کریں کہ وہ عورتوں کی دل کی گہرائیوں سے عزت کر سکیں اور وہ عورتوں سے آقا اور کنیز کا رشتہ قائم کرنے کی بجائے برابری کا اور دوستی کا رشتہ قائم کر سکیں۔
ڈاکٹر کامران احمد ہمیں یہ بھی بتاتے ہیں کہ بعض مرد ایسے بھی ہیں جو خود اپنا تجزیہ اور احتساب نہیں کر سکتے اس لیے انہیں ماہرین نفسیات کی مدد کی ضرورت پیش آتی ہے۔ بعض مرد ایسے بھی ہیں جو یہ جانتے ہوئے کہ انہیں پیشہ ورانہ مدد کی ضرورت ہے پھر بھی اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور مدد حاصل نہیں کرتے۔
ڈاکٹر کامران احمد کی کتاب اس موضوع پر پہلی اور اہم کتاب ہے جسے ان تمام مردوں اور عورتوں کو پڑھنے کی ضرورت ہے جو اپنی زندگی میں صحتمند رشتے قائم کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ میں اپنے تمام دوستوں کو مشورہ دے رہا ہوں کہ وہ اسے ضرور پڑھیں اور ڈاکٹر کامران احمد کو مشورہ دے رہا ہوں کہ وہ اس کتاب کا عام فہم اردو زبان میں ترجمہ کروائیں تا کہ زیادہ سے زیادہ مرد اس سے استفادہ کر سکیں اور اپنی خود احتسابی کے بعد اپنی زندگی میں آنے والی عورتوں کا تہہ دل سے احترام کرنا سیکھ سکیں۔
چونکہ ڈاکٹر کامران احمد میرے عزیز دوست ہیں اس لیے میں نے انہیں چند سوال بھیجے تا کہ وہ اپنے خیالات اور نظریات کا اردو میں بھی اظہار کر سکیں۔
ڈاکٹر خالد سہیل: ڈاکٹر کامران احمد! آپ کو یہ کتاب لکھنے کا خیال کیسے آیا؟
ڈاکٹر کامران احمد: ہم نے اجتماعی طور پر مردوں کے مسائل پر بات نہیں کی۔ میں نے کئی دہائیوں تک عورتوں کے مسائل پر کام کیا۔ لیکن جینڈر پر کام کرتے ہوئے احساس ہوتا رہا کہ یہ کام ادھورا ہے۔ مردوں کو اصلی مرد کی تصویر بھی معاشرہ ہی دیتا ہے تو اس کو تبدیل کون کرے گا۔ اس مردانگی کے برے اثرات پر کافی بات ہوتی رہی لیکن کچھ ہاتھ مردوں کے اپنے ساتھ بھی ہوا جس کا ذکر کوئی نہی کرتا۔ مرد خود بھی اپنی زندگی کے ان پہلوؤں کے بارے میں نہیں سوچتے۔
ڈاکٹر خالد سہیل: آپ اس کتاب سے مردوں کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟
ڈاکٹر کامران احمد: اصلی مرد کی وہ تصویر جو معاشرہ ہمیں دیتا ہے وہ لگتا یہ ہے کہ مردوں کو بہت اونچا درجہ دیتی ہے لیکن اس کی بہت بھاری قیمت ہم مرد ساری زندگی ادا کرتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس کہ بارے میں سوچنا شروع کریں۔ اس کا فائدہ عورتوں کو بھی ہو سکتا ہے لیکن ہمیں یہ خود اپنی زندگی بھرپور بنانے کے لئے کرنا ہے۔ اس کے لئے پہلی ضرورت یہ ہے کہ ہمیں وہ قیمت نظر تو آئے جو ہم ادا کر رہے ہیں اور جس پر کوئی بات نہیں کرتا۔
ڈاکٹر خالد سہیل: مردوں کی تربیت میں ان کے باپ ’دادا‘ چچا اور ماموں جیسے رول ماڈلز کی کتنی اہمیت ہے؟
ڈاکٹر کامران احمد: ایک طرف یہ ٹھیک ہے کہ ہم اپنے بزرگ مردوں سے سیکھتے ہیں کہ مردانگی کی کیا شکل ہونی چاہیے۔ جیسے ہم کہتے ہیں کہ غصہ آنا ایک فطری عمل ہے لیکن اس غصے کا کون سا اظہار صحیح ہے اور کون سا غلط یہ ہم اپنے ارد گرد سے سیکھتے ہیں۔ لیکن یہ سب ہم صرف اپنے مرد بزرگوں سے نہیں، اپنی زندگی میں موجود عورتوں سے بھی بالواسطہ سیکھتے ہیں۔ ہمارے ارد گرد کے مرد اور عورتیں ہمیں کولہو کے بیل کی طرح چھوٹے سے دائرے میں قید کر دیتے ہیں۔
ڈاکٹر خالد سہیل: مرد اپنی شخصیت میں کیسے مثبت اور صحت مند تبدیلی لا سکتے ہیں؟
ڈاکٹر کامران احمد: میں نے کتاب کے آخر میں ایسی کئی مثالیں دی ہیں جن کے کرنے سے ہم مرد اپنی زندگیوں کو بہتر اور بھرپور بنا سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لئے سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ ہم اپنی زندگیوں اور رشتوں کے مختلف پہلوؤں پر غور کرنا شروع کریں۔
ڈاکٹر خالد سہیل: کن مردوں کو کسی ماہر نفسیات سے رجوع کرنا چاہیے؟
ڈاکٹر کامران احمد: پہلے تو یہ کہ میں جینڈر کے روز مرہ کے مسائل کو نفسیاتی بیماری نہیں سمجھتا۔ لیکن آپ ٹھیک کہتے ہیں کہ کبھی کبھی یہ مسائل اتنے بڑھ جاتے ہیں کہ اس میں کسی ماہر نفسیات سے مدد لینا ضروری ہو جاتا ہے۔ اس کی ایک مثال، جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا، غصے کا غلط اظہار ہے۔ اس سے دوسروں کی تکلیف کے ساتھ ساتھ ہماری اپنی زندگی بھی دل اور رشتوں کی دولت سے محروم ہو جاتی ہے۔ مشرقی ممالک میں جب تک بہت دیر نہ ہو جائے اور پانی سر سے گزر نہ جائے نفسیاتی علاج کی روایت نہیں ہے۔ خاص طور پر مردوں میں، جس کی وجوہات پر ہم نے کتاب میں بات کی۔
ڈاکٹر خالد سہیل؟ پچھلے پچاس برسوں میں مردوں اور عورتوں کے رشتوں میں کیا تبدیلی آئی ہے؟
ڈاکٹر کامران احمد: روایتی معاشروں میں مرد اور عورت اپنے تنگ دائروں میں اپنی قدرے ادھوری زندگی گزارنے کے عادی تھے۔ لیکن ان کی ذمہ داریاں اور کردار ایک دوسرے سے اس طرح جڑے ہوئے تھے کہ نہ تو ادھورے ہونے کا احساس ہوتا تھا نہ باہمی مسائل نظر آتے تھے۔ تھے، مگر نظر نہیں آتے تھے۔ پچھلی کچھ دہائیوں میں عورتوں نے اور پورے معاشرے نے عورتوں کی خود انحصاری، خود اعتمادی اور خود اختیاری میں تو بہت اضافہ کیا، اور یہ ایک اچھا عمل تھا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ مردوں کے رولز میں تبدیلی نہ آئی۔ جو چیزیں، جو رشتے، ایک دوسرے کے حوالے سے ہزاروں سال میں اپنی شکل پکڑتے ہیں، ان میں سے ایک کو تبدیل کر لیں اور دوسرے کی تبدیلی کی جگہ نہ ہو تو سنگین مسائل تو ہوں گے۔ اسی لئے وقت ہے کہ مرد بھی خود اپنی زندگیوں پر نظر ڈالنا شروع کریں۔
ڈاکٹر خالد سہیل: مردوں اور عورتوں کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کیا مثبت کردار ادا کر سکتی ہے؟
ڈاکٹر کامران احمد: جہاں حکومت کو بہت کچھ کرنا چاہیے میرے خیال میں ہمارے بنیادی مسائل کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم حکومت کے پیچھے چھپ جاتے ہیں۔ ان مسائل کا تعلق معاشرتی رویوں سے ہے اور حکومت معاشرے میں سے نکلتی ہے معاشرہ حکومت میں سے نہیں۔ بہت بری حکومتیں جنہوں نے معاشرے کو بہت بگاڑا، ان کی جڑیں بھی خود معاشرے کے اندر موجود کسی پہلو کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں۔ چنانچہ ایسے اقدام ہیں جن میں حکومت اپنا کردار ادا کر سکتی ہے، مصلاً روشن خیال قانون سازی، پولیس ٹریننگ وغیرہ، لیکن یہ سب حقیقی طور پر تب ہی ممکن ہے اگر پہلے ہم خود مختلف طرح سے زندگی اور معاشرے کے بارے میں سوچنا شروع کریں۔
ڈاکٹر خالد سہیل: پدر سری نظام کے قیام میں مذہبی اقدار کیا کردار ادا کرتی ہیں؟
ڈاکٹر کامران احمد: اس اہم سوال کے جواب کے لئے کتاب کا ایک پورا باب وقف ہے۔ صرف اتنا کہتا چلوں کہ جینڈر کے حوالے سے مذہب اور روحانیت کا کردار ایک دوسرے کے بالکل برعکس ہے۔ اور اسی حقیقت میں ہماری طاقت بھی ہے اور ہماری بچت کی صورت بھی۔
ڈاکٹر خالد سہیل : میرے دوست سعید انجم پاکستانی مردوں سے کہا کرتے تھے۔ ’اگر تم اپنے بیٹے کو شہزادہ بنانا چاہتے ہو تو اس کی ماں سے ملکہ جیسا سلوک کرو۔ اگر تم اسے کنیز سمجھو گے تو جان لو کہ کنیزوں کے بیٹے شہزادے نہیں بنا کرتے‘ آپ کی اس رائے کے بارے میں کیا رائے ہے؟
ڈاکٹر کامران احمد: مجھے نہ بادشاہ اچھے لگتے ہیں نہ شہزادے، ہاں اگر پیار اور عزت سے ایک دوسرے کے ساتھ رشتہ بنا لیں تو بہت کافی ہے۔ اور اس میں مردوں کو عورتوں کو جو جگہ دینی چاہیے وہ بہت ضروری ہے، لیکن اس پر تو ہم بات کرتے ہی ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے لئے عورتوں کو مردوں کو بھی کچھ چیزوں میں جگہ دینی ہوگی اور ان کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی۔ اس کی بات ہم کتاب میں تفصیل سے کرتے ہیں۔
ڈاکٹر خالد سہیل : آخری سوال۔ یہ انٹرویو پڑھنے والے آپ کی کتاب کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟
ڈاکٹر کامران احمد: یہ کتاب اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے بڑے کتاب گھروں اور لبرٹی بکس آن لائن پر موجود ہے اور پاکستان سے باہر یہ ایمیزون اور کنڈل پر بھی دستیاب ہے۔
معزز قارئین! مجھے امید ہے کہ یہ کتاب ہم مردوں کو اپنی زندگیوں اور رشتوں کو نئے زاویوں سے دیکھنے اور انہیں مزید مکمل اور بھرپور بنانے میں اور اس کے علاوہ یہ کتاب عورتوں کو مردوں کو سمجھنے اور ان کے ساتھ بہتر رشتہ بنانے میں بھی مدد دے گی۔


