افغانستان میں کون کامیاب کون ناکام؟
جولائی کے آخر تک افغانستان میں ایک اور سپر پاور ناکامی سے دوچار ہو کر اپنے فوجوں کی واپسی مکمل کر لے گی۔ دنیا بھر میں مقیم مہاجر بن کر زندگی گزارنے والے خاص کر دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے افغان بھائی سوشل میڈیا پر خوشی کی شادیانے بجائیں گے کہ غیرت مند افغان عوام نے ایک اور سپر پاور کو شکست سے دوچار کیا۔ اس سے پہلے روس اور برطانیہ کی شکست کی تاریخ بھی یاد دلائی جائے گی اور ساتھ ساتھ افغان عوام کی غیرت و مردانگی جفاکشی و جرات و بہادری کی داستانیں بھی سوشل میڈیا کی زینت بنے گی۔
اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ایک صدی سے بھی کم عرصے میں تیسری سپر پاور افغانستان میں مستقل رہنے کی خواہش دل میں لئے افغانستان سے نکل رہی ہے۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ اس کا فائدہ یا نقصان کس کو ہوا۔ اور امریکہ کو نکالنے میں افغان عوام کا کتنا کردار ہے اور پڑوسیوں سمیت باقی سپر پاورز کا کتنا؟ اس پر تاریخ ہمیشہ کی طرح خاموش ہے۔ یہاں ہم بھی اس تاریخی قضیے میں پڑنے کی بجائے یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ تین سپر پاورز کو ناکامی سے دوچار کرتے کرتے افغان عوام پر کیا گزری۔ اگر یہ تینوں سپر پاور ناکام ہوئی ہیں جس طرح کہ ہم سمجھتے ہیں تو ان کی ناکامی کس کی کامیابی ہے۔ کیا ان کی واپسی کو ناکامی سے تعبیر کر کے افغان عوام خاص کر طالبان اپنی کامیابی کا جشن منا سکتے ہیں۔ اگر ہاں تو وہ کامیابی کہاں ہیں۔ ؟ اگر نہیں تو کیوں نہیں؟ غالب فرماتے ہیں۔
دام ہر موج میں ہے حلقہ صد کام نہنگ
دیکھ کیا گزرے ہیں قطرے پہ گہر ہونے تک
لاکھوں افغان بچے توپوں کی گھن گرج میں پیدا ہوئے، اسلحہ سے کھیلتے اور بارود کی بو سونگھتے سونگھتے جوان ہوئے۔ نہ تعلیم نہ مہارت نہ کوئی آسائش، ملک میں رہے تو جنگجو رہے باہر گئے تو مہاجر بن گئے۔ در بدر رہے خاک بسر رہے۔ اب ان کی اس چالیس سالہ قابل افسوس زندگی پر اگر کوئی جرات مند کامیابی کے مینار بنانا چاہتے ہیں۔ تو ان کی مرضی۔
معلوم نہیں کہ اس پورے خطے پر آسیب کا سایہ ہے۔ جہالت کا اندھیرا ہے یا مخلص لیڈرشپ کا فقدان مگر گزشتہ چالیس سال سے پورا خطہ عموما اور افغانستان خصوصاً تباہ کن صورتحال سے دوچار رہا ہے۔ اور نہ معلوم کب تک دوچار رہے گا۔
امریکہ کا افغانستان سے نکلنا پاکستان کی تزویراتی گہرائی پالیسی کا مرکز و محور تھا جو بیس سال میں ستر ہزار بے گناہ شہریوں اور تقریباً پانچ سو ارب ڈالر کی قربانی دے کر حاصل کیا گیا۔ لیکن اس کے باوجود کیا افغان عوام کی طرح پاکستانی پالیسی ساز بھی کھل کر خوشی کا اظہار کر سکتے ہیں۔ کیا وہ یہ دعوی کرنے کی پوزیشن میں ہیں کہ ہماری تیس سالہ افغان پالیسی کامیابی سے ہم کنار ہوئی۔ کیا وہ افغان عوام سمیت اپنے پاکستانی شہریوں کو یہ یقین دہانی کرا سکتے ہیں کہ امریکی انخلاء اور طالبان کے دوبارہ برسر اقتدار آنے کے بعد خطے میں امن و آشتی کا دور شروع ہوگا۔ اگر وہ ایسا نہیں کر سکتے جو یقیناً نہیں کر سکتے ہیں تو پھر کس کی کامیابی اور کون سی کامیابی؟
اگر افغان عوام خصوصاً طالبان بیس سال تک در بدر کی ٹوکرے کھانے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے اپنے جسموں سے بم باندھ کر قربانیاں دینے اور پورے افغانستان کے بچوں کو تعلیم صحت اور باقی جدید سہولیات سے محروم رکھنے کے باوجود جب امریکہ نکل رہا ہے تو کیا آپ لوگ کامیابی کا دعوی کر سکتے ہیں۔ ؟ یا آپ لوگ دائرے میں سفر کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر انیس سو چھیانوے ستانوے کی طرح خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ کیونکہ جنگ اب طالب اور امریکہ کی بجائے، طالب اور مجاہد کے درمیان یا پختون اور ہزارہ کے درمیان، یا پختون اور پختون کے درمیان لڑی جا رہی ہے تو کیسی کامیابی اور کس کی کامیابی؟
بدقسمتی یہ ہے کہ ہم پاکستانی اور افغان عوام ابھی تک کامیابی کا پیمانہ متعین نہ کرسکے۔ ہمارے پاس خود اپنے جانوں کی کوئی قدر نہیں۔ ہمیں اپنے بچوں کے حال اور مستقبل کی کوئی فکر نہیں ہم خوش ہے تو بس اس پر کہ ہم نے لاکھوں ہزاروں جانیں دے کر اور اپنے بال بچوں کے حال اور مستقبل دونوں کو داو پر لگا کر امریکہ کو ناکامی سے دوچار کیا۔ چلو ایسا ہی سہی۔ مگر کوئی ہمیں بتا سکتا ہے کہ امریکہ کی ناکامی کیا ہے۔ اس بیس سالہ جنگ میں کل کتنے امریکی شہری کام آئے۔
یہ سن کر آپ یقیناً حیران ہوں گے کہ اس بیس سالہ خطرناک جنگ میں صرف دو ہزار تین سو امریکی فوجی مارے گئے ہیں۔ برطانوی نیٹو اور باقی ایساف ممالک کی تعداد ملا کر بھی ان کا جانی نقصان تین ہزار سے بہت کم ہے جبکہ اس کے مقابلے میں چالیس ہزار طالبان انہتر ہزار افغان فوجی، ستر ہزار پاکستانی اور ایک لاکھ سے زیادہ افغان عوام لقمہ اجل بنے۔ یعنی ان کے تین ہزار کے مقابلے میں کم و بیش تین لاکھ مسلمان جن میں اکثریت پشتون تھیں، صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ مگر ہمارا دعوی ہے کہ وہ ناکام اور ہم کامیاب ہیں۔
ٹوئن ٹاورز کی مشکوک تباہی کے سوا امریکہ برطانیہ سمیت یورپ میں کوئی سکول گھر ہسپتال کارخانہ تباہ نہیں ہوا۔ مگر پاکستان اور افغانستان میں ہزاروں سکول سینکڑوں ہسپتال، اور لاکھوں گھر آج بھی ملبے کے ڈھیر کا منظر پیش کر رہے ہیں مگر ہمارا دعوی ہے کہ امریکہ ناکام اور ہم کامیاب ہیں۔ امریکہ کی سرپرستی میں حملہ آور ممالک سے کوئی ایک بندہ بھی کسی دوسرے ملک میں پناہ لینے نہیں گیا۔ روزگار لینے نہیں گیا۔ مہاجر بن کر نہیں گیا۔
جبکہ افغانستان کی ایک تہائی آبادی پاکستان ایران ترکی سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں آج بھی مہاجرت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے لاکھوں نوجوان سالہا سال سے یورپ امریکہ برطانیہ اور کینیڈا منتقل ہو رہے ہیں جس کو ہم ناکام سمجھتے ہیں اور اپنے آپ کو کامیاب۔ اس خطے اور یہاں پر رہتے ہوئے اپنے مستقبل سے مایوس نوجوانوں کی مایوسی کا یہ حال ہے کہ اگر انہیں یورپ و امریکہ جانے کے لئے لاکھوں روپوں کے عوض بھی قانونی رستہ نہیں ملتا ہے تو وہ اپنی زندگیاں داو پر لگا کر غیر قانونی طریقے سے چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں خوفناک سمندر کو پار کرنے کا خطرہ مول لیتے ہیں جس میں ہر سال سینکڑوں لوگ زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ مگر ہمارا دعوی ہے کہ ہم نے امریکہ کو شکست دی ہے ہم کامیاب اور وہ ناکام ہیں۔
جانی نقصان کا موازنہ رہنے دیجیے کیونکہ ہماری جانوں کی کوئی قیمت نہیں۔ مالی نقصانات کا موازنہ کیجئے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق امریکہ کو بیس سالہ افغان جنگ کی وجہ سے دو ٹریلین یعنی دو ہزار ارب ڈالر سے زیادہ نقصان برداشت کرنا پڑا۔ جس میں افغانستان کی آباد کاری اور پاکستان کو امداد کی شکل میں دینے والی رقم بھی شامل ہے۔ اگرچہ پاکستان کو ملنے والی بیس ارب ڈالر کے مقابلے میں پاکستان پانچ سو ارب ڈالر کے نقصانات کا تخمینہ لگاتا ہے۔ اگر یہ دونوں اعداد و شمار درست مان لئے جائے تو امریکہ کو پاکستان سے چار گنا زیادہ مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر امریکی مضبوط معیشت پر دو ٹریلین کے اثرات نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ پاکستانی معیشت زوال کے آخری حدوں کو چھو رہا ہے جبکہ ہمارا دعوی ہے کہ ہم کامیاب اور امریکہ ناکام ہوا ہے۔
چلو ہم درجہ بالا تمام حقائق کو نظر انداز کر کے مان لیتے ہیں کہ ہماری تیس سالہ پالیسی کامیابی سے ہم کنار ہوئی۔ اگر ایسا ہے تو ایک مرتبہ پھر پورے خطے پر بد امنی خوف اور ڈر کے سائے کیوں منڈلا رہے ہیں؟ سابقہ فاٹا یعنی قبائلی اضلاع سمیت پورے افغانستان میں بے یقینی اور افراتفری کا عالم کیوں ہے؟ وزیر اعظم عمران بار بار دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کیوں کر رہا ہے کہ افغانستان خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ عالمی ادارے ایک مرتبہ پھر افغان مہاجرین کی آمد کے پیش نظر تیاریوں میں کیوں مصروف ہیں؟
یا تو یہ تسلیم کر کے ہمیں کہنے دیجیے کہ افغانستان میں ہماری تیس سالہ پالیسی جدوجہد اور قربانیاں دائرے میں سفر کے سوا کچھ نہیں کیونکہ امریکی انخلاء کے بعد پورا افغانستان ایک مرتبہ پھر انیس سو چھیانوے ستانوے کی طرح بد امنی اور خانہ جنگی کے خوف میں مبتلاء ہے غیر یقینی صورتحال نے دو ہزار ٹریلین ڈالر کی امریکی سرمایہ کاری، پانچ سو ارب ڈالر کی پاکستانی سرمایہ کاری اور تین لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کی شہادتوں کو زیرو میں ضرب دے دی ہے۔ دنیا کے سپر پاورز سمیت افغانستان کے پڑوسی ممالک اپنی نئی صف بندیوں اور ہوم ورک میں مصروف ہیں۔ مگر پاکستان میں رہنے والی پشتون قوم کے ہر حساس اور محب وطن شہری کی زبان پر ایک ہی سوال ہے کیا، ہمیں ایک مرتبہ پھر پرائے جنگ سے بچانے والا کوئی نہیں؟


