بلاول اور شاہ محمود قریشی کی قومی اسمبلی میں نوک جھونک، کس نے کیا کہا؟


اسلام آباد — پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کے درمیان قومی اسمبلی میں ہونے والی نوک جھونک اور طنزیہ جملوں کے تبادلے کا معاملہ سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شاہ محمود قریشی کی تقریر کے بعد اُنہوں آڑے ہاتھوں لے لیا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیرِ اعظم عمران خان کو چاہیے کہ وہ خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے کہیں کہ وہ شاہ محمود قریشی کا فون ٹیپ کریں۔ کیوں کہ جب وہ پیپلزپارٹی کے دور میں وزیرِ خارجہ تھے تو دنیا بھر میں لابنگ کرتے تھے کہ اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو ہٹا کر اُنہیں یعنی قریشی کو وزیرِ اعظم بنا دیا جائے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ یہی وجہ تھی کہ اُن سے وزارتِ خارجہ واپس لے لی گئی۔ خیال رہے کہ شاہ محمود قریشی 2008 سے 2011 تک پیپلزپارٹی کے دورِ حکومت میں وزیرِ خارجہ تھے۔ بعدازاں وہ پیپلزپارٹی چھوڑ کر پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو گئے تھے۔

بلاول بھٹو کے الزامات کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج اس بچے کو تقریریں لکھ کر دے دی جاتی ہیں اور وہ پڑھ کر سنا دیتے ہیں۔ میں بلاول بھی اور ان کے والد کو بھی جانتا ہوں کہ وہ کیا چیز ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کر رہے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کر رہے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ قوم کے 172 نمائندوں نے نئے بجٹ کے حق میں ووٹ دیا۔ ووٹ کو بالکل عزت دینی چاہیے۔ اپوزیشن کی طرح حکومت والے بھی ووٹ لے کر آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے رولز یعنی قوائد کی بات کی۔ رولز کے مطابق اسپیکر کی ذات پر حملہ نہیں کیا جا سکتا۔ اسپیکر سے اختلاف ہو سکتا ہے مگر چیمبر میں جا کر بات ہوتی ہے، ایک سابق وزیرِ اعظم سب کے سامنے اسپیکر کو دھمکی دیتا ہے۔

شاہ محمود نے کہا کہ سندھ میں اپوزیشن لیڈر کو تقریر کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ سندھ کا وزیرِ خزانہ بجٹ بحث سمیٹے بغیر چلا گیا۔ کیا سندھ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین اپوزیشن سے ہے۔ یہ آئینہ دکھاتے ہیں دیکھتے نہیں ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ شور شرابے اورغل غپاڑے سے ہمیں دبایا نہیں جا سکتا اگر عمران خان نہیں بولے گا تو بلاول اور شہباز بھی نہیں بولیں گے۔

‘وزیرِ اعظم کو بھی پتا چل جائے گا یہ کیا چیز ہیں’

شاہ محمود قریشی کی تقریر کے ردِعمل میں بلاول بھٹو نے کہا کہ "ملتان کے وزیر نے میرا بار بار نام لیا لیکن میں ان کا نام نہیں لوں گا، کیوں کہ میں ان کو اچھی طرح جانتا ہوں کہ یہ کس شخصیت کے مالک ہیں اور بہت جلد وزیرِ اعظم عمران خان کو بھی پتا چل جائے گا کہ یہ کیا چیز ہیں۔”

بلاول نے کہا کہ ان کا نام اس لیے نہیں لوں گا کہ میں ان کو کوئی اہمیت نہیں دیتا اور ان کی میرے سامنے کوئی حیثیت نہیں۔ یہ وہ شخص ہے جس نے کشمیر کا سودا کیا۔ یہ وہی ملتان کے وزیر ہیں جن کو جئے بھٹو کا نعرہ لگاتے دیکھا، اسی وزیر کو ”اگلی باری پھر زرداری کہتے”دیکھا۔

شاہ محمود قریشی
شاہ محمود قریشی

بلاول بھٹو نے کہا کہ "یہی وزیر پیپلزپارٹی پنجاب کا صدر رہا۔ خان صاحب نہیں سمجھ سکیں گے کہ یہ کیا چیز ہیں، لیکن ان کو پتا چل جائے گا یہ اس حکومت کے لیے خطرہ بننے والے ہیں۔”

بلاول بھٹو کی تقریر کے جواب میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ "میں بھی بلاول کو اس وقت سے جانتا ہوں جب یہ چھوٹے سے بچے تھے، جب ہم بات کرتے تھے تو یہ کھڑکی پر کھڑے ہو کر خوش ہوا کرتے تھے۔ آج اس بچے کو تقریریں لکھ کر دے دی جاتی ہیں اور وہ پڑھ کر سنا دیتے ہیں۔”

شاہ محمود قریشی کے جواب میں ایک بار پھر بلاول بھٹو نے طنزیہ لہجے میں کہا کہ عمران خان یہاں آ کر تقریر کریں میں بیٹھا ہوں۔ دیکھتا ہوں وہ کیسے تقریر کرتے ہیں، میں نے اچھی ڈیل آفر کی ہے۔ رولز پر چلیں، آپ کے وزیرِ اعظم کی بات سنیں گے۔”

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ فاضل ممبر آف ملتان کے ساتھ رہنے والے ابھی نہیں جانتے کہ یہ کیا ہیں اور اپنے مطلب کے لیے کیا کر سکتے ہیں، ہم نے انہیں اپنی جماعت سے اس لیے نکالا تھا کہ یہ کہتے تھے کہ یوسف رضا گیلانی کو وزیرِ اعظم بنانے کے بجائے مجھے وزیرِ اعظم کا عہدہ دیا جائے۔

بلاول کے اس جملے پر شاہ محمود قریشی غصے میں آ گئے اور کہا کہ بچے تم سہمے ہوئے ہو اور ابھی بچے ہو تمہیں حقیقت کا علم نہیں، جاؤ پہلے تحقیق کر لو کہ میں نے تمہاری جماعت کیوں چھوڑی۔ یہ پرچی لے کر آتے ہیں، چابی لگتی ہے اور آٹو پر لگ جاتے ہیں۔”

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اُنہیں اندازہ نہیں تھا کہ بلاول اُن کی تقریر پر اتنے سہم جائیں گے۔ جب ان کے پاس جواب نہیں ہوتا تو ذاتیات پر اُتر آئے ہیں۔

شاہ محمود قریشی اور بلاول بھٹو زرداری کی قومی اسمبلی میں تقریریں اور ایک دوسرے پر جملے کسنے کے معاملے پر سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔

بدھ کو سوشل میڈیا پر #آٹو_پر_آن_بچہ کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتا رہا۔

احتشام الحق نامی صارف نے ٹوئٹ کی کہ بلاول بھٹو نے اینٹ کا جواب پتھر سے دیا۔

سونیا راجپوت نامی صارف نے ٹوئٹ کی کہ مریم نواز خوش قسمت ہیں کہ وہ رُکن قومی اسمبلی نہیں ہیں ورنہ شاہ محمود قریشی کی توپوں کا رُخ اُن کی جانب بھی ہو سکتا تھا۔

احسان الہٰی نامی صارف نے ٹوئٹ کی کہ شاہ محمود قریشی یہ کہنا چاہ رہا ہے کہ نوجوان سیاست دانوں کو سینئر سیاست دان کنٹرول کرتے ہیں۔ لہذٰا اُنہیں سیاست میں آنے کے لیے 60 برس کا ہونا چاہیے۔

زینب راجہ نے شاہ محمود قریشی کی جانب سے بلاول کو بچہ قرار دینے پر دلچسپ ٹوئٹ کی۔

Facebook Comments HS

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 3333 posts and counting.See all posts by voa