ارے پاکستان کو خبر کردو
ہمارے گاؤں میں ایک شخص جسے ہم مفتی کہا کرتے تھے ان لاکھوں لوگوں میں شامل تھا جو قیام پاکستان کے موقع پر ہجرت کر کے ہندوستان سے آئے اس نے نہ صرف خود ہجرت کے زخم کھائے بلکہ ہزاروں لوگوں کو نئے وطن آتے ہوئے زندگیاں قربان کرتے اور پھر خون سے بھری ٹرینوں میں بچ کر آنے والوں کو جن کے لباس اپنے پیاروں کے خون سے لتھڑے ہوئے تھے یہ جان کر کہ ”پاکستان آ گیا“ ”پاکستان زندہ باد“ کے نعرے لگاتے دیکھا۔ نعرے لگانے والوں میں ایسے بدقسمت بھی تھے جن کے بچے بیویاں ان کی آنکھوں کے سامنے قتل کر دیے گئے تھے اور جن کی جوان بیٹیاں حملہ آور سکھ اور ہندو اٹھا کر لے گئے مگر پاکستان کی محبت نے ان کے زخموں پر مرہم رکھ دیا۔
ایک روز مفتی نے کریدنے پر اپنی کہانی سنائی جو ہر قافلے کی کہانی تھی۔ اس نے بتایا کہ جب حملہ آور تھک کر چلے گئے تو زخموں سے چور قافلہ پھر سے عازم سفر ہو گیا۔ ایک شخص ساتھیوں کو تسلی دے رہا تھا کہ حوصلہ رکھو، ایک بار ہم پاکستان پہنچ جائیں تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ہم پاکستان کی فوج کو سب کچھ بتائیں گے تو وہ ہندوستان پر حملہ کر کے تمام بدلے چکا دیں گے۔
اس سے چند سال بعد کی بات ہے ہندوستان کے کسی شہر میں آباد مسلمانوں کے محلے پر ہندو شرپسندوں نے حملہ کر کے سینکڑوں مسلمان شہید کر دیے ان کے مکانات نذرآتش کر دیے جن سے بڑی تعداد میں مسلمان خواتین اور بچے زندہ جل گئے۔ جس وقت ظلم و ستم کا یہ کھیل کھیلا جا رہا تھا اور مظلوموں کی آہ و بکا کلیجہ شق کیے دے رہی تھی ایک زخمی عورت کی آواز گونجی ”ارے کوئی پاکستان کو خبر کردے“ یہ ہمارے پیارے وطن پاکستان کی اصل کہانی ہے۔
جو لوگ اپنے خوابوں کی سرزمین پاکستان نہ پہنچ سکے اور تاریک راہوں میں مارے گئے اور وہ لوگ جو پاکستان کو ”جنت کا ٹکڑا“ سمجھ کر گرتے پڑتے پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، اور اس جنت کی تلاش اور انتظار میں زندگی بتا دی ہم ان سب لوگوں سے شرمندہ ہیں۔ ہم موجودہ اور آئندہ نسلوں سے بھی شرمندہ ہیں جن کو نئے خواب دکھا کر لوٹا گیا۔ خدایا! معصوم لوگوں کو لوٹنے والوں کو تباہ و برباد کردے۔ خدایا! جن لوگوں نے اپنے اور اپنے بچوں کے عیش و عشرت کے لئے ان بے کس لوگوں کو جائز خوشیوں سے بھی محروم رکھا انہیں دنیا کے جہنم میں ڈال دے تاکہ ان لوگوں کے کلیجے ٹھنڈے ہوں جن کا سہارا تمہارے سوا کوئی نہیں۔
پاکستان غریب تھا نہ کمزور کہ اپنے شہریوں کو روٹی، کپڑا اور مکان نہ دے پاتا اور اپنے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کو سبق نہ سکھا سکتا۔ سرزمین پاکستان کو اللہ نے خزانے عطا کیے ہیں اسے ایٹمی طاقت بنایا مگر اس کے حکمرانوں کی ترجیحات ہی یہ نہ تھیں۔ بدقسمتی سے اگر سیاسی نمائندوں کا عقیدہ مفاد پرستی، بے اصولی، جھوٹ اور محلاتی سازشیں تھا تو غیر سیاسی طاقتوں کے ہاں بھی انہی کمالات کو سکہ رائج الوقت کی حیثیت حاصل رہی بلکہ انہی طاقتوں نے حب الوطنی اور غداری کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا اختیار بھی حاصل کر لیا۔ احتساب کا ڈھول بجانے پر بھی کچھ لوگوں کو مامور کر دیا گیا۔ رزاق کے پیدا کردہ رزق کے خزانوں پر بھی اپنے اپنے فرشتے بٹھا دیے گئے۔ سیاسی شعبدہ بازی کو بہت عروج ملا۔ اقتدار کی سیاست حاکموں کے گھر کی لونڈی بن گئی جسے اپنے آقاؤں کے حکم پر حلالہ کر کے نئے سیاست گروں کے حجلہ عروسی سے بیٹھنے سے عار نہیں۔
ان کمالات سے سیاسی اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا تو کیا ہوا۔ مطلوب مقاصد کے لئے مگر ”سانپ اور سیڑھی کا کھیل“ جاری ہے گو کہ سیاست کے پلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی گزر چکا ہے۔ کس کو سانپ سے ڈسوانا ہے اور کس کو سیڑھی پر چڑھانا ہے اس کا فیصلہ اب بھی وہیں سے آتا ہے جہاں سے پہلے آتا ہے۔ ”آسمان دنیا“ سے نئی خبر آئی ہے کہ امریکہ کو اڈے نہیں دیے جائیں گے۔ یہ فیصلہ بھی ملکی مفاد میں کیا گیا ہے۔ اب اس کا دفاع بھی شیخ رشید کریں گے جواب عمران خان کے وزیر اطلاعات ہیں۔
اور جب اڈے امریکہ کو دینا ملکی مفاد میں تھا تو بھی اس دفاع شیخ رشید کے ذمہ تھا مگر اس وقت وہ جنرل مشرف کے وزیراطلاعات تھے۔ یہ ان کا فرمان عالیہ تھا کہ اگر ہم امریکہ کو اڈے نہ دیتے تو وہ ہمارا ”تورا بورا“ بنا دیتا۔ تورا بورا تو اس نے پھر بھی بنا دیا مگر اب وزیراعظم نے اس زور سے اڈے نہ دینے کا اعلان کیا ہے کہ اگر خدانخواستہ ”یوٹرن“ لینا پڑا تو بہت مشکل نہیں ہو جائے گا؟
ہماری ہمسائیگی میں جس طوفان کے آثار ہیں اس کا رخ ہماری ہی جانب ہے۔ امریکیوں نے افغانستان میں اپنا سب سے بڑا اڈہ بگرام افغان حکومت کے حوالے کر دیا ہے تاہم لگتا ہے وہ نوشتہ دیوار پڑھ چکے کہ آئندہ کے حکمران طالبان ہی ہوں گے۔ اس لئے وہ جدید ترین ہتھیار اور آلات جنگ تباہ کر کے جا رہے ہیں تاکہ وہ طالبان کے ہاتھ نہ لگ سکیں اور ہوتے ہوتے چین نہ پہنچ جائیں جہاں ”ریورس انجینئرنگ“ اوج کمال کو پہنچی ہوئی ہے۔ تاہم ہماری افغانستان پالیسی بہت سادہ ہے۔ ہم نے طالبان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کابل پر زبردستی قبضہ نہ کریں۔ پھر فرمایا گیا کہ افغانستان میں جنگ شروع ہو گئی تو ہم سرحد بند کردیں گے۔ مور اوور کے طور پر فرمایا گیا کہ ہم صرف اس حکومت کو تسلیم کریں گے جو عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آئے گی۔


