ہم گناہ گار عورتیں!

خواتین کی عصمت دری اور ان کے ساتھ جنسی زیادتی انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے۔ اس کے باوجود دنیا کا کوئی بھی معاشرہ آج تک اس جرم سے مکمل طور پر نمٹنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 35 فیصد سے زائد خواتین کو اپنی زندگی کے کسی نہ کسی حصے میں جنسی اور جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس موضوع پر بات کرنے میں ہچکچاہٹ سے مجرموں کے حوصلے کو مزید بڑھاوا ملتا ہے۔

پچھلے دس سال میں حقوق نسواں کی تحریکیں اور ہر خاص و عام کی سوشل میڈیا تک رسائی اس گھناؤنے جرم سے پردہ اٹھانے اور مجرموں کو سزا دلوانے کی طرف ایک اہم پیشرفت ہے۔ اگرچہ جنسی زیادتی کا شکار ہونے والوں میں خواتین کی تعداد سب سے زیادہ ہے لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ تمام مرد اس بات کے ذمہ دار ہیں۔ مردوں، کم عمر بچوں، حتیٰ کہ لاشوں کے ساتھ بھی جنسی زیادتی کے کیسز کی تعداد میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا نظر آ رہا ہے۔

ہمارے ہاں اکثر عورت کے لباس کو اس جرم کا محرک سمجھا جاتا ہے۔ کسی بھی معاشرے کی اقدار کے زوال اور لاقانونیت کی انتہاء کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ظلم کے شکار لوگوں کو ہی اس ظلم کی وجہ قرار دے دیا جائے۔ شوبز سے منسلک چند سطحی سوچ کے مالک لوگ بھی عورت کو ہی مورد الزام ٹھہراتے نظر آتے ہیں۔ اسی طرح ملک کی نامور مذہبی شخصیات نے بھی کچھ عرصہ قبل خواتین کے مختصر لباس کو ہی جنسی زیادتی اور قدرتی آفات کی وجہ قرار دے ڈالا۔ یہ دعویٰ منطق سے عاری لگتا ہے کہ قدرتی آفات خواتین کے نامناسب پہناوے پر تو اپنا موقف واضح کرنے میں ذرا دیر نہ لگائیں، مگر کسی کے ساتھ جنسی زیادتی کی صورت میں قیامت گزر جائے اور وہی آفات ایک سفارت کار کی سی خاموشی اختیار کر لیں۔

ملک کی سربراہی جیسی اہم ذمہ داری پر مامور وزیراعظم عمران خان صاحب کے غیر ملکی چینل کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں ان کا کہنا تھا، کہ جنسی زیادتی کی وجہ عورت کا مختصر لباس اور بے پردگی ہے۔ ہم ایک مسلم اکثریتی ملک سے تعلق رکھتے ہیں جہاں اسلام کی تعلیمات کو سنا، پڑھا اور ان پہ عمل کیا جاتا ہے لیکن اپنے ذاتی مفاد کے تحفظ کی خاطر اسلام کو اپنی مرضی سے استعمال کرنا کہاں کی پرہیزگاری ہے؟

قرآن پاک میں ایسی کوئی ایک بھی آیت موجود نہیں جس سے یہ مفہوم اخذ کیا جا سکتا ہو کہ بے پردہ عورتوں سے جنسی زیادتی کسی طور بھی کم تر جرم ہے۔ پردے کا حکم سورۃ نور کی جس آیت میں آیا ہے، اس کا متن یہ ہے کہ پردے کا مقصد مسلمان عورتوں کی انفرادی شناخت قائم کرنا ہے، نہ کہ ان کو جنسی زیادتی سے محفوظ رکھنا۔ بالفرض یہ مان بھی لیا جائے کہ عورت کا لباس ہی جنسی زیادتی کی طرف راغب کرتا ہے تو سوال یہ ہے کہ پھر کم سن بچے اور مدرسوں کے طلباء کیوں اس درندگی سے محفوظ نہیں؟ معاشرتی اقدار کے جملہ علمبردار، اسلام کے ٹھیکیدار اور شوبز کے پردے میں شعبدہ باز اس تلخ حقیقت کی کیا توجیہہ پیش کرتے ہیں؟

وزیراعظم صاحب کے بقول خواتین کی بے پردگی کی وجہ سے مرد اپنے جذبات پہ قابو نہیں رکھ پاتا۔ جبکہ دراصل ان حیوانی جذبات پر قابو نہ رکھ پانا بھی اسلامی احکامات کی خلاف ورزی کی وجہ سے ہے۔ مرد کو بھی اسلام میں نگاہ نیچی رکھنے کا حکم ہے۔ راہ گزرتی عورت کو ستانے اور غیر محرم سے دل لبھانے سے منع کیا گیا ہے۔ اسلامی احکامات کی پابندی ہر مسلمان مرد اور عورت پر لازم ہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ اپنے نفس کی کمزوری کو تو ’مرد کی فطرت‘ کا جبہ اوڑھا دیا جائے جبکہ ہم گناہ گار عورتوں کے فقط اپنے گھر سے نکلنے کو جرم کی ایک مناسب تاویل بتلایا جائے؟ درد دل رکھنے والے کسی بھی شخص کے لئے یہ بہت اذیت کی بات ہے کہ انسان کو انسان کے بنیادی حق یعنی ”میرا جسم، میری مرضی“ سے ہی محروم کر دیا جائے۔

اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کی ذہنی صحت بھی مشکوک ہے۔ ماہرین نفسیات کی رائے میں اس جرم کے مرتکب لوگ اپنی طاقت کے اظہار کے طور پر عورت کو کمزور سمجھ کر اس کا جنسی استحصال کرتے ہیں۔ دراصل یہ ان کی سب سے بڑی کمزوری ہوتی ہے جسے وہ لاشعوری طور پر ایک دفاعی میکنزم کے طور پر استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں چونکہ ذہنی تندرستی کی بابت ہمیشہ سے لاپرواہی برتی جاتی رہی ہے، لہذا اس نوعیت کے جرائم کی شرح میں ایک بتدریج اضافہ نظر آتا ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ اس طرح کے جرائم کی روک تھام کے لئے معاشرے کی ذہنی اور نفسیاتی صحت پر خصوصی توجہ دے، مزید برآں مجرموں کی بحالی کے لئے جیلوں میں ماہرین نفسیات کی مدد لی جائے۔ یہ ایک نفسیاتی مسئلے کے ساتھ ساتھ سیاسی اور سماجی مسئلہ بھی ہے، بلکہ پچھلے چند دنوں میں منظر عام پر آنے والی ویڈیوز نے تو اب اسے ایک مذہبی رنگ بھی دے دیا ہے۔ جب تک سیاستدان اور حکمران قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا نہیں کریں گے، اور سماجی کارکنان اپنا اثر و رسوخ مثبت طور پر استعمال کر کے اس مسئلے پر روشنی نہیں نہیں ڈالیں گے تو پاکستان میں جنسی تفریق اور جنسی جرائم کم نہیں ہو پائیں گے۔ جن قوموں کو آج ہم رشک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ان قوموں نے ایسے مسائل کو ان کے معاشرتی اور نفسیاتی محرکات پر توجہ دے کر ہی کنٹرول کیا ہے۔

مرد اور عورت دونوں اس معاشرے کے برابر رکن ہیں۔ مرد کی جانب سے عورت کا جنسی استحصال، عورت پر جسمانی تشدد اور اس کے ساتھ معاشی زیادتی درحقیقت معاشرتی، اقتصادی اور سیاسی نظام کے ساتھ زیادتی ہے۔ لہٰذا اس معاملے کو متنازعہ کرنے، مرد اور عورت کو ایک دوسرے کا دشمن ثابت کرنے اور عورت کو اپنے ساتھ زیادتی کا قصوروار ٹھہرانے سے بہتر ہے کہ سب سے پہلے اس جرم کی سنگینی کو بغیر کسی عذر کے تسلیم کیا جائے، اور اس کے بعد اس کی روک تھام کے لئے مشترکہ کاوش کی جائے۔ ٹیلیویژن سے نشر کردہ پروگرامز، علماء کرام کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے جاری کردہ ویڈیوز اور سیاستدانوں کے بین الاقوامی چینلز سے نشر کردہ انٹرویوز اس سلسلے میں آگہی دینے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

عورت کو معاشرے کا اہم اور فعال رکن سمجھنے کے ساتھ ساتھ اس کو بنیادی حقوق دیے جائیں، اسے گناہ کہ وجہ نہ قرار دیا جائے۔ ’گناہ کی ذمہ دار‘ اور ’فساد کی جڑ‘ میں فرق صرف الفاظ کے چناوٴ کا ہے، دونوں الزامات کے پیچھے عورت دشمنی کا وہی مشترک جذبہ کارفرما ہے۔ اس دقیانوسی سوچ کا مقابلہ اسی صورت ممکن ہے اگر عوام کی اقدار اور حکومت کی پالیسیوں میں ہم آہنگی ہو۔ ہم سب کو اپنے حصے کی شمع خود جلانی ہوگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words