ایمازون پر کاروبار شروع کر کے اسے لاکھوں میں بیچنے والے افراد

بن کِنگ - بزنس رپورٹر بی بی سی نیوز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لکھ پتی بننے کا تو پلان بالکل نہیں تھا۔ مِشل ونٹن لندن کی کارپوریٹ زندگی چھوڑ کر بورن متھ منتقل ہوگئی تھیں اور ان کا پلان تھا کہ آن لائن کپڑے بیچیں گی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میرا ہمیشہ سے خیال تھا کہ میں خواتین کے لیے مخصوص انداز کے کپڑے ڈیزائن کروں گی۔‘

انھوں نے ایک فیکٹری ڈھونڈی اور خواتین کے کپڑے ایمازون پر بیچنا شروع کر دیے۔ انھیں حیرانی ہوئی کہ لوگوں کو ان میں کتنی دلچسپی تھی۔

’مجھے جلد ہی احساس ہوا کہ، ٹھہرو بھئی! یہاں پر تو ایک اہم موقع ہے۔‘

مگر آن لائن کپڑے بیچنا آسان کام نہیں تھا۔ سائز کے بہت مسائل ہوتے تھے اور بہت لوگ انھیں واپس کر دیتے تھے۔

Amazon worker

Getty Images

لیکن وہ دو بچوں کی ماں ہیں اور ایک سے زیادہ بار یہ تجربہ کر چکی ہیں کہ ان کے بچے کسی کی برتھ ڈے پارٹی پر جا رہے ہوں اور ان کے پاس میزبان کو دینے کے لیے کوئی تحفہ نہ ہو تو خود میشل کو کیسا محسوس ہوتا ہے۔

تو انھوں نے ایمازون پر والدین کے لیے ایمرجنسی گفٹ بیچنا شروع کر دیے۔ اور چار سال کے اندر ہی وہ امریکہ اور یورپ میں سالانہ 10 ملین پاؤنڈ کا کاروبار کرنے لگیں۔

اور جلد ہی یہ کاروبار بہت ہی وسیع ہو گیا۔ لاکھوں پاؤنڈ کا سٹاک رکھنا اب مشکل ہو رہا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے ایک ایسے شخص کی ضرورت تھی جس کے پاس کافی سرمایہ ہو۔‘

اسی لیے 2019 میں جب انھیں لاکھوں پاؤنڈ میں اپنا کاروبار بیچنے کی پیشکش کی گئی تو انھوں نے اسے قبول کر لیا۔

ایمازون لوگوں کو اپنی ویب سائٹ پر اپنی پروڈکٹ فروخت کرنے کی سہولت مہیا کرتا ہے اور اگر ضرورت ہو تو اپنے وسیع ٹیٹ ورک کو استعمال کرتے ہوئے اس کی ڈلیورٹی بھی کر دیتا ہے۔

ایمازون کا حجم اتنا ہے کہ اگر پروڈکٹ اچھی ہو اور مارکیٹنگ صحیح انداز سے کی جائے تو چھوٹے چھوٹے کاروباری بھی جلدی سے بڑی تعداد میں اشیا بیچنے لگتے ہیں۔

اوپر سے کورونا وائرس کی وبا کے دوران جب بہت سی دکانیں بند ہوگئیں تو ایسے میں آن لائن کاروباروں کے آرڈرز بہت زیادہ بڑھنے لگے یہاں تک کہ ان کے لیے آرڈر مکمل کرنا مشکل ہو گیا۔

دو سال قبل جب میشل وینٹ نے اپنا کاروبار بیچا تو ایمازون کا کاروبار بیچنا ایک قدرے نایاب بات تھی۔

جس شخص نے ان کا کاروبار خریدا وہ ان کا اصرار ہے کہ ہم ان کے کاروبار کا نام اس مضمون میں شائع نہ کریں کیونکہ انھیں ڈر ہے کہ اس کی وجہ سے ان کے لیے ایک مشکل مارکیٹ میں مقابلہ مزید سخت ہو جائے گا۔

تاہم گذشتہ ایک سال میں ایسی بہت سی سروسز سامنے آئی ہیں جو کہ مِشل ونٹن جیسے افراد کو اپنا کاروبار بیچنے کے طریقہ کار بتا رہے ہیں۔

ان میں سے ایک معروف امریکی کمپنی ’تھراسیو‘ ہے۔ یہ کمپنی ہفتے میں ایک سے تین کاروبار خریدتی ہے جن میس سے دس برطانیہ میں ہیں، اور ابھی مزید خریدنا چاہتی ہے۔

Thrasio founder Josh Silberstein

Thrasio

اس کے بانی جوش سلبرسٹین بتاتے ہیں کہ 2018 میں کاروبار شروع کرنے کے بعد دوسرے ہی سال میں ان کا سالانہ ریونیو 500 ملین ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔

’2018 میں ہمیں ایک کمپنی پیچنے میں سات ماہ لگے تھے اور خریدنے والوں سے زیادہ بیچنے والے تھے۔ بیچنے والوں کے لیے یہ ایک برا تجربہ ثابت ہوا تھا۔‘

یہ بھی پڑھیے

دو پاکستانی بھائیوں کی کمپنی ایمازون کی ٹاپ سیلرز لسٹ میں کیسے شامل ہوئی؟

پاکستان ایمازون کی سیلرز لسٹ میں شامل: مگر ملک کو اس سے کیا فائدہ ہو گا؟

ایمازون کے 25 سال: کامیابی کی ایک داستان

مارکیٹ پلیس پلس کے مطابق اس کے بعد تین سال میں اس وقت دنیا میں 64 کمپنیاں ہیں جو ایمازون پر موجود کاروبار خریدتی ہیں۔ اود ادارے کے مطابق اپریل 2020 سے لے کر اب تک ان کمپنیوں نے مجموعی طور پر تقریباً 6 ارب ڈالر کا کاروبار کیا ہے۔

عام طور پر یہ کمپنیاں ایسے کاروبار ڈھونٹتی ہیں جو کہ ایمازون شور سے خوپر دوسرے شور شرابے سے خود کو الگ رکھتے ہوئے بہت سارے مثبت ریویو جمع کرنے میں کامیاب رہے ہوں اور سرچ کے پہلے یا دوسرے صفحے پر لسٹ ہوتے ہوں۔

ایمازون کاروبار اس لیے ایک پرکشش سرمایہ کاری ہے کیونکہ اکثر ان کے اپنے غیر آن لائن مقابل سے منافعے کے مارجن زیادہ ہوتے ہیں۔

ان کاروباروں کو خریدنے والی کمپنیاں یہ امید کرتی ہیں کہ اپنی مہارت سے وہ ان چھوٹے کاروباروں کو وسعت دے سکتے ہیں۔

ایمازون بزنس خریدنے کی کمپنیاں برطانیہ میں بھی سامنے آنے لگی ہیں مثلاً ’ہیروز‘ جو جڑوا بھائیوں ریکارڈیو اور الیسیو برونی نے بنائی ہے۔

ان کی خریدی ہوئی ایک کمپنی ’داوان‘ باغبانی کے لیے ضروری اوزار بیچتی ہے۔ یہ کمپنی کئی برسوں تک سیلز مین کا کام کرنے والے ڈیوڈ سٹیفن نے قائم کی تھی۔ ٹریفک جیم میں پھنسے رہنے اور اکیلے ہولالوں میں وقت گزارنے کی وجہ سے انھیں فیملی کے ساتھ وقت نہیں ملتا تھا اس لیے انھوں نے 5000 ڈالر کا ایک کورس کرنے کے بعد باغبانی کی مارکیٹ میں قدم رکھا جس کی ان کے مطابق اس وست زیادہ دکانیں نہیں تھیں۔

David and Tracy Stephen

David Shepherd
ڈیوڈ سٹیفن ور ان کی اہلیہ کا منصوبہ ہے کہ ایک نیا کاروبار شروع کریں

انھوں نے کئی گھنٹوں تک چینی ویب سائٹ علی بابا پر تحقیق کرنے کے بعد اپنا سپلائر ڈھونڈا اور جلد ہی ان کے اپنے گارڈن کے سٹور میں دس ہزاد ڈالر کے سکاٹوئرز یا باغبانی کے لیے استعمال ہونے والی قینچیاں پڑی تھیں۔

اس کے بعد انھوں نے باغبانی کے دیگر آلات میں سرمایہ کاری کی اور 2020 میں وہ اور ان کی اہلیہ سالانہ 20 لاکھ پاؤنڈ کی کا کاروبار کر رہے تھے۔ وہ یہ آلات تائیوان سے منگواتے تھے، ایسے سلائرز سے جن سے وہ آج تک نہیں ملے ہیں۔

مگر ایک آسان زندگی کا خواب ابھی دور ہی تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’بات یہاں تک پہنچ گئی کہ ہمیں ایک دن میں 12 سے 15 گھنٹے کام کرنا پڑتا تھا۔ میں ویک اینڈ پر بھی کام کر رہا ہوتا تھا۔ یہ رکتا ہی نہیں تھا۔‘

Davaon secateurs

Davaon

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر کوئی کسٹمر ویک اینڈ پر ای میل کرتا ہے تو آپ کو جواب دینا ہوتا ہے۔ ہم سٹاک سے نمٹ رہے تھے، خود ڈبے پیک کر رہے تھے اور انھیں بھیج رہے تھے۔ ہمیں کبھی بریک نہیں ملتی تھی۔‘

گذشتہ سال انھیں اپنا کاروبار بیچنے کی پیشکشین آنے لگیں۔ پہلے انھوں نے سمجھا کہ یہ دوسرے کاروبار ہیں جو کہ ان سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

آخرکار سٹیفن نے اپنا کاروبار ’ہیروز‘ کمپنی کو بیچ دیا۔ اس کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ ہیروز والے ان کے گھر از خود آئے تھے۔

اگرچہ اب انھوں نے اتنے پیسے کما لیے ہیں کہ وہ ریٹائر ہو سکتے ہیں، مگر کوئی کمپنی بنانے اور پھر اسے کامیاب کرنے کا شوق ایسا ہے جس سے کاروباری لوگ دور نہیں رہ سکتے۔

سٹیفن کا جلد ہی ایمازون پر ایک نیا کاروبار شروع کرنے کا منصوبہ ہے جبکہ مِشل ویٹن نے پہلے ہی ایک اور ایمازون بزنس شروع کر دیا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اگر آپ 18 ماہ تک کوئی آمدنی نہ ہونے کو برداشت کر سکتے ہیں اور کاروبار کو چلانے کے لیے دن کے 12 گھنٹے کام کرنے کو تیار ہیں تو یہ بہت منافع بخش ہو سکتا ہے۔ ’ورنہ پیسے بنانے کے اور آسان طریقے بھی ہیں۔‘


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21755 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp