امریکہ نے اڈے مانگے ہی نہیں اور نہ ہم نے دینے ہیں: شاہد خاقان عباسی


مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ امریکہ نے اڈے مانگے ہی نہیں ہیں، نہ انہوں نے مانگے ہیں اور نہ ہم نے دینے ہیں۔ پارلیمان تین سال نہیں چلا، آج پہلی دفعہ بامعنی بحث پارلیمنٹ میں ہو رہی ہے، یہ اپوزیشن کی کامیابی ہے۔ پارلیمان عوام کے مسائل کے حل ڈھونڈنے کے لئے ہوتی ہے۔ کمیٹی اپوزیشن کے مطالبے پر بلائی گئی ہے۔ کسی نے کسی کو کتاب نہیں ماری، کوئی گالی نہیں دی۔

پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں وقفے کے دوران پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہماری طرف سے شہباز شریف نے بات کی ہے۔ اتنا اہم مسئلہ تھا، وزیر اعظم کو آنا چاہیئے تھا۔ وہ ایوان میں آنا پسند نہیں کرتے۔ اگر ملک کی بات ہو رہی ہو اور ایسی پالیسیز کی بات ہو تو ان کو آنا چاہیئے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حقائق پارلیمان کے سامنے رکھے جا رہے ہیں یہ اچھا طریقہ ہے یہ پہلے بھی ہوا ہے آج بھی ہو رہا ہے اچھی بات ہے۔ یہاں کوئی مقدمات کی بات نہیں ہوئی نہ کرنی ہے۔ جب بھی پارلیمان چلے گا میں خوش ہوتا ہوں۔

ایک سوال کے جواب میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ افغانستان کا مسئلہ 40سال پرانا ہے اس کے حقائق تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ انہوں نے موجودہ حقائق سے پارلیمان سے کو آگاہ کیا ہے۔ افغان بارڈر کی فینسنگ تقریبا مکمل ہو چکی ہے۔ یہ یکجہتی ہے کہ دو ایوانوں کے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں اس سے بڑی یکجہتی کیا ہو گی۔ کسی نے کسی کو کتاب نہیں ماری کوئی گالی نہیں نکالی۔ سپیکر صاحب بھی آرام سے بیٹھے ہوئے ہیں۔ ایوان رولز کے مطابق چل رہا ہے۔

صحافی نے امریکہ کو اڈے نہ دینے سے متعلق سوال کیا جس کے جواب میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ امریکہ نے اڈے مانگے ہی نہیں ہیں۔ نہ انہوں نے مانگے ہیں اور نہ ہم نے دینے ہیں ۔

Facebook Comments HS