پاکستان اسرائیل تعلقات اور سی بریز بحری مشقیں

پاکستان اسرائیل کے عالمی سطح پر باقاعدہ تعلقات بہت حساس نوعیت کا معاملہ ہے کیونکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ان تعلقات کے نتیجے میں ہونے والے ملک گیر ردعمل کی فی الحال متحمل نہیں ہو سکتی۔ پاکستان اسرائیل کے باضابطہ تعلقات اندرونی طور پر وفاقی حکومت کے لیے خطرناک بھی ثابت ہوسکتے ہیں اس وقت خطے میں جاری صورتحال جس میں سب سے اہم افغانستان سے امریکی فوجوں کا انخلا ہے اور پاکستان کا امن افغانستان کے امن سے جڑا ہے۔

جبکہ پاکستان کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ پاکستان فلسطین پر اسرائیل کے قبضے کو تسلیم کرتا ہے تو ظاہر ہے کہ پاکستان کا کشمیر کی خودمختاری پر موقف کمزور ہوگا۔ جبکہ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ زیادہ تر اسلامی ریاستوں نے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات استوار کر رکھے ہیں جن میں مصر اور ترکی شامل ہیں جبکہ اب عرب ممالک کی جانب سے بھی اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کر کے سفارتی تعلقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اسرائیل ایک بڑی معاشی ہی نہیں بلکہ دنیا کی اہم فوجی طاقت بھی ہے

دیکھا جائے تو پاکستان کے قریبی دوست سعودی عرب نے بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحالی کی راہیں ہموار کر لی ہیں۔

سفارتی ماہرین کے مطابق ملکوں کے تعلقات ان کے اپنے اپنے مفادات سے جڑے ہوتے ہیں کل کے دوست آج کے دشمن اور آج کے دوست کل کے دشمن ہوتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہ ہونے کا فائدہ اس خطے میں بھارت کو ہوا ہے۔

آج کل ایک بار پھر پاکستان اسرائیل تعلقات کے بارے میں چہ مگوئیاں کی جا رہی ہیں کبھی کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے سابق معاون خصوصی زلفی بخاری نے نومبر 2020 میں اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب کا خفیہ دورہ کیا۔ کبھی وزیراعظم عمران خان کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کے حوالے سے خبر سامنے آتی ہے کہ انہوں نے اسرائیلی حکام سے ملاقاتیں کی ہیں تو کبھی پاکستان بحریہ کے حوالے سے خبر سامنے آتی ہے کہ پاکستان بحریہ اسرائیل کے ساتھ سی بریز مشقوں کا حصہ ہے جس کا واضح مطلب ہے کہ پاکستان بتدریج اسرائیل سے اپنے تعلقات کم از کم فوجی سطح پر بحال کرنا چاہتا ہے۔

ان خبروں کا سلسلہ تب سے شروع ہوا جب اسرائیلی اخبار نے اسلام آباد ذرائع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم عمران خان کے سابق معاون خصوصی زلفی بخاری نے نومبر 2020 کے آخری ہفتے میں اسرائیل کا ایک مختصر خفیہ دورہ کیا جس میں انہوں نے موساد چیف سے ملاقات کی اور ایک اہم شخصیت کی طرف سے پیغام بھی پہنچایا، دورے کا مقصد سینیئر اسرائیلی عہدیداروں سے ملاقات کرنا تھا

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ دورہ اور ملاقاتیں متحدہ عرب امارات کے دباؤ پر کی گئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور اسرائیل کے بحیرہ اسود میں امریکی نیوی کے ساتھ مشترکہ بحری مشقوں میں حصہ لینے کا امکان ہے۔

حیران کن طور پر اسی خبر کو ایک اور اسرائیلی اخبار کے ایڈیٹر نے بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیا ہے۔

جبکہ وزیراعظم کے سابق معاون خصوصی زلفی بخاری نے اپنے مبینہ خفیہ دورے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر زیر گردش افواہوں کی سختی سے تردید کی اسی ضمن میں وزیراعظم عمران خان کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے اسرائیلی حکام سے ملاقات کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ واضح الفاظ میں بتا دینا چاہتے ہیں کہ ان کی اسرائیلی اہلکاروں سے ملاقاتیں نہیں ہوئی اور نہ ہی انھوں نے کبھی اسرائیل کا دورہ کیا ہے۔

اسی حوالے سے پاکستان کی اپوزیشن نے بھی اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور حکومت سے وضاحت بھی طلب کی ہے

اب ذرا چلتے ہیں اس خبر کی جانب جو اس وقت سوشل میڈیا پر زور و شور کے ساتھ زیر گردش ہے اور مختلف ٹویٹر اکاؤنٹس سے ٹویٹ کی جا رہی ہے اور اسی سلسلے میں ایک دو کالم بھی شائع ہو رہے ہیں اور وہ خبر یہ کہ پاکستان بحریہ اس وقت بحیرہ اسود میں اسرائیل کے ساتھ سی بریز بحری مشقوں میں حصہ لے رہا ہے۔

اس سے پہلے بات کریں کہ پاکستان بحریہ وہاں کس حیثیت میں موجود ہے یہ دیکھ لیتے ہیں کہ سی بریز مشقیں کہاں اور کیوں ہو رہی ہیں۔ امریکہ اور یوکرائن کی بحریہ ان مشقوں کا مشترکہ انعقاد کر رہے ہیں جو 28 جون سے 10 جولائی تک بحیرہ اسود میں جاری رہیں گی ان مشترکہ بحری مشقوں کی سرگرمیوں میں زمینی جنگ، ڈائیونگ آپریشنز، سمندری مداخلت کی کارروائیوں، فضائی دفاع، خصوصی آپریشنوں میں انضمام، اینٹی سب میرین وارفیئر اور سرچ اور ریسکیو آپریشن شامل ہیں۔

واضح رہے کہ یہ مشترکہ مشق 1997 سے ہر سال منعقد کی جا رہی ہے۔ جس کا مقصد بحیرہ اسود کی بیشتر اقوام اور نیٹو کے اتحادیوں اور شراکت داروں کو ایک ساتھ لانا ہے تاکہ وہ بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کے حصول میں نیٹو کے ممبران ایک دوسرے کے ساتھ تربیت اور سمندری چیلینج پر کام کر سکیں

بحریہ اسود میں جاری بحری مشقوں میں خاص طور پر، تیونس، متحدہ عرب امارات، مراکش اور مصر بطور مشاہدہ کار کے طور پر شامل ہیں

ان مشقوں کو نیٹو کی جانب سے ایک اہم دفاعی بحری ایونٹ سمجھا جاتا ہے، حالانکہ درجنوں غیر نیٹو ممالک بھی اس میں بطور مبصر شریک ہوتے ہیں

بحیرہ اسود میں ان مشقوں میں حصہ لینے اور بطور مبصر اس وقت امریکہ، یوکرین، برطانیہ، اسرائیل، البانیہ، آسٹریلیا، برازیل، بلغاریہ، کینیڈا، ڈنمارک مصر، ایسٹونیا، فرانس، جارجیا، یونان، اٹلی، جاپان، لیٹویا، لتھوانیا، مالڈووا، مراکش، ناروے، پاکستان، پولینڈ، رومانیہ، سینیگال، اسپین، جنوبی کوریا، سویڈن، تیونس، ترکی اور متحدہ عرب امارات کی بحریہ کی نمائندگی موجود ہے

دل چسپ بات یہ ہے کہ جن ممالک کے آپس میں باضابطہ تعلقات نہیں ہیں یا جن کے تعلقات تناؤ کے نازک دور سے گزر رہے ہیں، جیسے اسرائیل اور پاکستان جن کے درمیان کسی قسم کے سفارتی تعلقات موجود ہیں ان بحری مشقوں کے لیے وہاں موجود ہیں۔

تو پاکستان بحریہ کیا واقعی ان مشقوں میں اسرائیل کے ساتھ شامل ہے اور کیا پاکستانی جہاز کسی قسم کی دفاعی مشقوں کا حصہ ہیں اس ضمن میں بحریہ کے میڈیا ڈائریکٹوریٹ کے ایک اہم عہدیدار نے بتایا کہ پاکستان ان مشقوں میں بطور مبصر کے طور پر شریک ہے۔ ہمارے میزبان، یوکرین کے ساتھ اچھے دفاعی تعلقات ہیں اس لیے پاکستان بطور مبصر وہاں موجود ہے

یوکرائنی ڈی اے (ڈیفنس اتاشی) نے پاک بحریہ کے امن مشق۔ 2021 میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اسی وجہ سے ہم نے صرف اپنے ڈی اے (ڈیفنس اتاشی) کو مبصر کی حیثیت سے شرکت کی اجازت دی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ کوئی بھی پاکستانی جہاز سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے گا لہذا، پاکستان نیوی کی ترک بحریہ اور اسرائیلی بحریہ کے ساتھ کسی قسم کی دفاعی سرگرمیوں میں شمولیت وہ ڈس انفو مہم کا حصہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاک بحریہ کے کسی بھی بین الاقوامی فورم میں اسرائیلی بحریہ کے ساتھ بالواسطہ روابط / دفاعی تعلقات نہیں ہیں۔ جبکہ پاکستان بحریہ اس ضمن میں خارجہ پالیسی کے ہدایات پر سختی سے عمل پیرا ہے

جبکہ پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اسرائیل کے ساتھ مشقوں میں شرکت کا ہرگز مطلب نہیں کہ اسرائیل پر پالیسی تبدیل ہو گئی، اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

پاکستان کے وزیر اعظم کا اسرائیل پر موقف دو ٹوک ہے کہ جب تک فلسطینیوں کو ان کا حق نہیں ملتا پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکتا

تاریخی حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو پاکستانی افواج چاہے وہ بحری ہوں بری ہوں یا پھر فضاٰئی کسی بھی دور میں بھی اسرائیلی افواج کے ساتھ کسی قسم کے باضابطہ رابطے میں نہیں رہی ہیں اور نہ ہی کبھی مشترکہ مشقوں کا حصہ بنی ہیں۔

اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ یہ ڈس انفو مہم ایک بار پھر خطے میں جاری صورتحال سے توجہ ہٹانے کے لیے جاری ہے جس کے تانے بانے ایک بار پھر پڑوس میں جاکر جڑیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words