مغربی ادب: افلاطون سے پوسٹ ماڈردن ازم تک (چھٹی قسط)


جس طرح نشاط ثانیہ نے ایک پل کی طرح یونانی و رومن تہذیبی ورثے کے پس منظر میں قرون وسطی اور اور ماڈرن دور کو آپس میں جوڑ کر ایک جدید دور کی بنیا رکھی اور مڈل ایج کی مذہبی فکر کو سیکولر ازم، ہیومنزم اور فرد کی انفرادیت جیسے تصورات سے آراستہ کیا اسی طرح نیوکلاسیکل ازم نے قدیم کلاسیکس کو جدید دور میں شامل کر کے اسے حیات نو عطا کی۔ نشاط ثانیہ اگر مغربی تہذیبی ارتقا کے سفر میں ’روشن خیالی کی تحریک‘ سے تعبیر ہوئی تو نیوکلاسیکل کا دور ’روشنی کی صدی‘ اور ’دلائل کے دور (ایج آف ریزن)‘ سے یاد کیا گیا۔

انگلستان میں اس دور کو ’آگسٹن دور‘ کا نام دیا گیا۔ یہ دور 71 ویں صدی کے درمیانی عرصے سے اٹھارہویں صدی کے آخر تک کا عرصہ ہے۔ نیوکلاسیکل ازم کا سہرا جرمن ماہر آثار قدیمہ اور تاریخ داں جوہان وینکل مین کے سر پر باندھا جاتا ہے جن کی متاثر کن کتاب ’یونانیوں کے تقلیدی آرٹ کے عکس‘ نے یونانی آرٹ، مجسمہ سازی اور فن تعمیر کی ازسرنو تعمیر کو نئے عہد کی ضرورت قرار دیا، اسی وجہ سے اس دور کے آرٹ کو ’نیو کلاسیکس‘ کا نام دیا گیا۔

اس عہد کی اگر یورپ میں ہونے والی عمومی تبدیلیوں پرایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس دور میں فرانس اپنی تمام تر عسکری اور سیاسی قوت کے بدولت سارے یورپ کی رہنمائی کر رہا تھا اور خصوصاً ہنری فور، لوئی تھرٹین اور فورٹین کے دور یعنی 1589 سے 1715 میں ساری دنیا کے لیے ایک بڑے تہذیبی مرکز کی شکل اختیار کر گیا تھا۔ جبکہ اٹلی بیرونی قوتوں یعنی فرانس، آسٹریا، اسپین اور پاپائے اعظم (کیتھولک چرچ) کے مکمل کنٹرول میں آ چکا تھا۔

دوسری طرف اسپین مسلسل جنگوں میں شامل رہنے کی وجہ سے اقتصادی طور پر کم و بیش تباہ و برباد ہو چکا تھا اور جرمنی کے معاملات بھی تیس سالوں ( 1618۔ 1648 ) کی مسلسل جنگ کے باعث کمزور ہوچکے تھے اور اس کے نتائج میں وہاں پروسیا ایک خودمختار ریاست کی صورت میں ابھرتی جا رہی تھی۔ ادھر انگلستان بھی مسلسل جنگوں میں شامل رہنے کی وجہ سے عدم تحفظ کا شکار تھا یعنی 1642۔ 1660 کے دوران وہاں سول وار چلتی رہی، حتی کہ 1688 میں ’گلوریز انقلاب‘ آ گیا اور پھر اگلی کئی دہائیوں کے لیے وہ اسپینش اور پروشیا کی ریاست کے ساتھ جنگوں میں پھنستا چلا گیا۔

امریکہ اس دوران اپنی خودمختاری کی کوششوں اور انگلینڈ نوآبادیاتی قوتوں سے نبرد آزمائی کرتا ہوا نظر آ رہا تھا۔ ان تمام تر اقتصادی، مذہبی اور سیاسی ہنگاموں اور جنگوں کے ماحول میں پورے یورپ میں ایک صنعتی انقلاب بھی برپا ہوتا جا رہا تھا جس نے مغرب میں ایک نئی مڈل سوشل کلاس کو معاشرے میں نمائندگی دے دی تھی۔

دلائل کے اس عالمگیر عہد نے جہاں متعدد تنازعات پیدا کیے تو دوسری جانب کچھ ایسے بڑے سوچنے والے مفکرین بھی پیدا کیے جنہیں ہم عقلیت پسندیا ’ریشینلسٹ‘ اور ’ایمپر سسٹ‘ کا نام دیتے ہیں۔ جن میں ایک بڑا نام رینے ڈیکارٹ کا تھا جن کی فکر ’میں سوچتا ہوں اسی لیے میرا وجود ہے‘ ، یا جان لاک جن کا مشہور خیال تھا کہ ’انسان کورے سلیٹ کی طرح پیدا ہوتا ہے اور اس کی زندگی کے حسی تجربات ہی اس میں ڈیٹا کی پروسسنگ کرتے ہیں‘ یا جارج برکلے جنہیں ’ٹو بی از ٹوبی پر سییفٹ‘ مطلب کہ ’موجودگی کے لیے احساس لازم ہے‘ ۔

اسی طرح سپنوزا کا نظریہ پینتھزم، لیبنٹز کی امید پرستی (اوپٹزم) اور ہوبز کا نظریہ مادیت (مٹیرلزم) نے نیوکلاسیکل دور کو انقلابی فکروں سے نواز دیا اور سوچ کے نت نئے دھارے پیدا کیے۔ نیوٹن جیسے سائنسی دانشورکے اثرات اس دور کی فکر پر براہ راست اثرانداز ہو رہے تھے جس نے حقائق کی ایک نئی دنیا کو مشاہدات و تجربات کے ذریعے روشناس کرایا اور یوں عقلیت پسندانہ فکر کو ٹھوس بنیادیں فراہم کردی۔

نیوکلاسیکل دور میں ہمیں دو طرح کے عقائد خاصے معروف دکھائی دیتے ہیں جنہیں ’ڈی ازم‘ اور ’اوپٹی ازم‘ کہا جاتا ہے۔ ڈی ایسٹ کا خیال تھا کہ خدا کی موجودگی صرف دلائل کی محتاج ہے اور اس میں مقدس وحی یا خدائی حاکمیت وغیرہ کے بنیادی خیال کی ضرورت نہیں ہے ان کے لیے خدا کا تصور ایک گھڑی ساز کی طرح تھا جبکہ اوپٹیمسٹ کا خیال تھا کہ تمام تر خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ دنیا خدا کی ایک بہترین تخلیق ہے۔ نیوکلاسیکل دور کے ادبی شہ پاروں میں یہ دونوں فکری انداز ہمیں جابجا دکھائی دیتے ہیں۔

نیوکلاسیکل دور کے زیادہ تر بڑے ادبی معرکے ہمیں فرانس اور انگلینڈ میں دکھائی دیتے ہیں۔ اٹلی اور اسپین میں 17 ویں صدی کے دوران کسی قسم کا بڑا ادب دکھائی نہیں دیتا ہے، جرمنی کے حالات ناگفتہ بہ تھے اور وہاں کی ادبی دنیا قطعی بنجر ہو چکی تھی، اسی طرح امریکہ اور روس کے ادیب بھی اس دوڑ میں بہت پیچھے تھے۔ نیوکلاسیکل دور کا ادب یونانی اور رومن دور سے متاثر تھا۔ اس دور کے ادب میں ترتیب، درستگی اور ساخت کو خصوصی اہمیت حاصل تھی اور ان کے اصولوں کو ادیبوں کے لیے پابند کیا گیا تھا۔

اس دور میں میں نہ صرف اخلاقی اقدار کو اہمیت حاصل تھی بلکہ فرد کا سوسائٹی سے گہرے تعلق کا اظہار ادب میں دکھائی دیتا ہے مگر دلائل اور عقلیت کی دوڑ میں جذباتی تعلق پیچھے جاتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس دور کے ادب میں زیادہ تر میلو ڈرامے، خطوط، ستایئر، ناول اور مضامین جبکہ شاعری میں طویل نظمیں اور نغمات وغیرہ حصہ بنے۔ مغربی ادب کے اس پورے عہد کو مجموعی طور پر تین بڑے حصوں یعنی ریسٹوریشن پیریڈ، آگسٹن پیریڈ اور جانسن کے دور میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

ریسٹوریشن پیریڈ 1660۔ 1700 کے درمیان کا ہے جس دوران ’پیوریٹان ایرا‘ کے بعد بالآخر انگلستان کے بادشاہ چارلس ٹو کا تخت بحال ہوا تھا جس کے نتائج میں فرانسیسی کلاسیکس کے اثرات شاعری اور ڈرامہ پر نظر آنے لگے۔ ریسٹوریشن دور کے ادب میں محبت اور عزت نفس جیسے موضوعات ٹریجڈی ڈراموں میں اسٹیج ہونے لگے۔ اس دور کے مشہور ترین رائٹرز میں جان ڈرائیڈن، جان ملٹن، سر ولیم ٹیمپل، جان لوک، سیموئل پیپی، الفرا بی ہن، جین ریسین، اور جین بیپٹسٹ وغیرہ شامل ہیں۔

1700۔ 1750 کا دور آگسٹن کے دور سے یاد کیا جاتا ہے کیونکہ کنگ جانسن ون کی خواہش تھی کہ لوگ اسے آگسٹس سیزر ہی سے یاد رکھیں۔ اس دور کے عمومی ادب پر ورجل اور ہوریس کے گہرے اثرات ملتے ہیں۔ اس دور کے معروف ادیبوں میں الیگزنڈر پاپ، جانیتھن سوئفٹ، جوزیف ایڈیسن اوروالٹیرشامل ہیں۔ 1750۔ 1790 کا درمیانہ عرصہ جانسن کے دور سے یاد کیا جاتا ہے جس دوران نیو کلاسیکل ادیب ساخت اور فارم کے لحاظ سے جذباتیت اور رومانس ازم سے بدلتا ہوا نظر آتا ہے جس کی بڑی وجہ اس دور کی اہم سیاسی تبدیلیاں یعنی امریکی اور فرانسیسی انقلابات کے اثرات ہیں۔ اس دور کے مشہور رائٹرزمیں سیموئل جانسن، ایڈورڈ گیبن، جارج کریب، رابرٹ بر نس، ولیم کوپر، تھامس گرے، تھامس پین، تھامس جیفرسن اور بینجمن فریکلن شامل ہیں۔

(جاری ہے )

Facebook Comments HS