کچھ مرد پورے کے پورے ”عضو مخصوص“ سے بنے ہوتے ہیں


ہائے ایک ننھے فرشتے کو ایک دن خمیر لانے پہ مامور کر دیا گیا۔ ننھا منا تھا۔ چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں جتنا خمیر اٹھا سکتا تھا۔ اٹھا کر آسمان تک پہنچا تو پتا لگا کہ بس اتنا ہی خمیر اس کے ہاتھوں میں بچا ہے جتنا ایک مرد کے عضو مخصوص کی تخلیق میں کام آتا ہے۔ اور خمیر بھی اسی خاص جگہ کا بچا تھا۔ شاید نم تھا، ہاتھوں سے چپکا رہ گیا۔ بہرحال اب اس کو بنانا تو اسی اور اتنے ہی خمیر سے تھا۔ سو کھینچ تان کے اسے پورا انسان بنا دیا گیا۔ اب چونکہ خمیر ضرورت سے کم اور مخصوص جگہ کا ہے۔ اس لئے اس کا کلام، اس کا قلم، اس کا دماغ، اس کی زبان، اس کی آ نکھ، اس کے ہاتھ پاؤں، سب ایک ہی جیسا کام کرتے ہیں۔ سر تا پا وہ اپنے عضو کا خلاصہ ہے۔

ایسے مرد ہر جا پائے جاتے ہیں جو اپنے عضو مخصوص کی مٹی سے بنے ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں کچھ زیادہ پائے جاتے ہیں۔ لہذا ان کی ہر بات وہاں سے شروع ہو کر، وہیں پہ ختم ہو جاتی ہے۔ کبھی کمہار کو اگر آپ نے چاک پہ برتن بناتے دیکھا ہو تو جہاں مٹی کم پڑ جاتی ہے۔ وہاں سے برتن کمزور ہو جاتا ہے۔ ایسا ہی حال ان مردوں کا ہوتا ہے۔ یہ مرد ہر جگہ سے کمزور ہوتے ہیں۔ جوانی میں بھی انہیں لڑکپن کی طرح کھڑا ہو نے کے لئے کسی شے کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

یہی وہ مرد ہیں۔ جن کی وجہ سے باقی سب مرد بھی بدنام ہیں۔ ورنہ دنیا میں اچھے سچے مرد بھی ہیں۔ جنہیں مرد کہا جاتا ہے۔ مگر مرد اپنے مرد ہونے کا شور شرابا نہیں کرتے۔ خالی برتن ہی آ واز دیتے ہیں۔ بھرے برتن کا تو وقار ہی الگ ہوتا ہے۔ پہچان لیا جاتا ہے۔ بے نیاز من ہوتا ہے۔

آپ نے شرمانا نہیں۔ بلکہ ان مردوں کی طرح ڈھیٹ بن جانا ہے۔ جو سر تا پا اس خمیر کے بنے ہوئے ہیں۔ اور یہی مرد سب سے زیادہ اوچھے، اور بدکردار ہوتے ہیں۔ کیونکہ سر تا پا کمزور ہوتے ہیں۔ کمزوری کو چھپانے کے لئے اوچھا پن اور جھوٹ سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اس کے بعد کمزوری پہ اترانا اور ناز کرنا۔ اب ان جیسے مردوں ہی کو سب سے زیادہ خواہش ہوتی ہے کہ عورت ان کے صدقے واری ہو جائے۔ ہاں ان جیسی کمزور مٹی کی عورت ان کے صدقے واری ہو سکتی ہے۔ ہوتی بھی ہے۔ لیکن یہ خبیث چاہتے ہیں کہ ہر اس عورت کی توجہ کا مرکز بن جائیں۔ خصوصاً ان کی، جن کے پاؤں کی مٹی اور سر کی جوؤں تک کو یہ نہیں پہنچ سکتے۔ جب ایسا نہیں ہوتا تو ایسی خواتین کے ساتھ اپنے یک طرفہ معاشقوں کی بات جا بجا لے بیٹھتے ہیں۔

ہمارے ایوانوں سے دیوانوں تک آج کل یہی کہانیاں غلام گردشوں میں ہیں۔

ہیلو تحریم آج تم سے ہیلو ہائے بعد میں ہو رہی ہے۔ کیونکہ ہم آج کل کمزور مردوں کی اصل کمزوری کا سراغ لگا رہے تھے۔ کسی کافی کمزور نما مرد کی ناکافی تحریر سامنے آئی تو دنیا کی سب پڑھی کتابیں اور سنے فلسفے ایک طرف اور اس کی گندی مندی میلی سوچ کا عکس ایک طرف۔ راز کھل گیا کہ کمزور مرد ہو تا کون ہے۔ بنتا کیسے ہے؟

اس کو یہی علم نہیں ہوا کہ اس کی تحریر نے اسے ہی بے لباس کر دیا۔ بلکہ اس تحریر کو پسند کرنے والے مردوں کے بھی کپڑے اتار دیے ہیں۔

بس اب تم بھی سمجھ جانا جو ڈینگیں مار رہا ہے۔ وہ ایک ہی عضو سے بنا کمزور مرد ہے۔ اس کی گفتگو سے کردار تک، عورت اور اس کا جسم اور کپڑے ہوں گے۔ جب آپ اسے اس بابت سوال کریں گے تو وہ سب کو لپیٹ کر روحانی یونیورسٹی کے علم سمندر میں ڈبکیاں لگاتا، بے جوڑ جواز لاتا ملے گا۔ اس کے جواز بھی اس کی طرح کمزور ہوتے ہیں۔ اور آنکھیں حیا سے خالی۔

تم نے سوال کیا تھا کہ ملالہ نے کیا غلط کہا، جانی اس نے غلط نہیں کہا۔ ہمارے سماج میں مرد عورت کا دلی یا ذہنی تعلق ہوتا ہی کب ہے۔ بزدل مردوں کا ملک ہے۔ اگر ان کے والدین ان کی شادی اپنی مرضی سے نہ کریں تو آدھے سے زیادہ لڑکے غیر شادی شدہ مر جائیں۔ اور ان کے کتبے پہ لکھا ہو ”فلاں مرحوم غیر شادی شدہ، اس میں کنوارہ ہو نے کا خانہ تب بھی ادھورا ہی رہے گا۔ ایک آ دھا ریپ اور درجن بھر محبتیں تو بچارے کر ہی لیتے ہیں۔ بس یونہی یاروں کے کہنے پہ۔ تو میری جان، یہ شادی نہیں کرتے۔ آ با کا نام زندہ رکھنے کے لئے بچے پیدا کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ شادی کے وقت بلائے جانے والے چھ سو مہمانوں میں سے اڑھائی سو کا ڈر تو ہوتا ہی ہے۔ لڑکی کو اسی ڈر کا تحفظ ہوتا ہے۔ قانون تحفظ دے تو ملالہ کی بات اس معاشرے کا ساتھ دے سکتی ہے۔

دوسری تم نے بات کی کہ دھوکہ اور جھوٹ نہ دیں تو ہمیں ہنسنے کی اجازت دو۔ یونیورسٹی میں ڈاکٹر انیس ناگی ہمارے استاد تھے۔ اور کیا ہی عظیم انسان تھے۔ اللہ پاک ان کے درجات بلند فرمائے۔ کہا کرتے تھے ”وہ مرد ہی نہیں جو جھوٹ نہ بولتا ہو“. یعنی مردانگی کی صفات عالیہ میں سے ایک جھوٹ ہے۔ اس لئے یہ سب مرد رہنے اور کہلانے کے لئے جھوٹ بولتے ہیں۔

جھوٹے میں دلیری نہیں ہوتی۔ اب تم ان سب باتوں کی جمع تفریق کر کے باقی ماندہ ”مرد“ خود نکال لو، کیا بچا؟

تم نے ہمارے ملک کے ولی عہد کی بات کی تو میری جان اس تحریر کا آغاز ایک مرتبہ پھر سے پڑھ لو۔

باقی جو تم بات کر رہی ہو کہ ہم پڑھ لکھ کر بھی روایت پسند ہیں تو جانم ہم روایت پسند نہیں روایت پرست ہیں۔ روایت شکن ہم صرف ویزے والی کے لئے ہیں۔ ان کی مرتبہ نہ جہیز ہوتا ہے، نہ خاندان ہو تا ہے، نہ مذہب و مسلک ہو تا ہے، نہ عمر و حسن ہوتا، نہ جسمانی و ذہنی معذوری ہوتی ہے۔ بس ویزا ہو تا ہے۔ بزدل مرد کمزور مرد ایسا ہی تو ہوتا ہے۔ وہ کسی بھی قسم کی ذمہ داری نہیں اٹھانا چاہتا۔ لہذا وہ شادی والی سایٹس نہیں، سماج کا عکس ہیں۔

تم اس مرد سے اعلی ظرفی کی توقع کر رہی ہو جو اپنی پسند کا اظہار گھر والوں سے نہیں کر سکتا، جو اپنی پسند کا اظہار اپنے آپ سے نہیں کر سکتا، جو اپنی پسند سے محبتیں تو کر سکتا ہے، شادی نہیں کر سکتا۔ جانتی ہو کیوں؟ اس لئے کہ یوں اس کے تابع دار ہونے کا امیج گھر والوں پہ رہے گا۔ دوم اس کی ذمہ داریاں آدھی ہو جائیں گی۔ کہ جناب آپ کی پسند کی تھی۔ اب جیسی بھی ہے آپ نے بھگتنی ہے اور خود کسی نئے سفر کو نکل جائے گا۔ کیونکہ اس کی تربیت لڑکی کی طرح احساس گناہ و ثواب میں نہیں کی جاتی۔ بلکہ وہ جو کچھ کرے، سب کا سب ثواب عین غین ہے۔

میری جان، یہاں کے مرد کی اصل پسند کا استعارہ حریم شاہ ہے۔ یعنی ایسی لڑکیاں جو شادی سے پہلے ”الو“ اور شادی کے بعد مرد کو ”گدھا“ بنانا جانتی ہوں۔ اور مرد کو پتا بھی نہ لگے کہ وہ الو کب بنا تھا اور الو سے گدھے میں کب بدل گیا۔ ایسی خواتین عمر بھر خوش رہتی ہیں۔ کیونکہ انہیں الجبرے اور فزکس کے سوالوں کا مربہ بنانا آتا ہے۔ محبت جیسے جذباتی کام میں وہ اپنا خلوص ضائع نہیں کرتیں۔ بلکہ اقتصادیات اور معاشیات سے شماریات اور سماجیات کی ساری ریاضی کھیلنا جانتی ہیں۔

اور ہم ریپ والی تحقیق کو کیوں مانیں۔ جب ہمارے وزیر اعظم نے اس کا تمام تر قصور عورت کے کاندھوں پہ ڈال دیا ہے۔ اسی سے تم اندازہ کر لو کہ یہ ولی عہد ہو کر بھی اپنے گناہوں کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکا لیکن اس کے لئے تم پھر تحریر کا آغاز پڑھو۔ کہ آدھے سے زائد سوالوں کے جواب اسی میں ہے۔

اب خواتین سب کچھ لکھ رہی ہیں۔ بلکہ مرد سے اچھا لکھ رہی ہیں۔ مرد نے تو صدیوں لکھنے کے بعد آج تک اپنا کردار تک نہیں لکھا۔ اس کو تو جب شدید جذبات کے اظہار کی ضرورت پڑی اس نے نسائی صیغہ استعمال کیا۔ اس کا لکھا سارا ادب اور غیر ادب یا سماج کی سطحی تصویر ہے یا عورت کے گرد گردش کی کہانی۔ اس کا اپنا پورا کردار سرے سے ہی غائب ہے۔ اس کو اپنی مردانگی کی ڈینگ مارنے کے لئے بھی دس عاشق عورتوں کے کردار لکھنے پڑتے ہیں۔ عورت کو اس سہارے کی نہ زندگی میں ضرورت ہے نہ ادب میں۔ سو تم جدید ادب پڑھو تو تمہیں اندازہ ہو گا کہ پوری دنیا میں عورت، مرد سے بہتر لکھ رہی ہے۔ اب دیکھنا ہمیں کمزور دل دیسی مردوں کے کوسنے ان باکس تک کیسے آتے ہیں۔

اگر دیسی مرد دیسی مکھن کی طرح بدبو دے جائے تو وہی مرد ہی بنتا ہے جو بتیاں دیکھنے شہر آتا ہے۔ اور اس کی اپنی بتی چلی جاتی ہے۔ کیونکہ کمزور مرد کی پاور سپلائی کسی بھی لحاظ سے طاقت ور نہیں ہوتی۔ اور پرانے ٹرانسفارمر کی طرح بار بار ٹرپ کر جاتی ہے۔ اب ان کو کون سمجھائے۔

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
اب ان کو کون سمجھائے کہ تو تم مرد نہیں ہو۔ صرف ایک عضو ہو۔ جس سے فاضل مادے خارج ہوتے ہیں۔ اور ان کے یہ فاضل مادے آنکھ منہ ناک زبان ہاتھ قلم کلام ہر جگہ سے نکلنے کی قابلیت و اہلیت رکھتے ہیں.


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

گولڈن گرلز - رابعہ الربا اور تحریم عظیم

گولڈن گرلز کے عنوان کے تحت رابعہ الربا اور تحریم عظیم بتا رہی ہیں کہ ایک عورت اصل میں کیا چاہتی ہے، مرد اسے کیا سمجھتا ہے، معاشرہ اس کی راہ میں کیسے رکاوٹیں کھڑا کرتا ہے اور وہ عورت کیسے ان مصائب کا سامنا کر کے سونا بنتی ہے۔ ایسا سونا جس کی پہچان صرف سنار کو ہوتی ہے۔

golden-girls has 28 posts and counting.See all posts by golden-girls

Subscribe
Notify of
guest
2 Comments (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments