نوید شہزاد آپ کا دکھ بہت بڑا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نوید شہزاد کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں۔ وہ ایک بہترین اداکارہ، رائٹر اور بہترین استاد ہیں۔ وہ ایک بردبار شخصیت رکھتی ہیں۔ بہت متانت، اور نرم لہجے میں گفتگو کرتی ہیں، وہ میری پسندیدہ شخصیت ہیں۔ ان کے مرحوم شوہر کاروبار کرتے تھے اور کرکٹ کی کمنٹری بھی کرتے تھے۔ اور دونوں نے پاکستان کا سب سے بڑا سول اعزاز پرائیڈ آف پرفارمنس بھی حاصل کیا۔ نوید شہزاد کے بہترین ڈرامے دور جنون، غلام گردش اور حال ہی میں وہ پی ٹی وی پر ریلیز ہونے والے ڈرامے، دل نا امید تو نہیں، میں اپنی بہترین اداکاری کے جوہر دکھا رہی ہیں۔

کوئی دو تین ہفتے پہلے انٹر نیٹ پر ان کا ثمینہ پیر زادہ کے ساتھ انٹرویو سننے کا اتفاق ہوا، بے شک وہ انتہائی ذہین عورت ہیں۔ انٹرویو میں ہی پتہ چلا، کہ ان کے شوہر کا بہت پہلے انتقال ہو چکا ہے، ان کو کینسر جیسا موذی مرض لاحق ہو گیا تھا، بہت اچھے علاج اور بے شمار دعاؤں کے باوجود وہ ہم سے بچھڑ گئے۔ اس پر ثمینہ نے کہا کوئی معجزہ نہ ہو سکا، تو وہ بے اختیار بولیں، معجزہ ہوا نا، جب میرے بیٹے فرہاد کی 2008 میں برین ٹیومر کی تشخیص ہوئی، تو جس سرجن نے آپریشن کیا وہ اسی سال باہر سے تعلیم مکمل کر کے آیا تھا، آپریشن بہت کامیاب رہا، اور میرا بیٹا ماشا اللہ بالکل صحت مند ہے۔ یہ کہتے ہوئے ان کا چہرہ ممتا کی محبت سے جگمگا رہا تھا۔ دل کو ایک سکون سا محسوس ہوا، کہ شکر ہے اللہ نے ان کے بیٹے کو زندگی اور صحت دی۔

تھوڑے دن بعد ہی میں نے اچانک ایک دل دہلا دینے والی خبر پڑھی، کہ نوید شہزاد کے بیٹے فرہاد ہمایوں انتقال کر گئے، دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا، ان کا چمکتا ہوا چہرہ میری نظروں کے سامنے آ گیا جب وہ کہہ رہیں تھیں معجزہ ہوا ہے نا، میرا بیٹا صحت مند اور تندرست ہے۔ میں نے پاگلوں کی طرح انٹرنیٹ پر ان کے بیٹے کی بے شمار وڈیوز دیکھیں، ان کے انٹرویوز سنے تو پتہ چلا وہ ایک مایہ ناز موسیقار، گلوکار اور ڈرمر تھے۔ وہ اکتوبر 1978 میں پیدا ہوئے، ایچی سن سے انٹر کیا، این سی اے سے فائن آرٹس میں ڈگری لی اور لندن سے موسیقی کی تعلیم حاصل کی۔ صرف چودہ سال کی عمر میں ڈرم بجایا۔ اور سولہ سال کی عمر میں اپنا بینڈ اوور لوڈ بنا لیا۔ 2006 میں کوک سٹوڈیو میں عاطف اسلم کے ساتھ تین عدد البم بنائے۔ اور بے شمار گانے گائے، جن میں اردو اور انگریز ی دونوں شامل ہیں۔ ان کی والدہ کے مطابق ان کو ڈرم بجانے کا اتنا شوق تھا، کہ وہ پانچ سال کی عمر میں جوتوں کے ڈبے پر ڈرم بجایا کرتے تھے اور یہی شوق ان کو آگے سے آگے لے کے چلتا گیا۔

ان کے انٹرویوز سنے تو لگا وہ بالکل اپنی والدہ کی طرح نرم لہجے میں گفتگو کرتے تھے۔ ان میں ایک عاجزی اور متانت تھی جو شاید ان کو ورثے میں ملی تھی، پے شک وہ ہمارے ملک کے لئے ایک بہت بڑا اثاثہ تھے جنہوں نے باہر کے ملکوں میں بھی اپنی مہارت اور فن کا مظاہرہ کر کے اپنے ملک کا نام روشن کیا۔

افسوس کہ ان کی زندگی کا چمکتا دمکتا سورج غروب ہو گیا، بے شک ایک ماں کے لئے اس سے پڑا سانحہ کوئی نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنی جوان اولاد کھو دے، میں نے کئی ماؤں کو اپنی جوان اولاد کے جانے کا دکھ اٹھاتے دیکھا ہے، وہ وقت سے پہلے بوڑھی ہو جاتیں ہیں، مسکراہٹ ہونٹوں پر دم توڑ دیتی ہے۔ زندگی کا کیا وہ تو گزر جاتی ہے، یا گزارنی پڑتی ہے، لیکن خوشیاں ادھوری رہ جاتی ہیں۔ زندگی گزارنے کے لئے سب کچھ کرنا پڑتا ہے، لیکن ان کی مسکراہٹ کے پیچھے ان کی آنکھوں میں تیرتی نمی سارے راز اگل دیتی ہے۔

بہرحال یہ ایسا دکھ ہے جس کا کوئی مداوا نہیں ہے۔ رب کائنات نوید شہزاد کو صبر جمیل عطا کرے ان کو اور ان کے خاندان کو یہ سانحہ برداشت کرنے کی توفیق دے۔ بے شک انسان بہت بے بس ہے، وہ خدا کی رضا کے آگے سر جھکانے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا، اس دکھ کا مداوا بھی اس کی پاک ذات کے سوا کوئی نہیں کر سکتا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments