مذہبی جنونیت کے خاتمے کے لیے بیرونی امداد درکار ہے


توہین مذہب کے الزام سے عدالت سے بری ہونے والا کانسٹیبل کے ہاتھوں قتل ہو گیا۔ فاضل کانسٹیبل غالباً جج سے زیادہ قابل تھے اور اب غازی کے مرتبے پر فائز کر دیے جائیں گے۔ ایسا نہیں ہے کہ اس پر علما کرام خاموش رہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ جس طرح سلمان تاثیر کے حق میں مفتی تقی عثمانی نے بیان دیا تھا، ویسے ہی اب بھی دیں گے۔ اسی کیس کی طرح پانچ سات برس انتظار کرنا ہو گا۔

بہرحال مسئلہ فی الحال یہ ہے کہ دکھائی دے رہا ہے کہ مذہبی جنونیت بڑھتی ہی جائے گی کم ہونے کے آثار نظر نہیں آتے۔ میٹرک ایف اے کے بچے خود کو مفتی کے علاوہ جج اور جلاد سمجھے بیٹھے ہیں، اور اساتذہ تک کو قتل کرنے سے نہیں ہچکچاتے۔ ملک میں ایسی کوئی قوت دکھائی نہیں دیتی جو اس مذہبی جنونیت کا راستہ روک سکے۔ ہماری ناقص رائے میں اب ایک ہی حل ہے کہ کسی بیرونی دوست ملک سے مدد لی جائے۔

ہمسایوں پر نظر ڈالی جائے تو ایران کے حالات پاکستان سے اتنے زیادہ برے ہیں کہ اس گئی گزری حالت میں بھی اس کے مقابلے میں پاکستان جنت لگتا ہے۔ ادھر تو وہی حال ہے جو حالی بتا گئے ہیں یعنی

کہیں تھا مویشی چرانے پہ جھگڑا
کہیں پہلے گھوڑا بڑھانے پہ جھگڑا
لب جو کہیں آنے جانے پہ جھگڑا
کہیں پانی پینے پلانے پہ جھگڑا

ایران میں عوامی جھگڑے حجاب لینے یا نہ لینے جیسے معاملات پر ہوتے ہیں اور سیاسی جھگڑے اسی طرح اپنا اپنا گھوڑا آگے بڑھانے پر۔ پاکستان اس سے لاکھ درجے بہتر ہے۔

افغانوں نے تو پچھلی نصف صدی میں یہ ثابت کیا ہے کہ وہ تعمیر کی بجائے تخریب کے ماہر ہیں۔ ادھر حالی کے مسدس کے اسی بند کے آخری دو شعر فٹ بیٹھتے ہیں
یونہی روز ہوتی تھی تکرار ان میں
یونہی چلتی رہتی تھی تلوار ان میں

یعنی افغانوں سے کوئی امید نہیں رکھی جا سکتی۔ ان کی مدد آ گئی تو ہمارا بھی ان کی طرح تورا بورا بن جائے گا۔

بھارت ویسے تو ہمارا سنہ 1947 سے ازلی دشمن ہے، لیکن بہرحال بھارتی نسلی اور نظریاتی طور پر ہمارے ہی بھائی ہیں۔ بھارتیوں کی مذہبی جنونیت اور نفرت سے محبت ہم سے کم نہیں۔ بھارت میں مودی جی کے بھکتوں کو دیکھتے ہوئے ویسے ہی عبرت پکڑ لینی چاہیے اور اس طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھنا چاہیے۔ ان سے دور رہنے میں ہی بھلائی ہے۔

ویسے تو اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے آئیڈیل سعودی شہزادے ہیں جو سعودی عرب جیسے سخت گیر مذہبی ملک کو بھی ٹورسٹ ہیون بنانے کی طرف کامیابی سے سفر جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن ان کے نام پر اتفاق ممکن نہیں ہو گا۔ ان کے بدخواہ اور حاسد کہتے ہیں کہ وہ موٹا قیمہ کرنے کے شائق ہیں اور مولویوں کے علاوہ ترقی پسندوں کو بھی نہیں بخشتے، رگڑ ڈالتے ہیں۔ افغان کہاوت ہے کہ جہاں افغان کا قہر ختم ہوتا ہے، ادھر ازبک کا رحم شروع ہوتا ہے۔ یہاں بھی ویسا ہی معاملہ ہے کہ ہمارے ڈکٹیٹر ضیا الحق بھی بہتر تھے۔

ایک آپشن یہ ہے کہ ملکہ برطانیہ سے گزارش کی جائے کہ رانی جی واپس آ جائیں ہم سے نہیں سنبھلتا یہ ملک۔ دوبارہ اپنے راج میں شیر اور بکری کو ایک گھاٹ پانی پلائیں۔ لیکن بدقسمتی سے تاج برطانیہ کا نہ وہ دبدبہ باقی رہا ہے اور نہ ہی دم خم۔ بلکہ ادھر لندن میں بھی اب دیسی راج کر رہے ہیں۔ جب دیسی ہی حاکم بنانے ہیں تو ہمارے ملک میں موجود لوگ بہتر ہیں۔

ایک حل یہ ہو سکتا ہے کہ حسینہ واجد سے رابطہ کیا جائے اور کہا جائے کہ 1970 کا الیکشن عوامی لیگ جیتی تھی اس لیے آپ آ کر وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھا لیں۔ مانا کہ کچھ دیری ہو گئی ہے لیکن ایسی بھی نہیں کہ آپ روٹھ کر الگ بیٹھ جائیں۔ لیکن شاید وہ نہ مانیں کہ ہم اپنے خوشحال بنگلہ دیش کے بوجھ میں میں بھوکے ننگے مقروض پاکستان کو کیوں شامل کریں جہاں کے دو روپے ہمارے لیے ایک ٹکے کے برابر بھی نہیں رہے۔

امریکی ویسے ہی دور دور سے صاحب سلامت رکھتے ہیں۔ لمبی مدت کا جنوبی کوریا یا جاپان جیسا سچا پیار دینے کی بجائے وہ پیسہ دے کر اپنی غرض پوری کرتے ہیں اور صبح اٹھ کر پہچاننے سے بھی انکاری ہو جاتے ہیں۔ وہ اکبر الہ آبادی کے ماننے والے ہیں اور تھینک یو کہنے کے بعد تعلق واسطہ ہی نہیں رکھتے۔

وصل کی صبح پہلوئے بت سے
اٹھ گئے یار تھینک یو کہہ کے

ہمیں ہنی مون پیریڈ چاہیے تو بس پھر شہد سے میٹھا دوست چین ہی باقی بچتا ہے۔ ہیں تو چینی بھی پکے بزنس مین لیکن بزنس کی خاطر ہی وہ آمادہ ہو سکتے ہیں۔ ان کے پاس مینجمنٹ کے لیے بندوں کی بھی کمی نہیں۔ یہاں سیکیورٹی اور انتظامی امور سنبھالنے کے لیے وہ ہنسی خوشی دو چار کروڑ چینی بھیج بھی دیں تو انہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ وہ پریشان بھی ہیں کہ ون چائلڈ پالیسی کی وجہ سے وہاں جوان ورک فورس کم ہو گئی ہے اور بابے بڑھ گئے ہیں جبکہ ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ جوان زیادہ ہو گئے ہیں اور انہیں راہ راست پر رکھنے والے بابے بہت کم ہیں۔ انہیں مفت کے مزدور مل جائیں گے اور ہمارا معاملہ بھی سیدھا ہو جائے گا۔

وہ سنکیانگ میں مذہبی جنونیت کے ختم کرنے کے ساتھ ساتھ معتدل مسلمانوں کی فقہ بھی تبدیل کر چکے ہیں۔ ادھر تو مذہبی اعتدال کی بھی گنجائش نہیں۔ سنا ہے کہ بڑے بڑے تہجد گزار اور عابد ساجد بھی چینی حکومت کے تحت چار پہرہ چڑی روزہ رکھتے دکھائی دیتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان بھی چین کی سنکیانگ پالیسی کی حمایت کر چکے ہیں۔ وہاں صرف سیاسی آزادی پر پابندی ہے ورنہ شخصی اور تجارتی آزادی وہاں وافر مقدار میں دستیاب ہے ۔ یعنی پاکستان اگر چین کو ہاں کہہ دے تو بزبان انگریزی یہ تو میچ میڈ ان ہیون ہے۔ جنتی جوڑا۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar