صوفے جیسے لوگ

بدلے ہوئے زمانے کی بات اورہے لیکن جب حقیقی سیاست وجود رکھتی تھی، کراچی میں اس کا مرکز نشتر پارک تھا۔ یہ اسی نشتر پارک کے نواح کی بات ہے جہاں ایک کوچہ ایسا پایاجاتا تھا جس کی بنیادی شہرت تو شعبہ قانون کے تعلق سے تھی کہ پاکستان میں اس شعبے کی آبرو خلد آشیانی خالد اسحق وہاں قیام فرماتے تھے۔

خالد صاحب فقط قانون دان نہیں تھے، ان کا شمار اِس خطے کے بڑے اہل علم میں بھی ہوتا تھا۔ایک بڑے وکیل کے پاس قانون کی کتابوں کاایک بڑا ذخیرہ تو ہوتا ہی ہے لیکن ان کے ہاں صرف قانون کی کتابیں نہ تھیں۔ تاریخ، سیاست، فلسفہ، سائنس ،مذاہب عالم اور اسلام سمیت دنیا کے ہر موضوع پر کتابوں کا اتنا بڑا ذخیرہ تھا کہ انھیں سنبھالنے کے لیے ان کے دو ہزار گز کا عظیم الشان بنگلہ مختصر پڑ گیا۔

کتابوں کا بحر ذخار جب اس وسیع و عریض علم کدے کے کناروں سے بہنے لگا تو خالد صاحب نے قریب ہی چار بڑے فلیٹ خرید لیے اور کتابوں کو شایان شان طریقے سے محفوظ رکھنے کے لیے لائبریری سائنس کے ایک ماہرکی خدمات حاصل کیں۔

یہ شاید اسی زمانے کی بات ہے جب کسی بڑے عالمی ادارے نے خطے میںذاتی ملکیت کی بڑی لائبریریوں کا جائزہ لیا اور قرار دیا کہ جنوبی ایشیا میں اس سے بڑی اور وقیع لائبریری اور کوئی نہیں ہے۔ کتابیں ہوں اور ان کا مطالعہ نہ ہو تو اس کیفیت کے اظہار کے لیے ایک بھلاسا محاورہ رائج ہے جس میں بھاری بھرکم بوجھ اور ایک معصوم سے جانور کا ذکر آتا ہے جس کی بے شمار مثالیں ہمیں اپنے ارد گرد مل جاتی ہیں لیکن اُس قریے کی بات مختلف ہے، اس نواح کی خوشبو سے بھی علم کی خوش گوار مہک اٹھتی تھی۔ جہاں تک خالد صاحب کا معاملہ ہے، وہ سراپا علم و حکمت تھے۔

علما بھی قسم قسم کے ہوتے ہیں۔ علم بعض لوگوں پر کچھ ایسا رنگ چڑھاتا ہے کہ خوش گوار کیفیات رخصت ہو جاتی ہیں اور صاحب ِعلم کسی زاہد خشک کی طرح مردم بیزار ہو جاتا ہے ، لوگ جس سے دور بھاگتے ہیں۔ خالد صاحب کا معاملہ مختلف تھا۔

ان کے علم میں محبت کی گرمی، شفقت اور شگفتگی کی ٹھنڈی میٹھی پھوار تھی۔ وہ مشکل سے مشکل بات اس آسانی سے بیان کرتے کہ زندگی بھر کے لیے حافظے کا حصہ بن جاتی۔خالد صاحب کے ہاں ہفتہ واری چھٹی کے دن کے ایک نشست ہوا کرتی جس میں شہر بھر کے اہل علم جمع ہو کر قومی، معاشرتی اور معاشی مسائل پر غور و خوض کیا کرتے۔ ایسی ہی کسی نشست میں اُس زمانے میں قومی منظر نامے میںنئے نئے ابھرتے ہوئے ایک سیاست دان کی شخصیت زیر بحث آئی۔

کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ یہ صاحب ابھی اتنے پختہ نہیں ہو سکے کہ قومی معاملات میں وہ خود کوئی رائے قائم کر سکیں۔ خالد صاحب یہ سن کر مسکرائے اور کہا کہ انسانوں کی بھی قسمیں ہوتی ہیں، ان میں ایک قسم صوفے جیسی ہے۔ صوفے کی مثال سن کر لوگ چونکے اور متوجہ ہو ئے۔خالد صاحب نے بتایا کہ جب کوئی شخص صوفے پر کچھ دیر بیٹھنے کے بعد اٹھتا ہے تو اپنے جسم کی حدت کا کچھ حصہ اس پر چھوڑ جاتا ہے۔ اسی طرح جب کوئی دوسرا فرد اسی جگہ بیٹھتا ہے تو پہلے کی حدت پر دوسرے کی حدت غالب آجاتی ہے، اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔

خالد صاحب نے یہ مثال دی اور مسکراتے ہوئے فرمایا کہ اسی طرح بعض انسان بھی ہوتے ہیں جو جہاں جاتے ہیں، جو کچھ دیکھتے ہیں، وہی رنگ، وہی خوشبو ان پر اثر انداز ہوجاتی ہے۔ صوفے کی طرح کوئی اپنی خوشبو، اپنی حدت، اپنا خیال ان کی شخصیت سے نہیں جھلکتا بلکہ یہاں وہاں سے یلغار کرتے ہوئے خیالات ایسے لوگوں پر غالب آ جاتے ہیں۔

ایسے ہی خیالات ہوتے ہیں، یہ لوگ جن کا اظہار کسی فوری تجربے یا مشاہدے بعد کر ڈالتے ہیں اور لوگوں کے لیے تفنن طبع کا باعث بنتے ہیں۔ خالد صاحب دھیرے دھیرے گفتگو کیا کرتے ۔ بات کرتے تو مسکراتے اور شرکائے محفل کو گفتگو میں حصہ لینے کا موقع فراہم کرتے۔ ایک صاحب نے یہ مثال سنی اور ذرا دکھی ہوتے ہوئے کہا کہ اگر ہم اس چیز کو قومی زندگی پر منطبق کرنا چاہیں…؟ ان صاحب نے اپنی بات نامکمل چھوڑ دی اور خاموش ہوگئے۔

خالد صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں اپنی بڑی بڑی اور ذہین آنکھیں ان پر مرکوز کردیں اور مسکراتے ہوئے ذرا کھینچ کر ’جی ی ی ی ‘کہا اور تبصرہ کیا کہ یہی تجربہ تو ہماری قومی تاریخ کا حاصل ہے۔ خالد صاحب کی یہ شاندار گفتگو اور دلچسپ مثال ایک حالیہ واقعے سے یاد آئی۔ان ہی دنوں ایک صاحب اختیار کا فرمودہ سامنے آیا ہے۔ فرمانا اس جہاں دار کا یہ ہے کہ پارلیمانی جمہوریت میں حکومت پانچ برس سے آگے کا سوچ نہیں پاتی۔ پارلیمانی جمہوریت کے بارے میں یہ تبصرہ برمحل ہے۔ حکومتیں اپنے اقتدار کے دورانیے کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہی منصوبہ بندی کرتی اور سرگرمیوں کا دائرہ پھیلاتی ہیں۔

ایک عمومی خیال یہ ہے کہ ہمارے ہاں کچھ لوگ ایسے ہیں جو پارلیمانی نظام پر امریکا کے صدارتی نظام کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر کوئی ایسا سوچتا ہے تو اس میں بھی کوئی خرابی نہیں۔جس نظام پر قوم کا اجماع ہو جائے، اسے اختیار کرلینا چاہیے لیکن کیا کوئی ایسا طریقہ بھی دستیاب ہے کہ صدارتی نظام میں حکومت یا صاحب اختیار اپنی حکومت کے دورانیے سے باہر تک اپنی آرزو کی چادر وسیع کرسکے؟ مشاہدہ تو یہی ہے کہ صدارتی نظام کے سب سے بڑے ماڈل یعنی امریکا میں بھی دنیا کاطاقت ورترین حکمراں اپنے چار برس کی مدت تک ہی سوچ پاتا ہے یا زیادہ سے زیادہ اگلے چار برس کی مدت کے لیے، اگر خوش قسمتی سے اسے مل سکے۔

تونتیجہ یہ نکلا کہ صدارتی نظام میں بھی اس ’مرض‘کا علاج نہیں پایا جاتا پھر یہ تریاق کہاں دستیاب ہے؟ کبھی رہوار خیال چینی نظام کی طرف جاتا اور کبھی ایرانی نظام کی طرف۔ رؤف کلاسرا کہ ایک ذہین ستم ظریف ہیں، ایک جگہ گفتگو کرتے ہوئے کہنے لگے کہ ہم اس نظام سے سبق کیوں نہیں لیتے جس میں کراؤن پرنس پائے جاتے ہیں۔ہمارے بچپن اور لڑکپن میں ایک سیاست دان ہوا کرتے تھے، پیر علی محمد راشدی۔ ان کے لیے مشہور ہے کہ انھوں نے ایوب خان کو مشورہ دیا تھا کہ جمہوریت وغیرہ کا ٹنٹا چھوڑیں، سیدھے بادشاہت کا اعلان کردیں۔

پیر صاحب خوش ذوق صاحب علم تھے اور شاعرانہ مزاج رکھتے تھے۔ ممکن ہے کہ انھوں نے یہ مشورہ بطور طنز دیا ہو لیکن ان کا تعلق چوں کہ سندھ کے قدیم حکمران خاندان سے تھا، اس لیے بعض لوگوں نے خیال کیا کہ اصل میں وہ یہی چاہتے تھے، وہ حیات ہوتے توضرور اپنے کہے کی وضاحت کرتے۔ رؤف کلاسرا جدید عہد کے صرف صحافی ہی نہیں ادیب بھی ہیں، ان کے دل کی بات ان کی مسکراہٹ سے سمجھنی پڑے گی، مجھے نہیں لگتا کہ وہ زبان سے کچھ کہیں گے، لہٰذا آسانی اسی میں ہے کہ مرحوم و مغفور خالد اسحق کی تمثیل سے روشنی حاصل کی جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words