غالبؔ اور میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں نویں دسویں میں ہوں گا جب مجھے غالب ؔ سے عشق ہوا۔ اسی دوران دو ایک عشق اور بھی ہوئے لیکن انجام کے حوالے سے وہ اتنے خوشگوار نہیں رہے کہ انہیں اب تک یاد رکھا جائے۔ البتہ غالبؔ سے عشق تب سے لے کر اب تک روز بروز بڑھتا چلا گیا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ غالبؔ ہمیں سمجھ بھی آتا تھا۔ استاد غالب ؔ ہمیں، الحمدللہ، نہ تب سمجھ آتا تھا نہ اب آتا ہے۔ میرے خیال میں غالبؔ ایک ایسا شاعر ہے کہ جس کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ مکمل غالبؔ شناسی کا دعویٰ تو شاید خود غالبؔ بھی نہیں کر سکتا۔ اس حوالے یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہ جو غالبؔ کا ”بد دعائیہ“ شعر ہے اس کی زد سے خود شاعر سمیت کوئی بھی نہیں بچ پایا :

بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

دوسری طرف غالبؔ کی تفہیم کے حوالے سے میں نے علامہ اقبال ؔ کا یہ قول بھی کہیں پڑھ رکھا ہے کہ غالبؔ شناسی کا حق ابھی ادا کیا جانا باقی ہے۔ سو! اگر جناب اقبال ؔ غالب شناسی کے حوالے سے یہ کہتے ہیں تو پھر ہم کس باغ کی مولی وغیرہ ہیں۔ بلکہ اقبال ؔ کا یہ قول پڑھنے کے بعد اب کبھی مجھے غالبؔ کے کچھ متواتر اشعار کا مفہوم سمجھ آ بھی رہا ہو تو میں ذہن کو جھٹکتے ہوئے یہ مفہوم رد کر دیتا ہوں کہ کہیں میں شاعر مشرق کے بیان کی عملی نفی کا مرتکب تو نہیں ہو رہا۔

کیونکہ غالبؔ کی تفہیم اپنی جگہ اہم ہے لیکن حکیم الامت کے کسی بیان کی تردید ہمیں کسی طور منظور نہیں۔ پھر دوسری طرف یہ بات بھی تقریباً ثابت شدہ ہے کہ غالب ؔ کی شاعری سے لطف اندوز ہونے کے لیے یہ قطعاً ضروری نہیں کہ یہ آپ کو سمجھ بھی آ رہی ہو۔ بس آپ اسے پڑھتے جائیے اور سر دھنتے جائیے۔ اور پھر مرشدی یوسفی نے بھی تو یہی کہہ رکھا ہے کہ غالبؔ وہ شاعر ہے جو سمجھ نہ آئے تو زیادہ مزا دیتا ہے۔ اور یقین جانیئے ہم نے ہمیشہ زیادہ مزا ہی لیا ہے۔ اور اب تو ادبی مطالعے کے حوالے سے ایک بڑی زبردست سٹڈی بھی سامنے آ چکی ہے اور وہ یہ کہ کسی ادبی فن پارے سے لطف اندوز ہونے کے لیے اس کی تفہیم ضروری نہیں ہے۔ اور یہ حقیقت بھی ہے کہ خود غالب ؔ کی بھی ہرگز یہ خواہش نہیں تھی کہ اس کے اشعار میں معانی و مفاہیم تلاش کیے جائیں۔ وہ خود کہتا ہے کہ :

نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پرواہ
گر نہیں میرے اشعار میں معانی نہ سہی
چنانچہ جب تفہیم کی شرط اور اہمیت ختم ہو گئی تو غالبؔ سے ہمارا عشق اور بھی بڑھ گیا۔

غالبؔ سے ہمارے عشق کی ایک وجہ تو وہ بے پناہ ظرافت ہے جو اس کے کلام میں جابجا موجود ہے۔ اتنی باریک بات ایسے دلکش اور ظریفانہ انداز میں کوئی اور نہیں کہہ سکا۔ بلکہ اس ضمن میں دیکھا جائے تو کوئی اور شاعر اس کے قریب بھی نہیں پہنچ سکا۔ لطافت اور ایمائیت بھرے ایسے اشعار کہ بس ایک شعر پڑھیے اور کئی دنوں بلکہ ہفتوں سرشاری میں سر دھنتے رہیے۔ مثال کے طور پہ یہ شعر دیکھیے :

تجھ سے تو کچھ کلام نہیں لیکن اے ندیم
میرا سلام کہیو اگر نامہ بر ملے

غالبؔ کی زندگی کا مطالعہ کیجئے۔ اس وقت کے سیاسی و سماجی حالات دیکھیے۔ یہ چیز سمجھ سے باہر ہے کہ ایسے حالات اور مسائل کا سامنا کرتے ہوئے کوئی شخص شعر گوئی میں اس قدر ظریفانہ انداز اختیار کر سکتا ہے۔ غالبؔ اکثر و بیشتر شکوے سے یوں پر رہا جیسے راگ سے کوئی باجا بھرا رہتا ہے لیکن مجال ہے کہ اس ”حیوان ظریف“ نے ان حالات کا کوئی منفی اثر، کوئی پرچھائیں اپنے ذہن پر پڑنے دی ہو۔ وہ اپنے سامنے آنے والے قسم قسم کے حالات پر مبنی مختلف مناظر اور مسائل کو محض ”بازیچہ اطفال“ سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔

غالبؔ سے ہمارے عشق کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ وہ ہمیں زندگی کرنا سکھاتا ہے۔ وہ ہمیں جینے کا حوصلہ دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ساز ہستی ایک دن ویسے ہی بے صدا ہو جائے گا لہذا ابھی اگر اس پر نغمہ ہائے غم میسر ہیں تو بھی غنیمت ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ انسانی زندگی اور مسائل لازم و ملزوم ہیں۔ ”قید حیات و بند غم“ ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ لہذا زندگی گزارتے ہوئے اس حقیقت کا ادراک بھی مسلسل رہنا چاہیے۔

غالبؔ کو انسانی نفسیات کا بے پناہ ادراک تھا۔ انسانی نفسیات کا گہرا مطالعہ اور اس کا باکمال استعمال جس انداز سے غالبؔ کرتا ہے وہ کسی اور شاعر کے بس میں نہیں۔ اسے پڑھتے ہوئے انسانی ذہن کے نئے نئے زاویئے سامنے آتے ہیں ایک جگہ کہتا ہے ”ہے آدمی بجائے خود اک محشر خیال۔ ہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو“ ۔ غالب ؔ کو پڑھتے ہوئے انسان دنگ رہ جاتا ہے کہ انسانی ذہن اس قدر وسعت اور گہرائی کا متحمل ہو سکتا ہے۔ اور پھر پڑھنے والا بے ساختہ پکار اٹھتا ہے کہ واقعی غائب سے ہی یہ مضامین خیال میں آسکتے ہیں۔ ایک شعر ملاحظہ ہو جس سے شاعر کی ذہنی وسعت کا پتہ چلتا ہے۔ اور اندازہ ہوتا ہے کہ ”پر مرغ تخیل“ کی رسائی کہاں تک ہو سکتی ہے : مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا ترے پیچھے

تو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا مرے آگے

غالبؔ کو پڑھتے ہوئے انسانیت پر مان اور یقین بڑھتا ہے۔ زندگی کی قیمت بڑھتی ہے۔ خود سے اور دوسروں پر پیار اور اعتماد بڑھتا ہے۔ شوق اور ولولے میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے۔ پتہ چلتا ہے کہ شاعری کی معراج کیا ہے۔ اور پھر پڑھنے والا بزبان اقبال پکار اٹھتا ہے :

لطف گویائی میں تری ہمسری ممکن نہیں ہو تخیل کا نہ جب تک فکر کامل ہم نشیں


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments