انسداد گھریلو تشدد بل کی منظوری پر واویلا کیوں؟

خاتون میرے سامنے غم و حرماں اور کرب و اندوہ کی تصویر بنی بیٹھی تھی۔ آنسو اس کے غمزدہ اور پریشان چہرے کو بگھو رہے تھے۔ اس کے گال غصے، رنج اور پشیمانی کے جذبات سے تمتما رہے تھے۔ گریہ گلو گیر اور لہجہ درد کی تصویر بنا تھا۔ وہ بتا رہی تھی کہ بیس سالا شادی شدہ زندگی میں سوائے پہلے چند دن اس نے خوشی اور مسرت کا شاید ہی کوئی لمحہ دیکھا ہو۔ اس نے نہایت کرب انگیز انداز میں بتایا کہ وہ بیس سال سے گویا تشدد زدہ قید تنہائی کی زندگی بسر کر رہی ہیں۔

کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ شوہر مجھ پر جسمانی، نفسیاتی، ذہنی اور روحانی تشدد نہ کرتا ہو۔ دن بھر گھر کے کام کاج کر کے جب تھکی ہاری بستر پر آ گرتی ہوں تو وحشی بھیڑیے کی طرح مجھ پر پل پڑتا ہے اور منٹوں میں اپنی حیوانی خواہش پوری کر کے پڑا خراٹے لینے لگتا ہے۔ عورت اور مرد کے درمیان جنسی لذت اور آسودگی شاید دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے مگر میرے درندہ صفت شوہر نے اس عمل کو بھی میرے لیے تکلیف دہ اور صبر آزما مشقت بنا دیا ہے۔

اب تو وہ دوسری شادی کے لیے پر تول رہا ہے۔ مجھے اس پر بھی اعتراض نہیں لیکن اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر دھمکاتا ہے کہ میں بچوں کو لے کر اس کے گھر سے نکل جاوٴں۔ والدین فوت ہو چکے ہیں اور بھائیوں کے گھروں کے ساتھ ساتھ ان کے دل بھی اتنے کشادہ نہیں کہ چار بچوں کی ماں کو جگہ دے سکیں اور سچی بات یہ ہے کہ میں ان کے ہاں جانا بھی نہیں چاہتی۔ اب تو اس نے بچوں پر حیلے بہانوں سے تشدد شروع کر دیا ہے۔

یہ ستر سالا بڑھیا ہیں جو اس کہنہ سالی اور آشفتہ حالی میں بھی بڑی مشکل سے عدالتوں کے چکر کاٹ رہی اور درد مند اور انسانی ہمدردی رکھنے والے وکلا کو تلاش کر رہی ہیں۔ ان کی کہانی بھی بڑی دل خراش اور جگر پاش ہے۔ ان کے چار بیٹے ہیں جو سب بر سر روزگار ہیں اور لاکھوں روپے ماہانہ کماتے ہیں۔ بڑی بی کے میاں کے گزرنے کے بعد سفاک بیٹوں نے والدہ کا خرچ بند کر دیا اور اب وہ عمر کے اس حصے میں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ وہ عدالت کے ذریعے اپنے بیٹوں سے ماہانہ خرچ لینا چاہتی ہیں تاکہ عزت سے بڑھاپے کے آخری ایام گزار سکے۔

نیم پختہ گلی کے نکڑ پر کھڑا سات آٹھ سال کا کمسن بچہ زار و قطار رو رہا ہے۔ روتے روتے اس کی ہچکی بندھ جاتی ہے۔ آشک مضطرب نے اس کے لال لال گالوں کو گلنار بنا دیا ہے۔ میلے کچیلے، پھٹے پرانے کپڑوں اور ٹوٹے پھوٹے جوتوں میں بھی اس کی معصومیت اور چہرے کی شادابی نکھر رہی ہے۔ اسے یوں زار زار روتے دیکھ کر کچھ اور لوگ بھی جمع ہو گئے۔ معصوم فرشتہ بار بار اپنا ایک بازو بھی سہلا رہا ہے۔ ہم تڑپ کر اس کے پاس پہنچے اور رونے کا سبب پوچھا۔

پہلے تو باپ کے ڈر سے کچھ نہیں بول رہا تھا مگر ہمارے حوصلے اور دلاسے نے اسے ہمت دی۔ وہ بتانے لگا کہ اس کے باپ نے دو شادیاں کر رکھی ہیں۔ ہم نو بہن بھائی ہیں۔ تین بڑے اور چار مجھ سے چھوٹے ہیں۔ باپ نے ہم چار بڑوں کو کام پر لگا رکھا ہے۔ وہ مجھے روزانہ چار دریاں دیتا ہے کہ ان کو بہرصورت فروخت کرنا ہے۔ جس دن ایک بھی دری بچ جائے وہ ہمارے جسموں کو گرم استری سے داغتا ہے۔ یہ کہہ کر اس نے بازو ننگا کیا۔ جلنے کے داغ دیکھ کر وہاں موجود ہر شخص دکھی ہو گیا۔

اس تین چار سال کے معصوم بچے کا کیا قصور جس کی روٹی اس کے باپ پر بوجھ بن جاتی ہے اور وہ اسے اس کی مرضی کے خلاف کسی مدرسے میں داخل کروا دیتا ہے۔ ماں کی مامتا اور گھر سے دور، ننھی جان مجبور، مدرسے کی گھٹن زدہ فضا میں محصور۔ مصنوعی انداز سے جھوم جھوم کر اور لہک لہک کر ایک ایسا سبق یاد کر رہا ہے جس کا مطلب بھی اسے پتہ نہیں۔ سبق یاد نہ ہو تو یہ ننھی کلی وحشی مولوی کے تھپڑ، مکے، لاتیں اور غلیظ صلواتیں الگ سہتی ہے۔

مدرسے کے کام کاج، صفائی ستھرائی اور کھانے کا بندوبست بھی کرنا پڑتا ہے۔ پھر کسی رات اسی تقدس و تحریم کے اڈے پر مولوی کے روپ میں کوئی جنسی درندہ اس کے پھول سے جسم کو کتے کی طرح بھنبھوڑ اور ادھیڑ کر رکھ دیتا ہے۔ بڑے مولوی صاحب تک اول تو رسائی ہی مشکل ہے، رسائی مل بھی جائے تو ان کا رعب و دبدبہ اتنا ہے کہ ان کے سامنے بات ہی نہیں ہو سکتی اور اگر شکایت کر بھی دی تو درندہ صفت مولوی سے کیسے بچ پائے گا۔ رہ گیا باپ تو وہ مدرسوں کو زہد، تقویٰ، ایمان، ایقان اور پرہیز گاری کے قلعے اور مولوی صاحبان کو زمین پر فرشتوں کا سایہ سمجھتا ہے، وہ سنی ان سنی کر کے پھر اسے اسی مقتل میں بھیج دے گا۔

اور کم سن ملازم بچوں اور بچیوں پر ہونے والے مظالم کس سے ڈھکے چھپے ہیں۔ والدین کی طرف سے اولاد پر تربیت کے نام پر ناروا سختی، مخصوص مضامین میں اعلٰی تعلیم حاصل کرنے کے لیے شدید دباوٴ۔ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اچھے مارکس کے بدلے بچیوں سے ہونے والے جنسی استحصال کے ان گنت واقعات۔ غیرت کے نام پر عورتوں اور پسند کی شادی کرنے والے جوڑوں کے قتل کی وارداتیں۔ بچیوں کو ان کی مرضی کے بغیر کسی بھی مرد کے کھونٹے سے باندھ کر انہیں یہ غیر انسانی نصیحت کرنا کہ بیٹی! جیسے بھی حالات ہوں، جس گھر میں تمہاری ڈولی گئی ہے، یہیں سے تمہارا جنازہ بھی نکلے۔ اور بیٹی سسرالیوں کے مظالم سہہ سہہ کر زندہ لاش بن جاتی ہے مگر حرف شکایت لب پر نہیں لاتی۔

بنیادی انسانی حقوق کی پائے مالی کی ایسی دل گداز اور جگر سوز کہانیاں گھر گھر بکھری پڑی ہیں۔ ان حالات میں انسداد گھریلو بل کا سینیٹ سے بھاری اکثریت سے پاس ہو جانا بہت خوش آئند اور مستحسن خبر ہے۔ مرکزی علما کونسل نے اسے غیر اسلامی اور اسلام کے عائلی قوانین سے متصادم قرار دے کر اسے مسترد کیا ہے۔ ”عریاں مقبول جان لیوا“ جیسے کالم نگاروں نے بھی اس کے خلاف کاغذ سیاہ کیے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی بہت لے دے ہو رہی ہے۔ علامہ ابتسام الہٰی ظہیر جیسے سخت گیر علمائے کرام بھی اس پر واویلا کر رہے ہیں مگر کوئی اللہ کا بندہ یہ نہیں بتاتا کہ اس بل کی کون سی شق قرآن کی کون سی آیت یا حکم کے خلاف ہے؟

عورت، بچے اور بزرگ معاشرے کے کمزور اور بے بس طبقے ہیں اور انہیں پر مظالم بھی زیادہ ڈھائے جائے جاتے ہیں۔ خاص طور پر بعض گھریلو خواتین پر تو ظلم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔ گھریلو تشدد کے خلاف بل چاروں صوبائی اسمبلیاں منظور کر چکی ہیں اور اب یہ قانون بن چکا ہے۔ اس بار قومی قومی اسمبلی نے یہ بل پاس کیا۔ اس پر کچھ ”اسلام“ کے ٹھیکیداروں نے اسے اسلامی تعلیمات، عائلی قوانین اور خاندانی نظام کے خلاف مغرب کی سازش اور زہر قاتل قرار دیا ہے۔ قانون سازی ہمیشہ جائز کاموں ہی کے حوالے سے کی جاتی ہے تاکہ فتنہ فساد اور تنازعوں سے بچا جا سکے۔ مثلاً راستے میں چلنا سب کا حق ہے لیکن اگر دنیا میں شاہراوٴں پر گاڑیوں کے چلنے کے لیے دائیں اور بائیں کا قانون نہ بنایا جاتا یا سرخ اشارہ نہ متعارف کروایا جاتا تو روزانہ کتنے حادثات ہوتے۔

ہم شروع دن سے عمرانی حکومت کے خلاف رہے ہیں اور اس حکومت کی نا اہلیوں اور نا لائقیوں کے خلاف کھل کر لکھتے رہے ہیں مگر اس کے باوجود پوری دیانتداری سے سمجھتے ہیں کہ اس حکومت کا شاید یہ واحد کام ہے جس کے مداح ہیں۔ اب معلوم نہیں کس کے دباوٴ پر اس بل کو اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس بھیج دیا گیا ہے۔ اللہ کرے کونسل حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بل سے مین میخ نکالے بغیر اسے منظور کر لے تاکہ ملک میں ہونے والے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے واقعات کا خاتمہ ہو سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words