بچیوں کی تربیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تاریخ شاہد ہے کہ والدین کی جتنی خدمت اور اطاعت گزاری بچیاں کرتی ہیں بچے اتنی نہیں کر سکتے۔ مگر نا جانے کیوں ہمارے معاشرے میں بچیوں کو ایک بوجھ تصور کیا جاتا ہے اور ان کی پیدائش کو غم و غصے سے منسوب کیا جاتا ہے۔ عورت زمانہ قدیم کے جاہلی دور سے لے کر آج کے ترقی یافتہ دور تک ہمیشہ مظلوم رہی ہے۔ کہیں اسے پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کیا جاتا ہے تو کہیں ستی کی رسم میں اسے شوہر کے ساتھ زندہ جلنا پڑتا ہے۔ کہیں اسے پاؤں کی جوتی سمجھ کر لونڈی بنا کر رکھا جاتا ہے تو کہیں عیش و عشرت کا سامان۔

اسلام کی آمد سے قبل کسی بھی معاشرے نے عورت کو عزت و احترام کا مقام نہیں دیا بلکہ شرق و غرب میں عورت مظلومیت کی چکی میں پستی رہی۔ اسلام کی آمد سے عورت کو جہاں تحفظ ملا، جائیداد میں حصہ ملا وہیں اسے معاشرے میں عزت و وقار کا مقام بھی ملا۔ مگر ہمارے ہاں اکثر و بیشتر طبقوں میں عورت مظلوم تھی اور مظلوم ہی رہی۔ نہ جانے کیوں ہمارے معاشرے میں بیٹیوں کی پیدائش پر افسوس کیا جاتا ہے حالانکہ ہمارے نبی کریم ﷺ نے بچیوں کی پیدائش پر جنت کی بشارت دی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ بیٹیاں اللہ کا خاص انعام ہوتی ہیں جن کے دم سے گھر میں رونق ہوتی ہے۔ والدین بچیوں کی تربیت میں اگر درج ذیل باتوں کو ملحوظ رکھیں تو یہ خوبصورت ہستیاں احساس محرومی سے بے نیاز ہو کر اسلام کے بتائے ہوئے طریقہ کار پر کاربند ہو کر دنیا و آخرت میں اعلیٰ مقام حاصل کر سکتی ہیں اور ان کی اعلیٰ کرداری یقینی طور پر جہاں والدین کے لیے سرخروئی کا سبب بن سکتی ہے وہیں بچیوں کی پیدائش پر افسردہ ہونے والے والدین کے لیے ذہنی اطمینان کا ذریعہ بھی۔

بچیوں کی پرورش کرتے ہوئے شروع دن سے ان کی عادات و اطوار پر فوکس کیا جانا ضروری ہے۔ بچپن سے ہی بچیوں کو مکمل لباس پہننے، گھر میں رہنے اور گھر کے معمولات میں والدین کا ہاتھ بٹانے کی تربیت دی جائے۔ ان کے لیے کھیلنے کودنے کے لیے گھر کی چاردیواری کے اندر انتظام موجود ہو۔ بچیاں صرف اپنی ہم عمر بچیوں کے ساتھ کھیلیں کودیں اور بچپن سے ہی انہیں تربیت دی جائے کہ لڑکوں کے ساتھ ان کا ہاتھ ملانا، ساتھ مل کر بیٹھنا اور کھیلنا کودنا درست نہیں۔ بچیوں کی تربیت کرتے ہوئے ماؤں کو خاص طور پر انہیں مستقبل کی اچھی بیویاں اور مائیں بنانے کا ہدف ذہن میں رکھنا چاہیے۔

بچیوں کی تعلیم بہر حال بچوں کی تعلیم کی طرح ہی اہم ہے۔ اس لیے تو نپولین نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ تم مجھے پڑھی لکھی مائیں دو میں تمہیں پڑھی لکھی قوم دوں گا۔ بچیوں کو تعلیم لازمی دلوائی جائے البتہ ادارے کا انتخاب کرتے ہوئے ضرور دیکھا جائے کہ جہاں ان کی تربیت ایک مسلم عورت کے طور پر ہو سکے۔ مائیں بچیوں کو ازدواجی زندگی کامیاب بنا سکنے کے لیے انہیں کھانا پکانے، گھر کو سنبھالنے، اچھی بیوی اور ماں بننے غرض ہر طرح کی صورت حال میں خود کو ڈھالنے کے حوالے سے تربیت دیں۔

چونکہ ہر لڑکی شادی کے بعد کسی دوسرے گھر میں ہمیشہ کے لیے چلی جاتی ہے اس لیے ان کی تربیت کرتے ہوئے انہیں سسرال کے ماحول کو اپنانے، ان جیسا بن جانے، اس خاندان کی روایات، طریقہ کار اور پسند نا پسند کے مطابق خود کو ڈھالنے اور سسرال کی خوشی اور غم کو اپنا بنا لینے کی تربیت شامل ہونی چاہیے۔ ساتھ ہی ساتھ لڑکی دونوں خاندانوں کے مضبوط تعلقات کا سبب بن سکے اور اس کی وجہ سے رنجش اور اختلاف پیدا نہ ہو۔

عزت و عاطفت کی حفاظت کرنا ہر لڑکی کا سب سے بڑا فریضہ ہے۔ بچیوں کو اپنی آواز دھیمی رکھنے، ستر ڈھانپنے، سلیقے سے چلنے پھرنے اور ایک باعزت اور باکردار خاتون بننے کی تربیت دینا والدین بالخصوص ماؤں کی ذمہ داری ہے۔ بچیوں کو محرم اور نا محرم کا تصور دیں اور محرموں سے مناسب فاصلے پر رہنے کی تربیت بھی کریں۔ بچیوں کو اعتماد دیں کہ کوئی اجنبی شخص ان سے کوئی بھی بات کرے وہ گھر آ کر ضرور بتائیں۔ سکول میں، محلے میں یا کسی بھی جگہ پر کسی انہونی بات کو ضرور بتائیں۔ گھر میں ٹی وی، موبائل اور لیپ ٹاپ وغیرہ پر دیکھے جانے والے پروگرامات کی بھی نگرانی کریں۔

بچیوں کو گھر سنبھالنے، شوہر کی اطاعت گزار بننے، ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنے اور شاکر رہنے کی تربیت دی جائے۔ اس کے علاوہ کن کاموں کے لیے لڑکیاں گھر سے نکل سکتی ہیں، کیا کام کر سکتی ہیں، لوگوں سے میل جول کس حد تک رکھ سکتی ہیں اس حوالے سے مناسب رہنمائی والدین کی اولین ذمہ داری ہے۔

بچیوں کو بالخصوص اسلامی تہذیب سے جوڑنا اور اپنے مشاہیر کے طرز عمل کو اپنانا ضروری ہے۔ ہر مسلم بچی کی آئیڈیل امہات المومنین و صحابیات ہونی چاہئیں تا کہ یورپ کی نام نہاد کھوکھلی ترقی کی بنا پر تیار کی گئی کوئی عورت ان کی رول ماڈل نہ بن سکے۔ اس سلسلے میں جہاں بچیوں کو ترغیبات کی نشاندہی کرنا ضروری ہے وہیں انہیں مغربی اور سیکولر معاشرے کے اصل چہرے سے روشناس کرنا بھی ضروری ہے کہ جس میں عورت کو ایک اشتہار بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ ہر پروڈکٹ کو عورت کی تصویر کے ساتھ متعارف کروایا جاتا ہے۔ ایسے معاشرے میں عورت کو صرف اور صرف سامان عیاشی بنانے کی سعی کی جا رہی ہے۔

دونوں تہذیبوں کے تقابلی جائزہ سے ہی یہ ممکن ہے کہ ہماری بچیاں تصویر کے دونوں رخ دیکھ کر اپنے لیے بہتر راہیں متعین کر سکیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments