افغانستان کی صورت حال اور ہماری قومی قیادت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سیانوں کا قول ہے کہ ہاتھوں سے لگائی ہوئی گرہوں کو کبھی کبھار دانتوں کے ساتھ کھولنا پڑھ جاتا ہے۔ آج ہمارے پڑوسی ملک افغانستان کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال کے تناظر میں پاکستان کو اسی طرح کی کیفیت کا سامنا ہے۔ کولن پاؤل کی ایک فون کال پر ڈھیر ہو جانے اور افغانستان کی تباہی کے لئے امریکہ کو اپنا کندھا فراہم کرنے کے نتائج بھگتنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔ اس وقت دیگر تمام موضوعات خطے کی موجودہ سیکورٹی صورت حال کی وجہ سے پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ افغان طالبان اب دوبارہ ایک بڑی قوت بن کر سامنے آچکے ہیں۔

9 ستمبر 2001 سے پہلے والا منظر نامہ افغانستان میں دوبارہ بنتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ افغان طالبان کی ناقابل یقین جدوجہد کی وجہ سے حملہ آور فوج شکست کا داغ سجائے افغانستان سے رخصت ہونے پر مجبور ہو چکی ہے۔ طالبان کو انسانی تاریخ کے سب سے بڑے معرکے میں شاندار فتح حاصل ہوئی ہے۔ جدید ترین اسلحہ اور ساز و سامان بھی امریکی اور اس کی اتحادی افواج کے لئے سودمند ثابت نہیں ہو سکا۔ سانحہ نائن الیون کے ٹھیک بیس سال کے بعد ایک انہونی وقوع پذیر ہونے کو ہے۔ اس جنگ میں امریکہ نے اپنے ہزاروں فوجیوں کی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے علاوہ ڈیڑھ کھرب ڈالر سے زیادہ کا نقصان بھی برداشت کیا۔

جوں جوں افغانستان سے امریکی فوجوں کے مکمل انخلا کا وقت قریب آ رہا ہے۔ کابل میں برسراقتدار اشرف غنی کی حکومت کو اپنے پاؤں کے نیچے سے زمین سرکتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔ کسی بھی وقت اس کا اقتدار زمین بوس ہوا چاہتا ہے۔ امریکہ نے موجودہ افغان حکومت کو مکمل طور پر طالبان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ تاریخ اس بات کی شاید ہے۔ کہ امریکہ نے مشکل وقت میں کبھی اپنے دوستوں کے ساتھ وفا نہیں کی۔

خبروں کے مطابق امریکی اور نیٹو افواج نے بلگرام ائر بیس افغان انتظامیہ کے حوالے کر دیا ہے۔ ایک غیر مصدقہ خبر کے مطابق امریکہ نے بیس سے اپنا ساز و سامان چپکے سے رات کی تاریکی میں نکال لیا ہے۔

نائن الیون کے سانحے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ ایک غضب ناک عفریت کی طرح افغانستان پر جھپٹ پڑا تھا۔ اس نے پاکستانی ائر سپیس کو استعمال کر کے اس پسماندہ ترین ملک کو راکھ کا ڈھیر بنانے کی بھرپور کوشش کی۔ مگر وہ افغانستان میں بسنے والے طالبان جنگجوؤں کی کمر توڑنے میں بری طرح ناکام رہا۔ اور نہ ہی اسے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ڈھونڈ نکالنے میں کامیابی حاصل ہو سکی۔

افغانستان یہ اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ کہ اس نے اپنے سے کئی گنا طاقتور دو عالمی طاقتوں یعنی روس اور امریکہ کو شکست دینے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان افغانستان کے کئی علاقوں پر اپنا تسلط قائم کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ وہ ایک حکمت عملی کے تحت اپنے قدم بعض اہمیت کے عامل علاقوں اور اضلاع میں جما رہے ہیں۔ ان کا اولین مقصد کابل حکومت کو کمزور کرنا اور اسے دفاعی پوزیشن پر لانا دکھائی دیتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان فوجی طالبان کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے بجائے خودبخود پسپا ہو کر پڑوسی ملک میں پناہ گزین ہو رہے ہیں۔ افغانستان کی افواج کے کمانڈرز نے گو کہ چھینے ہوئے اضلاع واپس لینے کا عندیہ دیا ہے۔ مگر زمینی حقائق کو اگر مدنظر رکھا جائے تو ایسا ہوتا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ کیوں کہ افغان فوج ماضی میں امریکہ اور نیٹو افواج کے تعاون سے ہی طالبان کا مقابلہ کرتی رہی ہے۔

اس ڈرامائی تبدیلی کی وجہ سے پاکستان کے لئے بڑے خطرات دکھائی دے رہے ہیں۔ اس بات کا اندیشہ ہے کہ مشرف نے امریکہ کے آگے گھٹنے ٹیک کر جو غلطی کی تھی۔ پاکستان کو اس کی بہت بھاری قیمت چکانا پڑھے گی۔ سابق آمر نے یہ سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی۔ کہ مستقبل میں حالات کوئی بھی رخ اختیار کر سکتے ہیں۔ امریکہ کی جنگ میں اپنے ملک کو جھونکنے سے پہلے جنرل مشرف کو دستیاب سیاسی اور عسکری قیادت سے مشورے کے بعد ایک متفقہ موقف اختیار کر کے امریکی قیادت کو جواب دینا چاہیے تھا۔ مگر اس نے اس بات کی زحمت ہی گوارا نہیں کی۔ اگر اس وقت فہم و فراست کا مظاہرہ کیا جاتا۔ تو آج ملک ایک دوراہے پر نہ کھڑا ہوتا۔

پاکستان نے اس پرائی جنگ میں ستر ہزار سے زیادہ قیمتی جانیں گنوائی ہیں۔ اس کے علاوہ معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ اب ایک بار پھر پاکستان کو افغان طالبان کی صورت میں ایک خطرے کا سامنا ہے۔ اگر افغان طالبان کابل پر قبضہ کرلیتے ہیں۔ تو اس صورت میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی کھوئی ہوئی قوت بھی بحال ہو سکتی ہے۔ جس کے نتیجے میں دہشت گردی دوبارہ زور پکڑ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ لاکھوں افغان باشندوں کا پناہ کے لئے پاکستان کا رخ کرنے کا اندیشہ بھی موجود ہے۔ ہماری کمزور معیشت مزید کسی بوجھ کو برداشت کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

اس متوقع خطرے سے نمٹنے کے لئے عسکری قیادت نے چند روز پہلے پارلیمنٹ ہاؤس میں ایک بریفنگ کا اہتمام کیا تھا۔ جس میں عسکری قیادت نے پاکستان کی طرف سے اختیار کی جانے والی سٹریٹجی سے شرکا کو آگاہ کیا۔ عسکری قیادت نے سیاستدانوں کو پاکستان کی سیکورٹی ایجنسیز کی طرف سے افغانستان کی بدلتی ہوئی صورت حال کے تناظر میں اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔ شرکا کو یہ بات بھی بتائی گئی۔ کہ افغان طالبان کو تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر چلنے پر آمادہ کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ مگر انہوں نے اس پیش کش کو رد کر دیا۔

قومی قیادت نے اس بات کا فیصلہ کیا ہے۔ کہ پاکستان افغانستان میں متوقع کشیدگی کے دوران غیر جانب دار رہے گا۔ اور کسی فریق کے پلڑے میں اپنا وزن نہیں ڈالے گا۔

اس انتہائی اہم نوعیت کی بریفنگ میں وزیراعظم عمران خان شریک نہیں ہوئے۔ جس کا اپوزیشن قیادت نے نوٹس لیتے ہوئے اسے عمران خان کے قومی معاملات پر غیرسنجیدہ رویے سے تعبیر کیا۔ اس معاملے کا افسوس ناک پہلو اس وقت سامنے آیا جب سپیکر آفس اور فواد چوہدری نے ایک بیان میں کہا کہ وزیراعظم میاں شہباز شریف کے تحفظات کی وجہ سے اس بریفنگ میں شامل نہیں ہوئے۔ جب کہ اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ عمران خان پہلے سے اس بات کا فیصلہ کر چکے تھے کہ وہ سیکورٹی کمیٹی کی بریفنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔

کسان کنونشن میں وزیراعظم کی شرکت اس بات کی واضح دلیل ہے۔ جو عین اس وقت منعقد کی گئی۔ جب پارلیمنٹ ہاؤس میں سیکورٹی معاملات پر بریفنگ کا انعقاد ہو رہا تھا۔ بعض سرکاری عناصر عمران خان کی اس اہم بریفنگ میں عدم شرکت کے بارے میں یہ تاویل پیش کر رہے ہیں کہ انہوں نے ایک روز پہلے پارلیمان میں اپنا مافی الضمیر پیش کر دیا تھا۔ اس لئے ان کی شرکت ضروری نہیں تھی۔

بہرحال اس معاملے پر سرکار کی جانب سے پیش کی گئی تمام توجیہات اور وضاحتیں بے معنی اور افسوس ناک ہیں۔ کیوں کہ بطور وزیراعظم عمران خان کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے۔ کہ وہ گلگت بلتستان، کشمیر اور پاک افغان تعلقات جیسی اہم نوعیت کی بریفنگز کا حصہ بنیں۔ اگر بوجوہ وہ ایسا نہیں کرتے تو اس صورت حال میں قومی قیادت کے درمیان یکجہتی اور اتحاد کے تاثر کی نفی ہوتی ہے۔ انہیں کنٹینر کی سیاست سے باہر آ کر فرنٹ سے ملک کو لیڈ کرنا پڑے گا۔ ورنہ ان کا اقتدار خطرے میں بھی پڑھ سکتا ہے۔ دراصل عمران خان اپوزیشن لیڈر سے اس وجہ سے خائف ہیں۔ کیوں کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کا اعتماد حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اسی وجہ سے عمران خان انہیں اپنے اقتدار کے لئے ایک بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments