EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

ٹرانسپلانٹ سے متعلق چند باتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ٹرانسپلانٹ کے بعد خوشی اور گہرے اطمینان کا احساس ہوا۔ کئی سال ڈائیلیسز پر گزارنے کے بعد یہ میرے لیے بہت ہی خوشگوار تبدیلی ثابت ہوئی۔ کچھ دن خالہ کے گھر گزارے پھر لاہور چل دیے۔ زندگی میں کئی تبدیلیاں آ گئی تھیں۔ اب پہلے کی طرح نہ پرہیز تھا نہ کہیں آنے جانے کی پابندی تھی نہ ڈائیلیسز کی پریشانی تھی۔ ٹرانسپلانٹ کے کچھ اپنے ہی قواعد و ضوابط تھے جو مجھے کچھ خاص سخت نہ لگتے تھے۔ ڈائیلیسز ٹریٹمنٹ پر نہ جانے کی وجہ سے میرا بہت سا وقت بھی بچنے لگا۔

ان دنوں ہم لاہور میں تھے۔ شروع میں بہت سا وقت تو کمرے کے اندر ہی گزرا۔ دو تین ماہ میں زخم مکمل مندمل ہو چکا تھا۔ پھر صبح کی دوڑ کو معمول کا حصہ بنایا۔ اس کے بعد ناشتہ کرتی اور پھر کوئی کتاب پڑھتی۔ اتنی دیر تک گھر والے جاگ جاتے اور مجھے دوبارہ نیند آجاتی۔ لاہور کا موسم ان دنوں اچھا ہوا کرتا تھا اور صبح لان میں نکل کر خوشگوار احساس ہوتا۔ شام کو کبھی کبھار لان میں نکل کر بیڈمنٹن کھیلتے۔

وہاں سے گھر تبدیل ہوا تو ایک بلڈنگ میں دوسری منزل پر گھر ملا۔ وہاں زیادہ وقت اپنے کمرے میں ہی گزارتی۔ پڑھنے اور دوستوں کے ساتھ گپ شپ میں وقت گزرتا۔ کبھی کبھی کسی مال کا چکر لگاتے اور رات کا کھانا وہیں پر کھاتے۔ میں موٹی ہو گئی تھی۔ کچھ تو دوائیوں کا کمال تھا اور کچھ ڈائیلسز سے چھٹکارا پانے کی خوشی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے چار سال گزر گئے۔ آہستہ آہستہ میری طبیعت خراب ہونا شروع ہو گئی۔ ٹیسٹ کرایا تو پتہ چلا کہ گردہ کام چھوڑ رہا ہے۔

ان دنوں ڈپریشن بھی عروج پر تھا کہ دوسری پریشانیوں کے ساتھ گردہ ناکارہ ہو جانے کا ڈر بھی تھا۔ آخر رواں سال کے مئی میں ڈاکٹر نے ڈائیلیسز کا کہہ دیا اور میں پہلے کی طرح ڈائیلیسز پر آ گئی۔ اس وقت تک طرح طرح کے واہموں اور شکوک نے بہت کمزور کر دیا تھا۔ ڈائیلیسز میں سٹاف نے بہت ساتھ دیا۔ ادھر ادھر کی باتیں کرتے اور بہت خیال رکھتے۔ میرا ڈپریشن ختم ہونے لگا۔

دنیا بھر میں اس وقت لاکھوں افراد گردے ناکارہ ہونے کے باعث ڈائیلسز کروانے پر مجبور ہیں۔ ان میں زیادہ تعداد ان کی ہے جن کے گردے بلڈ پریشر، ذیابیطس یا کسی اور بیماری کے سبب ناکارہ ہوچکے ہیں۔ ان کے لیے یہی طریقہ ہی کہ وہ ہفتے میں دو یا تین دفعہ ڈائیلسز کروائیں یا گردہ ٹرانسپلانٹ کروائیں تاکہ ڈائیلیسز سے نجات حاصل ہو سکے۔ صحت مند انسان کے جسم میں دو گردے ہوتے ہیں جن میں سے ایک عطیہ کر کے بھی وہ اپنی بقایا زندگی بغیر کسی مسئلے یا پیچیدگی کے گزار سکتا ہے۔

ترقی یافتہ ممالک میں گردے عطیہ کرنا اور گردے کی پیوندکاری روز مرہ معمول کا حصہ بن چکی ہے۔ جبکہ ہمارے یہاں اس سارے عمل اور ٹرانسپلانٹ سے متعلق بھی قسم قسم کی کہانیاں، شکوک و توہمات وجود رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں لوگوں سے رائے لینے کی بجائے ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کرنا ہی ایک بیمار شخص کے لیے فائدہ مند ہے۔ کوئی بھی صحت مند انسان اپنے اوائل جوانی سے بڑھاپے کے آغاز تک اپنے اعضاء عطیہ کر سکتا ہے۔ حادثے یا اچانک موت کی صورت میں یہ اعضا نکال لیے جاتے ہیں اور ضرورت مندوں کو لگائے جاتے ہیں۔

اس طرح ایک صحت مند فرد ناگہانی موت کی صورت میں کئی افراد کی جان بچا سکتا ہے۔ دوسری صورت میں ایک صحتمند انسان کسی ضرورتمند کو اپنا ایک گردہ عطیہ یا فروخت کر سکتا ہے۔ جہاں دنیا بھر میں اعضا بعد از موت عطیہ کرنے پر زور دیا جاتا ہے وہاں گردوں کی خرید و فروخت کو اقوام عالم نے جرم قرار دے کر قابل گرفت سزا ٹھہرائی ہے۔ اس وقت ایران دنیا بھر میں وہ واحد ملک ہے جہاں انسانی گردوں کی خرید و فروخت قانونی حیثیت رکھتی ہے۔ ایران کی حکومت بھی اس سلسلے میں ضرور مندوں کو مالی امداد فراہم کرتی ہے۔ حکومت دونوں طرف کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتی ہے اور بہترین طبی سہولیات فراہم کرتی ہے۔ یہ عمل صرف ایران کے شہریوں کے لیے مخصوص ہے۔

پاکستان میں بھی کسی زمانے میں گردے فروخت کی بڑی مارکیٹ ہوا کرتی تھی۔ مگر اب یہ کام غیر قانونی قرار دیا گیا ہے اور صرف چند ضرورت مند افراد جن کے پاس دولت ہو، اس عمل سے گزرتے ہیں۔ غیر قانونی ہونے کے سبب اب اس عمل میں کئی مسائل کا سامنا ہے۔ پہلے تو گردہ عطیہ کرنے والے افراد ہی نہیں ملتے اگر مل جائیں تو بھی ان کا بلڈ گروپ صحیح ٹشو میچنگ میں سال دو سال لگ جاتے ہیں۔ اس دوران مریض ڈپریشن اور مایوسی کا شکار رہتا ہے۔

مریض اور بھی کئی پیچیدگیوں کا شکار ہوجاتا ہے جن میں دل کی تکالیف، ہائی بلڈپریشر، ہیپاٹائیٹس اور ہڈیوں کی بیماریاں وغیرہ شامل ہیں۔ غیرقانونی ہونے کے باعث یہ کام چھپتے چھپاتے عمل میں آتا ہے اور اکثر کسی غیر معیاری ہسپتال سے انفیکشن لگ جانے سے یا صحیح میچنگ نہ ہونے کی وجہ سے مریض کا نیا گردہ جلد ہی ناکارہ ہوجاتا ہے۔

کچھ عرصہ قبل ٹی وی میں خبریں آ رہی تھیں کہ معروف ہسپتال میں عین آپریشن کے دوران چھاپا مارا گیا اور گردہ ٹرانسپلانٹ نہیں ہوسکا۔ یہ یقیناً گردے کے مریضوں اور بیمار افراد کے لیے نہایت مایوس کن خبر تھی۔ طویل انتظار کے بعد جب ایک بیمار شخص میچنگ گردہ مل جانے کے بعد آپریشن ٹیبل پر لیٹتا ہے تو خوف کے ساتھ ایک نئی زندگی کی امید بھی ہوتی ہے۔ یہ ایک نہایت ہی فیصلہ کن مرحلہ ہوتا ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ اس کام پر لگی پابندی کا ازسرنو جائزہ لے۔ ڈاکٹروں اور صحت کے شعبے سے متعلق افراد کے مشورے سے انسانی اعضا کے تبادلے سے متعلق نئے قوانین بنائے اور اس معاملے کے فریقین کا تحفظ یقینی بنائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے