EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

دلیپ کمار کی زبان ایک عہد کی زبان تھی جو ان کے ساتھ ہی رخصت ہو گئی

مرزا اے بی بیگ - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دلیپ کمار

نہ میں دیوداس ہوں نہ میری کوئی پارو ہے اور جب پارو نہیں تو چندرمکھی کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ پھر بھی میں جب بھی اداس ہوتا ہوں دلیپ کمار کی فلم ‘دیوداس’ ضرور دیکھتا ہوں۔

یہ بظاہر عجیب لگ سکتا ہے لیکن اپنا یہ عقیدہ ہے بقول غالب کہ ‘درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہوجانا’۔ فلم ‘دیوداس’ میں دلیپ کمار کی اداسی اور مایوسی کے سامنے میری اداسی اور مایوسی کم مائيگی کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس کی دنیا کا خالی پن ساری دنیا کو حقیر ثابت کر دیتا ہے۔ اس کا درد نسوں میں دوڑ کر تطہیر قلب کا باعث ہنتا ہے۔

دنیا کے لاکھوں لوگوں کی طرح دلیپ کمار کا اور ہمارا رشتہ بھی ناظر اور اداکار کے علاوہ کچھ نہیں لیکن میں کہہ سکتا ہوں کہ ایک دلیپ کمار میرے اندر بھی بستا ہے۔

گھر میں فلم دیکھنے کی اجازت نہیں تھی بھائی جان کو جب پتہ چلا کہ میں نے چھپ کر ایک فلم دیکھ لی ہے تو انھوں نے صرف دلیپ کمار کی فلم دیکھنے کی اجازت دی اور پھر میں اور دلیپ کمار ایک جان دو قالب ہو گئے۔

جب پہلی بار دلی آنا ہوا تو پتہ چلا کہ عالمی اردو کانفرنس میں دلیپ کمار تشریف لانے والے ہیں۔ تین دنوں کا رنگا رنگ پروگرام تھا۔ پاکستان سے درجنوں مشاہیر تشریف لائے جن میں پاکستان میں دلیپ کمار کہے جانے والے اداکار محمد علی، گلوکارہ ناہید اختر، غزل گائیکی کا روشن مینارہ اقبال بانو اور نامی گرامی شرائے کرام شامل تھے۔

عالمی اردو کانفرنس اور مایوسی

پہلی بار اردو کی مجلس دیکھی اور اردو بولنے والے ماہرین کو سنا۔ گوپی چند نارگ کی روانی دیکھی جب انھوں نے ناہید اختر کو حکیم مومن خان مومن کے ایک شعر کے ساتھ ڈائس پر مدعو کیا:

اس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپک

شعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو

اسی مجلس میں رئیس مرزا کا لکھنوی لہجہ سنا اور روس سے تشریف لانے والی لدملا کو سنا جن کے بارے میں گوپی چند نارنگ نے کہا تھا کہ ‘اردو ان کے گھر کی بھی لونڈی ہے۔’

لیکن جس کے نام پر وہاں لوگ جمع ہوئے وہ وہاں نہیں تھے۔ ایک دن گزرا اور اعلان ہوا کہ دلیپ کمار آج تشریف نہیں لا سکے وہ کل آئيں گے۔ دوسرا دن گزرا اور پھر وہی اعلان ہوا۔ میری بے چینی بڑھتی گئی یہاں تک کہ تیسرے دن یہ اعلان ہوا کہ معروف اداکار سنجے خان کے ٹی وی سیریئل ‘دی سورڈ آف ٹیپو سلطان’ کے سیٹ پر آگ لگ گئی جس میں وہ بری طرح جھلس گئے ہیں اور دلیپ کمار دہلی کے بجائے بنگلور کے لیے روانہ ہو گئے۔

دلیپ کمار

اردو سے پہلی بار میرا سامنا ہوا اور میں اس زبان کی مٹھاس اور شیرینی کا ذکر کرتے نہ تھک رہا تھا کہ سامعین میں بیٹھے ایک صاحب نے کہا کہ اردو بولنے والا تو آیا ہی نہیں۔ ان کی مراد یوسف خان عرف دلیپ کمار سے تھی۔

ہم تو پہلے سے ہی دلیپ کمار کے مرید، مداح اور قتیل تھے، اس جملے نے دو آتشے کا کام کیا۔ اس زمانے میں دلیپ کمار کے مداح آپ کو گلی محلے میں یوں ہی مل جاتے، جن کا لب و لہجہ مختلف ہوتا اور ان کا رکھ رکھاؤ بھی آپ کو ان کی جانب راغب کرتا اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں میرے استاد اور نگراں ڈاکٹر اسلم پرویز تو گویا ان کی فوٹو کاپی تھے۔

بہر حال میرا ایک کزن جب بمبئی (اس وقت تک نام نہیں بدلا تھا) سے آیا تو اس نے بتایا کہ وہ اس مشاعرے میں موجود تھا جس میں دلیپ کمار جلوہ افروز تھے۔ اور پھر اس نے دلیپ کمار کا ایک جملہ دہرایا جو انھوں نے مشاعرے میں دیر سے آنے پر معذرت کے بعد کہا: ‘جب ممبئی والے قطرہ قطرہ تبسم کو ترس رہے تھے تو آپ نے یہ محفل سجا کر ایک طرف جہاں ہمارے دلوں کو طمانیت بخشی ہے وہیں ہونٹو پر تبسم کو بکھیر دیا ہے۔’

دلیپ کمار اور اردو

یوسف خان جب ابھی دلیپ کمار نہیں بنے تھے اور فلمی دنیا کی جانب رخ کرنا ان کے حاشیہ خیال میں بھی نہ تھا کہ ایک شناسا ان سے ملے اور ان کی ملاقات بامبے ٹاکیز کی مالکن اور اداکارہ دیویکا رانی سے کرائی اور پہلی ہی ملاقات میں دیویکا رانی نے ان سے جو پہلا سوال کیا وہ یہ تھا کہ ‘کیا آپ اردو جانتے ہیں؟’ اور پھر سب کو معلوم ہو گیا کہ دلیپ کمار کو کتنی اردو آتی ہے۔

فلموں میں مکالمے صاحب طرز انشا پرداز اور بڑے قلمکاروں کے ہوتے ہیں۔ لہجے اور ادائیگی کا ذمہ اداکاروں پر ہوتا ہے۔ اس لیے فلم سے قطع نظر ہماری نظر دلیپ کمار کی اس اردو کی جانب از خود چلی جاتی ہے جو ان کی اپنی اردو کہی جا سکتی ہے جو ان کے قلب میں نمو پاکر دہن شیریں سے پھوٹ پڑتی ہے۔

کیسٹ کا زمانہ

ابھی ورلڈ وائڈ ویب پیدا نہیں ہوا تھا اور انٹرنیٹ سے لوگوں کی واقفیت نہیں تھی تو کیسٹ پلیئرز اور ریکارڈ کا زمانہ تھا۔ لندن کے البرٹ ہال میں لتا منگیشکر کے لائیو کنسرٹ کا کیسٹ ہاتھ لگا جس میں دلیپ کمار خوش گلوئی کی دیوی کا تعارف کرا رہے تھے۔ آپ میں سے بہت سے لوگوں نے وہ تعارفی کلمے سنے ہوں گے لیکن انھیں یہاں نقل کرنا بے موقع نہ ہوگا:

‘خواتین و حضرات! نہرو میموریل کے اغراض و مقاصد سے آپ سب اچھی طرح واقف ہیں۔ آپ حضرات اور ویسے تو ساری دنیا جانتی ہے کہ پنڈت جواہر لعل نہرو ایک سیاست دان سے کہیں زیادہ مہان اور کہیں زیادہ عظیم تر انسان تھے۔ ان کو فنون لطیفہ، جنھیں انگریزی میں فائن آرٹس کہتے ہیں، موسیقی اور سنگیت سے کافی لگاؤ تھا۔ ہندوستان میں جب کبھی بھی کوئی انسانی مسئلہ یا مرحلہ درپیش آیا، یا جب کبھی بھی کسی آسمانی آفت یا مصیبت نے ہم لوگوں کو آ گھیرا، جب کبھی بھی ضرورت پیش آئی ہندوستانی فلم انڈسٹری کے مختلف گروہوں نے ملک کے مختلف حصوں میں باوقار اور کامیاب اسی طرح کے میوزیکل کانسٹرس پیش کیے۔

‘مجھے یہ کہنے میں فخر ہوتا ہے اور در حقیقت میں اسی لیے یہاں آیا ہوں، اپنا اظہار عقیدت پیش کرنے کے لیے کہ ہماری اس کامیابی کی روح رواں رہی ہیں لتا منگیشکر۔

‘حضرات! جس طرح کہ پھول کی خوشبو یا مہک کا کوئی رنگ نہیں ہوتا وہ محض خوشبو ہوتی ہے، جس طرح کے بہتے ہوئے پانی کے جھرنے یا ٹھنڈی ہواؤں کا کوئی مسکن، گھر یا گاؤں، کوئی وطن یا دیش نہیں ہوتا، جس طرح کے ابھرتے ہوئے سورج کی کرنوں کا یا کسی معصوم بچے کی مسکراہٹ کا کوئی مذہب یا بھید بھاؤ نہیں ہوتا ویسے ہی لتامنگیشکر کی آواز قدرت کی تخلیق کا ایک کرشمہ ہے۔

‘میں اپنے تئیں اس لیے یہاں حاضر ہوا ہوں کہ حالانکہ یہ میری چھوٹی سی بہن ہے بہت مختصر سی لتا منگیشکر، لیکن میں اس کا احسان مند ہوں۔ میں اس احسان کا اور اظہار عقیدت کا ایک معمولی عوض دینے یہاں آیا۔ اور میں اس وقت انھیں مدعو کرتا ہوں، ان کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ آپ کے سامنے تشریف لائیں، اور آپ سے استدعا کرتا ہوں کہ آپ ان کا ایسا استقبال کریں، ایسا خیرمقدم ہو کہ یہ ہال جو ہے وہ گونج اٹھے۔ لتا جی آپ تشریف لائیے۔’

ریڈیو ٹی وی کے بعد انٹرنیٹ

گاہے گاہے ٹی وی اور ریڈیو پر دلیپ کمار کی آواز اور اردو زبان کی چاشنی لوگوں کو سننے کو ملتی رہی۔ اور پھر زمانہ انٹرنیٹ کا آگیا اور لوگوں کے سامنے دلیپ کمار کی نادر چیزیں ہاتھ لگیں۔

ان میں وہ پروگرام بھی شامل ہیں جب دلیپ کمار پاکستان پہنچے اور ان کا والہانہ استقبال ہوا اور اس میں وہ پروگرام بھی شامل ہیں جن میں ماہر میزبان معین اختر ان الفاظ میں ان کا استقبال کرتے ہیں: ‘ایک ایسے شخص سے آپ کو ملواتا ہوں جنھیں اللہ تعالی نے وہ قد، وہ قامت، وہ عزت، وہ شہرت عطا کی جس کے لیے دنیا میں انسان تمنا کرتا ہے۔’

پھر ان سے خیر کے کاموں میں شرکت کرنے کے بارے میں ایک سوال کیا جس کے جواب میں دلیپ کمار نے کہا کہ ‘آپ کے سوال میں ہی آپ کے سوال کا جواب چھپا ہوا ہے۔ فلم میں نام اور شہرت جو ملتی ہے، خاص طور سے کم عمر لوگوں کو اور اگر عمر رسیدہ لوگوں کو بھی مل جائے تو وہ اپنے حواس کھو بیٹھتے ہیں۔ شہرت ایک قسم کا مرض بھی ہے۔ فلم میں، فلم گلیمر تو دیکھنے میں ایک بہت ہی چمکتا دمکتا سلسلہ ہے، اس سے آنکھیں چوندھ جاتی ہیں لوگوں کی، لیکن اس کے پیچھے کچھ ایسے امراض ہیں جو انسان میں داخل ہو جاتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ میرلن منرو جو اتنی مشہور تھیں انھوں نے زہر کھا کر اپنی جان لے لی۔ ہمارے ساتھی، ہمارے دوست مشہور ڈائریکٹر گرودت تھے۔ وہ میرے دوست تھے لیکن عام طور پر اپنی شہرت سے اس قدر خائف اور متاثر تھے کہ انھوں نے بھی زہر کھا کر جان دے دی۔’

کراچی کے طلبہ کی جانب سے منعقدہ ایک مشاعرے میں دلیپ کمار نے جہاں اپنی اردو کا جادو بکھیرا وہیں انڈیا میں اردو کو پیش آنے والی مشکلات کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے کنور مہیندر سنگھ بیدی سحر کے اعزاز میں بات تو کی لیکن جب انھوں نے اپنی باتوں کی ابتدا اس شعر سی کی تو سب نظریں ان کی اہلیہ سائرہ بانو کی جانب چلی گئی۔

‘۔۔۔ بھائی اور بہنو، کیفیت کچھ ایسی ہے کہ:

سکون دل کے لیے کچھ تو اہتمام کروں

اور

ذرا نظر جو ملے پھر انھیں سلام کروں

مجھے تو ہوش نہیں آپ مشورہ دیجیے

کہاں سے چھیڑوں فسانہ کہاں تمام کروں

‘آج کی اس شب کے لیے جہاں تک میرا تعلق ہے، بہت سی یادیں بہت سے سال، بہت سی تقریبیں، بہت کچھ وابستہ ہیں۔ سب سے پہلے تو میں اپنی جو ایسوسی ایشن ہے، کراچی سٹوڈنٹس کی، ان کو مبارکباد دیتا ہوں کہ انھوں نے سنگلاخ تو کہہ نہیں سکتے لیکن پھسلتی ہوئی زمین میں یہ داغ بوٹے جوہیں یہ لگائے اور اس کی شادابی اور اس کی مہک ماشاءاللہ دور دور تک پھیل گئی۔۔۔ بمبئی کی ہوا میں بھی کبھی کبھی یہاں کی محفلوں کی مہک محسوس ہوئی۔ اور اس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں کہ میں پہلے اس پلیٹفارم پر حاضر نہیں ہو سکا۔ اس کے لیے ہم نے سلیم بھائی سے معافی بھی مانگ لی ہے۔ ہمارے خمار صاحب بیٹھے ہوئے ہیں، ساتھ میں ان سے معافی کا طلبگار ہوں میں۔’

تقسیم ہند کے بعد کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے دلیپ کمار نے اسی محفل میں کہا: ‘دقت کا دور رہا، مشکل کا دور رہا۔ ایک وقت تھا جبکہ ہندوستان میں اردو زبان تقریباً یتیم ہو چکی تھی۔ اور یہ میں اپنا اخلاقی فرض سمجھتا ہوں کہ اس بات کا اعتراف کروں کہ دو شخصیتیں نمایاں تھیں کہ جنھوں نے اس زبان کے حسن کو مشاعروں کے ذریعے ہندوستان کے مختلف کونوں میں دقت طلب اور صبر آزما حالتوں میں برقرار رکھا ہے۔ اور وہ مونس و غمخوار، وہ معاون ہماری اردو زبان کے جہاں وی شنکر صاحب تھے وہیں کنور مہیندر سنگھ بیدی صاحب بھی ہیں، اللہ ان کو سلامت رکھے۔’

دلیپ کمار نے اپنی سوانح حیات میں اردو زبان و ادب سے شغف کا سارا سہرا اپنے بڑے بھائی ایوب سرور کو دیا ہے جو کہ ان کے مطابق زبان اور شعر ادب سے تعلق رکھنے والے انتہائی نفیس آدمی تھے۔ ان کی جواں مرگی نے دلیپ کمار پر گہرے اثرات مرتب کیے تھے۔

دلیپ کمار کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے نشست و برخاست اور زبان کے معاملے بہت محتاط رہتے تھے۔ ان کی عام بول چال کی زبان بلند پایہ اردو تھی لیکن جب وہ انگریزی بولتے تو نفیس انگریزی بولتے تھے اور انھیں اپنی انگریزی زبان دانی پر فخر بھی تھا جس کا ذکر انھوں نے اپنی سوانح میں بھی کیا ہے کہ کس طرح انھیں ان کی انگریزی کی بدولت پونے کی کینٹین میں نوکری ملی تھی۔ لیکن جب وہ ہندی بولتے تو اس زبان میں بھی رس گھول دیتے تھے۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے شوکت خانم ہسپتال کے لیے منعقدہ ایک پروگرام میں دلیپ کمار نے جب شرکت کی تو اس میں اول اول انھوں نے انگریزی میں خطاب کیا اور پھر انھوں نے عمران خان کے لیے اردو الفاظ کے دریا بہا دیے۔’

انھوں نے کہا: ہی از سیٹنگ اے شائننگ اگزیمپل، اے گلیٹرنگ اگزیمپل فار ناٹ اونلی دی پیپل آف پاکستان بٹ آل دوز پیپل وھو ٹیکس ٹو سپورٹس فار سرٹین کائنڈ آف سروس۔۔۔ (اور پھر اردو میں) خوش نصیب تھی وہ ماں جس کی کوکھ سے ایسا بچہ، اس قدر حسین اور اس قدر شجاعت والا لڑکا پیدا ہوا، جس کے اتنے بلند ارادے ہیں۔ اور خوش نصیب ہیں آپ سب پاکستان کے رہنے والے، عمران کے عزیز و اقارب کہ ان کے درمیان اس قدر شجاعت والا اور ہمت والا ایک شخص ہے جو بولنگ کرتے کرتے اور بیٹنگ کرتے کرتے اپنے آپ کو کہاں سے کہاں لے آیا ہے۔’

دلیپ کمار کا ایک مداح

اردو تہذیب کا بیان

دلیپ کمار نے اردو اور اس سے وابستہ تہذیب و تربیت کا ذکر سحر کے حوالے سے اس طرح کیا: ‘۔۔۔اور جیسے کہ ہمارے گھروں میں تربیت ہوتی ہے، نشست و برخاست، اٹھنے بیٹھنے کی، گفتگو کرنے کی، ایک دوسرے سے سلوک اور سلسلہ قائم رکھنے کی وہ آداب اگر ہم نے کئی اور بزرگوں سے سیکھے ہیں تو سیکھے ہیں، یقینا، لیکن اس کا بہت کچھ حصہ ہمیں کنور صاحب سے بھی ملا ہے۔’

ایک دوسرے پروگرام میں دلیپ کمار نے اردو کے معروف شاعر جوش ملیح آبادی کی ایک نظم سے اردو کے متعلق چند اشعار کیا پڑھے گویا وہ ان پر ایسے چسپاں ہو گئے گویا وہ ان کی شخصیت کا حصہ ہوں۔ ان اشعار میں مذکور لہجے کے زیرو بم کو آپ آنکھ بند کرکے دلیپ کمار کی شخصیت کے سیاق و سباق میں دیکھ سکتے:

ندّی کا موڑ چشمۂ شیریں کا زیرو بم

چادر شب نجوم کی شبنم کا رخت نم

موتی کی آب، گل کی مہک، ماہ نو کا خم

ان سب کے امتزاج سے پیدا ہوئی ہے تو

کتنے حسیں افق سے ہویدا ہوئی ہے تو

دلیپ کمار اور سائرہ بانو

اور پھر یہ کہ

لہجہ ملیح ہے کہ نمک خوار ہوں ترا

صحت زبان میں ہے کہ بیمار ہوں ترا

تیرے کرم سے شعر و ادب کا امام ہوں

شاہوں پہ خندہ زن ہوں کہ تیرا غلام ہوں

دلیپ کمار کا انداز، ان کا پاز، بعض الفاظ پر زور دینا یعنی لہجے کا اتار چڑھاؤ، نشیب و فراز ان کو ممتاز بناتا ہے۔ انھوں نے اپنی زبان سے ایک پوری نسل کو متاثر کیا ہے۔ اگر آپ دیکھیں تو آپ پائیں گے نغمہ نگار جاوید اختر ان کی نقل ہیں جبکہ ایسا لگتا ہے کہ سماجوادی پارٹی کے رہمنا اعظم خان تو بطور خاص ان کے لہجے میں بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

بہر حال دلیپ کمار سے ملنے کے لیے میں کئی بار ممبئی گیا۔ ایک بار انٹرویو کی پوری تیاری ہو گئی اور جب دہلی سے ممبئی پہنچا تو پتا چلا کہ صاحب تو ایئرپورٹ کے لیے نکل گئے ہیں۔ ان کا فون نمبر دیا گیا اور جب بات کی تو ادھر سے ایک ایسی جانی پہچانی آواز آئی جس نے پھر سے مسحور کر دیا اور میں اپنا مافی الضمیر ادا کرنے سے قاصر رہا۔ انٹرویو کا ذکر کیا تو انھوں نے معذرت کے ساتھ کہا کہ ‘بیٹا، میں جلدی میں لندن روانہ ہو رہا ہوں، وہیں انٹرویو کر لینا۔ میں تو یہ بھی نہ کہہ سکا کہ میں باندرہ میں ان کے گھر پر ہوں۔

بہر حال ملاقات نہ ہونی تھی سو نہ ہوئی اور میرے ذہن میں اب فلم ‘دیوداس’ کے آخری مناظر گھوم رہے ہیں جس میں دلیپ کمار بیل گاڑی والے سے کہتے ہیں: ‘او بھائی گاڑی والے مانک پور چلوگے؟’ اور پھر راستے میں ماضی کی پرچھائیوں اور ڈوبتی سانسوں کے درمیان وہ دم کھینچ کر کہتے ہیں’ارے بھائی کیا کبھی یہ راستہ ختم نہیں ہوگا؟’

لیکن سات جولائی کو صبح ساڑے سات بجے، بدھ کی صبح دیوا یعنی دیوداس کا راستہ ختم ہوگیا اور ان کی منزل آ گئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19983 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp