دلوں کے دیوداس، اداکارِ اعظم کا آخری سلام
دلیپ کمار۔ برصغیر کی سلور اسکرین کے ایک دور نہیں بلکہ، ایک ’مکتب فن‘ کا نام۔ جنہوں نے پورے 44 برس، پہلے مشترکہ ہندوستان اور بعد ازاں بھارت کے سنیما پر اپنے انتہائی منفرد انداز سے نہ صرف راج کیا، بلکہ ایسے ”سپر اسٹار“ کی حیثیت سے اپنا لوہا منوا کر، پرفارمنس کا ایک مشکل ”بنچ مارک“ مقرر کیا، کہ ان کے بعد آنے والے متعدد فلمی ستارے، ”سپر اسٹار“ کا درجہ پانے کے باوجود ان کے مقام کو چھو نہیں سکے۔ اور دلیپ کمار، جیسے ’اعلیٰ اداکاری‘ کا استعارہ بن گئے۔ 11 دسمبر 1922 ء کو پشاور کے قصہ خوانی بازار کے نواح میں محلہ خداداد میں واقع، ہندکو بولنے والے، ایک اعوان پٹھان خانوادے میں جنم لینے والے محمد یوسف خان، بدھ، 7 جولائی 2021 ء کو ممبئی میں 98 برس، 6 ماہ، 26 دن کی عمر پا کر، اپنے ان گنت مداحوں کی آنکھوں میں اشک سجا کر، عدم کے راہی ہوئے۔
یوسف خان عرف دلیپ کمار، پشاور کے پھلوں کے ایک تاجر، لالا غلام سرور خان کے 12 بچوں میں سے ایک تھے۔ پشاور میں راج کپور اور ان کا گھر، لگ بھگ ایک ہی محلے میں تھا اور وہ دونوں اس بات سے بے خبر آپس میں بچن کے دوست تھے، کہ وہ آگے چل کر ہندی فلم نگری پر اور فلم بینوں کے دلوں پر راج کریں گے۔ یوسف خان جب تقریباً 13 برس کے تھے، تو 1935 ء میں ان کے والدین، کاروبار کے سلسلے میں بمبئی ہجرت کر کے آئے اور وہیں مستقل طور پر سکونت پذیر ہو گئے۔
دلیپ کمار صاحب کی اداکاری کا شوق کم و بیش ان کی عمر جتنا ہی پرانا تھا۔ جس کی آبیاری کے لئے انہوں نے ممبئی (جو ان دنوں ”بمبئی“ تھا) کی فلمی دنیا کا دروازہ کھٹکھٹایا، جہاں تھوڑی بہت جدوجہد کے بعد ، انہیں 1944 ء میں مشترکہ ہندوستان کی فلم نگری میں قدم رکھنے کا موقع مل گیا۔ اس جادو نگری میں داخل ہونے کے بعد انہوں نے اپنا فلمی نام ”دلیپ کمار“ رکھا اور اس کے بعد ”یوسف خان“ فقط ان کی ذاتی پہچان ہی کا حوالہ بن کے رہ گیا۔
ان کی پہلی فلم ”جوار بھاٹا“ تھی، جو فلم کے شائقین کی توجہ پانے میں ناکام رہی۔ ان کی ناکام فلموں کا سلسلہ کچھ برس جاری رہا اور انہیں چند سالوں تک کوئی بھی قابل ذکر پذیرائی نہ مل سکی۔ مگر تقسیم ہند سے پہلے، اسی برس ( 1947 ء ہی میں ) ریلیز ہونے والی فلم ”جگنو“ میں انہوں نے پہلی مرتبہ کامیابی کا لطف پایا، جس میں ان کے ساتھ نورجہاں نے مرکزی کردار ادا کیا اور فلم بینوں نے اس فلم کو اور اس میں دلیپ صاحب کے ساتھ ساتھ نورجہاں کی اداکاری کو بھی بے حد پسند کیا۔ یہ باکس آفس پر دلیپ کمار صاحب کی پہلی ہٹ فلم ثابت ہوئی۔ ”جگنو“ میں ملکۂ ترنم نورجہاں اور محمد رفیع صاحب کے گائے ہوئے دوگانے بھی بے حد مقبول ہوئے، جو آج تک موسیقی کے شائقین کو ازبر ہیں۔
”جگنو“ کے بعد دلیپ صاحب کی بڑی کامیاب فلموں میں 1948 ء میں بننے والی ”شہید“ اور اسی برس بننے والی فلم ”میلہ“ شامل ہیں۔ ”میلہ“ میں بھی نورجہاں نے ایک بار پھر دلیپ صاحب کے ساتھ اداکاری کے جوہر دکھائے۔ 1949 ء میں محبوب خان کی بنائی ہوئی فلم ”انداز“ نے انہیں کھڑکی توڑ کامیابی دی، جس میں انہیں اپنے بچپن کے دوست، راج کپور اور نرگس کے ساتھ اداکاری کرنے کا موقع ملا۔ اسی سال ریلیز ہونے والی فلم ”شبنم“ بھی ان کی سپر ہٹ فلم ثابت ہوئی۔ جس کے بعد دلیپ کمار کی کامیابیوں کا ایک ناں ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔
1950 ء کی دہائی، دلیپ کمار صاحب کے لئے بے پناہ کامیابیوں کا عشرہ ثابت ہوئی۔ جس میں وہ صحیح معنوں میں ہندوستانی فلمی پردے کی زینت خواہ مجبوری بن گئے۔ ان کی ان دس سالوں میں ریلیز ہونے والی کامیاب فلموں میں ”جوگن“ ( 1950 ء) ، ”بابل“ ( 1950 ء) ، ”ہلچل“ ( 1951 ء) ، ”دیدار“ ( 1951 ء) ، ”ترانہ“ ( 1951 ء) ، ”داغ“ ( 1952 ء) ، ”سنگدل“ ( 1952 ء) ، ”شکست“ ( 1953 ء) ، ”امر“ ( 1954 ء) ، ”اڑن کھٹولا“ ( 1955 ء) ، ”انسانیت“ ( 1955 ء) جس میں ان کے ساتھ پہلی مرتبہ دیو آنند نے کام کیا، ”دیوداس“ ( 1955 ء) ، ”نیا دور“ ( 1957 ء) ، ”یہودی“ ( 1958 ء) ، ”مدھومتی“ ( 1958 ء) اور ”پیغام“ ( 1959 ء) جیسی کئی ایک باکس آفس ہٹ فلمیں شامل ہیں، جن میں مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے، دلیپ صاحب نے کامیابی کے جھنڈے گاڑھے۔
سرت چندرا چترجی کے لکھے، عالم آشکار بنگالی رومانوی ناول ”دیوداس“ پر اگرچہ اس سے پورے دو عشرے قبل، 1935 ء۔ 36 ء میں مشترکہ ہندوستانی فلمی سنیما کی جانب سے ”دیوداس“ ہی کے نام سے فلم بن چکی تھی، جس میں دیوداس کا مرکزی کردار، برصغیر کے عظیم گلوکار اور اداکار، کندن لعل سہگل (کے۔ ایل۔ سہگل) اور جمنا بروا نے ادا کیا تھا، مگر اس سے ٹھیک 20 سال بعد بمل رائے کی پروڈکشن اور ہدایتکاری میں بننے والی فلم ”دیوداس“ میں دلیپ صاحب نے ”دیوداس“ کے کردار کو ایک نئے رنگ ڈھنگ میں دنیا کے آگے پیش کر کے، اس کردار ہی نہیں بلکہ محبت کی بھی ایک نئی تعریف بیان کی۔ جس میں چندرمکھی کا دوسرا مرکزی کردار، وجنتی مالا نے ادا کر کے، اس فلم کو ایک تاریخ بنا ڈالا۔ ”دیوداس۔ 2“ نے برصغیر کے فلمی پردے کی وہ تاریخ رقم کی، جس کے عکس اور نقوش، 2002 ء میں سنجے لیلا بھنسالی کی ڈائریکٹ کی ہوئی ”دیوداس۔ 3“ بھی مدھم نہ کر سکی۔
1950 ء کی دہائی میں ریلیز ہونے والی کچھ فلموں نے، دلیپ کمار صاحب کے پردے پر ابھرنے والے تاثر (اسکرین امیج) کو ایک ”ٹریجڈی کنگ“ کے طور پر مضبوط کر دیا۔ یہ بات مشہور ہے کہ فلموں میں ادا کرنے والے کرداروں کو دلیپ صاحب اپنی ذات پر حاوی کر لیا کرتے تھے۔ اور ان کرداروں کے ساتھ لاحق ہر کیفیت کا مکمل طرح فکری جامہ پہن کر، وہ کردار ادا کیا کرتے تھے۔ اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ مسلسل کئی المناک اور اداسی سے بھرپور کردار ادا کرنے کی وجہ سے، دلیپ صاحب مختصر عرصے کے لئے ذاتی طرح بھی افسردگی کا شکار ہو گئے تھے اور ڈپریشن میں چلے گئے تھے۔ جس کے بعد ان کے ماہر نفسیات معالج نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ کچھ فلموں میں ہلکے پھلکے کردار بھی ادا کریں اور صرف اداس فلموں میں اداکاری نہ کریں۔
اس مشورے پر عمل کرتے ہوئے، انہوں نے 1952 ء میں ریلیز ہونے والی، محبوب خان کی بھاری بجٹ سے بننے والی میوزیکل فلم ”آن“ میں پہلی بار ہلکے پھلکے کردار پر مشتمل اداکاری کی۔ یہ دلیپ صاحب کی ”ٹیکنی کلر“ تکنیک کے تحت بننے اور ریلیز ہونے والی پہلی فلم تھی، جس کو برصغیر کے ساتھ ساتھ یورپ میں بھی بے انتہا پذیرائی ملی اور لندن میں ”آن“ کا شاندار پریمیئر بھی منعقد ہوا۔ دلیپ صاحب نے اس اور اس کے بعد ریلیز ہونے والی چند فلموں میں ہلکے پھلکے کرداروں میں آنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس ضمن میں وہ ”آزاد“ ( 1955 ء) میں ایک چور کے کردار میں اور رومینٹک میوزیکل مووی، ”کوہ نور“ ( 1960 ء) میں ایک شہزادے کے کردار میں، مزیدار لائٹ اداکاری کرتے نظر آئے۔ جن فلموں نے بھی انہیں ناظرین میں زبردست مقبولیت بخشی۔
دلیپ کمار نے اپنی اداکاری کے اعلیٰ معیار سے یہ ثابت کر دیا کہ کامیابی خواہ عظمت، زیادہ کام کرنے کی وجہ سے نہیں، بلکہ منتخب اور معیاری کام کرنے کی وجہ سے ہی ملتی ہے۔ اگرچہ دلیپ کمار صاحب نے 44 برس پر محیط اپنے طویل فنی کیریئر میں صرف 36 فلموں میں کام کیا، مگر 1960 ء میں ریلیز ہونے والی، ہندی فلمی پردے کی عظیم فلم، ”مغل اعظم“ میں اکبر بادشاہ (مغل اعظم) کے صاحبزادے، شہزادہ سلیم (نورالدین محمد سلیم جہانگیر) کے کردار میں انہوں نے جو رومانوی اور جذباتی کردار ادا کیا، اس نے انہیں صحیح معنوں میں ”جذبات کا شہنشاہ“ اور ”اداکار اعظم“ بنا دیا۔ فلم کے ناقدین کا خیال ہے کہ اگر دلیپ کمار اپنی زندگی میں صرف اس ایک فلم ”مغل اعظم“ ہی میں کام کرتے، تب بھی وہ اتنے ہی بڑے اداکار ہوتے۔ اس فلم میں ایک طرف پرتھوی راج کپور جیسے بڑے اداکار نے ان کے والد یعنی بادشاہ اکبر کا کردار ادا کیا، تو دوسری جانب مدھو بالا جیسی خوبرو اداکارہ، نے اپنے جذبات کے رنگ بھر کر، ان کی ہیروئن (انار کلی) کا کردار ادا کر کے فلم کو امر بنا دیا۔ نوشاد کی موسیقی سے سجی یہ فلم، رہتی دنیا تک فلم بینوں سے فراموش نہیں کی جا سکے گی۔
دلیپ صاحب کی اداکاری سے سجی دیگر فلموں میں ”گھر کی عزت“ ، ”انوکھا پیار“ اور ”ندیا کے پار“ ( 1948 ء) ، ”آرزو“ ( 1950 ء) ، ”دیدار“ ( 1951 ء) ، ”آن“ ( 1952 ء) ، ”فٹ پاتھ“ ( 1952 ء) ، ”مسافر“ ( 1957 ء) ، ”شکوہ“ ( 1958 ء) ، ”گنگا جمنا“ ( 1961 ء) ، ”لیڈر“ ( 1964 ء) ، ”پاری“ اور ”دل دیا۔ درد لیا“ ( 1966 ء) ، ”رام اور شیام“ ( 1967 ء) ، ”آدمی“ ، ”سنگھرش“ اور ”آدمی اور شیطان“ ( 1968 ء) ، ”سنگینا مہاتو“ اور ”گوپی“ ( 1970 ء) ، ”داستان“ ، ”انوکھا ملن“ اور ”کوشش“ ( 1972 ء) ، ”نیا دن، نئی رات“ ، ”سگینا“ اور ”پھر کب ملو گی؟“ ( 1974 ء) ، ”بیراگ“ ( 1976 ء) ، ”کرانتی“ ( 1981 ء) ، ”شکتی“ اور ”ودھاتا“ ( 1982 ء) ، ”مزدور“ ( 1983 ء) ، ”مشعل“ اور ”دنیا“ ( 1984 ء) ، ”دھرم ادھیکاری“ اور ”کرما“ ( 1986 ء) ، ”قانون اپنا اپنا“ ( 1989 ء) ، ”عزت دار“ ( 1990 ء) ، ”سوداگر“ ( 1991 ء) اور ”قلعہ“ ( 1998 ء) شامل ہیں۔ ”قلعہ“ ان کی آخری فلم ثابت ہوئی، جس میں انہوں نے اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے، جبکہ ”آگ کا دریا“ ( 1990 ء) اور ”کاگنگا“ ( 1996 ء) دو ایسی فلمیں ہیں، جن میں انہوں نے اداکاری تو کی، مگر یہ دونوں فلمیں ریلیز نہ ہو سکیں۔ ( ”آگ کا دریا“ کے کچھ حصے بعد میں، کئی برس بعد ریلیز ہوئے تھے۔ )
دلیپ کمار کو ان الفاظ کے پورے مفہوم کے ساتھ ”شہنشاہ جذبات“ کہا جائے، تو اس میں ذرہ برابر بھی مبالغہ نہیں ہے، کیونکہ انہوں نے جو کردار ادا کیا، اس کو مکمل سچائی کے ساتھ نبھایا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا ہر کردار امر بن گیا اور ان کا ہر ایکٹ، دنیائے اداکاری کی تاریخ کا ایک حوالہ بن گیا۔ انہوں نے اداکاری کو ایسی جہتیں بخشیں، جنہوں نے اس خطے ہی نہیں، بلکہ پوری دنیا کی اداکاری کو نئے موڑ دیے۔ ان کی اداکاری، مکالمے کی محتاج نہیں تھی، بلکہ ان کے چہرے کے تاثرات، ان کی نصف سے زیادہ کیفیت بیان کرنے میں ان کے معاون ہوا کرتے تھے۔ اس لئے بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے جو بھی کردار نبھایا، اس میں اپنی ذات کو گم کر کے، فقط اسی کردار ہی کی ترجمانی کی۔ انہوں نے اداکاری میں ایسی نئی روایات متعارف کرائیں، جس کے نقوش قدم پر ان کے بعد آنے والے تمام اداکاروں نے اپنے پاؤں رکھ کر، ان کا راستہ اپنایا اور ان کا انداز، اداکاروں کی آنے والی نسلوں تک ان کے فن کے مظاہرے کا اہم حصہ رہے گا۔ انہیں ”دی فرسٹ خان“ (اولین خان) کے خطاب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ کیونکہ بالی وڈ کے باقی تمام ”خان“ ، دلیپ صاحب کے بعد ہی وارد ہوئے۔
تاریخ و ادب کے وسیع مطالعے نے، دلیپ کمار کے لب و لہجے کو وہ تازگی بخشی، کہ ان کے معیار کی اردو، آج تک کسی ہندوستانی اداکار یا اداکارہ کی زبانی سننے کو نہیں ملی۔
اپنی ذاتی زندگی میں انتہائی کم گو اور کم مگر اعلیٰ افکار کا اظہار کرنے والی گفتگو کرنے والے دلیپ کمار صاحب نے، ایک طویل عرصہ علالت میں گزارا اور اپنی گزشتہ کچھ سالگراہیں، علالت کی حالت میں مناتے رہے۔ وہ اس دوران متعدد بار ہسپتال میں داخل بھی ہوتے رہے، مگر اس بار جب وہ ہسپتال داخل ہوئے، تو ان کی سانس کی تکلیف، ان کو زندگی کی بازی ہرانے میں کامیاب ہو گئی اور ہندی فلم نگر کا یہ سلطان، دلوں کا دیوداس اور ”اداکار اعظم“ ، سائرہ بانو ہی نہیں، مگر اپنے کروڑوں پرستاروں کو آخری سلام کہہ کر، اداس کر کے، اس نگر چلا گیا، جہاں کے لئے ہی شاید کہا گیا ہے کہ:
”آج پرانی راہوں سے، کوئی مجھی آواز نہ دے۔“


Comments are closed.