دلیپ کمار اور مدھو بالا

ٹریجڈی کنگ دلیپ کمار بھی اللہ کو پیارے ہوئے کہ جو بھی اس دنیا میں آیا ہے اس کو جلد بدیر موت کا مزہ چکھنا ہے۔ انسانی نفسیات ہے کہ خوبصورتی، شہرت، جوانی اور دولت ہم ناقابل فنا سمجھتے ہیں اور ہمیں لگتا ہے کہ موت تو ہمارے جیسے ہما شما کو آتی ہے۔

کہیں ایک وقت میں دو مشہور لوگ گزر جائیں تو نوجوان اور حسین کی موت پر جو سوگ ہوگا وہ اتنے ہی مشہور مگر بوڑھے اور معمولی شکل پر نہیں ہو گا۔ لیڈی ڈیانا کی موت نے دنیا کو جس طرح جھنجھوڑ دیا اور آج تک ان کا غم منایا جاتا ہے مگر ان کے ساتھ کچھ دنوں کے فرق سے مدر ٹریسا بھی آنجہانی ہو گئیں جنہوں نے ساری زندگی انسانیت کی خدمت میں گزار دی مگر آج کون ہے جو ان کے غم میں گھلتا ہے۔
دلیپ کمار نے جو نام کمایا وہ دنیا میں کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے اور اس طرح کی خوش قسمتی میں ٹیلنٹ کے ساتھ ساتھ قسمت اپنا بہت عمل دخل بہرحال رکھتی ہے۔ دلیپ کمار 1922 میں سرور خان اور عائشہ بیگم کے یہاں پشاور میں پیدا ہوئے اور بارہ بہن بھائیوں میں چوتھے نمبر پر تھے اور نام تھا یوسف خان۔ ان کے والد روزی روٹی کے سلسلے میں بمبئی منتقل ہو گئے جہاں دلیپ کمار بڑے ہوئے ان کی پہلی فلم ”جوار بھاٹا“ تھی جو 1944 میں ریلیزہوئی اور ”جگنو“ نورجہاں کے ساتھ تین سال بعد آئی اور پھر انھوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
دلیپ کمار جب تیزی سے مقبول ہو رہے تھے تو ان کے ساتھ راج کپور۔ دیوآنند کا مقابلہ بھی تھا جو خود کو جغادری ایکٹروں میں شمار کرتے تھے۔ ہندوستانی معاشرہ ہمیشہ مسلمانوں کو لے کر متعصب تھا مگر کاروباری نفع نقصان میں اس سے زیادہ حساس تھا سو ان کے سرمائے سے بننے والی فلموں میں دلیپ کمار کی موجودگی اگر ان کی انوسٹمنٹ کو سو سے ضرب دیتی تھی تو پھر کون ہندو اور کون مسلمان۔ راج کپور نے چارلی چپلن کی معصومیت اختیار کرنے کی کوشش کی تو دیو آنند نے گریگری پیک کا انداز اپنایا تھا تو فلمی ناقدین نے دلیپ کمار کا نام مارلن برانڈو سے جوڑنا چاہا مگر خود انھوں نے اس سے ہمیشہ انکار کیا۔
بہرحال باقی کوئی بھی اداکار ان جیسی مقبولیت کا خواب ہی دیکھ سکتا تھا۔
فلمسازوں کے پرے کے پرے نوٹوں کی بوریاں لیے ان کے گھر کے باہر بیٹھے رہتے تھے۔
ان زمانوں میں کئی فلمی رومانس بہت مشہور ہوئے جیسے کہ راج کپور اور نرگس، دیوآنند اور ثریا، کچھ بعد میں مینا کماری اور دھرمیندر مگر ان میں جو شہرت دلیپ کمار اور مدھو بالا کو نصیب ہوئی وہ باقی سب کی بس سوچ ہی تھی۔


یوں تو پہلے کچھ عرصہ ان کا نام کامنی کوشل کے ساتھ بھی لیا جاتا رہا تھا مگر مدھو بالا کے حسن بلاخیز اور یوسف خان کی جادوئی پرسنیلٹی کے درمیان کیوپڈ کے تمام تیر جو چلے تو داستان زبان زد عام ہوئی۔ مدھو بالا وہیں ایک روایتی کشمکش کا شکار بھی تھیں جہاں ماں یا نانی کے بجائے تمام کنٹرول ان کے سخت گیر باپ (جن کا غالباً عطا اللہ خان تھا ) کے ہاتھ میں تھا اور وہ بیٹی کی کڑی نگرانی کرتے تھے کہ مبادا سونے کی چڑیا اڑ ہی نا جائے یوں بھی مدھوبالا دل کی ایک پیچیدہ بیماری میں بھی بچپن سے مبتلا تھیں سو دل لگانے کی بیماری کی شاید متحمل نہیں تھیں۔
عطا اللہ نے دونوں کے بیچ ایک بہت ہی چبھنے والی ہڈی کا کردار بہت بخوبی ادا کیا اور بات یہاں تک آئی کہ دلیپ کمار نے مدھو بالا کے ساتھ کام نا کرنے کا اعلان کر دیا مگر مغل اعظم کو مکمل تو کرانا ہی تھا۔ اس فلم کو ایک دوامی شہرت بخشنے میں اس رومانس کا بہت ہاتھ تھا گو کہ یہ تعلق اس وقت ٹوٹ چکا تھا۔ مدھو بالا باپ کی ہٹ دھرمی اور گھٹیا پن کی وجہ سے پیچھے ہٹ گئیں مگر "چین سے ہم کو کبھی آپ نے جینے نا دیا” کی تصویر بن گئیں۔
یوسف خان ایک مرد تھے اور ایک دنیا ان کے آگے پیچھے تھی سو ان کی انا نے اپنی محبت کا پیچھا کرنے سے گریز کیا اور مغل اعظم کی شوٹنگ کے دوران بظاہر ایک فلمی سین کے مدھو بالا کے منہ پر سچ مچ کا زوردار طمانچہ رسید کر کے اسے دوسری طرف پھیر دیا اور اس عشق بلاخیز کی داستان حسرت تمام ہوئی اور ان کے راستے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئے۔ دلیپ کمار نے بظاہر خود پر قابو پا لیا مگر مدھو بالا نے اس کا بہت گہرا اثر لیا اور جلد ہی کشور کمار سے شادی کر لی۔

وہ ہمیشہ ایک ڈائری لکھا کرتی تھیں اور وقت کے ساتھ وہ ایک ضخیم کتاب بن چکی تھی۔ ان کی موت پر ان کے والد بیٹی کی لحد پر جب دو مٹھی مٹی ڈالنے کے لئے آگے بڑھے تو ساتھ ہی وہ کتاب بھی قبر میں پھینک دی اور یوں وہ تمام راز اپنے دل کے ساتھ ہی لے گئیں۔ آخری دنوں میں بھی کسی کا انتظار انھیں رہتا تھا اور ہسپتال میں ان کے بیڈ کا رخ اس طرح کر دیا گیا تھا کہ تمام وقت وہ دروازے کو تکا کرتیں۔

دلیپ کمار ایک بھرپور زندگی جئے۔ تیزی سے بڑھتی عمر میں انھوں نے ایک بہترین فیصلہ کیا اور 1966 میں بائیس سالہ سائرہ بانو سے شادی کرلی جب کہ وہ چوالیس سال کے تھے لیکن اولاد سے محرومی نے ان کی زندگی کو خزاں آلود رکھا۔ 1980 میں ان کی ایک خاتون اسما رحمان سے خفیہ شادی منظر عام پر آئی مگر فوراً اختتام پذیر ہو گئی۔ سائرہ بانو نے واقعی ایک داسی کی طرح ان کے لئے اپنی زندگی وقف کردی اور پچھلے کئی برسوں سے وہ صرف ان کی پٹی سے لگی بیٹھی رہیں۔

بے شمار فلم فئیر ایوارڈز کے ساتھ انھوں نے اپنے ملک کا ہر بڑا سول اعزاز اپنے نام کیا اور پاکستان نے انھیں سب سے بڑے سول اعزاز نشان امتیاز سے نوازا۔

اب وہ دنیا سے جا چکے ہیں اور ہم سوچ رہے ہیں کی شاید آج مدھو بالا بھی اپنے آپ کو بال بال موتیوں سے سنوارے ان کے استقبال کے لئے تیار ہوں گی۔ آج سماج کی کوئی دیوار ان کے درمیان نہیں ہے۔

کیا ہوگا کوئی تو بتا دے!
کوئی تو وہاں کی خبر لائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words