EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

انتہا پسندی کے خاتمے اور مذہبی ہم آہنگی کے لیے جنوبی پنجاب کے راہنماؤں کا اسلام آباد کا دورہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یوتھ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کا قیام 2010 ء میں عمل میں لایا گیا جس کے بنیادی مقاصد میں یوتھ ڈویلپمنٹ، انتہاپسندی اور شدت پسندی کا سدباب، فروغ امن و مذہبی ہم آہنگی اور شہری تعلیم و جمہوری اقدار کا پرچار شامل ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی میں یوتھ ڈویلپمنٹ فاونڈیشن نے پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا کے اٹھائیس سے زائد اضلاع میں مذہبی ہم آہنگی، فروغ امن و جمہوریت اور شدت پسندی کے تدارک کے لیے درجنوں سیمینارز، ورکشاپس، معلوماتی دورے اور سرگرمیوں کا اہتمام کیا ہے، جس سے اب تک بارہ ہزار سے زائد نوجوانوں اور مختلف مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ براہ راست مستفید ہوئے ہیں۔

مورخہ 29 /جون سے 2 /جولائی 2021 ء تک یوتھ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے مختلف مذاہب اور مختلف مسالک کے سرکردہ راہنماؤں اور علما کا اسلام آباد کا معلوماتی دورہ منعقد کروایا گیا جس کا مقصد جنوبی پنجاب میں عدم برداشت، تشدد اور انتہا پسندی کے بڑھتے رجحانات کو کسی طور کم کرنا اور بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی کو فروغ دینا تھا۔ اس معلوماتی دورے میں ہندو اور مسیحی کمیونٹی کے نمائندوں کے علاوہ اہل تشیع، اہل حدیث اور اہلسنت و الجماعت کے علما نے بھرپور شرکت کی۔

یہ معلوماتی دورہ تین روزہ سرگرمیوں پر مشتمل تھا جن میں جنوبی پنجاب سے آئے وفد کو مختلف سرکاری و آئینی اداروں کے سربراہان اور وزرا و مشیران سے ملاقاتیں اور سوال و جواب کا موقع دیا گیا۔ سب سے پہلے اسلامی نظریاتی کونسل کا دورہ کروایا گیا۔ اسلامی نظریاتی کونسل 1973 ء کے آئین کے مطابق پاکستان کا وہ آئینی ادارہ ہے جس کے ذمے پاکستان میں ہونے والی تمام آئینی پیش رفت کو اسلام سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل ہی وہ ادارہ ہے جو اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی یقین دہانی کے لیے پارلیمنٹ کی قانون سازی میں مدد کرتا ہے۔

اس کی تازہ مثال اسلام آباد میں نئے تعمیر ہونے والے مندر کو اسلامی نقطہ نظر سے جائز قرار دینا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز اس ادارے کے چیئرمین ہیں۔ وفد سے ملاقات کے دوران انہوں نے اس ادارے کے دائرہ کار، ضرورت اور آئینی ارتقا پر روشنی ڈالی۔ ان کے ساتھ اسلامی نظریاتی کونسل کے جنرل سیکرٹری اور تحقیقاتی شعبہ کے انچارج بھی موجود تھے۔ بریفنگ کے بعد شرکائے وفد نے اپنے اپنے مسالک اور مذاہب کو درپیش مسائل کو سوال کی صورت میں قبلہ ایاز صاحب کے سامنے رکھا۔

ملتان کے ایک پادری پیٹر جان نے سوال کیا کہ کیا پاکستان کے اعلی انتظامی عہدوں پر غیر مسلم کو تعینات نہ کرنے کا قانون اقلیتوں کے حق میں غیر منصفانہ نہیں، تو اس پر قبلہ ایاز نے جواب دیا کہ اقلیتوں کو اس وقت ہمارے ملک میں اکثریت کی طرح کئی دوسرے بنیادی مسائل کا سامنا ہے، آپ کا سوال برحق ہے مگر میرے خیال میں انہیں سب سے پہلے اپنے بنیادی مسائل اور دوسرے ایشوز کو حل کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیے تا کہ ان کے طرز زندگی اور معاش میں بہتری کے زیادہ مواقع پیدا ہوں۔ ایڈورڈ کالج پشاور کی غیر منصفانہ نجکاری کے سوال پر انہوں نے جواب دیا کہ اس معاملے کو ایڈورڈ کالج کے اس دور کے نا اہل پرنسپل نے خواہ مخواہ گمبھیر بنا دیا اور اس مسئلے کا حل معاملہ فہمی اور باہمی بحث و تمحیص سے نکالا جا سکتا ہے۔

وفد کا دوسرا دورہ میریٹ ہوٹل میں وزیراعظم کے خصوصی نمائندہ برائے مذہبی ہم آہنگی اور مشرق وسطی مولانا طاہر اشرفی سے ملاقات کی صورت میں طے کیا گیا تھا۔ مولانا طاہر اشرفی نے سب سے پہلے اپنے دائرہ کار کو بیان کیا اور جنوبی پنجاب سے آئے مختلف مسالک و مذاہب کی نمائندگی دیکھتے ہوئے اسلامی آیات سے باہمی ہم آہنگی اور امن کی ضرورت و اہمیت پر درس دیا۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف مذہبی تہواروں پر شہروں کی امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور بہتر بنانے کے لیے ضلعی سطح کی امن کمیٹیاں بنائی گئی ہیں جو خصوصاً محرم اور ربیع الاول کے مہینوں میں امن کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے متحرک رہتی ہیں۔

ان کمیٹیوں میں نہ صرف مختلف مسالک کے نمائندہ علما ہوتے ہیں بلکہ دوسرے مذاہب کے لوگ اور نوجوان طبقہ بھی شامل ہوتا ہے۔ ایک پادری نے مولانا طاہر اشرفی سے سوال کیا کہ ان کے اسرائیل میں بہت مقدس مقامات ہیں جو ان کے لیے مذہبی اعتبار سے کعبہ و قبلہ کا مقام رکھتے ہیں، اور انہیں وہاں جانے کی خصوصی رعایت دی جائے، جس کے جواب میں مولانا طاہر اشرفی نے بتایا کہ انہوں نے ایسی کئی کاوشیں کی ہیں اور اس سلسلے میں مسیحی طبقے کی اہم شخصیات بھی ان کے ساتھ تھیں مگر ایسی تمام کاوشیں رائیگاں گئیں۔

امن کمیٹیوں کے دائرہ کار اور اختیار پر کئی سوال کیے گئے جس کے جواب میں انہوں نے ان کمیٹیوں کو مزید فعال نامے کے لیے اپنے لائحہ عمل کا اظہار بھی کیا اور اس بات کا عندیہ بھی دیا کہ وہ جنوبی پنجاب سے آئے اس وفد کے اراکین کو بھی ان کمیٹیوں کا خصوصی حصہ بنانے پر اپنی پوری توانائیاں صرف کریں گے۔ اس سیشن کے بعد انہوں نے وفد کے ساتھ ایک پریس کانفرنس بھی کی جس میں انہوں نے بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ اور اہمیت پر زور دیا۔

وفد کا شام کا کھانا رامادا ہوٹل پر رکھا گیا جس میں مختلف جامعات کے اساتذہ اور وائس چانسلرز بھی شریک ہوئے۔ کھانے کے بعد گپ شپ میں ان ماہران تعلیم اور وائس چانسلرز نے وفد میں شامل اراکین کو اپنی اپنی جامعات میں مناسب نمائندگی اور مواقع فراہم کرنے کی حامی بھری۔ اساتذہ نے انہیں بتایا کہ جنوبی پنجاب سے آئے طلبا و طالبات کو ان کی جامعات میں کس طرح سہولتیں مہیا کی جاتی ہیں اور مستقبل میں وہ وفد کے تمام اراکین کو اپنی اپنی جامعات میں مدعو کر کے مختلف سرگرمیوں میں شامل کریں گے۔ نیز انہوں نے مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں کی اپنے اپنے مذہبی پس منظر کے باوجود جدید تعلیمی نظام اور جامعات کے ماحول پر بھی سیر حاصل گفتگو کی۔

دوسرے روز تمام شرکائے وفد کو فیصل مسجد سیاحتی دورے کے لیے لے جایا گیا۔ تمام مذاہب کے لوگوں نے فیصل مسجد کے دورے کو عقیدت و احترام کے ساتھ انجوائے کیا۔ وہیں پر شرکا سے اس دورے کی کامیابی پر آرا حاصل کی گئیں تو مختلف خواتین و حضرات نے اپنے اپنے تجربات اور خیالات کا کھل کر اظہار کیا۔ اکثر شرکا کا یہ کہنا تھا کہ اس طرح کا معلوماتی دورہ انہوں نے زندگی میں پہلی دفعہ کیا ہے اور یہاں آ کر انہیں محسوس ہو رہا ہے کہ اگر وہ لوگ اپنی اپنی کمیونٹی کو ایک ساتھ رہنے اور امن و آشتی کا درس دیں تو یہ معاشرہ کس قدر خوشگوار بن سکتا ہے۔

بعض شرکا نے مزید بہتری لانے اور ایسے دوروں کو مزید موثر بنانے کے لیے بھی اپنی آرا کا اظہار کیا۔ اس کے بعد وفد کو قومی اتھارٹی برائے انسداد دہشتگردی (نیکٹا) کے ہیڈکوارٹر لے جایا گیا۔ وہاں اس ادارے کی مختلف شاخوں کے سربراہان نے وفد کے شرکا سے براہ راست ملاقات کی اور اپنے اپنے کام کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے شرکا کو بتایا کہ یہ ادارہ کس طرح کام کرتا ہے اور پاکستان میں امن و آشتی کو یقینی بنانے کے لیے دہشتگردوں کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی و بیخ کنی کرنے میں پیش پیش ہے۔

انہوں نے بتایا کہ غیرقانونی فنڈنگ اور صدقات و خیرات کی آڑ میں دہشتگردوں کے لیے ہونے والی فنڈنگ کا کس طرح مکمل طور پر خاتمہ کر دیا گیا۔ مزید برآں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں نام آنے کے بعد ممکنہ اہداف کے حصول میں اس ادارے نے کیا کارہائے نمایاں سرانجام دیے اور کس طرح ان اہداف کو حاصل کرنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا۔ سوال و جواب کے وقفے میں شکنتلا دیوی نے چھوٹے چھوٹے بچوں کے بھیک مانگنے پر سوال اٹھایا اور اس ممکنہ خطرے کا اظہار کیا کہ شاید یہ بچے بھی کسی ایسی تنظیم کے کارندے نہ ہوں جو دہشتگردی میں ملوث ہوں تو اس پر انہیں بتایا گیا کہ وہ کس طرح پیش کی گئی رپورٹس کے مطابق کارروائی کرتے ہیں اور اپنے ارد گرد ایسے پیشہ ور بھکاریوں پر نظر رکھتے ہیں۔ اس کے بعد بھی سوال و جواب کا ایک طویل سلسلہ چلا جس کے جوابات نیکٹا کے سربراہان نے بڑی تحمل مزاجی سے دیے اور شرکا کی تشنگی کو ختم کیا۔

اگلا دورہ اسلامک ریسرچ انسٹیٹیوٹ کا تھا۔ یہ انسٹیٹیوٹ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد میں قائم کیا گیا ہے۔ اس دورے کا مقصد شرکائے وفد کو اسلامک ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے تیار کردہ ”پیغام پاکستان“ سے متعارف کروانا تھا۔ پیغام پاکستان جنوری 2018 ء میں متعارف کروایا گیا۔ یہ دراصل انتہا پسندی، دہشت گردی اور جہاد کے خود ساختہ نظریے کے خلاف ایک فتوی تھا جس پر 1829 علما و سکالرز نے اپنے دستخط کیے تھے۔ اس فتوی کے مطابق تمام علما و فقہا نے یہ متفقہ قرارداد پیش کی کہ خودکش دھماکہ کرنے والا کسی طور پر مذہب کا وفادار نہیں اور نہ ہی وہ کسی ریاست یا ملک کا محب ہو سکتا ہے۔

اس پیغام پاکستان کے مختلف نکات کے ذریعے تمام شدت پسند گروہوں اور دہشتگردوں کی اسلام کے تمام مکتبہ فکر کے علما کی طرف سے نہ صرف مذمت کی گئی بلکہ انہیں ملک اور دین دشمن قرار دیا۔ اسی دستاویز نے جہاد کرنے کا تمام اختیار حکومت وقت کو تفویض کیا اور ذاتی طور پر کسی بھی شخص کو جہاد کا فیصلہ کرنے سے معذور کر دیا۔ اسلامک ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے سربراہ نے وفد کے اراکین کو سب سے پہلے پیغام پاکستان لائبریری کا دورہ کروایا جہاں اس دستاویز کی تیاری کے مراحل میں اپنا کردار ادا کرنے والے سکالرز کو خراج عقیدت پیش کیا گیا تھا اور بعد ازاں انہیں کانفرنس ہال میں لے جا کر پیغام پاکستان کے تمام ذیلی نکات اور اثرات پر جامع مکالمہ کیا۔

اس معلوماتی دورے سے تمام اراکین وفد بے حد محظوظ ہو رہے تھے اور نہ صرف بین المسالک بلکہ بین المذاہب مکالمے کو فروغ مل رہا تھا بلکہ بین المذاہب ہم آہنگی کے کئی عملی مظاہرے بھی دیکھنے کو مل رہے تھے۔ آخری روز سب سے پہلے وفد کو سپریم کورٹ کے کمیشن برائے تحفظ اقلیتی حقوق کے دفتر لے جایا گیا۔ یہ کمیشن صرف ایک ہی فرد پر مشتمل ہے اور وہ ہیں ڈاکٹر شعیب سڈل۔ ڈاکٹر شعیب سڈل انتہائی زیرک اور بے باک افسر رہ چکے ہیں۔

وہ بلوچستان پولیس میں بطور انسپکٹر جنرل اپنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں اور پوری دنیا میں جنوبی ایشیائی خطے سے عدل اور مساوات کے شعبہ جات میں ایک حوالے کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے سیشن کا آغاز کیا اور سب سے پہلے اپنے کمیشن کے دائرہ کار پر گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے انہوں نے کہاں کہاں سخت موقف اپنایا اور اقلیتوں کے حوالے سے کی جانے والی نا انصافیوں سے کس طرح قانونی طور پر نبرد آزما ہوئے۔

انہوں نے اس بات کا انکشاف کیا کہ حال ہی میں انہوں نے اقلیتوں کے لیے تیس ہزار سے زائد نوکریوں کے مواقع تلاش کیے اور انہیں صرف اقلیتوں کے لیے ہی مختص کروایا ہے۔ ان سے ایک سوال کیا گیا کہ ہمارے قومی نصاب میں بعض ایسے الفاظ اور عبارات درج ہیں جس سے مختلف مذاہب اور مسالک کے لوگوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں، جس کے جواب میں انہوں نے اپنا ذاتی تجربہ شیئر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ قومی نصاب کمیٹی کے رکن بھی رہے، تب انہوں نے یہ سفارش اعلی حکام کو بھیجی کہ پاکستان میں پڑھائے جانے والے قومی نصاب میں اسلامی تعلیمات کو صرف اسلامیات کے نصاب میں شامل کیا جائے اور باقی دوسرے سبجیکٹس میں اخلاقی، سائنسی اور فروعی موضوعات کے حوالے سے مواد دیا جائے۔ ان سفارشات کو شعیب سڈل رپورٹ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے، مگر تاحال اس پر عملدرآمد نہیں کیا جا سکا۔

آخری دورہ پھر میریٹ ہوٹل میں رکھا گیا جہاں انسانی حقوق اور اقلیتی امور سے متعلقہ پارلیمنٹرینز سے مباحث کا انتظام تھا۔ اس سیشن میں صوبائی وزیر برائے انسانی حقوق اعجاز عالم اور اقلیتی ممبر برائے قومی اسمبلی جمشید تھامس مدعو تھے۔ اس سیشن میں چیدہ چیدہ انسانی حقوق پر کھل کر بحث کی گئی اور جنوبی پنجاب سے آئے مختلف پس منظر رکھنے والے شرکائے وفد کو یہ باور کرایا گیا کہ وہ کس طرح اپنی بنیادی انسانی حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کر سکتے ہیں۔

یوں میریٹ ہوٹل میں یوتھ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام منعقدہ یہ تین روزہ معلوماتی دورہ برائے مذہبی ہم آہنگی انجام پذیر ہوا۔ اس وفد میں ہندو کمیونٹی کی نمائندگی ملتان سے شکنتلا دیوی اور بہاولپور سے لالا بہادر چوہان بھیر نے کی، جبکہ مسیحی کمیونٹی کی نمائندگی بہاولپور سے پادری پیٹر جان اور ملتان سے پادری علیزیر طاہر نے کی جبکہ علما میں آصف رضا زینبی، عبدالحنان حیدری، حبیب اللہ چشتی، عبدالماجد وٹو، مجاہد عباس گردیزی اور فیاض حسین اسدی شامل تھے۔

خواتین کی نمائندگی ملتان سے روبینہ انصاری اور بہاولپور سے زاہدہ سراج ایڈووکیٹ نے کی۔ شرکائے وفد نے اختتام پر یوتھ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے سربراہ شاہد رحمت، پروجیکٹ مینیجر علی رضا اور ملتان آفس کے نگران احمد ریاض کا بہت شکریہ ادا کیا کہ جن کی بدولت انہیں ایسی کئی نابغہ روزگار شخصیات سے ملنے کا موقع میسر آیا اور انہیں یہ جاننے کا موقع بھی ملا کہ وہ کیسے ایک معاشرے میں مختلف اعتقاد اور نظریات رکھنے والے لوگوں کو برداشت کریں اور آپس میں ہم آہنگی اور جمہوری قدروں کو فروغ دیتے ہوئے اپنے معاشرے کو امن و سکون کا گہوارہ بنائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے