EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

ملبہ تو صاف ہو جائے گا لیکن غزہ کے زخم کیسے بھریں گے: غزہ کے ایک ڈاکٹر اور ان کے خاندان کی کہانی

زبیر احمد - نامہ نگار بی بی سی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


غزہ

BBC

پہلے سے ہی مشکل حالات میں گھری، اس سال مئی میں حماس اور اسرائیل کے درمیان مابین 11 روزہ لڑائی کے بعد غزہ کی پٹی تباہ و برباد ہوچکی ہے۔

غزہ ایک کھلے آسمان والا جیل ہے جہاں عوام اپنی زندگی دوبارہ بحال کرنے کے لیے ایک مشکل جدوجہد میں مصروف ہیں۔

اسرائیل کے فضائی حملوں میں تباہ ہونے والے سکولوں، سڑکوں، رہائشی عمارتوں اور خطے کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کی فوری ضرورت ہے، لیکن سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ غزہ کو اس کے 20 لاکھ باشندوں کی ذہنی صحت پر فوری طور پر توجہ دینی ہے کیونکہ وہ بری طرح سے تباہی کی طرف جا رہی ہے۔

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والی اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی، یو این آر ڈبلیو اے کی ترجمان، تمارا الفریائی کا خیال ہے کہ غزہ کے عوام میں ذہنی تناؤ عروج پر ہے۔

اردن کے دارالحکومت امان سے بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ ‘جنگ بندی کے بعد غزہ میں میں نے جس سے بھی بات کی مجھے بہت تکلیف ہوئی، ہمیں یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ اس بار لڑائی پچھلی جنگوں سے کہیں زیادہ تھی۔ اور یہ سب کورونا وائرس کی وبا بیماری کے دوران ہوا ہے۔ غزہ اس جنگ سے پہلے ہی کئی سالوں سے بندشیں برداشت کر رہا ہے، لہٰذا لوگ رواداری کی آخری حد کو پہنچ چکے ہیں۔ غزہ میں لوگوں کو ایک بہت طویل عرصے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔‘

یو این آر ڈبلیو اے غزہ کے علاقے میں فلسطینی پناہ گزینوں کی مدد اور علاقے میں تعمیر نو میں مصروف ہے۔ غزہ کی 20 لاکھ آبادی میں سے 14 لاکھ فلسطینی پناہ گزین ہیں، جنھیں 1948 میں اسرائیل کے قیام پر اپنے گھروں سے بے گھر کر دیا گیا تھا۔

28 سالہ طاہر الممدون غزہ کے ایک ہسپتال میں ڈاکٹر ہیں مگر وہ غزہ کے لوگوں کے دکھوں کی نمائندگی کرتے ہیں ، خواہ ذہنی ہو یا جسمانی۔

13 مئی کو غزہ پر اسرائیل کے فضائی حملوں کے دوران ان کے مکان کا ایک حصہ تباہ ہوگیا۔

بی بی سی کے ساتھ طویل گفتگو میں، طاہر کا کہنا ہے کہ ’جمعرات 13 مئی ایک عام دن تھا۔ حملے سے قبل ہم بیٹھے بات کر رہے تھے ۔۔۔ میرے والد ، میری خالہ اور میں، ہم عید منانے کی تیاری کر رہے تھے۔‘

’لیکن کچھ ہی منٹوں میں، ہماری عمارت پر راکٹوں کی بارش شروع ہوگئی۔‘

مزید پڑھیے:

’غزہ میں لڑائی کی تباہ کن قیمت عام شہری ادا کر رہے ہیں‘

آتش گیر غبارے چھوڑے جانے کے بعد اسرائیل کا غزہ پر دوبارہ فضائی حملہ

اس حملے کو یاد کرتے ہوئے ، طاہر کا کہنا ہے کہ ’میرے ہاتھ کے سوا میرا پورا جسم ملبے کے نیچے تھا، لہٰذا میں نے اپنا فون شور مچانے کے لیے استعمال کیا تاکہ کوئی میرا مقام دیکھ سکیں اور مجھے تلاش کریں۔‘

طاہر کو فائر بریگیڈ کے اہلکاروں نے بچا لیا لیکن ان کے والد اور خالہ کو بچایا نہیں جاسکا۔

’میں حملے کے دوران کبھی بھی بیہوش نہیں ہوا، میں نے اپنے والد اور خالہ کو دعا کرتے ہوئے سنا، فائر فائٹر جب مجھے بچانے کے لیے آئے تو اس سے پہلے، میں نے انھیں چند منٹ کے لیے دعا کرتے ہوئے سنا، پھر وہ خاموش ہوگئے، لہٰذا مجھے معلوم تھا کہ وہ مر چکے ہیں۔‘

ایک لمحے وہ زندہ تھے، عید منانے کی بات کر رہے تھے، اگلے ہی لمحے ان میں سے دو کا انتقال ہوگیا اور تیسرا شدید زخمی تھا۔ یہ غزہ کی زندگی ہے۔

خوش قسمتی سے ڈاکٹر طاہر کی والدہ اور دیگر بہن بھائی گھر پر نہیں تھے، وہ عید کی خریداری کے لیے نکلے تھے۔ ان کا تین منزلہ مکان مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے۔

ڈاکٹر طاہر اپنے والد اور خالہ کی آخری رسومات میں شریک نہیں ہوسکے کیونکہ انھوں نے اگلے دو ہفتے ہسپتال کے آئی سی یو میں ٹوٹی ہوئی پسلیوں اور زخمی پھیپھڑوں کے ساتھ گزارے۔ اب وہ اپنی سرجری کے منتظر ہیں۔

لیکن وہ کہتے ہیں کہ ان کی تکلیف جسمانی یا مالی سے زیادہ ذہنی ہے۔ ’ابتدائی دنوں میں، مجھے میرے والد اور خالہ، ماں، بھائی اور بہنوں کے بارے میں باقاعدگی سے ڈراؤنے خواب آتے تھے اور میرے نفسیاتی تناؤ میں اضافہ ہوتا تھا۔‘

اس نوجوان ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ والد کی موت کے بعد نئی خاندانی ذمہ داریوں کا بوجھ محسوس کرتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ جلد ہی صحتیاب ہوجائیں لیکن انھیں پتا ہے کہ کچھ بھی جلدی سے بہتر ہونے والا نہیں ہے۔

وہ کہتے ہیں ’مجھے اپنی نوکری پر واپس آنے میں ایک یا دو سال لگ سکتے ہیں۔ مجھے رہنے کی جگہ مل سکتی ہے لیکن میری جسمانی، ذہنی چوٹوں سے صحت یاب ہونے اور معمول پر واپس آنے میں ایک یا دو سال لگ سکتے ہیں۔‘

اس افسوفناک واقعے سے قبل ڈاکٹر طاہر اپنی شادی کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ ان کے والد نے غزہ کے ایک بہتر علاقے میں اپنی فیملی کے لیے تین منزلہ مکان تعمیر کیا تھا۔ ڈاکٹر طاہر نے تیسری منزل پر اپنا گھر سجایا تھا۔

ڈاکٹر طاہر

BBC

غزہ میں زندگی کتنی مشکل ہے؟

جنگ ہو یا امن، غزہ میں عام زندگی گزارنا بہت مشکل ہے۔ غزہ میں موجودہ سماجی کارکن نوئل ایکیل کہتی ہیں کہ ’اگر آپ مجھے اور میرے اہل خانہ کو دیکھیں تو میں ایک ایسی عورت ہوں جس کی ایک والدہ، چھ بہنوں، بیٹے، ایک طلاق شدہ بہن ہے۔ مگر ہم بکھرے ہویے ہیں۔ کوئی الجزائر میں ہے تو کوئی اردن میں ہے۔ ہم عام زندگی کے لیے ترس جاتے ہیں۔ ہم اپنی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔‘

نوئل کے ساتھ کام کرنے والے تیمر اجمیری کہتے ہیں ‘فلسطینیوں کو جس ذہنی دباؤ صدمے کا سامنا کرنا پڑا ہے وہ نہ صرف اس حملے سے ہوا ہے بلکہ یہ برسوں سے چل رہا ہے۔ اب اس میں اضافہ ہوا ہے۔‘

اب جب کہ غزہ میں ایک نازک جنگ بندی نافذ ہے، موت اور تباہی کی تصاویر سامنے آ رہی ہیں۔

طاہر کے والد اور ان کی خالہ اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والے غزہ کے 243 شہریوں میں سے تھے۔ حماس کے میزائل حملوں میں 12 اسرائیلی شہری بھی مارے گئے۔ غزہ میں دو ہزار سے زیادہ عمارتیں یا تو مکمل طور پر تباہ یا انھیں جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔

حماس اور اسرائیل کے مابین جنگ بندی کے اعلان کے چند ہفتوں بعد بی بی سی ہندی نے غزہ کے کچھ متاثرہ لوگوں سے بات کی تھی اور ان سب کا یہی خیال تھا کہ ‘جنگ کے بعد کے حالات کا مقابلہ جنگ کے دوران ہونے والے حقیقی بم دھماکوں سے زیادہ مشکل ہے۔‘

سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ تباہ شدہ مکانات کو دوبارہ تعمیر کیا جاسکتا ہے ، لیکن متاثرہ افراد کے اہل خانہ اور ان کی ذہنی حالت کو معمول پر لانا مشکل ہے۔

سعید المنصور غزہ میں آئی ٹی کے شعبے سے منسلک ہیں۔ لڑائی سے پہلے ان کے پاس ایک چھوٹا سا فلیٹ تھا ، لیکن 16 مئی کو اسرائیلی حملے میں اس کی تباہی کے بعد سے وہ اپنی اہلیہ کے گھر پر اپنی فیملی کے ساتھ رہ رہے ہیں، جسے عرب معاشرے میں بدنامی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

غزہ کے رہائشیوں کو اسرائیل نے حملے سے پہلے ہی متنبہ کیا تھا، لہٰذا سعید بھی دوسروں کی طرح تمام قیمتی سامان اور دستاویزات نکالنے میں کامیاب ہوگئے جو بھی اتنے مختصر وقت میں جمع کیا جا سکتا تھا۔

ان کی آنکھوں کے سامنے حملے کے بعد ان کا اپارٹمنٹ راکھ کا ڈھیر بن گیا۔ سعید کا کہنا ہے کہ یہ میزائل حملہ تو چند سیکنڈ تک جاری رہا اور ایک لمحے میں ہمارا اپارٹمنٹ ملبے کا ڈھیر بن گیا، لیکن اس صدمے سے ہمیں جس ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اسے برداشت کرنا مشکل ہے۔

وہ کہتے ہیں ’ہمارے معاشرے میں یہ مردوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ کنبے کے لیے ہر چیز کا انتظام کریں۔ مجھے خود اپنے کنبے کے لیے کھانا اور رہائش کا انتظام کرنا ہے۔ لیکن آج میں اس کے لیے اپنی بیوی کے گھر والوں پر منحصر ہوں، مجھے بہت شرم آتی ہے۔ ہر دن جہنم میں زندگی گزارنے کے مترادف ہے۔ جب آپ باہر جاتے ہیں تو تباہ شدہ عمارتوں کی قطاریں نظر آتی ہیں، یہ ایک خوفناک شہر کی طرح لگتا ہے۔‘

ڈاکٹر طاہر بتاتے ہیں کہ ان کے والد غزہ میں کافی کی درآمد کرتے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ ان کے تمام بچے ڈاکٹر بنیں اور ان کا خواب مرنے سے پہلے پورا تو ہوا۔ طاہر کی تین بہنیں ڈاکٹر ہیں اور ان کے دو چھوٹے بھائی ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے والد نے اپنے بچوں کے لیے تین منزلہ کوٹھی بنائی۔

‘غزہ ایک کھلے آسمان والی جیل کی طرح ہے’

غزہ کے بہت سے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی کھلے آسمان والی جیل میں رہ رہے ہیں۔ اس کی ایک بنیادی وجہ کچھ برسوں سے جاری اسرائیلی ناکہ بندی بھی ہے۔

غزہ اسرائیل اور مصر کے درمیان واقع زمین کی ایک چھوٹی سی تنگ پٹی ہے۔ حماس کی غزہ پر حکومت ہے۔ حماس کو اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے ایک دہشت گرد تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ غربِ اردن میں صدر محبوب عباس کی سربراہی میں فلسطینی اتھارٹی کی حکومت ہے جسے اسرائیل جائز حکومت کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔

غزہ میں مقیم حماس کے مسلح جنگجوؤں اور اسرائیلی مسلح افواج کے مابین جھڑپیں اکثر ہوتی رہتی ہیں۔

یہاں حالیہ دور میں بڑے پیمانے پر جھڑپیں پہلی مرتبہ 2006 میں ہوئیں، پھر 2007 میں ہوئیں۔ 2014 میں اسرائیل نے بد ترین حملہ کیا تھا، جو 51 دن تک جاری رہا، اور اس سال مئی میں حملے 11 دن جاری رہے۔

اقوام متحدہ کی تیمارا الفریائی کہتی ہیں ’یہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ پندرہ سال سے بھی کم عرصے میں یہ چوتھی جنگ ہے، ایک چھوٹے سے خطے کے لیے یہ برداشت کرنا بہت بڑی اذیت ہے۔ غزہ جیسی دنیا میں کوئی جگہ ہنیںیہاں شدید ناکہ بندی ہے، معیشت بری حالت میں ہے، اور غزہ، پوری دنیا کی طرح کورونا کے اثرات کا شکار ہے۔ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو غزہ کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہیں۔‘

اسرائیل کے ساتھ ہر جھڑپ اسے اور زیادہ کمزور کر دیتی ہے۔ ڈاکٹر طاہر جیسے بہت سے لوگ اپنے گھر مکمل طور پر کھو چکے ہیں۔ تازہ ترین حملے نے ہزاروں خاندانوں کو بے گھر کردیا ، ان میں سے بیشتر کے لیے ایک نیا تجربہ تھا۔ 2014 میں ہونے والے حملوں میں متاثر ہونے والے ہزاروں افراد جن کے گھر تباہ ہوگئے تھے وہ اب بھی مدد کے منتظر ہیں۔

تباہی کی وائرل ویڈیو

غزہ میں رہائشی مکانات کے علاوہ متعدد تجارتی عمارتیں بھی تباہ ہوگئیں ہیں۔ ان عمارتوں میں متعدد غیر سرکاری تنظیموں اور بین الاقوامی ایجنسیوں کے دفاتر تھے۔ حملوں کی متعدد ویڈیوز وائرل ہوئی تھیں۔ ان میں سے ایک تجارتی علاقے کے وسط میں واقع مشہور 14 منزلہ الشورق ٹاور پر اسرائیلی حملہ تھا جس کے مناظر کافی خوفناک تھے۔

اس عمارت کی دو مختلف منزلوں پر نوئل عقیل اور ان کے ساتھی تمیر اجمیری کے دفاتر تھے۔ یہ دونوں کارکن ، جو باسمہ سوسائٹی فار کلچر اینڈ آرٹس نامی ایک غیر سرکاری تنظیم میں کام کرتے ہیں، اب وہ اپنے دفاتر سے کام نہیں کرسکتے ہیں۔ باسمہ ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جو غزہ میں نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے تھیٹر پروگرام اور دیگر ثقافتی سرگرمیاں چلاتی ہے۔

تجارتی علاقوں پر حملہ غزہ کے لوگوں کی حیرت کا باعث بنا۔ تیمر اجمری کہتے ہیں ’ہم نہیں سوچتے تھے کہ ایسا ہوگا، کیونکہ سب کے خیال میں یہ ایک محفوظ علاقہ تھا کیونکہ بہت سی این جی اوز کے دفاتر ہیں اور اس کے بعد پڑوس میں سب سے مشہور الشفا ہسپتال۔‘

نوئل اور تیمر کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے متنبہ کرنے کا وقت بہت کم تھا لہٰذا 13 ویں منزل پر جانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا جہاں دفتر کے تمام دستاویزات پڑے تھے۔ نوئل عقیل اور تمیر اجمیری کہتے ہیں ‘چند منٹ میں ، میزائلوں نے اس اونچی عمارت کو تباہ کردیا۔ ہم نے تمام دستاویزات، آرکائیو کے کئی سال اور دیگر چیزیں کھو دیں۔‘

‘پہلے ملبہ صاف کیا جائے گا‘

تاہم ، ابھی جب سے غزہ میں راکٹوں اور بموں کی آوازیں رک گئیں ہیں اور جنگ بندی کسی نہ کسی طرح پیشرفت کے ساتھ جاری ہے ، اب وقت آگیا ہے کہ غزہ میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا جائے اور تعمیر نو اور بحالی کا منصوبہ بنایا جائے۔

بہت سے ادارے اور ایجنسیاں غزہ کی بحالی کا کام کر رہی ہیں۔ مصر بھی اس میں مدد کر رہا ہے۔ یو این آر ڈبلیو اے ان سب سے آگے ہے۔ اس نے تین ترجیحات طے کی ہیں، جیسا کہ اس کی ترجمان تمارا الفریائی نے وضاحت کی ہے، ’ہم تین ترجیحات پر غور کر رہے ہیں: پہلے ، ہم یہ یقینی بنارہے ہیں کہ جن لوگوں کو جنگ میں بے گھر کیا گیا ہے ، ان کو ایک گھر ملے ، جس کا مطلب ہے کہ یو این آر ڈبلیو اے سے مدد ملے گی۔ لوگوں کے گھروں کی تعمیر نو یا جن کے گھروں کو نقصان پہنچا ہے ان کی بحالی۔‘

’ہماری دوسری ترجیح عوام پر جنگ کے ذہنی اثرات سے نمٹنا ہے۔ غزہ میں میرے ساتھی موجودہ صورتحال کو ایک بہت بڑا نفسیاتی بحران سمجھ رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ غزہ میں ہر شخص ذہنی طور پر مسائل سے دوچار ہے۔ ہماری تیسری ترجیح یہ ہے کہ ہم دیگر تعمیر نو کریں۔ مارے غزہ 28 سکول اور چھ صحت کے مراکز شامل ہیں جو جنگ میں تباہ ہوئے ہیں۔‘

تمارا کہتے ہیں کہ بنیادی منصوبہ بندی کرلی گئی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کاموں کے لیے قطر اور مصر نے ایک بلین ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا ہے ، جبکہ متعدد دیگر ممالک نے بھی امداد کا اعلان کیا ہے۔

لوگوں نے امداد کے لیے اپنا اندراج کروانا شروع کردیا ہے۔ ڈاکٹر طاہر ان میں سے ایک ہیں لیکن وہ نہیں جانتے کہ یہ امداد ان تک پہنچنے میں کتنا وقت لگے گا۔

‘رجسٹریشن کے بعد، ہم صرف انتظار کرسکتے ہیں، لیکن تباہ شدہ مکانات (2014) کی تعمیر نو کے لیے پچھلی فہرست میں شامل بہت سے لوگ اب بھی مدد کے منتظر ہیں۔‘

چاروں طرف ملبے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ مقامی انتظامیہ کا اندازہ ہے کہ تعمیر نو کا کوئی کام شروع ہونے سے پہلے ملبے کو صاف کرنے میں ایک مہینہ لگے گا۔ تمارا کہتے ہیں ’یہ صرف عمارت کی تعمیر نو کا سوال نہیں ہے ، ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ہم ملبے کو بحفاظت ہٹا دیں۔ حکام کا خیال ہے کہ تعمیر نو کا کام ستمبر سے قبل شروع نہیں ہوگا۔‘

کیا سب کچھ نارمل ہوسکتا ہے؟

جنگ بندی کے بعد اسرائیلی حکومت اور غزہ کی حکمران جماعت حماس دونوں نے فتح کا اعلان کیا۔ وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو اور ان کی حکومت اب اقتدار سے باہر ہوچکی ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غزہ کے تمام شہریوں کی طرف سے حماس کا کبھی بھی پورا احترام یا حمایت نہیں کیا گیا۔ لیکن اس بار اس لڑائی کے بعد حماس کے لیے مقامی حمایت میں مزید کمی واقع ہوئی ہے۔

غزہ کی اکثریت آبادی مسلمان ہے اور ایک چھوٹی مسیحی اقلیت بھی موجود ہے۔ لیکن غزہ میں فلسطینی یہودی آباد نہیں ہیں۔

اس میں کئی دہائیاں لگیں گی اور دونوں اطراف کے سیاسی طبقات کو دو ریاستی حل پر اتفاق کرنے میں مزید کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔ کیا غزہ کے مسلمان ذاتی طور پر اسرائیل کے یہودیوں سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں؟ کیا دونوں قریب ہوسکتے ہیں؟

ڈاکٹر طاہر کو یہودی عوام سے کوئی مسئلہ نہیں ہے ، لیکن وہ ‘اسرائیلی ریاست کی نسل پرستانہ پالیسی اور ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کے خلاف ہیں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19934 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp