ناراض بلوچوں سے مفاہمت؟

وزیر اعظم عمران خان نے”بلوچستان میں مفاہمت اور ہم آہنگی کی فضا“پیدا کرنے کے لیے تحریک انصاف حکومت کی اتحادی جماعت، جمہوری وطن پارٹی کے شازین بگٹی کو وزیراعظم کا خصوصی معاون مقرر کیا ہے۔ وزیر اعظم نے یہ اعلان صوبے میں ”ترقیاتی“ کاموں جائزہ لیتے ہوئے گوادر کے دورے کے موقع پر کیا۔ اسی موقع پر موجودہ بلوچستان کے موجودہ گورنر، جسٹس (ر) امان اللہ خان یاسین زئی کو ہٹا دیا گیا۔ اُن کے ساتھ کچھ عرصے سے تناؤ کی کیفیت تھی۔ ان کی جگہ تحریک انصاف کے وفادار حامی اور اور کچھ کاروباری مفاد رکھنے والے ظہور آغا کو بلوچستان کا گورنر بنایا ہے۔

افغانستان اور ایران کے محفوظ ٹھکانوں سے پاکستان پر جنگ مسلط کرنے والے ”ناراض“ بلوچوں کی طرف وفاقی حکومت کے مفاہمت کے ہاتھ بڑھانے کی کوشش کو اسٹبلشمنٹ نے روک دیا کیوں کہ دھشت گرد حملوں کا تواتر پریشان کن ہے۔ امریکا کے افغانستان سے روانگی پر یہ معاملہ سنگینی اختیار کرتا جارہا ہے، خاص طور پر جب انڈیا افغانستان میں اپنے قدم جمانے اور اپنے اثاثوں کو مضبوط کرنے کی کوشش میں ہے۔ اس لیے اسلام آباد ”غیر ملکی ہاتھ“ کو اجاگر کرنے کے لیے”عوامی سفارتی کوششوں“کو تیز تر کردیا ہے۔ پاکستان میں دھشت گردی کی کارروائیوں کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ کارفرما سمجھا جاتا ہے، مثال کے طور پر حالیہ دنوں لاہور میں حافظ سعید کی رہائی گاہ پر ہونے والا بم حملہ۔ اس پر دوٹوک انداز میں بھارت کی اشارہ کیا گیا۔یہ بھی الزام لگایا جاتا ہے کہ بلوچ علیحدگی پسندوں بھارت فنڈز اور ٹریننگ فراہم کررہا ہے۔

ان حالات میں ہمیں حکومت کی ناراض بلوچ قوتوں کو واپس قومی دھارے میں لانے کی کوشش کو مسترد نہیں کرنا چاہیے۔یہ تجربہ ہم پہلے بھی کر چکے ہیں۔1947میں آزادی کے کچھ دیر بعد خان آف قلات،احمد یار خان نے پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے سے انکار کردیا۔ اس کی مزاحمت کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بلوچستان کومختلف وعدوں کے ساتھ قومی دھارے میں شامل کر لیا گیا۔ لیکن وہ وعدے پورے نہ کیے گئے۔1950 میں ”ون یونٹ“ کے خلاف بلوچ قبائل کی مخالفت کی صورت میں بھی یہی کیا گیا۔ نوروز خان کی بغاوت کو معافی اور کے وعدوں کے درمیان دبا دیا گیا، مگر اس کے بیٹوں کو قتل کر دیا گیا اور چند سال بعد وہ خود بھی جیل میں دوران قید انتقال کر گیا۔ 1973 میں جمہوری طور پر منتخب نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت کو اسلام آباد نے تحلیل کر دیا۔ اس پر مری قبیلے کے علاقوں میں بغاوت پھوٹ پڑی، قبائلی عمائدین کو گرفتار کر لیا گیا اور نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی لگا دی گئی۔ تاہم جنرل ضیاالحق نے جولائی1977 میں اقتدار سنبھالتے ہی حیدرآباد جیل میں قید ”غداروں“ اور ”باغیوں“ کو آزاد کر دیا۔اور یکم جنوری 1978 سے انہیں عام معافی دے دی گئی۔ لیکن اس بار بھی امداد اور ریاستی اداروں میں شمولیت کے وعدے پورے نہ کئے گئے۔ ان باربار پورے نہ ہونے والے وعدوں نے بلوچستان کے شہروں میں ابھرتی ہوئی مڈل کلاس کے اندر شدت پسندی ابھاری ہے۔ انہیں بلوچ قوم پرست جماعتوں میں شامل ہونے کی راہ دکھائی ہے۔

ہماری ریاست ابھی تک انہیں صوبائی سطح پر اختیار دینے کے لیے ان پر اعتماد نہیں کرتی۔ ایک اور بغاوت کے خطرے کے پیشِ نظر جنرل مشرف نے 2006 میں نواب اکبر بگٹی کے قتل کا حکم دیا، جو ریاست میں اعلیٰ سطح کی اہم شخصیت تھے اور اب ”قابو سے باہر“ ہو چکے تھے۔ اس کے نتیجے میں بگٹی قبیلے نے بغاوت کر دی اور ناراض مری سرداروں سے اتحاد کر لیا۔ اس کے نتیجے میں افغانستان سے دہشت گردی ملک میں داخل ہوئی، جس کی پشت پناہی افغان اور بھارتی خفیہ ایجنسیاں کررہی تھیں۔ یہ اُن کی طرف سے پاکستان کی طالبان اور کشمیری جہاد کی امداد کا جواب تھا۔اب کابل میں موجود کمزور ہوتی ہوئی ریاست سے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیشِ نظر اسلام آباد ایک بار پھر ناراض بلوچوں کو ”تعلقات کی بحالی اور ہم آہنگی“کی دعوت دے رہا ہے۔

تاہم گزشتہ دہائی کے دوران طرفین کا اتنا خون بہہ چکا ہے، اور اتنی بڑی تعداد میں بلوچ خاندان اپنے سینکڑوں چاہنے والوں کی ”گمشدگیوں“ پر غم و غصے کا شکار ہیں کہ باہمی اعتماد بہت کم رہ گیا ہے۔ عمران خان نے انڈیا سے رابطے رکھنے والے عناصر پر تعلقات کی بحالی کے عمل کے دروازے کو بند کر کے یقینا صورتحال کو زیادہ بہتر نہیں کیا۔ علیحدگی پسند عناصر بھارت یا افغان خفیہ ایجنسیوں پر تربیت، امداد اور ہتھیاروں کے لئے انحصارکرتے ہیں۔ اگر یاد کیا جائے تو تقریباََ ایک دہائی قبل حربِ یار مری نے، جو بلوچ علیحدگی پسندوں کاایک رہنما تھا اور برطانیہ میں ازخود جلا وطن تھا، عوامی سطح پر تسلیم کیا تھا کہ وہ آزاد بلوچستان کے لئے بھارت، امریکا یا حتیٰ کہ شیطان سے بھی اتحاد کر لے گا۔ اس طور پر سوچ اور عمل کی امید کی جانی چاہئے۔ تاریخ میں ہر مرحلے پر آزادی اور علیحدگی پسند تحریکوں نے ہمسایہ ممالک میں بنیادیں قائم کی ہیں اور غیر ملکی حکومتوں سے امداد لی ہے۔ خود پاکستان نے تیس سال سے جموں کشمیر میں اوردو دہائیوں سے افغان طالبان کو ایسی مدد فراہم کی ہے۔چناچہ یہ حالات ایسی پیشکش کو غیر موثر بناتے ہیں۔ تو پھر یہ کیوں پیش کی گئی؟

شاہ زین بگٹی نے تحریک انصاف سے ناراضی کا مسلسل اظہار کیا ہے۔ حتیٰ کہ وہ اختر مینگل کی طرح اس اتحاد سے نکل جانے کے قریب تھا۔ایسے حالات میں یہ ایک بہترین حکمتِ عملی ہے کہ بگٹی قبیلے، جس کے عمائدین بغاوت کی طرف مائل ہیں،اس کے ایک سردار کو وزیرِاعظم کا معاونِ خصوصی بنا دیا جائے اور طالبان کی کابل میں حکومت سنبھالنے سے قبل بلوچستان میں شدت پسند عناصر کو معافی دے کر شدت پسندی سے روک دیا جائے۔ بعد میں طالبان کو بھی اس بات پر مائل کیا جا سکتا ہے کہ وہ ایسے عناصر کی امداد چھوڑ دیں۔ تعلقات کی بہتری کو بھارت سے رابطے ختم کرنے کے ساتھ جوڑ کر اسلام آباد انہیں ہتھیار ڈالنے اور قومی دھارے میں شامل ہونے کی دعوت دے رہا ہے۔ کیا یہ کام کرے گا؟

افغانستان میں موجود پاکستان مخالف قوتیں،تحریک طالبان پاکستان، بلوچ علیحدگی پسنداور القاعدہ وغیرہ ختم نہیں ہونے جا رہے۔ یہ سب اس بات پر منحصر ہے کہ امریکہ کی قیادت اور عالمی برادری کی پشت پناہی میں چلنے والی اشرف غنی حکومت کتنی دیر چلے گی اور طالبان کوپورے افغانستان پر کنٹرو ل قائم کرنے میں کتنا عرصہ لگے گا۔ اس کے بعد بھی طالبان یقینا اس اہم دور میں پاکستان کے اپنے حمایت یا مخالفت میں کردار کو مدِنظر رکھ کر فیصلہ کریں گے کہ ان گروہوں سے کیا سلوک کیا جائے۔ اس کا دارومدار طالبان کے اقتدارسنبھالنے کے بعد اُن کی مقامی اور بین الاقوامی پالیسیوں پر بھی ہوگا۔

مختصر یہ کہ عمران خان کی شا ہ زین بگٹی کے ذریعے ”ہم آہنگی اور تعلقات میں بہتری“ کی دعوت فی الحال غیر موثر ہے۔

بشکریہ: فرائیڈے ٹائمز

Comments - User is solely responsible for his/her words