EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

امریکی صدر کے اعتراف شکست سے پاکستان کی فتح کیسے برآمد ہوتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکی صدر جو بائیڈن نے واضح کیا ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں اپنے مقاصد حاصل کرلئے ہیں۔ ملک کی تعمیر و ترقی کا کام امریکہ کی نہیں بلکہ افغان باشندوں کی ذمہ داری ہے۔ گزشتہ روز وہائٹ ہاؤس میں افغانستان سے انخلا کے متنازعہ فیصلہ پر تفصیل سے اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان پر حملہ کا مقصد القاعدہ کو تباہ اور امریکہ کے خلاف دہشت گردی کے امکانات کو ختم کرنا تھا۔ یہ مقاصد بہت پہلے حاصل کرلئے گئے تھے۔

جو بائیڈن نے اعتراف کیا کہ وہ ایک ایسی جنگ میں امریکی فوجیوں کی نئی نسل کو بھیجنے پر آمادہ نہیں ہیں جو کبھی جیتی نہیں جاسکتی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ امریکہ افغانستان کی تعمیر کے لئے وہاں نہیں گیا تھا بلکہ یہ افغان شہریوں کا حق اور ذمہ داری ہے۔ اس بیان کے ذریعے امریکی صدر نے دراصل افغانستان اور اس خطے کے حوالے سے اپنے اہداف واضح کئے ہیں۔ صدر بائیڈن کے اس بیان پر طویل اخلاقی مباحث ہوسکتے ہیں کہ اگر افغانستان کی تعمیر اس کا کام نہیں ہے تو اسے ایک ملک کو تباہ کرنے اور بیس سال تک اس پر جنگ مسلط کرنے کا حق کس نے دیا تھا؟ بد قسمتی سے 11/9 حملوں کے بعد امریکہ میں ایسی جذباتی اور سنسنی خیز صورت حال پیدا ہوگئی تھی کہ اقوام متحدہ سمیت پوری دنیا کو افغانستان پر حملے میں اس کا ساتھ دینا پڑا تھا۔ افغانستان میں اس وقت طالبان کی حکومت تھی اور ان کے سخت گیر طرز حکومت کی وجہ سے دنیا اس حکومت سے بیزار بھی تھی۔ طالبان یہ قیاس کرنے میں ناکام رہے کہ القاعدہ کی قیادت کو ملک سے نکالنے اور امریکہ کے حوالے نہ کرکے وہ افغانستان کو ایک طویل اور خطرناک جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

تاہم امریکی صدر کے بیان کے اخلاقی پہلوؤں کا جائزہ لینے اور اس پر بحث کرنے کی بجائے یہ جاننا اور تسلیم کرنا اہم ہے کہ امریکی افواج کے افغانستان سے نکلنے کی حتمی تاریخ کا اعلان سامنے آچکا ہےاور صدر بائیڈن نے واضح کردیا ہے کہ ہمارا ہدف پورا ہوچکا ہے اور اس جنگ سے اس سے زیادہ کچھ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ اس بیان کو طالبان کی فتح، عمران خان کے سیاسی مؤقف کی جیت یا امریکہ کی شکست، جو بھی کہا جائے لیکن امریکہ نے اب افغان جنگ کے حوالے سے ایک واضح لکیر کھینچ دی ہے۔ اب خطے کے تمام ممالک کو اس مقررہ حد کے مطابق ہی اپنے مفادات کا تحفظ کے لئے اقدامات کرنے ہوں گے۔ اس میں کسی شبہ میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں کہ امریکہ اس خطے سے اس شرط پر دست بردار ہونے کا اعلان کررہا ہے کہ وہاں ایسے دہشت گرد گروہ پروان نہیں چڑھیں گے جن سے امریکی مفادات اور قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو۔ اگرچہ متعدد امریکی عسکری ماہرین امریکی افواج کے انخلا اور طالبان کی نئی زمینی کامیابیوں کی صورت حال میں ان اندیشوں کا اظہار بھی کرتے رہے ہیں کہ القاعدہ ایک بار پھر مستحکم ہوسکتی ہے۔ تاہم امریکہ کو اس وقت یقین ہے کہ افغانستان ایک طویل عرصہ تک اس کی سلامتی کے خلاف کسی منظم کوشش کا حصہ بننے کی صلاحیت حاصل نہیں کرسکے گا۔

اس میں بھی شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ اگر مستقبل قریب میں افغانستان میں طاقت پکڑنے والے کسی گروہ کی جانب سے امریکہ یا دیگر مغربی ممالک میں کوئی دہشت گرد حملہ کیا گیا اور اس سے بڑا جانی نقصان ہؤا تو امریکہ ایک بار پھر افغانستان پر فضائی حملے کرے گا۔ تاہم اس بات کا امکان نہیں کہ امریکہ دوبارہ اپنے بری دستے افغان سرزمین پر اتارے گا۔ امریکی صدر کا یہ بیان کہ افغانستان کی تعمیر نو اس کی ذمہ داری نہیں ہے ، دراصل طاقت کے غرور ، قومی سیاسی ضرورتوں اور مفادات کا عکاس ہے۔ کسی ملک کے عوام کو طویل عرصہ تک جنگ میں جھونکنے کے بعد وہاں سے یہ کہہ کر کندھے اچکاتے ہوئے نکل جانا کہ امن قائم کروانا یا تباہ حال معاشرے کی تعمیر نو ہماری ذمہ داری نہیں ہے، کسی بڑی طاقت کے احساس ذمہ داری یا ان انسانی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتا جن کا دعویٰ امریکہ اور اس کے حلیف یورپی ممالک کرتے رہتے ہیں۔

امریکہ اس وقت دنیا کی اکلوتی سپر پاور ہے۔ وہ اگر اپنی اخلاقی ذمہ داری سے فرار حاصل کررہا ہے تو اسے یہ فیصلہ تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا بلکہ بہتر ہو گا کہ اس بحث کو اہمیت دینے کی بجائے نئی ابھرتی ہوئی صورت حال میں ہر ملک اپنے قومی مفادات کے تحفظ کی حکمت عملی اختیار کرے۔ افغانستان کی حد تک اہم ہے کہ صرف کابل حکومت ہی نہیں بلکہ طالبان بھی پر امن انتقال اقتدار یا اقتدار میں شراکت کی ضرورت کو تسلیم کریں۔ افغانستان کی صورت حال سے افغانستان کے بعد سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک پاکستان ہے۔ اس لئے اسے بھی امریکی صدر کے بیان کی چھان پھٹک کرنے، غلط یا درست کی بحث میں پوائینٹ اسکورنگ کرنے اور کیا ہوسکتا تھا اور کیا نہیں کیا گیا جیسے مباحث کو اہمیت دینے کی بجائے یہ سوچنا چاہئے کہ امریکہ کے جانے اور طالبان کی ہٹ دھرمی کے مظاہرے کے بعد اس کے پاس اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لئے کیا آپشن باقی ہیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے علاوہ وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے آج سینیٹ کی امور خارجہ کمیٹی کو اس حوالے سے بریف کیا۔ معید یوسف نے اس کے علاوہ وائس آف امریکہ کو ایک خصوصی انٹرویو میں بھی یہ واضح کیا ہے کہ پاکستان کا طالبان پر اثر و رسوخ نہیں ہے اور امریکہ افغانستان سے نکل کر اسی غلطی کا ارتکاب کررہا جو 90 کی دہائی میں کی گئی تھی۔ وائس آف امریکہ کے انٹرویو میں معید یوسف نے یہ حتمی وعدہ کرنے سے انکار کیا کہ طالبان نے اگر طاقت کے زور پر کابل پر حملہ کرکے اپنی حکومت قائم کی تو اسے قبول کیا جائے یا نہیں۔ حالانکہ پاکستان بار بار یہ اعلان کرتا رہا ہے کہ تشدد کے نتیجہ میں قائم ہونے والی کوئی حکومت قابل قبول نہیں ہوگی۔ تاہم اب طالبان کے بزور اقتدار پر قبضہ کرنے کی صورت میں انہیں تسلیم کرنے کے سوال پر معید یوسف کا کہنا تھا کہ ’ اس حوالے سے جب وقت آئے گا تو بتائیں گے‘۔

پاکستان کی طرف سے اسی قسم کے غیر واضح اشارے درحقیقت اس کے اصل ارادوں کے بارے میں بدگمانیاں پیدا کرتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی خواہ پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کی کیسی ہی دلیلیں لاتے رہیں جب تک پاکستان کا مؤقف ہر سطح پر واضح اور دوٹوک نہیں ہوگا اور وہ ہمسایہ ملک میں جاری ایک سنگین تنازعہ میں بدستور فریقین کے درمیان تمیز کرتا رہے گا تو دنیا اسلام آباد کی کسی بات کو قابل اعتبار نہیں سمجھے گی۔ شاہ محمود قریشی نے سینیٹ کمیٹی سے خطاب میں اپنا بیشتر وقت امریکی افواج کے عجلت میں انخلا اور مذاکرات پر آمادہ ہونے میں غیر ضروری طور سے طویل مدت انتظار پر تبصرہ کرتے ہوئے صرف کیا۔ یا انہوں نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے گزشتہ روز پاکستان کی کوششوں کوسراہا ہے اور اس کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے۔ صورت حال کی سنگینی کا تقاضہ ہے کہ حکومتی نمائیندے اب ان لایعنی مباحث کی بجائے یہ بتائیں کہ مستقبل قریب میں پیش آنے والی صورت حال کو بگڑنے سے روکنے کے لئے کیا حکمت عملی اختیار کی جارہی ہے۔ صرف یہ کہہ دینے سے کام نہیں چل سکتا کہ اب طالبان ہماری بات نہیں سنتے۔

صدر بائیڈن کے شفاف بیان سے یہ تو واضح ہوتا ہے کہ امریکہ کی پالیسی کیا ہے۔ وہ اس تنازعہ سے دست بردار ہورہا ہے اور بین السطور واضح کیا گیا ہے کہ افغانستان سے امریکی سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہونا چاہئے۔ پاکستانی قیادت کو بھی اسی طرح بتانا چاہئے کہ وہ افغانستان کی صورت حال سے کیسے نمٹنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ افغانستان میں خانہ جنگی کی صورت میں افغان پناہ گزینوں کا ایک نیا سیلاب پاکستان کی طرف آئے گا۔ ا س کے علاوہ ٹی ٹی پی کے عناصر ایک بار پھر پاکستان میں دہشت گردی کا آغاز کرسکتے ہیں۔ پاکستان میں تخریب کاری کے بھارتی منصوبوں کا انکشاف کرتے ہوئے دراصل دنیا کی توجہ اسی اندیشے کی طرف مبذول کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ امریکی بے حسی یا غلط حکمت عملی کا رونا رونے یا بھارت پر الزامات لگانے سے پاکستان کی سلامتی اور معیشت کو لاحق خطرات دور نہیں ہوں گے۔ پاکستان کو اس کے لئے افغانستان میں پر امن انتقال اقتدار کی بھرپور کوشش کرنی چاہئے۔ کسی حد تک افغان طالبان بھی عبوری انتظامات میں مفاہمت کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں۔

طالبان متعدد گروہوں کا مجموعہ ہے اور بسا اوقات داخلی دباؤ کی وجہ سے بھی تشدد یا جنگ کا راستہ اختیار کرلیا جاتا ہے۔ اس صورت میں سب سے اہم یہ ہوگا کہ پاکستان خود بھی ان گروہوں کی حوصلہ افزائی نہ کرے جو مفاہمانہ طریقہ کو مسترد کرتے ہیں۔ اور ایران سمیت علاقے کے دیگر ممالک کو بھی ایسا ہی طرز عمل اختیار کرنے پر آمادہ کیا جائے۔ اسی طرح طالبان پر یہ بھی واضح کیا جائے کہ افغانستان میں ان کے سیاسی اقتدار کا راستہ اسی صورت میں ہموار ہوسکتا ہے جب وہ پاکستان دشمن عناصر کی سرپرستی سے گریز کریں گے اور آنے والے وقت میں افغان باشندوں کو گھر چھوڑنے پر مجبور کرنے والے حالات پیدا نہ کئے جائیں کیوں کہ اس سے براہ راست پاکستان کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوں گے۔ پاکستان جس طرح امریکہ کے علاوہ افغان حکومت کی غلطیاں پرزور طریقے سے بیان کرتا ہے، اسی طرح طالبان پر بھی غلط ترجیحات کی نشاندہی کی جائے۔ اس کے برعکس وزیر خارجہ سمیت پاکستانی حکام کی باتوں سے اگر یہ لگے گا کہ وہ طالبان کے ترجمان ہیں تو اس سے پاکستان کو فائدہ بھی نہیں ہوگا اور پاکستان کی سفارتی پوزیشن بھی کمزور ہوگی۔

حکومت کو جاننا چاہئے کہ پناہ گزینوں کے دباؤ یا دہشت گردی میں اضافہ کا مقابلہ اسے تن تنہا ہی کرنا ہوگا۔ دنیا کی سفارتی یا مالی امداد کی توقع اسی صورت میں کی جاسکے گی اگر پاکستان ابھی سے اپنے بیانات کا تضاد دور کرکے اقوام عالم کو واضح پیغام دینے کی کوشش کرے۔ صدر جو بائیڈن نے کل پریس کانفرنس میں امریکہ کے حوالے سے یہی طریقہ اختیار کیا ہے۔ پاکستان کو اس سے سبق سیکھنا چاہئے اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے واضح حکمت عملی کا اعلان سامنے لانا چاہئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1916 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے