امریکہ افغانستان سے اپنی فورسز کی واپسی کو کس طرح دیکھ رہا ہے؟

وردک کی ایک چیک پوسٹ کے قریب امریکی فوجی نگرانی کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو
ویب ڈیسک — امریکہ افغانستان سے اپنے آخری فوجی دستے نکال رہا ہے اور صدر بائیڈن کا کہنا ہے کہ امریکہ کا افغانستان میں فوجی مشن 31 اگست کو اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا، جس کے ساتھ ہی امریکہ کی تاریخ کی سب سے طویل جنگ بھی ختم ہو جائے گی۔

سن 2001 میں شروع ہونے والی اس جنگ میں اب تک 2448 امریکی ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکہ کی براؤن یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے علاقوں میں یہ جنگ اب تک دو لاکھ 41 ہزار سے زیادہ انسانی جانیں نگل چکی ہے، جس میں 71 ہزار سے زیادہ عام شہری بھی شامل ہیں۔

امریکہ نے اس خطے سے دہشت گردی کے خاتمے اور افغانستان کو مغربی طرز کی جمہوریت کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے دو ٹریلین سے زیادہ رقم صرف کی ہے، لیکن اب حالیہ رائے عامہ کے جائزے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ زیادہ تر امریکی صدر بائیڈن کے افغانستان چھوڑنے کے فیصلے کی تائید کرتے ہیں۔

امریکی تھنک ٹینک، بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے ایک سینئر تجزیہ کار مائیکل اوہنلن کہتے ہیں کہ امریکی عوام نے طویل عرصے تک کبھی اس جنگ کے بارے میں نہیں سوچا اور اس کا ذکر عموماً صدارتی انتخابات میں ہی ہوتا رہا ہے۔

اس سال 8 اکتوبر کو اس واقعہ کو 20 سال مکمل ہو جائیں گے، جب اخباروں میں یہ شہ سرخیاں لگیں تھیں کہ امریکہ نے ملک سے باہر ان دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو اپنے فضائی حملوں سے نشانہ بنایا ہے جنہوں نے 11 ستمبر کو امریکہ میں چار مسافر طیارے اغوا کرنے کے بعد ان میں سے دو کو نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرا دیا تھا، ایک کا ہدف پنٹاگان تھا، جب کہ چوتھا پنسلوینیا کے قریب گر کر تباہ ہوگیا تھا۔ ان واقعات میں مجموعی طور پر 2996 لوگ مارے گئے تھے۔

القاعدہ کے دہشت گردوں نے چار مسافر بردار طیارے اغوا کرنے کے بعد دو کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے دونوں ٹاورز سے ٹکرا دیا تھا۔فائل فوٹو
القاعدہ کے دہشت گردوں نے چار مسافر بردار طیارے اغوا کرنے کے بعد دو کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے دونوں ٹاورز سے ٹکرا دیا تھا۔فائل فوٹو

اس وقت یہ تصور کرنا آسان تھا کہ امریکہ کی اس مہم کے نتیجے میں افغانستان میں ایک جابرانہ حکومت کے خاتمے کے ساتھ ایک جمہوری دور کا آغاز ہو گا جو دنیا بھر کے لیے دہشت گردی کا ایک متبادل ہو گا۔

اسی سال نومبر میں طالبان اپنے کنٹرول کے شہروں سے ایک کے بعد ایک کر کے بے دخل ہوتے گئے اور طالبان لیڈر ملا عمر اپنا آخری مضبوط گڑھ قندھار ہاتھ سے نکل جانے کے بعد اپنے ساتھیوں سمیت روپوش ہو گئے۔ اس کے بعد حامد کرزئی نے امریکہ کی مدد سے کابل میں ایک عبوری حکومت قائم کر لی، جسے ایک نئی صبح کے آغاز کے طور پر دیکھا گیا۔

لیکن 20 سال گزر جانے کے بعد آج ہمارے سامنے افغانستان کی ایک مختلف تصویر ہے اور وہ توقعات پوری نہیں ہو سکیں جن کا 20 سال پہلے خواب دیکھا گیا تھا۔

اس سارے عرصے میں کابل میں قائم ہونے والی جمہوری حکومتوں کو بم دھماکوں اور خودکش حملوں کا سامنا رہا اور دہشت گرد گروپ القاعدہ کے تعاقب میں جانے والے امریکی فوجیوں کو اپنی توانائیاں ملک میں جاری دہشت گردی کی روک تھام پر مرکوز کرنی پڑیں۔

کابل میں بم دھماکے کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے۔ فائل فوٹو
کابل میں بم دھماکے کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے۔ فائل فوٹو

جیسے جیسے وقت آگے بڑھا، بکھرے ہوئے طالبان پھر سے متحد ہوتے گئے اور انہوں نے افغانستان کے مختلف حصوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا شروع کر دیا۔

افغان جنگ کے ابتدائی دور میں امریکہ نے افغانستان میں پکڑے جانے والے خطرناک دہشت گردوں کے لیے گوانتانامو میں ایک جیل قائم کی جہاں امریکی سرزمین سے باہر مقدمے چلانے کے لیے کئی لوگوں کو لایا گیا۔ اس وقت بھی گوانتانامو میں 40 قیدی موجود ہیں۔ پھر کابل کے قریب بگرام میں بھی ایک جیل بنائی گئی۔ بعد ازاں میڈیا میں ان جیلوں کے متعلق غیرانسانی سلوک کی کہانیاں گردش کرنے لگیں تاہم امریکی حکومت نے ان الزامات کو مسترد کر دیا۔

اسی دوران صدر جارج بش نے عراق پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار بنانے کا الزام لگا کر اپنے اتحادیوں کی مدد سے اس کے خلاف جنگ چھیڑ دی، جس سے افغانستان کا معاملہ پس منظر میں چلا گیا۔

تجزیہ کار مائیکل اوہنلن کہتے ہیں کہ 2001 کے موسم سرما میں امریکہ کو اپنے عوام کی جانب سے طالبان کو سخت سزا دینے کی بھرپور حمایت حاصل تھی، لیکن عراق جنگ نے اس توجہ کو منقسم کر دیا۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ افغانستان میں امریکہ کی فوجی موجودگی کے بارے میں بحث مباحثے شروع ہو گئے جن میں اس نظریے کو حمایت حاصل ہو گئی کہ اس علاقے میں امن و استحکام برقرار رکھنا امریکہ کی ذمہ داری ہے۔

20 سال پر محیط اس عرصے کے دوران چار مختلف امریکی صدور نے، جن میں جارج بش، براک اوباما، ڈونلڈ ٹرمپ اور موجودہ صدر جو بائیڈن شامل ہیں، جمہوری طور پر منتخب افغان حکومت کو شورشوں سے نمٹنے کے لیے انہیں درکار تمام وسائل مہیا کیے۔

سن 2009 میں ری پبلیکن صدر بش کے اقتدار کے خاتمے کے بعد ڈیموکریٹ صدر براک اوباما نے اپنے عہدے کی پہلی مدت کے دوران افغانستان میں امریکی فوجیوں اور کانٹریکٹرز کی تعداد میں نمایاں اضافہ کیا، جس سے ایک موقع پر ان کی تعداد ایک لاکھ سے بڑھ گئی تھی۔ بعدازاں اس میں بتدریج کمی کی جاتی رہی جس سے یہ تعداد گھٹ کر 10 ہزار کے لگ بھگ ہو گئی۔

اوباما کے بعد آنے والے صدر ٹرمپ نے شروع میں یہ کہا کہ وہ افغانستان سے تمام امریکی فوجیوں کو واپس بلا لیں گے، لیکن بعد میں انہوں نے ان خدشات کے پیش نظر اپنے منصوبوں پر عمل نہیں کیا کہ اس سے افغانستان میں ایک خلا پیدا ہو جائے گا جسے تحریب کار بھر دیں گے۔

اس سال اپریل میں ڈیموکریٹ صدر بائیڈن نے اعلان کیا کہ وہ 11 ستمبر 2021 کو، جنگ کے 20 سال مکمل ہونے سے پہلے ہی افغانستان سے تمام امریکی فوجی وطن واپس لے آئیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم افغانستان میں انخلا کے لیے سازگار حالات پیدا ہونے کی توقع پر اپنی فوجی موجودگی کی مدت یا تعداد بڑھانے کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ میں چوتھا امریکی صدر ہوں جس کے دور میں افغانستان میں امریکی فوجی دستے موجود ہیں، جن میں سے دو ری پیلیکن تھے اور دو ڈیموکریٹ۔ میں یہ ذمہ داری پانچویں امریکی صدر کو سونپ کر نہیں جاؤں گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words