مغربی ادب افلاطون سے پوسٹ ماڈرن ازم تک (ساتویں قسط)
نیوکلاسیکل دور کے بعد کی اگلی صدی مغرب میں رومانوی ادب سے تعبیر کی جاتی ہے۔ گو کہ یہ دور اٹھارہویں صدی کے آخر سے انیسویں صدی کے درمیان کا عرصہ ہے مگر انیسویں صدی کی ابتدائی دہائیاں اس دور کا زریں وقت سمجھا جاتا ہے کیونکہ ’پری رومانس ازم‘ کے اس دور میں ہمیں جارج کریب، گولڈ اسمتھ، تھامس گرے اور ولیم کوپر جیسے شہرہ آفاق شاعر برطانوی ادب کی دنیا پر راج کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
مغربی ادب کا یہ یادگار دور مختلف مغربی ممالک میں مختلف اشکال میں دکھائی دیتا ہے مثلاً برطانیہ میں یہ دور 1798 میں جب ولیم ورڈز ورتھ اور سیموئل کولرج کی ’لریکل بیلیڈ‘ شائع ہوئی تھی سے 1832 کے درمیان کا عرصہ سمجھا جاتا ہے جب یورپین پارلیمنٹ میں ’گریٹ ری فارم ایکٹ‘ کا بل پاس ہوا تھا اور برطانیہ کے الیکٹوریل سسٹم میں انقلابی تبدیلی لائی گئی تھی۔ جرمنی میں رومانوی ادبی دور اپنے وقفے کے لحاظ سے ’ابتدائی رومانٹکس‘ اور ’ہائی رومانٹکس‘ میں تقسیم کیا جاتا ہے جبکہ امریکہ میں یہ دور 1830 سے 1865 کے درمیان پھیلا ہوا ملتا ہے۔
گو کہ فرانس میں رومانس ازم کا دور کچھ مختصر رہا مگر ادب کی یہ رومانوی تحریک جب یورپ سے نکل کر نارتھ امریکہ تک پہنچی تو اس نے وسیع و عریض تہذیبی اثرات وہاں مرتب کیے کیونکہ ادب کے ساتھ اس موومنٹ کا گہرا تعلق آرٹ، میوزک، سیاست، مذہب اور فلسفے سے بھی تھا۔ اس لیے کہ یہی وہ دور تھا جب میوزک میں ہمیں بیتھووین اور فلسفے میں کانٹ نظر آتا ہے۔
مغربی ادب کے اس دور میں ہمیں یورپ میں کئی ایک انقلابی تبدیلیاں دکھائی دیتی ہیں۔ ایک طرف اٹھارہویں صدی میں صنعتی انقلاب کی آہٹ سنائی دے رہی تھی اور پرانی ایگریکلچرل سوسائٹی ایک نئی کمرشل سوسائٹی سے بدلتی جا رہی تھی۔ اس تبدیلی کے عمل سے مڈل کلاس تیزی سے نشو و نما پا رہی تھی اور گاؤں سے شہروں میں مزدوری کا پھیلاؤ بڑھتا جا رہا تھا۔ کیپیٹل اور لیبر کلاس کے درمیان کے فاصلے بھی بڑھتے جا رہے تھے اور کرپٹ اشرافیہ اور مزدور طبقوں کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہو رہا تھا۔
وہ اپنی طاقت کو قائم و دائم رکھنے کے خاطر سیاسی حربے استعمال کر رہے تھے اور عوام الناس ظلم و جبر کے خلاف احتجاج کے لیے متحد ہوتی جا رہی تھیں۔ یہی سارے عوامل یورپ میں صنعتی انقلاب کا سبب بن رہے تھے۔ اٹلی ابھی بھی بیرونی قوتوں کے کنٹرول میں تھا مگر جرمنی ایک بڑی متحدہ قوت بننے کی تگ دو میں مصروف تھا۔ یورپ کے مقابلے میں امریکہ میں بھی کئی ایک سیاسی تبدیلیاں دکھائی دے رہی تھیں۔ امریکہ کی ریاستیں برطانوی نو آبادیاتی نظام کے ہتھکنڈوں سے مسلسل لڑ رہی تھی حتی کہ 1783 میں وہ ’ٹریٹی آف پیرس‘ کے نتیجے میں اپنی خود مختاری حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔
امریکی انقلاب کے فوراً ہی بعد فرانس کے عظیم انقلاب کا واقعہ 1789۔ 1799 کے دوران رونما ہوا۔ اس انقلاب کا مقصد یوں تو جمہوریت کی علمبرداری تھا مگر نتیجہ اس کے برعکس نکلا اور نپولن بوناپارٹ کی ڈکٹیٹرشپ سامنے آئی۔ ادھر برطانیہ میں کوئی بڑا عوامی انقلاب تو نظر نہیں آ رہا تھا مگر گورنمنٹ کو یہاں بھی مجبوراً پہلا ریفارم بل پاس کرنا پڑا اور مڈل کلاس کو بھی طاقت میں حصہ مل گیا۔ روس میں اس دوران کئی ایک تحریکیں اشرافیہ (حکومت) کے خلاف نظر آتیں ہیں جنہیں سختی سے کچل دیا گیا مگر بالآخر الیکزینڈرٹوکے دور ( 1855۔ 1881 ) میں کئی ایک لبرل ریفارمز ہوئے اور غلامی (سرف) کے نظام کا 1861 میں خاتمہ ہو گیا۔
جس طرح صنعتی انقلاب کے لیے بھاپ کے انجن اور ٹیکسٹائل کے ’اسپنگ جینی‘ جیسی سائنسی ایجادات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اسی طرح روسو کی ’دی سوشل کانٹریکٹ‘ اور پین کی ’دی رائیٹ آف مین‘ نے عوامی حقوق کے سلب ہونے کی صورت میں گورنمنٹ کے خلاف انقلاب کا حق حاصل کرنے کا نظریہ دیا۔ 1776 میں اگر آدم اسمتھ کی ’دی ویلتھ آف نیشن‘ نے اکانومی کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا تو میری ویلسٹن کرافٹ نے 1790 میں ’ونڈیکشن آف دی رائٹ آف مین‘ لکھ کر عورتوں کی طرف سے بھی عوامی حقوق اور سیاسی آزادی کے لیے جمہوری نظام کے قیام میں اپنا حصہ پیش کیا۔
رومانس ازم ایک بھرپور ثقافتی تحریک تھی اس لیے اس نے ادب کے نیو کلاسیکل دور کو آسانی سے سرکا کر اس کی جگہ لے لی اور یوں ادب کے منظر نامے کو بدلتی چلی گئی۔ اس دور کے مغربی ادب میں ماضی کے حکمرانوں یا ارباب اختیار کے تذکروں کے بجائے نئے مزاج کے دانشوروں، ٹیلنٹز اور تخلیقات کا ذکر ہوا اور عام انسانوں کی طرف دیکھنے کی نظر بدلتی چلی گئی۔ زمانہ قدیم کے دور کے فرسودہ اصولوں کے بجائے انسانوں کی فطری جبلت اور اس کے بے ساختہ اظہار کو ادبی معیار کے طور پر سامنے لایا گیا اور فطرت کے ساتھ ہم آہنگی اور تعلق کو اہمیت دی گئی۔
اس دور کے ادیب وجودیت کے غیر وحدانی تصور کی طرف مائل تھے یعنی ایک ایسا تصور جو نوبل سیوئج تھیوری (فطری حیوانی شکل) کے قریب ترین تھا جیسے کہ روسو نے کہا تھا کہ انسان بنیادی طور پر اچھائی یا برائی یا گناہوں کے تصور سے بالاتر فطری شکل میں پیدا ہوا ہے۔ عقلیت پسندی، منطقی اظہار یا مذہبی سے زیادہ ایک صوفیانہ فکر یعنی (ٹرانس سینٹرل ازم) فارم کو فکری توجیہات کا حصہ بنایا گیا۔ رومانس ازم میں اظہار کے لیے جذبات و احساسات کے مجموعی اظہار کو فوقیت دی گئی اور فرد کی کم و بیش ہر طرح کی معاشرتی آزادی حتی کہ جگہ اور وقت سے آزادی کے تصور کو تخلیقی ادب میں جگہ دی گئی۔
ادب کی اصناف میں شاعری نثر سے زیادہ تخلیق ہوئی۔ اس دور میں رمزیہ طویل نظموں کے بجائے محبت کے نغمے، فطرت پر شاعرانہ نظمیں، غم و افسردگی کے احساسات سے بھری ہوئی شاعرانہ تحریریں، لوک گیت، قومی نغمے اور بیلیٹ انداز میں شاعری اور نثر کثیر تعداد میں ملتی ہیں۔ شیلے، کوریج، رابرٹ برن، پوشکن، کیٹس، وکٹر ہیوگو، لارڈ بائرن، ولیم ورڈز ورتھ، ایلن پو اور ولیم بلیک جیسے عظیم شاعروں سے یہ دور سجا ہوا
تھا۔ فکشن میں رومانس ازم کا زیادہ تر زور ہمیں جذباتی و تاریخی ناولوں، او ر گوتھک لٹریچر میں ملتا ہے۔ رومانس ازم کے دور میں خطوط، مضامین اور سوانح حیات پر تو خاصا کام ملتا ہے مگر ڈرامے کی صنف پر زیادہ تخلیقات نظر نہیں آتی ہیں۔ مشہور شخصیات کو موضوعات بنانے کے بجائے اس دور میں بچوں، دیہاتی انسانوں، آوارہ پھرنے والوں، تنہائی کے شکار لوگوں اور معصوم یا سادہ اور عام انسانوں پر ادب تخلیق کیا گیا۔ اس دور میں انسانوں کی ابتدائی (حیوانی) صورت حال، ما بعد الطبیعیات کے مسائل، پرندوں، ہواؤں، پھولوں، پودوں، سمندروں، بارشوں، آبشاروں، پہاڑوں، میدانی علاقوں، طوفانوں اور چاند تاروں پر ادب تخلیق ہوا۔ رومانس ازم کے دور میں جب سماجی حوالے سے جمہوریت کا خواب پورا ہوتا ہوا نظر آنے لگا تو اسی دوران خواتین رائٹرز کی بھی ایک بڑی تعداد ہمیں نظر آتی ہے جیسا کہ فرانس میں ڈی سٹیل اور انگلینڈ میں میری شیلے اور جین آسٹین جنہوں نے بعد کے ادوار میں حقوق نسواں پر لکھی جانے والی تحریروں کے لیے بنیادیں فراہم کی۔
(جاری ہے )


