EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

”یہ ملک ہمیں بہت قربانیوں کے بعد حاصل کرے گا“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہتے ہیں کہ قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعد ایک وزیر ایک شہر میں جلسے سے خطاب کرنے آئے ہوئے تھے۔ شرکاء کی کثیر تعداد انتہائی غریب تھی۔ وزیر صاحب نے کہا یہ ملک ہم نے بہت سی قربانیوں کے بعد حاصل کیا ہے۔ بزرگ کہہ گئے ہیں کہ بھوکے کے لئے ”دو جمع دو چار“ نہیں بلکہ چار روٹیاں ہوتی ہیں۔ ایک انتہائی غریب عورت کھڑے ہو کر کہنے لگی ”ہمارے گھر تو ایک بوٹی بھی نہیں آئی، قربانی میں تو غریبوں کا بھی حصہ ہوتا ہے“ ۔ آج ستر سال سے زائد کا عرصہ بیت جانے کے باوجود غریب لوگ اگر اپنے حصے کے ثمرات کا انتظار کر رہے ہیں تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ اس کی وجوہات کیا ہیں؟

ایک بڑی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ آزادی کے بعد کچھ لوگ یہ سمجھنے لگ گئے کہ اس ملک کو حاصل کرنے کے لئے اگر قربانیاں دی گئی ہیں تو اب ہمیں حاصل کرنے کے لئے اس ملک کو قربانی دینی چاہیے۔ ایک مدت سے کچھ لوگ اس ملک سے ہی قربانی کا تقاضا کیے جا رہے ہیں اور خود اس ملک کے لئے قربانی دینا بھول گئے ہیں۔ ان کا نظریہ حیات یہ ہے کہ قربانی بھلے کسی نے دی تھی مگر اب ہم قربانی لے کر رہیں گے؟

کچھ لوگوں کا رویہ اس ملک کے ساتھ ایسے رشتہ داروں کی طرح کا ہے جو کہتے ہیں کہ آپ آئیں گے تو ہمارے لیے کیا لائیں گے اور ہم آپ کی طرف آئیں گے تو ہمیں کیا دیں گے۔ کچھ لوگ سحری کے وقت سوئے رہتے ہیں مگر افطاری پر پہلا حق اپنا سمجھتے ہیں۔ یہی سلوک چند لوگوں نے اس ملک کے ساتھ کرنے کی کوشش کی ہے۔ پہلے لوگ احسان کا بدلہ دیا کرتے تھے مگر اب کچھ لوگ اس ملک بنانے والوں سے ان کے احسان کا بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ چند بد فطرت لوگ پوری کوشش کر رہے ہیں جدوجہد آزادی کے روشن ستاروں کے نور سے انکار کیا جائے مگر نور تو سدا نور ہی رہتا ہے اور نور کا انکار کرنے والے اندھے کہلاتے ہیں۔

بعض اوقات آنکھیں نہیں دل اندھے ہوتے ہیں۔ آنکھ کی بینائی تو ایک آپریشن سے واپس آجاتی ہے مگر دلوں کی بصارت واپس لانے کے لئے ان تھک محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ الحمدللہ ہمارے قومی سلامتی کے ادارے یہ محنت کرنا جانتے ہیں۔ وہ ہمیشہ اپنے فرض کی ادائیگی میں ان خاموش مجاہدوں کی طرح لگے رہتے ہیں جن کا حقیقی کردار صرف خالق کائنات ہی جانتا ہے اور اجر بھی وہی دے سکتا ہے۔ اندھیرا بھلے کتنا ہی گہرا ہو، روشنی کی ایک کرن بھی اس کو ختم کرنے کے لئے کافی ہوتی ہے۔

ہمارے ملک میں ایسے چراغوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جو اپنا نور اس وطن سے لیتے ہیں اور اس مٹی کو واپس لوٹانے کے لئے ہردم بے قرار رہتے ہیں۔ ہمارے یہ ہیرو جن کے گیت بسا اوقات نہ لکھے جاتے ہیں نہ گائے جاتے ہیں مگر وہ اپنا فرض چپ چاپ نبھائے جاتے ہیں۔ اندرونی اور بیرونی غداری کا معاملہ بہت سنگین ہے۔ وطن کا گوشہ گوشہ مگر انہی پاک دامنوں کے مقدس لہو سے رنگین ہے۔ ان کی سرفروشی کی داستان بڑی حسین ہے۔

کہنے والے بھلے کہتے ہیں کہ ایک گندی مچھلی سارے تالاب کو گندا کر دیتی ہے اور ایک کالی بھیڑ پورے قافلے کے لئے کلنک کا ٹیکا ہوتی ہے مگر قدرت کا نظام ایسا ہے کہ کعبے کو ضرورت کے وقت، بت خانے سے بھی پاسبان مل جاتے ہیں جبکہ یہ وطن ہمارے بزرگوں کے ایمان کا قصہ ہے تو ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ اس کا تقدس اور اس کی محبت ہمارے دلوں میں قدرت کی طرف سے ودیعت ہے اور اس میں کوئی کوتاہی ایک ایسی بدعت ہے جو ہمارے معاشرے میں من حیث القوم کبھی برداشت نہیں کی جائے گی۔

چند افراد جو آزادی کے سفر میں کبھی شریک سفر ہی نہیں رہے، ان کو یہ وہم ہو گیا ہے کہ اب وہ نہ صرف شریک کارواں ہیں بلکہ میر کارواں ہیں۔ اس ملک و قوم کا سفر نور کا سفر ہے مگر چند کوتاہ چشموں نے اسے سرور کا سفر سمجھ لیا ہے۔ چند دنیا دار لوگ کچھ چمکتے کنکر سمیٹ کریہ سمجھ رہے ہیں کہ انہوں نے اس وطن عزیز کے خزانے لوٹ لیے ہیں۔ مگر انہیں کیا معلوم کہ اس ملک کا اصل خزانہ تو یہاں کے رہنے والوں کی اپنے وطن سے محبت ہے یہ ملک توان کے دل و جان میں بستا ہے۔

وطن چمکتے کنکروں سے نہیں، اپنے باشندوں کے جسم اور روح سے عبارت ہوتا ہے۔ یہ ملک اقبال کا خواب ہے۔ بدنیت شخص کے لئے عذاب ہے۔ اس کے دشمن کا خانہ خراب ہے کیونکہ اللہ پاک مسبب ال اسباب ہے اور یہ وطن امت کا شباب ہے۔ یہ پاک وطن اللہ کے پاک نام پر حاصل کیا گیا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو اس سے خدا واسطے کا بیر ہے۔ مگراس ملک بنانے والوں میں نایاب ”جوہر“ تھا اور یہ ”جوہر“ نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے۔ جب تک شہداء کی نسل کا ایک فرد بھی سلامت ہے یہ ملک اپنے بدخواہوں کے لئے قیامت ہے اور انشاء اللہ وہ بڑے بے آبرو ہو کر اس پاک کوچے سے نکلیں گے۔ تقدیر کے قاضی کا ازل سے ایک فتویٰ یہ بھی ہے ”جنت میں کسی کافر کا وجود برداشت نہیں جا سکتا“ ۔ اس وطن کے وجود کے منکروں کو کہیں امان نہیں ملے گی۔ انشاء اللہ۔

جو لوگ وطن عزیز کو اقوام عالم میں اکیلا کرنا چاہتے ہیں، وہ اپنی موت آپ مرنا چاہتے ہیں اور الزام ہم پر دھرنا چاہتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہ ملک ایک ایسا چراغ ہے جس کے نور سے بہت سے دیگر ممالک بھی منور ہوئے ہیں۔ کسی کی پھونکوں سے یہ چراغ نہ بجھا ہے اور نہ اب بجھے گا۔ سچ تو یہ ہے ”جب تک سورج چاند رہے گا اس پاک وطن کا نام رہے گا“ ۔ انشاء اللہ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے