میں دی باراک اوباما کیسے بنا؟

میں نے اپنی ماں کو دنیا سے مختلف پایا۔ وہ مجھ سے اکثر کہتی تھی، بار اس دنیا کے پیچ و خم بیت پیچیدہ ہیں لیکن یہی بات اس میں انٹرسٹنگ بھی ہے۔ میری ماں اس دنیا کی نہیں تھی۔ وہ ان فرسودہ روایتوں سے باغی تھی۔ اور اس کی یہ رائے بے جا نہیں تھی بلکہ مضبوط دلائل پر مبنی تھی۔

تمام سماجی پابندیوں کے باوجود اس نے محبت کی شادی کی لیکن ناقابل تلافی نقصان اٹھایا۔ زندگی کی تلخیوں سے بیت قریب سے گزر ہوا اس کا۔ لوگوں کی خود غرضی، لالچ، ہوس اور بے اعتنائی سے اس کا سامنا تب ہوا جب اس کے نازک کاندھوں پر اس کے دو بچوں کا بوجھ آن پڑا۔ ایک طلاق یافتہ عورت دنیا کے کسی کونے میں بھی ہو، وہ کتنی ہی پارسا کیوں نہ ہو، طلاق کا دھبہ اس کے کردار کو پاش پاش کر دیتا ہے چاہے اس طلاق میں اس کا قصور نہ بھی ہو تب بھی جوابدہ عورت ہی ٹھہرتی ہے۔

میں نے دیکھا اس کو زندگی میں خاموش ہوتے، اپنی بقا کے لیے زندگی سے جنگ لڑتے، مالی مشکلات سے کا مقابلہ کرتے لیکن اس نے اپنی ناکامی کو گلے نہیں لگایا بلکہ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس نے خود کو کام میں جھونک دیا تاکہ وہ میری اور میری بہن کی اچھی پرورش کر سکے۔ مقابلہ سخت تھا لیکن اس نے زندگی کی دشواریوں کو ہرا دیا۔

مجھے آج بھی یاد ہے اس نے میرے بچپن میں پریوں کے قصے نہیں سنائے بلکہ وہ مجھ سے سول رائٹس، ویمن موومنٹ اور گورنمنٹ کرپشن جیسے معاملات ڈسکس کرتی تھی۔ اور میں کھلنڈرا، لا ابالی سا بارہ سال کا جوان۔ مجھے یہ باتیں بور کرتی تھیں کیونکہ میرے انٹرسٹس کچھ اور تھے : لڑکیاں، موسیقی، پارٹی اور سپورٹس۔ مجھے پڑھائی میں قطعاً کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ایک دن ماں کو معلوم پڑا کہ میں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر سکول کے کسی لڑکے کو بلا وجہ زد و کوب کا نشانہ بنایا۔ تو وہ میرے سامنے بیٹھی۔ مایوسی اس کے چہرے پر عیاں تھی۔ یقیناً وہ میرے لیے کچھ اور سوچتی تھی۔ اس دن اس نے مجھ سے کچھ ایسا کہا جو مجھے آج تک یاد ہے۔ جس نے میری سوچ کے انداز بدل دیے۔

ماں مجھ سے بولی، بار (وہ مجھے پیار سے بولتی تھی) دنیا میں دو طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں : ایک وہ جو اپنے مفاد کے لیے دوسروں کو استعمال کرتے ہیں۔ ایسے لوگ دوسروں کے جذبات کو بالائے طاق رکھتے ہیں۔ ان کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول میں وہ دوسروں کا کیا نقصان کرتے ہیں۔

They put other people down to make themselves feel important

جبکہ دوسری ٹائپ ان لوگوں کی ہے جو خودغرض لوگوں کے بالکل برعکس ہیں۔ وہ سب کے بارے میں سوچتے ہیں کہ ان کے قول و فعل سے کسی کی دل آزاری نہ ہو۔

میری ماں نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالی اور معنی خیز انداز میں سوال کیا تم کس ٹائپ میں شمار ہونا چاہتے ہو بار؟

You could build power not by putting others down but by lifting them up

میری ماں نے اس دن زندگی کا بہترین سبق دیا جس نے آنے والے دنوں کی سمت متعین کر دی۔ اس کے مطابق زندگی ہمیں سدھرنے کے مواقع دیتی ہے اور بہترین انسان وہ ہی ہے جو اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے، دوسروں کو گرنے نہیں دیتا بلکہ تھام لیتا ہے۔ اس کے لیے یہی اصل جمہوریت تھی اور میرے لیے بھی یہ سنہرا اصول میرے شاندار کرئیر میں میرا نصب العین ٹھرا۔ جب میں نے امریکہ کے 44 صدر کی حیثیت سے منصب سنبھالا تو میرے الفاظ تھے

YES we can

ہم صرف امریکہ کے باسیوں کے لیے نہیں تھا بلکہ حسب و نسب سے بالا تر میرے ملک کے ہر مکین کے لیے تھا۔ اور یقیناً میرے دوست اس وقت یہ سوچتے ہوں گے

That guy? How the hell did that happen
سچ تو یہ ہے کہ میرے پاس بھی اس کا جواب نہیں کہ میں دی باراک اوباما کیسے بنا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words
شازیہ ریاض ڈار کی دیگر تحریریں