EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

فوج کی ناکام بغاوت کو پانچ برس مکمل، ترکی میں کیا کچھ بدل چکا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فائل فوٹو
انقرہ — ترک فوج کے ایک دھڑے کے صدر رجب طیب ایردوان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش کو پانچ برس بیت گئے ہیں۔ ترک صدر نے اپنے حامیوں کو دارالحکومت انقرہ میں اس دن کی یاد کو تازہ کرنے کے لیے جمع ہونے کی ہدایت کی ہے۔

ترکی میں جمعرات کو عام تعطیل ہے جس کا مقصد فوجی بغاوت کو ناکام کرنے والے افراد کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔

فوجی بغاوت کی کوشش اور اس کے خلاف ہونے والی مزاحمت کے دوران لگ بھگ 250 افراد ہلاک ہوئے تھے جب کہ بغاوت کے الزام میں اب تک سیکڑوں فوجی افسران، ججز اور پراسیکیوٹرز کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

ایردوان نے جلاوطن ترک رہنما فتح اللہ گولن پر بغاوت کا الزام عائد کیا تھا جو اس وقت امریکہ میں موجود ہیں تاہم وہ اس الزام کی تردید کرتے رہے ہیں۔

پندرہ جولائی 2016 کی ناکام فوجی بغاوت نے ترکی میں تقریباً ہر شعبے پر اپنے اثرات چھوڑے ہیں۔ ملک میں مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے اور ڈالر کے مقابلے میں ترک کرنسی لیرا کی قدر میں دو گنا سے بھی زیادہ کمی ہوئی ہے۔

گزشتہ پانچ برس میں اب تک ہزاروں افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے جب کہ ایک لاکھ 40 ہزار سے زیادہ کو یا تو نظر بند یا انہیں ملازمتوں سے برطرف کیا جا چکا ہے۔

گزشتہ پانچ برس میں ترکی میں میڈیا پر بھی کڑی حکومتی نگرانی ہے اور درجنوں میڈیا آرگنائزیشنز کو بند کیا جا چکا ہے۔

بغاوت کے مبینہ منصوبہ سازوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، مخالف سیاست دانوں کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن نے صدر ایردوان کی اقتدار پر گرفت مزید مضبوط کر دی ہے۔

بغاوت کی ناکام کوشش کو ایک برس مکمل ہونے سے قبل ہی ایردوان نے ایک ریفرنڈم کے ذریعے ترکی کے پارلیمانی جمہوری نظام کو صدارتی نظام میں تبدیل کیا تھا۔

انہوں نے معمولی سبقت سے ریفرنڈم میں کامیابی حاصل کی تھی جس کے بعد وہ اکثر اہم امور پر صدارتی حکم نامہ جاری کرنے کا اختیار استعمال کرتے ہیں۔

بغاوت کے الزام میں گرفتاریاں و سزائیں

ترکی کے وزیرِ دفاع ہلوسی اکار نے منگل کو کہا تھا کہ فتح اللہ گولن کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ترکی نے 23 ہزار 364 فوجیوں کو برطرف کیا ہے۔

ترک وزیرِ داخلہ سلیمان سوئیلو کے مطابق 2016 کے بعد تین لاکھ 21 ہزار سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا جن میں سے بیشتر کو رہا کر دیا گیا ہے۔

فتح اللہ گولن کے نیٹ ورک سے تعلق کے الزام میں تقریباً چار ہزار ججز اور پراسیکیوٹرز کو نظربند کیا گیا جب کہ ایک لاکھ سے زیادہ ان ملازمین کو یا تو برطرف کیا گیا یا معطل کیا گیا جو پبلک سیکٹر کے ملازمین تھے۔

ترکی کی سرکاری نیوز ایجنسی ’انادولو‘ کے مطابق عدالتوں نے تین ہزار افراد کو عمر قید کی سزا سنائی جب کہ 4890 کو بغاوت کی کوشش میں اپنا حصہ ڈالنے کا مرتکب قرار دیا۔

ترکی میں 15 جولائی 2016 کی بغاوت کے بعد شروع ہونے والا کریک ڈاؤن اب بھی جاری ہے اور اس کے ختم ہونے کے کوئی آثار نہیں۔ کیوں کہ بدھ کو ہی صدر ایردوان نے کہا ہے کہ جب تک بغاوت کرنے والے آخری شخص کو ٹھیک نہیں کر لیا جاتا اس وقت تک یہ مہم جاری رہے گی۔

دوسری جانب ترکی میں قانون کی بالادستی اور مخالفین کے خلاف کارروائیوں نے ترکی کے مغربی اتحادی ملکوں کے درمیان تعلقات اور معیشت کو متاثر کیا ہے۔

مبصرین کے مطابق ایردوان نے بغاوت کی کوشش کی ناکامی کو اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔

اس خبر میں معلومات خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ سے لی گئی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 2621 posts and counting.See all posts by voa

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے