EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

داسو واقعے میں دہشت گردی خارج از امکان نہیں، دھماکہ خیز مواد کے شواہد ملے ہیں: وزیرِ اطلاعات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فائل فوٹو
اسلام آباد — پاکستان کے وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ داسو واقعہ میں بارود کے استعمال کے شواہد ملے ہیں۔ دہشت گردی کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

دوسری جانب پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے چین کے وزیرِ خارجہ کو آگاہ کیا ہے کہ داسو میں پیش آنے والے واقعے کی ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ دہشت گردی کی کارروائی نہیں ہے۔ بلکہ ایک حادثہ تھا۔

چین کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ اگر یہ دہشت گرد حملہ ہے تو اس کے ذمہ داران کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور انہیں سزا دی جائے۔

فواد چوہدری کا سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم تمام صورتِ حال کا خود جائزہ لے رہے ہیں۔ پاکستان کے حکام بھی اس بارے میں چین کے حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم مل کر دہشت گردی کے خطرے کا مقابلہ کریں گے۔

گزشتہ روز چینی حکام کی طرف سے شک ظاہر کیا جا رہا تھا کہ یہ منظم دہشت گردی کا واقعہ ہے۔

خیبر پختونخوا کے شمالی پہاڑی علاقے اپر کوہستان میں چین کے انجینئرز کو لے جانے والی بس میں دھماکے کے نتیجے میں نو چینی انجینئروں اور فرنٹیئر کور کے دو اہلکاروں سمیت 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

حکام کے مطابق داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر کام کرنے والے 40 سے زیادہ ملازمین بس میں سوار تھے جو بیس کیمپ سے پراجیکٹ کی جانب رواں دواں تھی۔

دھماکے کے حوالے سے پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں مختلف رپورٹس سامنے آئی تھیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق دھماکہ ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے ہوا ہے۔ البتہ پاکستان کے حکام نے اس کی تصدیق نہیں کی۔

اسلام آباد میں چین کے سفارت خانے نے واقعے کو حملہ قرار دیتے ہوئے پاکستان پر زور دیا تھا کہ وہ اس میں ملوث عناصر کا تعین کر کے قرار واقعی سزا دے۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مکینیکل خرابی کی وجہ سے بس کھائی میں گرنے سے گیس لیکج سے دھماکہ ہوا تھا ۔ البتہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔

وزارتِ خارجہ نے حادثے میں نو چینی اور تین پاکستانی شہریوں کی ہلاکت بھی تصدیق کی جو علاقے میں جاری ایک ترقیاتی منصوبے میں کام کے لیے جا رہے تھے۔

’پاکستانی حکام جلد سے جلد اس واقعے کی وجہ سے آگاہ کریں گے‘

چین کی وزارتِ خارجہ نے دوشنبے میں پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور چین کے وزیرِ خارجہ وانگ زی میں ملاقات کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے جس کے مطابق وانگ زی نے کہا کہ چینی عوام پاکستان میں بڑی تعداد میں چینی اہلکاروں کی ہلاکت پر تشویش میں مبتلا ہیں۔

بیان کے مطابق انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان میں حکام جلد سے جلد اس واقعے کی وجہ سے آگاہ کریں گے اور متاثرہ افراد کے علاج اور ریسکیو کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔ اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے موثر حکمت عملی بنائی جائے گی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر یہ واقعہ دہشت گردی کا ہے تو اس ذمہ داران کو فوری گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔ اس واقعے سے سبق حاصل کرتے ہوئے پاکستان میں جاری پاک چین مختلف منصوبوں پر کام کرنے والی چینی اہلکاروں کی حفاظت کو مزید بہتر بنایا جائے۔

چینی وزارتِ خارجہ نے پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا بیان بھی شامل کیا ہے جس میں شاہ محمود قریشی نے چینی اہلکاروں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ ایک حادثہ تھا اور دہشت گرد حملے کے شواہد نہیں ملے۔

شاہ محمود کا کہنا تھا کہ چین پاکستان کا سب سے قابلِ اعتماد دوست اور شراکت دار ہے۔ چین کا نقصان پاکستان کا نقصان ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان زخمی چینی اہلکاروں کے علاج میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھے گا۔

واقعے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس حادثے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور ہر مرحلے پر چین کے حکام کو آگاہ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں موجود چینی اہلکاروں کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔

داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کون بنا رہا ہے؟

واپڈا کی ویب سائٹ کے مطابق 4320 میگاواٹ کا یہ منصوبہ دریائے سندھ پر داسو ٹاؤن سے سات کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ اس ڈیم کی اونچائی 242 میٹر ہے۔

ڈیم کی کنسلٹنٹ جاپانی فرم ’نیپون کیوئی‘ ہے اور ان کے ساتھ ترکی کی میسرز ’ڈوسلر‘ بھی اشتراک میں کام کر رہی ہے۔ جب کہ تعمیرات کے لیے چین کی کمپنی میسرز ’چائنہ گیزوبہ گروپ‘ کام کر رہا ہے۔ گزشتہ روز حادثہ میں زخمی اور ہلاک ہونے والی چینی اہلکار اسی گرپ کے لیے کام کر رہے تھے۔

سال 2017 میں شروع ہونے والا یہ ڈیم فروری 2023 میں مکمل ہونے کا امکان ہے۔

حادثے کے بعد کی صورتِ حال کیا ہے؟

اس بارے میں مقامی صحافی سجمل خان نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ برسین کینٹ کا علاقہ ہے جہاں یہ واقعہ پیش آنے کے بعد ہر طرف سیکیورٹی تعینات کر دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں کرفیو جیسی صورتِ حال ہے۔ دھماکے کے بعد سے گاڑیوں کو گزرنے کے لیے صرف ایک گھنٹے کے لیے سڑک کھولی گئی اور اس کے بعد اسے ٹریفک کے لیے دوبارہ بند کر دیا گیا۔

سجمل خان کے مطابق جمعرات کو چین کے سفیر نے جائے وقوع کا دورہ کیا اور برسین کینٹ میں موجود چین کے اہلکاروں سے ملاقات کی۔ سیکیورٹی حکام سے بھی اس حادثے کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تحقیقات جاری ہیں اور مکمل ہونے پر ہی مزید معلومات دی جائیں گی۔

جہاں یہ واقعہ پیش آیا وہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے فرانزک ماہرین موقع پر موجود ہیں اور تمام شواہد جمع کرلیے گئے ہیں لیکن اب تک کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب تک 13 ہے جس میں نو چینی افراد، دو ایف سی اہلکار اور دو عام شہری شامل ہیں۔

ریسکیو 1122 کے مطابق 27 افراد زخمی ہیں جنہیں ابتدائی طور پر مقامی ہیلتھ سینٹر میں ابتدائی طبی امداد دی گئی اور بعد میں شدید زخمیوں کو ملٹری ہیلی کاپٹر کے ذریعے راولپنڈی منتقل کیا گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 2565 posts and counting.See all posts by voa

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے