امریکہ میں قربانی کے بکرے کا احوال


جب بکرے کو مقتل لے جانا مقصود تھا تو وہ وہاں سج دھج سے جانے کو انکاری تھا۔ شدو نے پھر روایتی ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے اور گھسیٹتے ہوئے بکرے کو اپنے فورڈ ایکسپیڈیشن ٹرک میں ڈالا۔ اس کا بہیمانہ سلوک دیکھ کر بکرے کا رنگ اڑنے سے پیشتر ہی زرد ہو چکا تھا۔ جب ٹرک ذبح خانے کے سامنے پہنچا تو شدو نے بکرے کے ساتھ دوبارہ وہی رویہ اختیار کیا اور اسے کھینچ کر زبردستی ٹرک سے باہر لانے کی کوشش کی۔

دکان کے مالک کی نظر شدو کی اس حرکت پر پڑی تووہ دوڑ کر باہر آیا اور اونچی آواز میں اسے للکار کر بولا، تم یہ کیا کر رہے ہو، اگر کسی پولیس والے نے اس بے زبان کے ساتھ تمہارا یہ حال دیکھ لیا تو تمھیں جرمانہ ہو گا اور تم جانوروں کے ساتھ برا برتاؤ کرنے پر جیل بھی جا سکتے ہو۔ سلیم پھر آگے بڑھا اور سوری سوری بولنے لگا۔ خیر اس کے بعد بکرے کو احترام کے ساتھ اور بازؤں پر اٹھا کر قصائی کی دکان میں لا یا گیا۔

سلیم نے قصائی کو اپنی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں عید قربان کے حوالے سے بتایا کہ وہ یہ جانور قربانی کے لیے خدا کے حضور پیش کرنا چاہتے ہیں۔ قصائی نے کہا ٹھیک ہے تم بکرے کو یہاں چھوڑ جاؤ اور کل آ کر اپنا گوشت لے جانا۔ کیا مطلب؟ سلیم نے پوچھا، ہم کل کیوں لے جائیں؟ عید آج ہے اور گوشت کل ملے گا۔ قصائی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا سنو بھائی، یہاں کا قانون ہے کہ کسی بھی جانور کو ذبح کرنے کے بعد کم از کم چوبیس گھنٹوں کے لیے فریز میں رکھا جاتا ہے تاکہ اس کا گوشت اچھی طرح کھانے کے قابل ہو جائے اور یہ ڈاکٹروں کی طرف سے گوشت خور انسانوں کی صحت کے لیے ضروری ہدایت ہے۔

قصائی کا فرمان سن کر، س اور ش، ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ اب کیا کریں، سلیم نے پوچھا۔ شدو نے پنجابی میں ایک بڑا سا پھکڑ نکالا اور کہا چلو کسی اور قصائی کے پاس چلتے ہیں۔ سلیم بولا، بھائی پہلے ہی بڑی مشکل سے اس قصائی نے ٹائم دیا ہے۔ باقی سب قصاب دو دن بعد آنے کا کہہ رہے تھے۔ اور جہاں جاؤ گے یہ مسئلہ ہر جگہ پیش آئے گا کیونکہ یہ امریکہ ہے امریکہ، لاہور نہیں۔ شدو گھسیانا ہو کر بولا، چلو فیر ایس نال ای مک لو (چلو پھر اس کے ساتھ ہی معاملہ طے کر لو)۔

سلیم قصائی کی شرط پر راضی ہو گیا مگر اسے کہا کہ وہ بکرے کو اپنے طریقے سے ذبح کرنا چاہتے ہیں۔ قصائی پھر چونک گیا، کیا مطلب اپنے طریقے سے؟ آپ کا کون سا طریقہ ہے؟ ارے بھائی! ہم تو قصاب کا کام کرنے کا باقاعدہ لائسنس حاصل کرتے ہیں۔ کیا تمہارے پاس وہ اجازت نامہ ہے۔ سلیم نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا، جی وہ تو نہیں ہے۔ یہ سن کر قصائی، ایک فسطائی لہجے میں بولا، تو پھر تم جانور کو ذبح کرنے کے لیے چھو بھی نہیں سکتے ہو۔

قصائی کا انداز اور بات سن کر، سلیم اور شدو پھر کانا پھوسی میں لگ گئے۔ شدو نے بے قرار ہو کے آہ بھری اور کہا، یار اے کی مصیبت اے اور پھر اس نے سلیم کو لومڑی والا مشورہ دیا، کہ تم قصائی سے بولو کہ یہ ہمارے مذہب اور عقیدے کا مسئلہ ہے، ہمیں جانور اپنے طریقے سے ذبح کرنے کی اجازت دی جائے۔ سلیم کو پہلی مرتبہ لگا کہ شدو بھائی دنیا کا ذہین ترین آدمی ہے۔ اس نے قصائی کو اپنا مدعا سمجھانے کی کوشش مگر قصائی نے ان کی بات ماننے سے صاف انکار کر دیا۔

دونوں دوست بکرے کو لے کر قصائی کی دکان سے باہر نکل آئے۔ بکرے نے اے سی والی ٹھنڈی دکان سے نکالے جانے کا برا منایا اور اونچی آواز میں بھیں بھیں کر نے لگا۔ شدو نے قصائی کی باتوں کا غصہ بھی بکرے پر اتارنا چاہا۔ اس نے بکرے کی گردن دبوچنے کے لیے اپنا آہنی پنجہ آگے بڑھایا مگر سلیم نے اسے خبردار کرتے ہوئے کہا، یار قصائی ویکھ رہیا اے، کجھ خدا دا خوف کھا۔ یعنی خوف خدا کا نہیں، قصائی کا تھا۔

شدو جو قربانی کا گوشت کھانے کے لیے بڑا بے تاب ہو رہا تھا، اب اس کی امیدیں دم توڑنے لگیں۔ بکرے کی چانپیں اس کے خیالوں میں پک رہی تھیں مگر بکرا تو ابھی صحیح و سلامت، اپنی چاروں ٹانگوں پر اس کے سامنے کھڑا تھا گویا اس کو منہ چڑھا رہا ہو۔ اسے پریشان حال دیکھ سلیم نے کہا چلو کوئی بات نہیں ہم جاکر بکرے کو واپس اس کے مالک کو بیچ دیتے ہیں اور اس سے معذرت کر لیں گے۔ یہ بات سن کر شدو کی آنکھوں میں جیسے خون اتر آیا ہو۔ وہ بولا، نہیں، ایسے کیسے ہو سکتا ہے۔ ہم ہر حال اس بکرے کی قربانی کریں گے، یہ ہمارا حق ہے۔ وہ ہر حال بکرے کو اپنی انا پر قربان کرنے کے لیے تیار نظر آ رہا تھا۔ شاید اسے اپنے سامنے کسی جانور کو خون میں لت پت اور تڑپتے ہوئے دیکھے ایک عرصہ بیت گیا تھا۔

سلیم نے شدو سے کہا، چلو تو پھر کوئی اور حل بتاؤ۔ شدو کی ذہانت پھر کام آئی وہ بولا، دیکھو قصائی کو کہتے ہیں کہ بکرے کے گلے پر چھری وہ پھیرے لیکن ہم چھری پر ہاتھ رکھ کر تکبیر پڑھ لیں گے۔ سلیم نے شدو کی فطانت کو داد دی اور قصائی سے مذاکرات کرنے پھر دکان کے اندر چلا گیا۔ اب کی بار اس نے قصائی کو اپنی بات پر راضی کر لیا مگر دونوں دوستوں کے لیے دریا کے پار ایک اور دریا عبور کرنا ابھی بھی باقی تھا۔

شدو دوبارہ بکرے کو پیار سے دکان کے اندر لایا۔ اب اسے لگ رہا تھا وہ بکرے کے تڑپنے کا تماشا ضرور دیکھے گا۔ جیسے ہمارے ہاں اکثر لوگ کسی مذبح کے گرد تماشائیوں کی طرح گھیرا ڈال کر بیٹھتے ہیں لیکن قصائی کے ایک اور اعلانیے نے شدو کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ قصائی نے کہا کہ امریکہ میں مروجہ قانون کے تحت، کسی جانور کو بقائمی ہوش و حواس ذبح نہیں کیا جا سکتا۔ بکرے کو ذبح کرنے سے پہلے بے ہوشی کا انجیکشن دیا جائے گا اور اس کے ایک گھنٹے کے بعد اس کے گلے پر چھری پھیری جائے گی۔ یہ بات سن کر دونوں دوست پھر ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ آخر سلیم تنگ آ کر بولا، جی ٹھیک ہے آپ اپنی قانونی کارروائی پوری کریں، ہم ایک گھنٹہ انتظار کر لیں گے۔

فریقین کی رضا مندی کے بعد بکرے کو بے ہو شی کا ٹیکا لگایا گیا اور دونوں دوست ایک گھنٹہ انتظار کرنے کے بہانے کافی پینے نزدیکی سٹار بکس چلے گئے۔ سلیم کا دل وسوسوں سے بھرا ہوا تھا اور وہ پریشان تھا کہ خدا جانے اس طرح بے ہوشی کے عالم میں بکرے کو ذبح کی جانے پر اس کی قربانی قبول ہو گی یا نہیں۔ شدو بھائی اسے تسلیاں دیتا رہا کہ رب کے پاس گوشت تھوڑا ہی پہنچتا ہے وہ تو ہماری نیتوں کو دیکھنے والا ہے۔ ایک گھنٹے کے بعد دونوں دوست واپس قصائی کی دکان پر آئے اور وہاں پڑا بے ہوش بکرا ان کی رسم قربانی کی بھینٹ چڑھنے کا منتظر تھا۔ قصائی نے تیز دھار والی چھری پکڑی، بکرے کے گلے پر رکھی، سلیم نے چھری پر اپنا ہاتھ رکھا اور دل میں تکبر پڑھی۔ یوں وہ بکرا اپنی بے ہوشی کے عالم میں بغیر کسی تکلیف اور تڑپنے کے اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔

سلیم اور شدو کو عید قربان کے پہلے دن گوشت کھانے کو تو نہیں ملا لیکن انہیں بہت سے نئے سبق سیکھنے کو ضرور ملے۔ انہیں مسجد اور منبر سے احترام انسانیت کا درس تو شاید دیا جاتا ہو لیکن جانوروں کے ساتھ کیسا سلوک کرنا ہے وہ سبق انہوں نے امریکہ میں ایک قصائی کی دکان پر سیکھا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2