امریکہ میں قربانی کے بکرے کا احوال


عید قربان میں ابھی چند دن باقی تھے کہ سلیم اور شدو بھائی نے قربانی کی رسم ادا کرنے کے لیے ایک بکرے کی تلاش شروع کر دی۔ وہ دونوں دوست امریکہ کے ایک دوردراز قصبے اور میکسیکو بارڈر کے قریب گیس سٹیشن اور کنوئینس سٹور میں ملازم تھے۔ وہ اچھے دوست اور اپنے خاندان سے دور، چھڑوں کی جیسے زندگی بسر کر رہے تھے۔ دونوں اکثر عید پر چھٹی لیتے اور اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر عید کی خوشیاں مناتے۔ لیکن اب کی بار، باس نے انہیں عید کی رخصت دینے سے انکار کر دیا۔ سلیم ذرا مذہبی رجحان رکھنے والا تھا لہذا اس نے اپنی محنت کی کمائی سے قربانی کے لیے ایک بکرا خریدنے کی ٹھانی۔

امریکہ جیسی ماڈرن سوسائٹی میں روایتی قسم کی بکر منڈیاں تو ہوتی نہیں لہذا بکرا ڈھونڈنا دونوں احباب کے لیے ایک مسئلہ بن گیا۔ وہ اپنی جان پہچان والے گاہکوں سے بھی ایک عدد بکرا تلاش کرنے کے لیے مدد مانگتے رہے۔ لیکن ایک گاہک نے بڑا دلچسپ مشورہ دیتے ہوا کہا کہ وہ کسی بڑے گراسری سٹور جائیں اور جتنا چاہیں گوشت خرید لیں اور غریبوں میں بانٹ دیں لیکن وہ بڑے روایت پسند تھے، جب تک قربانی کی رسم درست طریقے سے ادا نہ ہو اور کسی جانور کو اپنی آنکھوں کے سامنے قربان ہوتے نہ دیکھیں تو ان کے دل کو تسلی حاصل ہونے والی نہیں تھی۔

آخر کار کسی سیانے نے مشورہ دیا کہ کریگز لسٹ سے تلاش کرو، اس آن لائن سائٹ سے بکرے سستے اور اچھے بھاؤ مل جاتے ہیں۔ خیر سلیم نے فوراً اس ویب سائٹ پر اپنا اکاؤنٹ کھولا اور دونوں ساتھیوں نے انٹر نیٹ کے سمندر میں غوطہ زن ہو کر قربانی کے بکرے کی تلاش شروع کر دی۔ وہاں انہیں کئی بکرے اور دوسرے پالتو جانور برائے فروخت نظر آئے مگر اب انہیں ایک اور پریشانی کا سامنا تھا، وہ یہ کہ بکرا ایسا ہو جو قربانی کے لیے مقررہ معیار پر پورا اترتا ہو یعنی اس کے سب اعضا ء سلامت ہوں، بیمار نہ ہو اور عمر وغیرہ کی شرائط پر پورا اترتا ہو اور یہ سب آن دیکھنا ممکن نہ تھا۔

خیر اللہ اللہ کر کے قربانی کے لیے ایک بکرا آن لائن ہی منتخب کر لیا گیا۔ دونوں ساتھیوں نے بکرے کے مالک سے ملاقات کا وقت طے کیا اور اسے ملنے گوٹ فارم چلے گئے۔ وہاں جا کر سلیم بکرے کے مالک سے گپ شپ لگانے لگا لیکن شدو بھائی ایک دوسرے محاذ پر ایکٹیو ہو گئے انہوں نے مالک سے ہاتھ ملایا اور پھر بکرے کے آلے دوالے ہو گئے۔ سب سے پہلے انہوں بکرے کے دانت چیک کرنے کے لیے ایک ہاتھ اس کی گردن پر رکھا اور دوسرا ہاتھ اس کے جبڑوں کے درمیان۔ پنجاب پولیس کی طرح زبردستی منہ کھلوانے کے نتیجے میں بے چارہ بکرا بلبلا اٹھا اور اپنی مخصوص آواز میں مدد کے لیے پکارا گویا کہ وہ زبان حال سے اپنے مالک کو کہہ رہا ہو تم نے آج مویشی خانے میں کیسے انسانوں کو بلوا لیا ہے۔

بکرے کی حال دہائی سن کر اس کا مالک ذرا غصے میں آیا اور سلیم سے پوچھا
What the hell is he doing؟
سلیم اس کے تیور دیکھ کر معاملے کی نزاکت کو سمجھ گیا اور شدو کو اپنی زبان میں کہا، یار ہتھ ذرا ہولا رکھ۔ شدو نے اپنے آہنی پنجے بکرے کی گردن سے ہٹائے اور جھٹ سے بولا، میں تو اس کی عمر چیک کر رہا تھا۔ شدو جی دنیا کے ان خوش قسمت انسانوں میں سے تھے جن کی امریکہ جانے کی لاٹری نکل آئی، وہ چٹا ان پڑھ اور بڑا ٹھیٹ قسم کا لاہوریا تھا۔ اس نے سلیم کی بات کو آیا گیا کیا اور پھر بکرے کی وکھیوں سے پکڑ کر اسے اٹھانے اور اس کا وزن جانچنے لگا۔ بکرے کو شدو کا یہ فعل بھی ناگوار گزار اور اس نے پھر صدائے احتجاج بلند کی۔

اب کی بار بکرے کے مالک نے ایک گرجدار آواز میں شدو کو ڈائریکٹ مخاطب ہو کر کہا
will you stop this nonsense؟
سلیم فوراً آگے آیا اور اس نے بھی شدو کو ڈانٹا۔ یوں شدو بھائی بکرے کی خرید و فروخت کے معاملے سے الگ کر دیے گئے اور وہ روٹھ کر اپنی گاڑی میں جا کر بیٹھ گیا۔ سلیم نے گوٹ فارم کے مالک کے ماتھے کے بل اور سہمے ہوئے بکرے کی حالت زار دیکھ زیادہ بھاؤ تاؤ نہیں کیا اور بکرا 350 ڈالرز میں خرید لیا گیا۔ بکرے کو گھر لے جانے کے لیے گاڑی کی ڈگی میں ڈالنا بھی ایک قسم کا امتحان تھا۔ خاص طور تب، جب وہاں شدو بھائی پہلے سے موجود تھے۔

قربانی کی عید میں ابھی دو دن باقی تھے لہذا سلیم اور شدو بھائی کو بکرے کی دیکھ بھال کرنا پڑی۔ وہ دونوں اپنے سٹور کے عقب میں ایک چھوٹے سے کمرے میں رہتے تھے۔ اب اس کمرے میں تیسرا مکین بکرا بھی آ گیا۔ بکرا کھلی آب و ہوا میں رہنے کا عادی تھا مگر اب اسے ایک چھوٹے سے کمرے میں قید کر دیا گیا۔ معصوم بے زبان کو یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی اسے کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے لہذا اس نے چیخنا چلا نا شروع کر دیا۔ شدو جو ڈبل شفٹ میں کام کر کے واپس اپنے کمرے میں آرام کرنے کے لیے آیا تھا اور اسے ویسے بھی بکرے کے احتجاج کرنے کا انداز پسند نہیں تھا، اس نے بکرے کی آواز دبانے کے لیے پولیس والوں جیسے روایتی حربے استعمال کر نا شروع کر دیے۔

دوسری طرف بکرا بھی شد و بھائی کے خوف میں اس وقت سے مبتلا تھا جب اس نے پہلی بار اسے گردن سے دبوچا تھا۔ شدو بھائی کے ناروا سلوک کے بعد کچھ دیر کے لیے بکرا خاموش ہو گیا لیکن شاید پھر اسے گوٹ فارم میں اپنے ساتھیوں کی یاد ستانے لگی تو اس نے دوبارہ باآواز بلند باں باں کرنی شروع کر دی۔ شدو بھائی بڑبڑاتا ہوا کمرے سے نکلا اور سلیم کے پاس چلا گیا جو کہ کاؤنٹر پر کھڑا گاہکوں کو ڈیل کر رہا تھا۔ رت جگے اور غصے کی ملاوٹ سے شدو کی آنکھیں لال تھیں۔ وہ سلیم سے بولا، یار ایہہ کی مصیبت گل پائی جے۔

سلیم، شدو بھائی کے غصے سے خوب واقف تھا۔ اس نے کہا چلو یار بکرے کو گیس سٹیشن کے عقبی لان میں ایک درخت کے نیچے باندھ دو۔ وہاں وہ کھلی ہوا میں خوش رہے گا، گھاس بھی کھائے گا اور شاید کچھ دیر کے لیے خاموش بھی ہو جائے۔ شد و بکرا کھینچ کر عمارت سے باہر لایا اور گھاس والے لان میں باندھ دیا۔ شدو صاحب واپس اپنے کمرے میں گئے اور آرام فرمانے لگے جبکہ دوسری طرف بکرے نے تھوڑی دیر کے لیے راحت محسوس کی، گھاس کو سونگھا اور پھر زور سے میں میں کرنے لگا۔ یہاں تک کہ اس کی آواز سلیم کو کاؤنٹر پر سنائی دے رہی تھی۔ وہاں موجود کچھ گاہکوں نے سلیم سے پوچھا بھی کہ یہ بکرے کے چلانے کی آواز کہاں سے آ رہی ہے۔

کچھ دیر گزری کہ ایک امریکی شرطہ سٹور میں داخل ہوا اور سلیم سے پوچھنے لگا یہ باہر باندھا ہوا جانور کس کا ہے؟ پولیس والے کا سخت لہجہ دیکھ کر سلیم تھوڑی دیر کے لیے حواس باختہ ہوا، پھر اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے بولا، جی یہ ہمارا خریدا ہوا بکرا ہے۔ ہم نے آج ہی اسے ایک گوٹ فارم سے تین سو پچاس ڈالرز میں خریدا ہے۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ اپنی گاڑی میں گیس بھروانے کے لیے آنے والی کسی خاتون نے 911 کے ایمرجنسی نمبر پر کال کر کے پولیس کو اطلاع دی کہ ایک جانور کسی مصیبت میں نظر آ رہا ہے اور اس کی مدد کی جائے۔

پولیس والے نے سلیم کو وارننگ دی کہ میونسپل کے قواعد کے تحت کسی جانور کو گلی میں نہیں باندھا جا سکتا۔ سلیم جو جانوروں کے حقوق کے حوالے سے مقامی قوانین و ضوابط سے نابلد تھا، اس نے پولیس والے سے معذرت کی اور اسے بتایا کہ وہ بکرا قربانی کرنے کے لیے لائے ہیں جو کہ ان کی مذہبی رسومات کا حصہ ہے۔ پولیس والے کو سلیم کی بات سمجھنے میں کچھ دقت پیش آئی۔ اس نے اپنے کسی سینئر سے وائرلیس پر بات کی اور معاملے کی نوعیت سمجھ کر سلیم کو کہا کہ وہ اپنی مذہبی رسومات ضرور پوری کریں لیکن اپنے بکرے کو کسی چار دیواری کے اندر باندھیں۔

سلیم، پولیس والے حکم سن کر فوراً گیا، بکرے کو کھولا اور واپس اسی کمرے میں لے آیا جہاں شدو بھائی محو استراحت تھے۔ بکرے کو دوبارہ اپنے پاس دیکھ کر وہ سٹپٹایا اور کہا، میں اس بکرے کے ساتھ نہیں رہ سکتا۔ وہ غصے میں اپنے کمرے سے نکلا اور قریبی کسی ہوٹل میں دو دن کے لیے اپنا کمرہ بک کروا کر رہنے لگا۔ سلیم نے کاؤنٹر پر اپنی کسی اسٹنٹ کو اپنی جگہ کھڑا کیا اور بکرے کے لیے نان و نفقہ ڈھونڈنے بازار چلا گیا۔ وہاں سبز چارہ ملنا تو بہت مشکل تھا لہذا وہ کسی سٹور سے جانوروں کی خشک خوراک اٹھا لایا۔

بکرا گوٹ فارم پر رہتے ہوئے سبز چارہ کھانے کا عادی تھا لہذا اس نے خشک خوراک کو دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا مگر اچھی بات یہ ہوئی کہ شدو بھائی کے جانے کے بعد بکرا خاموش ہو گیا۔ سلیم نے اپنے قربانی کے جانور کی خوب دیکھ بھال کی۔ وہ اسے باہر تازہ ہوا کھانے اور گھمانے بھی لے گیا۔ وہاں بکرے کی رفع حاجت کے بعد سلیم کو صفائی خود کرنا پڑی کیونکہ امریکی قوانین کے تحت پالتو جانوروں کو سڑکوں پر لانے کی اجازت ہے لیکن ان کا بول و براز اٹھانے کی ذمہ داری اس کے مالک پر عائد ہوتی ہے۔ یہ صحت عامہ کے لیے بھی ضروری اقدام ہے اور تہذیب یافتہ معاشروں کی نشانی بھی۔ اگرچہ سلیم نے اپنے قربانی کے جانور کا بھر پو ر خیال رکھا، پھر بھی وہ عید کا آنے تک کا فی کمزور نظر رہا تھا۔

عید والے دن، جیسے تیسے کر کے سلیم اور شدو بھائی نے اپنے کام سے ایک دن کی رخصت حاصل کی اور اس دن، ان کا واحد مشن بکرے کی قربانی کرنا تھا۔ انہوں نے عید کی نماز اس لیے نہیں پڑھی کہ ان کے شہر میں مسلمانوں کی تعداد کم تھی اور عید کی نماز پڑھانے کا کوئی خاص اہتمام بھی نہیں تھا۔ تاہم عید کے دن دونوں حضرات کی واحد مصروفیت قربانی کی رسم ادا کرنا، گوشت بانٹنا اور اسے بھون کر کھانا تھا۔ عید کے روز صبح سویرے ہی اٹھ کر سلیم نے بکرے کو قربان گاہ لے جانے کے لیے تیار کیا، اسے پانی وغیرہ پلایا اور اتنی دیر میں شدو بھائی بھی ہوٹل سے تیار ہو کر سلیم کی مدد کرنے آن پہنچے۔ شدو نے سلیم سے پوچھا، کیسے گزرے دو دن، سلیم نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، پہلے تو مسئلہ ہوا پھر بکرے نے اپنے آپ کو ایڈجسٹ کر لیا۔

شدو نے عید کے دن اپنا روایتی لباس پہنا ہوا تھا اور اس نے سلیم سے بکرے کے ساتھ اپنی ایک سیلفی بنوانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ وہ تصویر اس نے اپنے گھر والوں کو واٹس اپ پر بھجوائی اور فیس بک پر بھی پوسٹ کر دی۔ بکرے کے ساتھ اپنی مصنوعی مسکراہٹ والا فوٹو بنواتے ہوئے اسے ذرا خیال نہیں آیا کہ کچھ دیر بعد اس بے زبان کا کیا انجام ہونے والا ہے۔ انسان بھی کتنا ظالم اور جاہل ہے اپنی چھوٹی سی خوشی کے حصول کی خاطر وہ دوسروں کا دکھ درد بھول جاتا ہے۔ خیر، شدو کی بکرے کے ساتھ بنوائی گئی سیلفی کو اس کے فیس بک فرینڈ نے بہت پسند کیا کیونکہ اس تصویر میں کسی کے مقتل میں جانے سے پہلے کے تاثرات اور جان نچھاور کرنے کے کچھ مناظر فلم بند تھے۔

عید والے دن سے پہلے، سلیم سے ایک غلطی یہ ہوئی کہ اس نے کسی پیشہ ور قصاب سے بکرے کا تیا پانچا کرنے کے لیے پیشگی اپائٹمنٹ نہیں لی تھی۔ شدو بھائی جو قربانی کا گوشت کھانے کے مرے جا رہا تھا، ابھی اس کے عشق کئی امتحان باقی تھے۔ جانوروں کے تحفظ اور انسانوں کو ہیجانی کیفیت سے بچانے، اور حفظان صحت کے طے کردہ اصولوں کے مطابق، امریکہ میں کسی جانور کو سر عام ذبح نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے کچھ خاص قواعد و ضوابط وضع کیے گئے ہیں۔ امریکہ میں جو مسلمان اپنے دیسی طریقے سے جانور حلال کرتے ہیں وہ بھی کسی دور دراز فارم ہاؤس میں جا کر، چھپ چھپا کر اور چار دیواری کے اندر۔ آخر کار، کا فی فون گھمانے کے بعد ایک قصاب بکرا ذبح اور اس کا گوشت تیار کرنے کے لیے رضا مند ہو گیا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2