EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

افغانستان میں جھڑپوں کے دوران ایوارڈ یافتہ بھارتی فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی ہلاک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھارتی صحافی افغان افواج اور طالبان کے درمیان ملک کے سپن بولدک ضلع میں جاری لڑائی کی کوریج کرنے کے لیے افغان فورسز کے ساتھ کام کر رہے تھے۔

افغانستان میں حکام نے جمعے کے روز بتایا ہے کہ بھارت سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ صحافی، دانش صدیقی ملک کے جنوبی صوبہ قندھار میں حکومتی فورسز اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان لڑائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے کے دوران گولی لگنے سے ہلاک ہو گئے ہیں۔

وہ افغان افواج اور طالبان کے درمیان ملک کے سپن بولدک ضلع میں جاری لڑائی کی کوریج کرنے کے لیے افغان فورسز کے ساتھ کام کر رہے تھے۔

یاد رہے کہ افغانستان کی جانب سے پاکستان کی طرف سرحد پار جانے کے بڑے مرکز سپن بولدک پر اس ہفتے کے اوائل میں طالبان نے قبضے کا دعوی کیا تھا جسے چھڑوانے کے لیے دونوں فریقین میں لڑائی جاری ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کو صحافتی دنیا کا سب سے ممتاز ایوارڈ پلٹزر پرائز مل چکا ہے۔ یہ ایوارڈ انہیں 2018 میں روہنگیا مہاجرین کی مشکلات کی فوٹو کوریج پر دیا گیا تھا ۔

رائیٹرز کے صدر مائیکل فرائڈن برگ اور ایڈیٹر ان چیف الیساندرہ گولانی نے ایک بیان میں کہا کہ وہ مزید معلومات کے لیے فوری کوشش کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں علاقے میں حکام سے رابطے میں ہیں۔

انہوں نے بیان میں کہا کہ ’’دانش ایک بہترین صحافی، جاں نثار شوہر اور والد، اور سب سے پیار کرنے والا کولیگ تھا۔ اس مشکل وقت میں ہم اس کے خاندان کے ساتھ ہیں۔‘‘

دانش صدیقی نے رائیٹرز کو بتایا تھا کہ جمعے کو علی الصبح جھڑپوں کی رپورٹنگ کرتے ہوئے ایک بم کا ٹکڑا ان کے بازو پر لگا تھا، انہیں ابتدائی طبی امداد دی گئی تھی کہ طالبان جنگجو نے سپن بولدک میں لڑائی کے بعد پیچھے ہٹنا شروع کیا۔

ایک افغان کمانڈر نے رائیٹرز کو بتایا کہ صدیقی دکانداروں سے گفتگو کر رہے تھے جب طالبان نے دوبارہ سے حملہ کیا۔

دانش صدیقی کا خبر رساں ادارہ آزاد ذرائع سے اس دوبارہ چھڑ جانےوالی لڑائی کی تفصیلات کی تصدیق نہیں کر سکا، جس کے بارے میں تفصیلات افغان فوج کے ایک افسر سے حاصل ہوئیں جو افغان وزارت دفاع کی جانب سے کسی بیان کے جاری کرنے سے قبل اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتا۔

رائٹرز کے ساتھ 2010 سے کام کرتے ہوئے دانش صدیقی نے افغانستان، عراق، روہنگیا بحران، ہانگ کانگ کے احتجاج اور نیپال میں زلزلے کے دوران کوریج کی تھی۔

دانش صدیقی کا تعلق بھارت کے شہر ممبئی سے تھا اور انہیں روہنگیا مہاجرین کے بحران پر فیچر فوٹوگرافی کے ضمن میں 2018 میں پلٹزر پرائز سے نوازا گیا تھا۔

حالیہ دنوں میں انہوں نے بھارت میں کرونا بحران کے دوران مسلسل صحافتی ذمہ داریاں ادا کیں۔

دانش صدیقی کی ہلاکت پر تبصرہ کرتے ہوئے افغانستان کے لئے اقوام متحدہ کے امدادی مشن نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ افغانستان میں کام کرنے والا میڈیا اور صحافت اس وقت خطرے میں ہے۔ مشن نے دانش صدیقی کے اہلخانہ سے اظہار افسوس کیا اور مزید لکھا کہ ان کی ہلاکت افغانستان میں صحافیوں کے لیے بڑھنے خطرات کی نشانی ہے۔ مشن نے حکام سے مطالبہ کیا کہ ان کی اور دوسرے صحافیوں کی ہلاکتوں کی مکمل تحقیق کی جانی چاہئے۔

سوشل میڈیا پر صارفین دانش صدیقی کو زبردست خراج عقیدت پیش کررہے ہیں۔

صحافی شالینی نائیر نے ان کی کھینچی گئی تصاویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ دانش صدیقی کی روہنگیا مہاجرین، دہلی فسادات اور بھارت کے کرونا بحران کی دل دہلا دینے والی تصاویر ہمیشہ ہمارے ذہنوں میں تازہ رہیں گی۔

ایک صارف منڈو نے لکھا کہ پچھلے کچھ برسوں میں بھارت سے نمودار ہونے والی انتہائی دلخراش تصاویر کے پیچھے دانش صدیقی تھے۔ وہ بھیانک حقیقت کا آشکار کرنے سے گھبراتے نہیں تھے۔ ان کی بے مثال بہادری انہیں افغانستان کے جنگی میدان تک لے گئی۔ ان کی ہلاکت کی خبر بہت دردناک ہے۔

ایک اور صارف فاطمہ خان نے بھی ان کے کام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انسانی المیے سے لے کر خطرناک تشدد تک، دانش صدیقی نے پچھلے عشرے میں بے مثال اور وقت کو تبدیل کردینے والی تصاویر کھینچی تھیں۔

تیرہ جولائی کو ٹویٹر پر ٹویٹس کے ایک سلسلے میں انہوں نے متعدد تصاویر میں جہاں جنگ کے حالات کا تذکرہ کیا وہیں اپنی صحافتی ذمہ داریوں کی مشکلات کا اظہار بھی کیا۔

ایک ٹویٹ میں انہوں نے لکھا کہ جس فوجی گاڑی میں وہ سوار تھے، اس پر بھی کچھ گولے آ کر لگے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک راکٹ لگنے کے منظر کو محفوظ رکھنے میں کامیاب رہے اور خود بھی محفوظ رہے۔

ایک ٹویٹ میں انہوں نے لکھا کہ 15 گھنٹے کے مسلسل مشن کے بعد انہیں 15 منٹ ہی آرام کے میسر آئے۔

مغربی بنگال سے زی نیوز کی رپورٹر پوجا مہتا نے لکھا کہ کولکتہ کے فوٹو جرنلسٹس نے دانش صدیقی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے گاندھی جی کے مجسمے کے سامنے ان کی تصاویر پر شمعیں روشن کیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 2621 posts and counting.See all posts by voa

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے